کرونا وائرس سے بچنے کے لیے حکومت سے تعاون کریں

(Muhammad Aslam Lodhi, Lahore)

کرورانا وائرس ایسی وبا ہے جس نے پوری دنیا میں تباہی مچا رکھی ہے ‘ امریکہ جیسی سپرطاقت بھی اس وبا کے ہاتھوں سخت پریشان ہے اور روزانہ سینکڑوں امریکی قبروں میں اتر رہے ہیں ۔ایک نرس یہ کہتے ہوئے زار وقطار رو پڑی کہ ہسپتال کے جس کمرے میں‘ میں جاتی ہوں وہاں لاشوں سے ہی واسطہ پڑتا ہے ۔ہر ممکن کوشش کے باوجود ابھی تک امریکہ چاروں شانے چت ہے ۔ ایک جانب امریکہ جیسا ترقی یافتہ ملک اور دوسری جانب پاکستان جیسا غریب اور قرضوں میں دھنساہوا ملک کرورانا وائرس کی زد میں ہے ۔اس کے باوجود کہ یہ وائرس ایران سے آنے والے زائرین کے ساتھ پاکستان میں آیا لیکن وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے بروقت اقدامات کی بدولت چار ہفتے گزرنے کے باوجود حالات بڑی حد تک کنٹرول میں دکھائی دیتے ہیں ۔وزیراعظم عمران خان نے نہایت دانش مندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے جزوی لاک ڈاؤن پر ہی اکتفا نہیں کیا بلکہ ان کا موقف بالکل درست تھا کہ اگر پورے ملک میں مکمل طورپر کرفیو لگادیا تو دیہاڑی دار مزدور (جن کی تعداد پاکستانی آبادی میں نصف سے زیادہ ہے) وہ بھوک سے مر جائے گی ۔انہوں نے گھر گھر مالی مددپہنچانے کے لیے جس ٹائیگر فورس کا اعلان کیا تھا وہ اس حوالے سے بہت سودمند ثابت ہورہی ہیں ۔نوجوان نسل وطن عزیز کی خدمت کے لیے پیش پیش دکھائی دیتے ہیں ۔ ابھی تین ہزار فی گھرانہ امداد کا سلسلہ جاری تھا کہ احساس پروگرام کے تحت فی خاندان 12ہزار روپے دینے کا سلسلہ بھی شروع ہوگیا اور اب تک پورے ملک میں حبیب بنک کے ذریعے 12ہزار روپے فی خاندان کے حساب سے تقسیم کیے جا چکے ہیں ۔جبکہ پنجاب کے 17لاکھ غریب خاندان جو اب تک رجسٹرڈ ہوچکے ہیں ان کو بھی فی خاندان 12ہزار روپے کی ادائیگی حکومت کے مقررکردہ کیمپ اور بنک کے ذریعے کی جارہی ہے ۔چند جرائم پیشہ افراد نے ادا کی جانے والی رقم سے کٹوتی کرنے کی کوشش کی لیکن انتظامیہ کی بروقت سرکوبی کی بدولت ایسے تمام افراد کو گرفتار کرکے حوالات میں بند کردیا گیا ۔احساس پروگرام کے حوالے سے ہی وزیر اعظم کی خدمت میں یہ تجویز پیش کرنا چاہتا ہوں کہ 60سال اور اس سے زائد عمر کے بزرگ افراد جو نہ تو کسی قطار میں کھڑے ہوسکتے ہیں اور نہ اداروں کے چکر کاٹ سکتے ہیں ۔وہ احساس پروگرام کے تحت ملنے والی مالی مدد کے سب سے زیادہ مستحق ہیں جو گھروں میں رہتے ہوئے پے درپے بیماریوں سے جنگ لڑ رہے ہیں۔حکومتی اداروں سے ریٹائر ہونے والوں کو تو معقول رقم پنشن کی شکل میں مل جاتا ہے لیکن 80فیصد لوگ جو سرکاری اداروں میں کام نہیں کرتے وہ پنشن جیسی سہولت سے محروم رہتے ہیں لیکن بڑھاپے کی دہلیز پر قدم رکھتے ہی بیماریاں چاروں اطراف سے انہیں گھیر لیتی ہیں اور وہ اپنی اولاد پر بوجھ بن کے رہ جاتے ہیں۔ 2018کی مردم شماری میں جتنے بھی افراد 60سال یا اس سے زیادہ عمر کے ہیں ان کو احساس پروگرام کے تحت مستقل بنیادوں پر تاحیات ماہانہ 12ہزار روپے اگر بذریعہ منی آرڈر گھروں کے ایڈریس پر بھیج دیئے جائیں تو حکومت کایہ اقدام بھی لائق تحسین سمجھا جائے گا ۔ بہرکیف اگر اپوزیشن کے مطالبہ تسلیم کرتے ہوئے کرفیولگا دیاجاتا تو کرورانا وائرس سے اتنے لوگ نہ مرتے جتنے بھوک اور بے وسائلی سے مرجاتے ۔وزیر اعظم پاکستان نے نہایت دانش مندی کا مظاہر ہ کرتے ہوئے تمام حکومتی وسائل کا رخ عوام کی جانب مڑنے کے ساتھ ساتھ ایک ایسے فنڈ کا اجرا بھی کیا جس میں مخیر حضرات کے ساتھ ساتھ سمندر پار پاکستانیوں نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا اور حکومت کو اس قابل بنایا کہ وہ کم وسائل یافتہ افراد کی بھرپور مدد کرسکے ۔وزیراعظم کا ایک اور راست اقدام یہ تھا کہ لاک ڈاؤن کے پہلے اعلان کے ساتھ ہی ادویات بنانے والی انڈسریز ‘ فروٹ پیکنک انڈسٹریز ‘ سبزی منڈیوں اور پھل منڈیوں کوکھلا رکھنے کا فیصلہ کیا اگر خدانخواستہ گڈز ٹرانسپورٹ جو دیہاتوں سے شہروں کو سبزیاں اور پھل سپلائی کرتے ہیں ان کو بھی دیگر ٹرانسپورٹ کے ساتھ بند کردیا جاتا تو حالات اس سے کہیں زیادہ خراب ہوجاتے اور سبزیاں اور پھلوں کی کمک کو برقرار رکھنا اور بطور خاص اشیائے خورد نوش کی قیمتوں کو عوام کی دسترس میں رکھنا مشکل ہی نہیں محال بھی ہوجاتا۔ قومی معیشت کو سنبھالا دینے کے لیے وزیراعظم نے15اپریل2020ء سے تعمیرات کی صنعت سے وابستہ تمام شعبوں کو اوپن کرکے ایک اور اہم فیصلہ کیا ہے‘ اسی طرح ایکسپورٹ انڈسٹری ‘ شیشہ بنانے والی فیکٹریاں ‘ سیمنٹ فرٹیلائز‘ ماحولیات کو خوشگوار بنانے والی نرسریاں ‘ پلمبر ‘ حجام ‘ الیکٹریشن ‘ زرعی مشینری کے الات فروخت کرنے والی فیکٹریوں اور دکانوں ‘ بھٹہ خشت ‘ ڈرائی کلینراور بلڈنگ میٹریل والی دکانوں کو کھلا رکھنے کی اجازت دے کر عوام الناس کے لیے کسی حد تک آسانیاں پیدا کردی ہیں ۔یہ وہ تمام شعبہ جات ہیں جن کا عوام سے براہ راست رابطہ ہر لمحے رہتا ہے ‘ اس سے عوام کے لیے آسانیاں پیدا کردی گئی ہیں ۔علاوہ ازیں سرکاری ہسپتالوں کے اوپی ڈی کھلنے کا فیصلہ بھی درست ہے ۔ڈاکٹرز اور میڈیکل فیلڈ سے وابستہ تمام افراد کو ہیرو کا درجہ دے کر انہیں حوصلہ افزائی کی گئی ہے کیونکہ یہی وہ لوگ ہیں جو اپنی جان کو خطرے میں ڈال کر کرورانا وائرس سے متاثرہ افراد کی زندگی کو بچانے کی جستجو میں مصروف عمل ہے ۔ ۔ اب کاروباری افراد ‘ صنعت کاروں ‘ دکانداروں اور تعمیرات سے وابستہ صنعتوں اور افراد کا فرض ہے کہ وہ تمام تر احتیاطی تدابیر کو اختیار کرتے ہوئے حکومت کی جانب سے فراہم کی جانے والی سہولتوں سے بھرپور فائدہ اٹھائیں اور اپنے اپنے علاقوں‘ دکانوں اور دفاترمیں کرورانا وائرس سے بچاؤ کے ساتھ ساتھ جراثیم کش ادویات کا وقتا فوقتا چھڑکاؤ اور ماحول کو صاف ستھرا رکھیں کیونکہ کرورانا وائرس ایسا خطرناک وائرس ہے جو ایک شخص سے دوسرے شخص تک سانس اور ہاتھ کے ذریعے پہنچ جاتا ہے ۔اس سے بچاؤ کے لیے ہر شخص کو سینٹائرز کے ساتھ ساتھ ماسک کا لازمی استعمال کرنا چاہیئے ۔خود بھی بچیں اور دوسروں کو بھی اس خطرناک وائرس سے بچائیں ۔یہی حالات کا تقاضا ہے ۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Muhammad Aslam Lodhi

Read More Articles by Muhammad Aslam Lodhi: 561 Articles with 281882 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
17 Apr, 2020 Views: 340

Comments

آپ کی رائے