تخت گرانے اور تاج اچھالنے کا وقت

(Sarwar Siddiqui, Lahore)

منظرایساتھامیں دم بخودرہ گیا جوکچھ اپنی جاگتی آنکھوں سے دیکھا اس پریقین کرنے کو دل نہیں مان رہاتھا اپنے آپ کو چٹکی کاٹی چبھن کااحساس دلانے کیلئے کافی تھا جو دیکھا افسانہ نہیں حقیقت ہے اب کے بار رحمتوں،برکتوں اور بخشش کا مہینہ عجب اندازسے آیا ہے پوری دنیا میں ایک خوف ہے اﷲ اس قدر اپنے بندوں سے ناراض ہوگیا ہے کہ خانہ کعبہ اور مسجدنبوی ﷺ تو ایک طرف ہمارے گلی محلوں کی مساجدکے دروازے بھی مسلمانوں پربندہوگئے ہیں پہلے تو دل ایک دوسرے سے نہیں ملتے تھے اب ہم ہاتھ ملانے سے بھی رہے دنیابھرمیں لاکھوں افراد اپنے پیاروں کے سامنے دیکھتے ہی دیکھتے مرتے جارہے ہیں کوئی کسی کے کیلئے کچھ نہیں کرپاتا بلکہ جوکروناوائرس کی زدمیں آگیا اس سے کوئی ملنے کو روادارنہیں اتنی بے بسی،اتناخوف،اتنی لاچاری کبھی دیکھی نہ سنی اس کے باوجودہم مسلمانوں نے کبھی حالات سے سبق سیکھنے کی کوشش نہیں کی ہمارا رویہ،ہماری دولت سے محبت شایدپہلے سے بھی دوچندہوگئی ہے ہم اپنے معبودکوراضی کرنے کیلئے تیارنہیں وہ ناراض ہے توکوئی اسے مناناہی نہیں چاہتا جیسے قادر ِ مطلق کے ساتھ سردجنگ جاری ہو۔ دل و دماغ پر جائز ناجائز حرام حلال کی تمیز کئے بغیربس دولت کمانے کی ہوس چھائی ہوئی ہے اﷲ ہی ہماری حالت پررحم فرمائے۔بہرحال افطاری کیلئے کچھ سامان خریدنے قریبی سٹورپرگیا بڑا رش تھا مرد وخواتین کچھ کچھ فاصلے پر موجودتو تھے لیکن محسوس ہوا جیسے گم صم سے ہوں باری کے انتظارمیں چیزوں کاجائزہ لیتے لیتے ایک عجیب سا ا نکشاف ہوا منظرایساتھامیں دم بخودرہ گیا ایک نہیں کئی ایک کو شرمندہ شرمندہ ایک ایک سیب،ایک ایک خربوزہ خریدتے دیکھاتو دل دھک سے دھک کرنے لگا سٹوروالابھی ڈیجیٹل ترازو سے چند گرام تک کا حساب کرکے پورا پورا انصاف کررہاتھا یہ آج کا منظرنامہ ہے یہ عام ہم وطن کی حالت اور حالات ہیں جس میں سفیدپوش کی حالت سب سے بری ہوگئی ہے یہ کلاس مہنگائی،بیروزگاری،لاک ڈاؤن اور نامساعد حالات میں ہمیشہ متاثرہوتی ہے اور انہیں کبھی ریلیف نہیں ملتاسفیدپوش سے نچلاطبقہ بچوں کو تعلیم دلاسکتاہے نہ اس کے پاس کوئی ڈھنگ کا روزگارہوتاہے مفلسی ،بیماری،بیروزگاری سے لڑنے والا یہی طبقہ معاشرے کااصل چہرہ ہوتا ہے جس کیلئے حکمرانوں کو کچھ کرگذرنے کی احساس ہوناچاہیے ایلیٹ کلاس اور عام آدمی کے درمیان بڑھتے ہوئے فاصلے اور حالات دیکھ کر یہ احساس قوی ہوتاجارہاہے کہ یہ ظلم کا معاشرہ کبھی نہیں پنپ سکتا شایدیہ بات سچ ثابت ہوجائے کہ جو کروناسے بچ نکلے وہ بھوک سے مرجائیں گے ڈرلگ رہاہے سوچ سوچ کر خوف آرہاہے کہ پون صدی سے دبی چنگاریاں کہیں شعلہ ہی نہ بن جائیں، خدانہ کرے ملک میں خانہ جنگی کا ماحول بنے لیکن حالات تیزی سے اس طرف ہی جارہے ہیں لوگوں کی محرومیوں کو زبان ایسے ہی ملتی ہے جب اشرافیہ اپنے لئے دولت کے پہاڑ اکٹھے کرکے بھی ان کا دل نہ بھرے عام آدمی اپنے اور اپنے بچوں کے روزہ افطارکرنے کیلئے ایک ایک پھل خریدنے پر مجبورکردیا جائے تو جانتے ہو پھرکیا ہوگا شاید بیشترنہیں جانتے لوگوں کے دل تو پہلے ہی پریشر ککر بنے ہوئے ہیں جب یہ لاواتو پھٹے گا تواس کی زدمیں کون کون آئے گا کچھ نہیں کہاجاسکتا مجھے تو اب اس انقلاب کی چاپ سنائی دینے لگی ہے جب بھوکے اناج سے بھرے سٹور،امراء کی کوٹھیاں اور گودام لوٹ لیں گے شایدتخت گرانے اور تاج اچھالنے کا وقت آگیاہے اس وقت سے سب کوڈرنا چاہیے کیونکہ اشرافیہ کا دی اینڈ آنے والا ہے۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Sarwar Siddiqui

Read More Articles by Sarwar Siddiqui: 259 Articles with 83861 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
29 Apr, 2020 Views: 234

Comments

آپ کی رائے