عمران خان،کرونا اور پاکستان

(Dr Ch Tanweer Sarwar, Lahore)

ملک بھر میں کرونا کے مریضوں کی تعداد سات ہزار سے تجاوز کر چکی ہے اور آنے والے ہر دن میں اس میں اضافہ ہوتا چلا جا رہا ہے جبکہ ملک بھر میں سو چالیس کے لگ بھگ ہلاکتیں ہوئی ہیں یقیناً دوسرے ممالک کی نسبتا ً پاکستان میں اس کا پھیلاؤ کم ہے ابھی ہمیں لاک ڈاؤن کو مسلسل رکھنا ہو گا کیونکہ ایک دم چہل پہل سے اس مرض میں اضافہ ہو جائے گا جسے بعد میں سنبھالنا مشکل ہو جائے گا کیونکہ پاکستان کے پاس اتنے وسائل نہیں ہیں پاکستان نے بروقت کاروائی کر کے کافی حد تک کرونا وائرس پر قابو پایا ہے اور امید رکھتے ہیں کہ حکومت اس معاملے میں جلد بازی نہیں دکھائے گی جب تک ملک میں کرونا کا ایک بھی مریض ہے تب تک لاک ڈاؤن میں نرمی نہیں کرنی چاہیئے حال ہی میں حکومت نے ایک اہم فیصلہ کیا ہے جس میں ایسے علاقے جن میں کرونا مریضوں کی تعداد زیادہ تھی انہیں سیل کر دیا گیا ہے یہ ایک خوش آئیند بات ہے اس کے علاوہ حکومت اور مخیر حضرات نے بھی کھل کر غریب عوام کی خدمت کی ہے پاکستانی عوام نے کھبی بھی کسی حکمران کو مایوس نہیں کیا ہے وہ الگ بات ہے کہ لوگوں سے لیا گیا پیسہ غریب عوام تک پہنچا یا نہیں ۔۔۔اس کی بھی تحقیق ہونی چاہیئے کہ جب بھی پاکستانی عوام سے پیسہ مانگا جاتا ہے یہ قوم مایوس نہیں کرتی لیکن ان کو اپنے حکمرانوں سے گلہ رہتا ہے کہ وہ خود عوام کے لئے کچھ نہیں کرتے لیکن ابھی حال ہی میں عمران خان صاحب نے غریب عوام کو فی کس 12ہزار دے کر ثابت کیا ہے کہ وہ اپنے دل میں عوام کا دکھ رکھتے ہیں عمران خان عوام کی امنگوں پر پورا اتر سکتے ہیں اگر وہ تمام کالی بھیڑوں کو جیل میں ڈٖال دیں ایسے لوگوں کو مت چھوڑیں جو کرپشن میں ملوث پائے گئے ہیں ابھی بھی ملک کو ایسے ایماندار افراد کی ضرورت ہے جو ملک کی ترقی میں اپنا کردار ادا کرسکتے ہیں عمران خان صاحب ایک کھلاڑی سے اس ملک کے وزیر اعظم بنے ہیں عوام نے آپ پر مکمل یقین کیا ہے اب آپ کی باری ہے کہ عوام اور پاکستان کے لئے ایسا کچھ کر جائیں کہ تاریخ آپ کو سنہری حروف میں یاد رکھے اگر آپ کے دل میں اس عوام کا درد ہے تو ان کے لئے ایسا کام کریں کہ انہیں ضرورت زندگی کی تمام اشیا ء ارزاں قیمت پر میسر ہوں ملک میں پٹرول سمیت بجلی اور گیس کی قیمتیں کم سطح پر ہوں تمام ملک میں ہسپتالوں ،سکولوں،کالجوں ،یونیورسٹیوں اور سڑکوں کا جال بچھا ہو ا ہو ہر بندے کے پاس رہنے کے لئے اپنا گھر موجود ہو ہر شخص اپنا اور اپنے بچوں کا پیٹ پال سکے اس کے پاس معقول روز گار ہو ملک میں چوروں ،ڈاکوؤں کا راج نہ ہو ان کے لئے سخت سزائیں ہوں تا کہ آئیندہ کوئی بھی چوری چکاری نہ کرے ملک میں ہر شخص کو اس کے دروازے پر انصاف میسر ہو پھر ہی ہم کہہ سکیں گے کہ عمران خان اپنے مقصد میں کامیاب ہو گئے ہیں جب تک ملک میں کرپٹ مافیا ہے تب تک ملک کی ترقی نا ممکن ہے کرپشن سے پاک پاکستان ہی دنیا میں ابھر