کورونا نے میڈیا کو برہنہ کردیا

(Dr Salim Khan, India)

بچپن میں ایک لطیفہ سنا تھا ۔ ایک بچہ راستہ بھٹک گیا ۔ اس کو گھر تک پہنچانے کی خاطر کسی نے اس سے پوچھا تمہارا گھر کہاں ہے ؟ وہ بولا مسجد کے سامنے ۔ پھر پوچھا مسجد کہاں ہے ؟ تو وہ معصومیت سے بولا گھر کے سامنے ۔ اب پھر سوال ہوا دونوں کہاں ہیں تومسکراہٹ کے ساتھ جواب ملا آمنے سامنے ۔ وطن عزیزمیں راہ بھٹک کر سیاسی آقاوں کی غلامی کرنے والے میڈیا کا حال اس گم گشتہ راہ بچے جیسا ہے ۔ بدقسمتی سے پہلے لاک ڈاون کے بعدجب آنند وہار کے دہلی بس اڈے پر ہزاروں مزدور جمع ہوے تو انہیں کوئی مسجد نہیں دکھائی پڑی ۔ وہاں تو صرف اور صرف مرکزی حکومت کی ناکامی نظر آرہی تھی اس لیے پہلے تو ٹی وی پرانتاکشری کا کھیل شروع ہوا ۔ اس سے کام نہیں چلا تو رامائن اور مہابھارت چلائی گئی ۔ ان سے بھی بات نہیں بنی تو نظام الدین میں تبلیغی جماعت کے مرکز کا راگ چھیڑ دیا گیا اور اسے ملک بھر میں پھیلا کر ٹی آر پی اور سرکار کی اشتہار کے ذریعہ خوب رشوت کمائی گئی۔

وزیراعظم کے ذریعہ لاک ڈاون کی توسیع کے بعد سورت شہر میں ہزاروں لوگ ریلوے اسٹیشن پر جمع ہوگئے تو وہاں بھی دور دور تک کوئی گنبد و مینار نہیں تھا لیکن باندر میں ان کے بھاگ کھل گئے۔ وہاں پر اسٹیشن کے سامنے ایک مسجد تھی اس لیے آپ کی عدالت کے مشہور وکیل رجت شرما کو آج کل اپنے باپ (بھاجپ) وکالت میں لگے ہوئے جاگ گئے اور ان کا ٹوئٹر حرکت میں آگیا ؟ انہوں نے باندرہ جامع مسجد کے باہر جمع ہونے والی بھیڑ پر اپنی فکرمندی کا اظہار کرکےدو سوال کیے؟ ایک بیدار صحافی کی حیثیت سے لوک ڈاون کے دوران اتنی بڑی تعداد میں لوگوں کے جمع ہونے پر رجت شرما کا فکرمند ہوجانا لازمی بات ہے اور یہ سوالات بھی فطری ہیں کہ انہیں کس نے بلایا ؟ اور اگر یہ لوگ گھر واپس جانے کے لیے ٹرین پکڑنے کے لیے آئے تھے تو ان کے ہاتھوں میں سامان کیوں نہیں تھا؟

رجت شرما نے اپنے دوسرے سوال میں یہ تسلیم کیا کہ یہ لوگ گھر واپس جانے ٹرین پکڑنے کے لیے آئے تھے ۔ رجت شرما کو پتہ ہونا چاہیے کہ ٹرین پکڑنے کے لیے لوگ مسجد میں نہیں آتے ریلوے اسٹیشن پر جاتے ہیں ۔ اسٹیشن کے سامنے مسجدکا ہونا اتفاق تھا مگر شرارت پسندرجت شرما نے اسٹیشن کے سامنے جمع ہونے والوں کو مسجد سے جوڑ دیا ۔ رجت شرما کے دماغ میں اگر شیطان نہ ہوتا تو انہیں مزدوروں کے جمع ہونے وہی وجہ سجھائی دیتی جو دہلی کے آنند وہار یا سورت میں تھی۔ دراصل ان تارکینِ وطن مزدوروں کو بھکمری کا خوف اسٹیشن پر لے آیا تھا ۔ اس لیے یہ بن بلائے آگئے تھے ۔ انسان کی جان پر جب بن آتی ہے تو وہ سازوسامان بھول کر کسی طرح اپنے گھر پہنچ جانا چاہتا ہے۔ سرکاری ٹکڑوں پر پلنے والے رجت شرما جیسے لوگوں پر یہ وقت نہیں آیا اس لیے انہیں معلوم کہ لوگ خالی ہاتھ گھر کیوں جاتے ہیں؟

