خان کا عہد وفا

(Muhammad Humayun Shahid, Bahawalnagar)
" وہ سمجھتے ہیں کہ وہ مجھے ڈرا سکتے ہیں". یہ کوئی فلمی ڈائیلاگ معلوم ہوتا ہے اور عمران خان اس فلم کے ہیرو جبکہ یہ کہانی کسی بہادر کی کہانی لگتی ہے. اگر ہم حقیقت میں جاکر اس کا تجزیہ کریں تو واقعی عمران خان نے بہت مشکل اور بڑا فیصلہ کیا ہے جس کے اثرات بعد تک مرتب ہوتے رہیں گے.  گویا یہ سب اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ ہے جس میں حکومت نے اپنے اندر موجود کرپٹ عناصر کو بے نقاب کیا ہے.

سیاست کے میدان میں بھی بڑے حسین و جمیل وعدے ہوتے ہیں. کامیاب سیاستدان وہی ہے جو وعدہ کرنے میں سخی ہو. واصف علی واصف لکھتے ہیں کہ ایک سیاستدان سے کسی نے پوچھا " آپ نے اتنے وعدے کیے، پورا کوئی وعدہ نہیں کیا".وہ بولا " ابھی ایک وعدہ باقی ہے" پوچھنے والے نے پوچھا "کیا" ؟ اس نے کہا کہ " وعدہ پورا کرنے کا وعدہ تو ابھی کیا ہی نہیں". قصہ مختصر یہ کہ سیاست کی دنیا میں جب بھی کوئی وعدہ کیا جاتا ہے اس کے وفا ہونے کے لئے بھی ایک وعدہ درکار ہوتا ہے. جو کہ اکثر حزب اختلاف کرتی ہے پر جیسے ہی کوئی سیاست دان حزب اختلاف سے حزب اقتدار تک پہنچتا ہے وہ اپنے وعدوں کو یا تو بھلا چکا ہوتا ہے یا پھر وہ اس کے وفا ہونے کو ٹال دیتا ہے. اور یوں ہی یہ سفر تمام ہوتا ہے. کیونکہ نئی حزب اقتدار نئے وعدوں کے ساتھ قوم کو ٹرک کی بتی کے پیچھے لگاتی ہے. یہ سارا منظر نامہ پاکستان کی سیاست کی کیا خوب عکاسی کررہا ہے. پاکستان میں بھی اس قسم کے وعدوں کی ایک تاریخ ہے. اور پھر ان وعدوں کے وفا نہ ہونے کی بھی ایک تاریخ ہے. ایسے ہی وعدے کچھ عمران خان نے بھی کیے تھے جب وہ حزب اختلاف میں تھے. جس میں کچھ اہم وعدے میں آپ کے ذہن سے واگزار کرواتا چلوں سب سے پہلے تو ماڈل ٹاؤن کیس کی تحقیقات کا وعدہ جو انھوں نے طاہر القادری سے کیا تھا اور دوسرا اہم وعدہ یہ کہ بد عنوان عناصر کو کسی بھی صورت نہ چھوڑوں گا. نیز جیسے ہی وہ اقتدار میں آئے خان صاحب اپنا پہلا وعدہ بھول گئے یا پھر بیوروکریسی نے انھیں مجبور کردیا بھولنے کے لئے کیونکہ اگر یہ وعدہ وفا ہوتا تو اس کا شکار بیوروکریسی کے کچھ لوگ بھی ہوتے جو اس ظلم میں شریک تھے. خیر آخر میں طاہر القادری ان سے مایوس ہوکر واپس کینیڈا چلے گئے. رہی بات دوسرے وعدہ کی تو انھوں نے کافی حد تک پاسداری کی پر مرتے کیا نہ کرتے ان کو آخر کار میاں صاحب کو باہر بھیج کر اپنے دوسرے اور اہم وعدہ سے دستبردار ہونا پڑا. ہاں اس میں اگر اعلیٰ عدلیہ اور میڈیا سمیت دیگر اہم اور طاقت ور عناصر ان کا ساتھ دیتے تو یہ وعدہ وفا ہوسکتا تھا. خیر یہ تو کچھ اہم وعدے وہ تھے جو انھوں نے حزب اختلاف میں رہ کر کیے تھے. لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ حالیہ دنوں میں انھوں نے جو مافیا کو بے نقاب کرنے کا وعدہ کیا تھا وہ وعدہ وفا ہوگیا ہے. یہ وعدہ کچھ یوں تھا کہ چینی اور آٹے کی قیمتوں میں اضافے کے محرکات کو بے نقاب کرنا اور اس مافیا کا پردہ فاش کرنا جو اس ناجائز دھندے یعنی ذخیرہ اندوزی میں ملوث تھا. اس وعدے کی تکمیل 4 اپریل کو ہوئی اور اس کی تفتیش سے کئی حکومتی اور اپوزیشن جماعتوں کے بڑے نام بے نقاب ہوگئے. اس کا سہرا واجد ضیاء کو جاتا ہے جنھوں نے دھمکیوں کے باوجود تفتیش جاری رکھی اور پھر اس کی رپورٹ کو وزیراعظم کے سامنے پیش کیا. اس دوران جو حیران کن بات ہوئی وہ یہ کہ نہ تو واجد ضیاء کا لیپ ٹاپ چوری ہوا اور نہ ہی (ف آئی اے) کے دفتر میں آگ لگی. اس سب میں اگر ہم وزیراعظم پاکستان جن کا نام