کر سامنے آ سکتا ہے اس کے علاوہ ملک میں چھوٹی صنعتوں کو فروغ دینا ہو گا اس کے لئے حکومت کو ہنر مندوں کے لئے سود فری قرضے فراہم کرنے ہوں گے تا کہ وہ ملک میں ہی چھوٹی چھوٹی گھریلو صنعتیں لگا کر اپنے روز گار کے ساتھ ساتھ پاکستان کی ترقی میں بھی اپنا ہاتھ بٹا سکیں نوجوانوں کو تعلیم کے ساتھ ساتھ ہنر مند بنانے کی بھی ضرورت ہے پاکستان ایک زرعی ملک ہے اس لئے زراعت میں بھی کسانوں کے لئے جدید فصلیں اور جدید کورس شروع کیے جائیں کسانوں کے لئے بھی آسان قرضوں کا اجراء یقینی بنایا جائے تا کہ وہ اپنی ضرورت کے مطابق اپنی جدید مشینری خرید سکیں اور کم زمین سے زیادہ سے زیادپیداوار حاصل کر سکیں۔امید کرتا ہوں کہ ان تمام منصوبوں پر جلد کام کیا جائے گا ۔اس میں کوئی شک نہیں کہ پاکستان نے پچھلے کچھ سالوں میں کئی شعبوں میں ترقی کی ہے انشا اﷲ اگر ایمانداری سے کام ہوتا رہا تو بہت جلد پاکستان ترقی کی راہ پر گامزن ہو جائے گا ہم مظبوط قوم بن کر ہی اپنے دشمنوں کا مقابلہ کر سکتے ہیں جب تک پاکستان کی معیشت مظبوط نہیں ہو گی دشمن ہمیں آنکھیں دکھاتا رہے گا اﷲ کے فضل و کرم سے ہمارا دفاع بہت مظبوط ہے اور یہ بات دشمن بھی جانتا ہے لیکن اگر اس کے ساتھ ساتھ ہماری معیشت بھی بہتر ہو جائے تو ہم ایک نئی قوم بن کر ابھریں گے جس کو کھبی بھی زوال نہیں ہو گا ۔ہم میں وہ تمام خصوصیت موجود ہیں جو ایک ترقی کرتی قوم میں ہوتی ہیں بس ہمیں ایک راہ متعین کرنے کی ضرورت ہے جس پر چل کر ہم ایک شاندار مستقبل کو پا سکتے ہیں ہمارے نوجوانوں میں وہ تمام صلاحتیں موجود ہیں جو کسی بھی ترقی یافتہ ملک کے نوجوانوں میں ہیں ہمیں اپنے نوجوانوں کی صلاحیتوں کو یوں ضائع نہیں کرنا انہیں اپنے ساتھ لے کر چلنا ہے نوجوانوں کے بغیر پاکستان کچھ نہیں ہے یہ نوجوان پاکستان کا بازو ہیں ہمیں اپنے بازؤں کو مظبوط بنانے کی ضرورت ہے اگر آج ہم اپنے نوجوان کو اپنے پاؤں پر کھڑا کر دیں تو پھر ہمیں کسی امداد کی ضرورت نہیں رہے گی ستر سال ہو گئے ہیں ابھی تک نوجوان اپنے حکمرانوں کے رحم و کرم پرہیں اب وقت ہے کہ ان نوجوانوں کو سامنے لایا جائے اور ان کی صلاحیتوں سے بھر پور فائدہ اٹھایا جائے انشا اﷲ بہت جلد پاکستان دنیا کے ترقی یافتہ ممالک کی صف میں کھڑا ہوگا ۔بس ہمیں ایک ایماندار قیادت کی ضرورت ہے عمران خان صاحب آپ سے قوم کو بہت سی امیدیں وابستہ ہیں آپ کے پاس موقع ہے کہ آپ پاکستان کو کرپشن فری ملک بنا کر ترقی کی راہ پر گامزن کر دیں۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: H/Dr Ch Tanweer Sarwar

Read More Articles by H/Dr Ch Tanweer Sarwar: 287 Articles with 1337345 views »
I am homeo physician,writer,author,graphic designer and poet.I have written five computer books.I like also read islamic books.I love recite Quran dai.. View More
21 Apr, 2020 Views: 392

Comments

آپ کی رائے