غیر روایتی وزیراعظم اور غیر معمولی حالات!!!

(Sardar Khursheed Akhtar, Islamabad)

عمران خان کی خوشی قسمتی کہیے یا بدقسمتی اسے کرکٹ، شوکت خانم ہسپتال بنانے اور سیاست میں ھمیشہ غیر معمولی حالات کا سامنا رہا ہے۔اغاز سیاست ھو یا حکومت وہ غیر معمولی حالات کا غیر روایتی اور غیر معمولی انداز میں ھی مقابلہ کرتا جارہا ہے۔کرکٹ ،شوکت خانم اور 2018ء تک کی سیاست میں آنے والے اتار چڑھاؤ سے آپ سب واقف ہیں ،اسی طرح جب حکومت سنبھالی تو کمزور سیاسی وکٹ پر مضبوط اپوزیشن کی ٹیم کا سامنا تھا مگر عمران خان نے سیاسی وار بھی کیے اور کچھ ان سے سیکھ کر ان پر ہی آزمائے اور وہ بھی ٹھیک نشانے پر لگتے رہے، میڈیا کا محاذ بھی گرم ھو کر عمران خان پر خوب برسا مگر مقابلہ دل ناتواں نے خوب کیا، دھرنے، اسمبلی کے احتجاج ھوئے اور باقاعدہ تاریخیں بھی آنے لگیں کے یہ گیا، بس جا رہا ہے ، یہ وقت بھی گزر گیا بعض تو ایسے بے وقعت ھو گئے کہ لگتا ہے ان کی اھمیت عمران خان کی وجہ سے تھی، وہ صحافت کے اعلیٰ ستون ھوں یا سیاست کے سورما سب غیر اہم، غیر مقبول اور بے وقعت ھو گئے ایسا کیوں ھوا کیونکہ عمران خان کا پہلا حملہ اسٹیٹس کو کے خلاف تھا وہ ایک غیر روایتی سا آدمی ھے جو بات اندر میٹنگ میں کرتا ہے وہی باھر کر دیتا ہے، اسے پروٹوکول کا فکر نہیں، اس کو یہ بھی خیال اور احساس کمتری نہیں کہ میں دنیا کی کس بڑی شخصیت یا ملک کے سربراہ کے سامنے بیٹھا ھوں، پہلے تو پتا نہیں کتنی فوج ظفر موج ، "عرفانی" مشاہدات کے ماہر لکھ کر تقریریں دیتے اور کتنے پرویز اور مریمیں تصحیح کرتی رہتی تھیں ، کھانے سے لے کر پکانے والے اور ملک سے بیرون ملک جہازوں کے جہاز پہلے جا کر تیاری کرتے تھے اور پھر بھی پینٹ اتار کر چیک کیا جاتا تھا۔اب اس اسٹیٹس کو، کا نام ونشان بھی موجود نہیں جو بات کہنی ھے یا مانگنی بھی ھے تو صرف ملک مقدم ہے۔وہ سیاسی ڈکشنری کے مخصوص الفاظ جو سیاسی اشرافیہ عوام کے سامنے بول کر نعرے لگواتے تھے وہ بھیعمران خان کی ڈکشنری میں موجود نہیں ہیں ایک طوفان بیوروکریسی اور ذرائع ابلاغ کا منہ زور ھاتھی عمران خان کے راستے کی رکاوٹ اور چند رہنمائی بنے۔یہاں بھی غیر معمولی حالات کا سامنا تھا۔معیشت اور مہنگائی نے تو عمران خان کو خوب اٹھا اٹھا کر زمین پر پٹخا اس غیر معمولی حالت میں بھی وہ غیر روایتی ھی رہا۔ اپنے قریبی ساتھیوں جہانگیر ترین اور اسد عمر کے ساتھ پیش آنے والے ہے درپے حالات و واقعات بھی عمران خان کے سامنے کھڑے رہے مگر ثابت قدم رہا وہ درد کے ساتھ! کس کا درد ملک کو آگے لے جانے کا درد، باقی تو ھر درد جو لوگوں نے، اپنوں نے، اور سیاست نے دیا وہ بھول گیا ۔ایک ھی درد سے کھڑا تھا کہ معیشت کو تباھی کے دھانے سے وہ واپس لانا ھے اور وہ لے آیا اس موڑ پر عمران خان پہنچا ھی تھا کہ دنیا میں کورونا وائرس جیسی وبا نے ان طاقتوں کے غرور اور تکبر کو لرزا دیا وہ طاقت کے آقا زمین بوس ہو گئے ،کیا سپر پاور اور کیا ٹیکنالوجی کے ماھر سب ایک چھوٹے سے حیاتیاتی یا فطری وائرس کے آگے بے بس ، پاکستان بھی ان ملکوں کی صف میں کھڑا ہو کر عمران خان کے لیے غیر معمولی مسائل کا حصہ بن گیا مگر لڑنا آتا ہے اسے ،اور لڑے گا کے نظریے پر پاکستان کے غریب طبقے کی آواز کا ھم سفر بن گیا ۔اس میں بھی اس کی غلطیاں گننے والے بھی آخر کار ھم خیال بن گئے ،ان حالات میں عمران خان نے پھر غیر روایتی انداز میں دنیا سے قرض میں ریلیف کی اپیل کر دی اس اپیل پر کئی ملکوں نے لبیک کہا آج ملک بھرمیں احساس پروگرام ھو یا کامیاب جوان پروگرام، تعمیراتی شعبے کو انڈسٹری کا درجہ دینا ھو یا ذخیرہ اندوزوں اور اسمگلنگ کے خلاف سخت قوانین نافذ کر دئیے گئے۔قرضوں میں ایک سال کا ریلیف مل گیا، سعودی عرب نے بیس ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کا فیصلہ کیا ، ملک میں مہنگائی میں واضح کمی آئی ہے جبکہ صحت کے شعبے میں تیز رفتار تحقیق بیداری کی نئی لہر ھے جو پاکستان کو خود انحصاری دلا سکتی ہے۔البتہ بے روزگاری کا سیلاب اور کورونا کے چیلنجز ابھر کر سامنے آئے ہیں مگر ھیں غیر معمولی حالات ،ان کے سامنے غیر روایتی وزیراعظم عمران خان کھڑا ھے ،تاریخی حالات کا سامنا ھے اور امید کی جا سکتی ھے کہ تاریخی تبدیلی کا ذریعہ بھی بن سکتے ھیں کیونکہ ،" یہ تو چلتی ہے تجھے اونچا اڑانے کے لیے" یہ آئی ھے تو چلی بھی جائے گی اور قوی امکان یہ ہے کہ جگا دے گی کہ اٹھو صبح ہوگئی ھے۔اب ایک دیانتدار بندہ سامنے کھڑا ہے کوئی شریف و زردار نہیں، ایک معمولی، غیر روایتی، اور دھن کا پکا اور لگن کا سچا ہے،ٹیم کو لوگوں کے سامنے بیٹھا کر پوچھتا ہے، ایک اینکر کی طرح کہ کیا کیا ھے؟ میرے لوگوں کو بتاؤ اس اعتبار اور اعتماد کے ساتھ آپ نے کوئی وزیراعظم دیکھا ھو جو مزدور، دکان دار، کسان اور غریب کی بات کرتا ھو یا ان کے بارے میں سوچتا ھو میرا خدا اسے ضرور سر خرو کرے گا!

 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Sardar Khursheed Akhtar

Read More Articles by Sardar Khursheed Akhtar: 88 Articles with 29238 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
21 Apr, 2020 Views: 205

Comments

آپ کی رائے