عمران خان ہے ان کو داد نہیں دیں گے تو یہ ناانصافی ہوگی. کیونکہ یہ رپورٹ شائع ہونے کے 3 دن پہلے ان کے ٹیبل پر موجود تھی اور بار بار انھوں نے اس رپورٹ کا مطالعہ کیا اور یہ جاننے کے باوجود کہ اس رپورٹ میں ان کے قریبی ساتھی اور حکومتی لوگ بھی شامل ہیں جو کہ ان کی حکومت کو خطرہ لاحق کرسکتے ہیں. انھوں نے بلا خوف اپنے وعدے کی پاسداری کرتے ہوئے یہ رپورٹ شائع کروا دی. اس دوران میڈیا ذرائع کے مطابق ان کو شوگر اور آٹا مافیا کی جانب سے دھمکیاں بھی موصول ہوئیں کہ اگر رپورٹ شائع کی تو اس سے بڑے پیمانے پر بحران کا سامنا کرنا پڑے گا. لیکن انھوں نے اس رپورٹ کی اشاعت کے حکم کے ساتھ یہ جواب دیا کہ " وہ سمجھتے ہیں کہ وہ مجھے ڈرا سکتے ہیں". یہ کوئی فلمی ڈائیلاگ معلوم ہوتا ہے اور عمران خان اس فلم کے ہیرو جبکہ یہ کہانی کسی بہادر کی کہانی لگتی ہے. اگر ہم حقیقت میں جاکر اس کا تجزیہ کریں تو واقعی عمران خان نے بہت مشکل اور بڑا فیصلہ کیا ہے جس کے اثرات بعد تک مرتب ہوتے رہیں گے. گویا یہ سب اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ ہے جس میں حکومت نے اپنے اندر موجود کرپٹ عناصر کو بے نقاب کیا ہے. کیونکہ آج سے پہلے جو حکمران موجود تھے وہ تو خود احتسابی کو وقت کا ضیاع اور حکومتی کام میں رکاوٹ تسلیم کرتے تھے. نیز یہ کہ عمران خان کو چاہیے کہ اب اگر انھوں نے مافیا کو بے نقاب کر ہی دیا ہے تو مناسب سمجھ کر ان کا محاسبہ کریں اور وہ پیسہ جو غریب کی جیب سے سبسڈی کے طور پر نکلا تھا جس کا اس غریب کو فائدہ بھی نہیں ہوا اس پیسے کو مافیا سے بازیاب کروائیں اور سزا کے طور پر تمام ملوث لوگوں کی ذخیرہ کی گئی چینی اور آٹا کورونا کے موقع پر عام عوام میں تقسیمِ کردیں. میرے خیال میں اس سے اچھی کوئی سزا نہیں ہوسکتی ہے. کیونکہ جو چیز وقت پر کام آجائے وہ کسی نعمت سے کم نہیں ہے. تاہم اس سب کا اگر حاصل دیکھیں تو ہمیں ابھی بھی حزب اختلاف کا وہی عمران خان نظر آیا ہے جس کا بیانیہ بلا تفریق احتساب کا تھا اور کرپشن فری پاکستان کا تھا. لہٰذا یہ عہد تو عمران خان وفا کر رہے ہیں. امید ہے کہ ان کی یہ کوشش یوں ہی جاری رہے اور مزید وعدے بھی وفا ہوں. کیونکہ اپنے وعدوں کا پاس رکھنے والے ہی عظیم انسان ہوتے ہیں. وہ ہر حال میں اپنے الفاظ کو عملی جامہ پہنانے کی کوشش کرتے ہیں. اور سچ تو یہ ہے کہ انسان کی زبان سے نکلا ہوا ہر لفظ انسان کے باطن کا اظہار ہے. اس طرح نیت اعمال سے اور اعمال نیت سے ظاہر ہوتے رہتے ہیں اور انسانوں کی پہچان بھی ہوتی رہتی ہے. لہٰذا اس کا ایک فائدہ یہ بھی ہوگا کہ اب سے خان کی ہر بات کو حقیقت کے معنوں میں سمجھا جائے گا. مزید برآں اس سب کا فائدہ جو عمران خان کو ہوا ہے وہ یہ کہ دوست کے لبادے میں چھپے اس کے کرپشن فری بیانیے کے دشمن بے نقاب ہو گئے. نیز اس واقعہ میں اپوزیشن اور دوسرے کرپٹ عناصر کے لئے ہدایت پکڑنے کی نشانیاں موجود ہیں. کیونکہ جو اپنے دوستوں اور حمایتیوں کو ملکی مفاد پر قربان کر سکتا ہے وہ ملکی سلامتی اور اپنے بیانیے کی بقا کے لئے کسی بھی حد تک جا سکتا ہے. حفیظ جالندھری کیا خوب دوست نما دشمن کو اپنے اس شعر میں بیان کرتے ہیں؛
دیکھا جو کھا کے تیر کمیں گاہ کی طرف
اپنے ہی دوستوں سے ملاقات ہو گئی
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Muhammad Humayun Shahid

Read More Articles by Muhammad Humayun Shahid: 34 Articles with 9840 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
07 Apr, 2020 Views: 396

Comments

آپ کی رائے