وحید قندیل ؔکی شاعری - احساس وآگہی کی شاعری:ملاپ پر مختصر اظہاریہ!

(Afzal Razvi, Adelaide-Australia)
وحید قندیل ؔکی شاعری - احساس وآگہی کی شاعری:ملاپ پرمختصر اظہاریہ
افضل رضوی
اس انتہائی مختصرنوٹ میں نقد و تنقید سے صرفِ نظر کرتے ہوئے محض محاسن پر توجہ مرکوز رکھی جائے گی۔ قارئین! وحیدؔ قندیلؔ، واقعی ایک قندیل کی طرح روشن اور روشن خیالی سے مزین ہے۔ اس کی شعری تخلیقات کا مطالعہ کیجیے یا نثری تحریروں کی ورق گردانی کیجیے، طبع زادی ہر دو صورتوں میں نظر آئے گی۔وحید بیک وقت اچھا ادیب بھی ہے اور شاعر بھی۔ دوتین سال قبل شائع ہونے والے ان کے سفرنامے”سفر نامہ تھائی لینڈ“ میں مزاح، تاریخ و جغرافیہ، منظر نگاری اور پشتون جھلک ایک ساتھ نظر آتی ہے اورشاعر کی حیثیت سے اس کا کمال فن یہ ہے کہ یہ عام سی بات کو بھی اس طرح شعری قالب میں ڈھالتا ہے کہ قاری محظوظ ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا۔وحیدؔ قندیلؔ کے تین شعری مجموعے”مونا لیزا“،”آؤ بھیگ جائیں“اور”جھیل کا چاند“ شائع ہو چکے ہیں۔ جن کے بارے نقادوں کا کہنا ہے کہ یہ اردو شاعری میں ایک اضافہ ہیں۔اور اب اس کا یہ چوتھا مجموعہئ کلام ”ملاپ-تو، میں اورمحبت“ کے نام سے منصہئ شہود پر آرہا ہے۔ اس مجموعے کی خاصیت یہ ہے کہ اسے وحید ؔنے اپنے،اپنی اہلیہ اور بیٹے کے حوالے سے ملاپ قرار دیا ہے۔
اس کے اس مجموعے میں نظمیں اور غزلیں دونوں ساتھ ساتھ چلتی ہیں۔ دورِ حاضر میں نظم اور غزل موضوع اور اسلوب کے حوالے سے ایک نیا انداز اختیار کر گئی ہے؛ چنانچہ وحید قندیلؔ کی شاعری میں جہاں عام انسانوں کے دکھ درد اور خوشی و مسرت کی داستانیں ملتی ہیں، وہیں خود اس کی کہانی بھی اس میں شامل ہو کر اسے مزید تقویت بہم پہنچاتی ہے۔وہ کہیں جیون ساتھی کے متلاشی نظر آتا ہے تو کہیں اپنی ازدواجی زندگی کے حسین امتزاج کی بات کرتا ہے تو کہیں اپنے ”حسین“کو اپنا آدھا جسم قرار دیتے ہوئے اعلان کرتا ہے:
میرے دل کی خوشی، نورِ نظر ہے
میری جاں ہے میرا لختِ جگر ہے
بہاریں ہیں اُسی سے زندگی کی
وہ میرا پھول ہے، میرا ثمر ہے
وحید کی شاعری کا موضوع زندگی اور اس کی سچائیاں، حقیقتیں اور تلخیاں ہیں۔ دورِ حاضر میں زندگی بڑی بے رحم اور تلخ ہوتی جارہی ہے لیکن وحید کا فن یہ ہے کہ وہ اپنے فکر و شعور اور آگہی کی بٹھی میں ڈال کر اسے نرم وگداز بنا دیتاہے۔جہاں تک وحید کی عشقیہ شاعری کا تعلق ہے تو یہ نہ تو رسمی عشقیہ شاعری ہے اور نہ ہی روایتی بلکہ یہ ایک صحت مند و توانا انسان کے جذبوں اور احساس و آگہی کی شاعری ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Afzal Razvi

Read More Articles by Afzal Razvi: 111 Articles with 46528 views »
Educationist-Works in the Department for Education South AUSTRALIA and lives in Adelaide.
Author of Dar Barg e Lala o Gul (a research work on Allama
.. View More
07 May, 2020 Views: 384

Comments

آپ کی رائے