رجت شرما اگر اپنی کم عقلی کےباوجود ایماندار ہوتے تو عقل کے گھوڑے دوڑانے کے بجائے تمام تر احتیاطی تدابیر کے ساتھ اپنے چینل کے کسی نامہ نگار کوباندرہ بھیج کر مزدوروں سے یہ سوالات کروالیتے؟ اگر یہ بھی نہیں کرسکتے تھے مسجد کے انتظامیہ سے فون پر رابطہ کرکے ان سے یہ سوالات کرتے تو انہیں اس سوال کا جواب مل جاتا کہ یہ بھیڑ مسجد کے پاس کیوں جمع ہے؟ اگر اتنی زحمت بھی گوارہ نہیں کرسکتے تھے تو پولس سے رابطہ کرتے ۔ رجت جیسے لوگوں کی سہولت کے لیے ممبئی پولس نے ایک وضاحتی ویڈیو شائع کیا ہے ۔ اس میں مسجد کا سرے سے کوئی ذکر ہی نہیں ہے بلکہ صرف اسٹیشن کی بات کہی گئی ہے۔ تارکین وطن مزدور وں کی بے چینی اور اپنے گھر جانے کی خواہش کو اس کا سبب بتایا گیا ہے ۔ویڈیو میں یہ وضاحت موجود ہے کہ ٹرین کے چلنےکی توقع نے انہیں جمع کیا۔پولس نے بتایا کہ مجمع کو سمجھا کرواپس کردیا گیا ہے اور قابو سے باہر ہوجانے والوگوں پر قوت کا ہلکا استعمال کیا گیا ۔ اس کے بعد وزیر اعلیٰ ادھو ٹھاکرے نے بھی مزدوروں کو یقین دلایا کہ ان کا پورا خیال رکھا جائے گا۔

ممبئی پولس کی ذریعہ بروقت جاری کی جانے والی اس ویڈیو میں میڈیا کے ذریعہ اٹھائے جانے سارے اندیشوں کا تشفی بخش جواب تھا ۔ ٹیلی ویژن پر اس کو اگر چلا دیا جاتا تودودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہوجاتا لیکن جن کی آنکھوں کا پانی مرگیا ہو اس چلو بھر پانی میں ڈوب مرتے ہیں ۔اس گمراہ کن ٹوئیٹ اورشر انگیز خبررسانی کے بعد شرما کی قبیل کے سارے صحافیوں کا یہی حال ہے ۔ رجت شرما کو یہ بھی نہیں پتہ کہ باندرہ کی جامع مسجد وہ نہیں ہے جس کی تصاویر شائع کی جارہی ہیں ۔ رجت شرما کی فتنہ انگیزی پر فرقہ پرستوں کی باچھیں کھلِ گئیں۔ ان لوگوں نے مسلمانوں کے خلاف نفرت کا طوفان کھڑا کردیا ۔ نیوز نیشن کے دیپک چورسیا نے مکھی پر مکھی مارتے ہوئے پوچھا مسجد کے پاس ہی بھیڑ کیوں ؟ ارنب کیسے پیچھے رہتے انہوں نے سرخی لگائی مسجد کے پاس جمع بھیڑ ۔ وہ دونوں اسٹیشن کو گول کرگئے ۔ اس طرح گویا کورونا نے پھر ایک بار میڈیا کو برہنہ کردیا۔

اس تنازع میں سب سے زیادہ بے حیائی کا مظاہرہ اے بی پی نے یہ سوال کرکے کیا کہ ’’لوگوں کو مسجد پر کس نے اکٹھا کیا؟ ‘‘ جبکہ افواہ پھیلانے کی بنیادی ذمہ داری اسی چینل پر ہے۔ وزیر اعظم کے بھاشن بلا راشن کی تقریر کے ایل گھنٹہ قبل اے بی پی کے مراٹھی چینل پر یہ خبر چلائی گئی کہ تارکین وطن مزدوروں کو گھر پہنچانے کے لیے 14 اپریل کو ٹرین چلائی جائے گی۔ اس خبر کو چلانے والے راہل کلکرنی کو گرفتار بھی کیا گیا ہے۔ ریاستی وزیر نواب ملک کے مطابق اس بات کا قوی امکان ہے کہ لوگوں کواس خبر نے جمع کیا ہو۔ اس کے جواب میں کلکرنی نے الٹا چور کوتوال کو ڈانٹے کی مصداق پوچھا کیا ہم نے کہا کہ ٹرین شروع ہو گی اور اس کے بعد محکمۂ ریلوے کا ایک خط منسلک کردیا۔ یہ خط کوئی حکمنامہ نہیں بلکہ ایک تجویز ہے۔ اس میں وزارت ریلوے کے اندراپریل 13 کو منعقد ہونے والی ویڈیو کانفرنس کا حوالہ دے کر کہا گیا تھا کہ پھنسے ہوئے مسافروں اور مزدوروں کو نکالنے کے لیے جن سندھارن اسپیشل ٹرین چلانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اس میں ٹرین کی تفصیل تو نہیں دی گئی لیکن افسران کو یہ جائزہ لے کر یہ بتانے کا حکم دیا گیا ہے کہ کتنے مزدور کہاں ہیں اور انہیں کہاں پہنچایا جائے؟آگے چل کر ریلوے نے مذکورہ ٹرین کی تردید کردی۔

اس خبر پر گولی مارکپل شرما جیسے کئی سیاستدانوں نے سیاسی روٹیاں سینکنے کی کوشش ۔ان میں مہاراشٹر کے سابق وزیراعلیٰ دیوندرفردنویس بھی شامل ہیں۔ اس بابت ایک ویڈیو گردش میں آگئی جس میں کوئی شخص یہ کہتا سنائی دیتاہے کہ یہ آفت ’’اللہ کی طرف سےہے ‘‘۔ اس پر دو اعتراضات کیے گئے اول تو یہ کہ اللہ کا ذکر کیوں کیا گیا؟ کیا سارے مزدور مسلمان تھے ؟ اس تنگ نظری کا کیا علاج کہ اگر کورونا کو ایشور کا پرکوپ کہا جائے تو وہ قابلِ قبول ہو اور اللہ کا عذاب کہنے پر اعتراض کیاجائے؟ ویڈیو مجمع کے اندر میں سے کسی کے یہ کہنے پر غم وغصے کا اظہار کیا گیا کہ یہ اللہ کی طرف سے نہیں بلکہ مودی کی طرف سے ہے لیکن بولنے والے شخص کی اس فہمائش کو نظر انداز کردیا گیا کہ یہ اللہ کی طرف سے ہے اور اس کے سبب مندر ، مسجد، گردوارہ اور گرجاگھر بند کردئیے گئے ہیں نیز اس سال حج بھی نہیں ہوگا،کیا یہ معمولی بات ہے؟ خوشی کی بات ہے یہ کہ جہاں ایک طرف میڈیا اور سیاستداں اپنے مفاد کی خاطر نفرت و عناد پھیلا رہے ہیں وہیں عام لوگ کمال سوجھ بوجھ کا ثبوت دے رہے ہیں ۔ کاش کے میڈیا ساکی ناکہ میں خیرانی روڈ کی وہ مسجد بھی دکھاتاکہ جس نے ’کوئی بھوکا نہ سوئے‘ نامی مشن چلا رکھا ہے اور جہاں سے ہرروز ۸۰۰ لوگوں کو بلا تفریق مذہب و ملت کھانا کھلایا جاتا ہے۔

باندرہ کے سانحہ پر 13 لوگوں کو گرفتار کیا گیا . ان میں سے ایک اے بی پی کا صحافی راہل کلکرنی ہے جسے عثمان آباد سے حراست میں لیا گیا ۔ اے بی پی والے ڈھٹائی کے ساتھ اس کی حمایت میں کہہ رہے ہیں کہ ان کی خبر کو بھیڑ کے ساتھ جوڑنے کا کوئی ٹھوس ثبوت نہیں ہے۔ جب ان چینل پر بات آتی ہے تو یہ شواہد کی بات کرتے ہیں اورخود دوسروں کا بلاثبوت میڈیا ٹرائل کرتے رہتے ہیں ۔ کوئی ان سے پوچھے کہ کس ثبوت کی بناء پر ان لوگوں نے باندرہ کی مسجد کو نشانہ بنایا ؟ اس کے علاوہ اُتر بھارتی تنظیم کے رہنما ونئے دوبے کو اشتعال انگیزی کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے۔ ونئے دوبے نے 18تاریخ کے دن شمالی ہند کے لوگوں کو کرلا ٹرمنس پر جمع ہونے کے لیے کہا تھا ۔ وہ ان کو ساتھ لے کر پیدل اترپردیش سے بہار تک جانا چاہتا تھے لیکن یہ بھیڑ تو 14کو باندرہ میں جمع ہوگئی۔ اس لیے ونئے دوبے کو اس کے لیے موردِ الزام ٹھہرانا مضحکہ خیز ہے۔ اس کے باوجود انہیں 21اپریل تک ریمانڈ پر لے لیا گیا۔ ان کے علاوہ ۹ مزدوروں کو ہنگامہ کرنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا ۔ کاموٹھے میں کملیش دوبے اور ان کے ساتھی محمد انصاری کو مزدوروں کی زبوں حالی پر ویڈیو بناکر تشہیر کرنے کے الزام میں پکڑا گیا۔ پولس کملیش کے ونئے سے تعلق کی تفتیش کررہی ہے جبکہ ونئے خود اس معاملے میں بے قصور ہے۔ اس طرح دھونس دھمکی سے بات نہیں بنے گی ۔ حکومت کو چاہیے کہ وہعوام کا اعتماد بحال کرے اور میڈیا پر لگام لگائے یہی اس مسئلہ کا واحد حل ہے۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Salim

Read More Articles by Salim: 1245 Articles with 460332 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
21 Apr, 2020 Views: 207

Comments

آپ کی رائے