ایک عظیم محقق‘ ادیب اور دانش ور سید قاسم محمود

(Muhammad Aslam Lodhi, Lahore)

سید قاسم محمود ادب و صحافت کے میدان میں کسی تعارف کے محتاج نہیں ہیں۔انہوں نے ایک پاکستانی دانشور اور اردو مختصر کہانی نویس ، ناول نگار ، ایڈیٹر ، ناشر ، مترجم اور پاکستان کے ماہر انسائیکلوپیڈسٹ کی حیثیت سے اتنا تحقیقی و تخلیقی کام کیاکہ ان کی خدمات کو ادب کی تاریخ میں فراموش نہیں کیاجاسکتا ۔ یہاں یہ عرض کرتا چلوں کہ انہوں نے پندرہ انسائیکلوپیڈیا اور ایک لغت مرتب کی ۔ بیماری کی وجہ سے سات انسائیکلوپیڈیا کو زیر تکمیل چھوڑا ، مختصر کہانیوں کے تین مجموعے تیار کیے ، ایک ناول ، ایک ناولٹ ، اور ریڈیو پاکستان کے لئے پانچ ڈرامے لکھے ، ایک فلم کی کہانی لکھی ، باغی سپاہی (باغی آرمی مین) ، ترجمہ شدہ شاہکار بین الاقوامی افسانوں ، سائنس اورٹیکنالوجی کے ، نو ادبی اور معاشرتی رسالوں کی تدوین کی اور نو سائنسی اور ادبی رسائل کو اپنی پبلشنگ کمپنیوں کے زیر انتظام شائع کیا ، انہوں نے 211 سائنسی اور ادبی کتابیں شائع کیں ، قومی اخبارات اور رسائل میں ادب ، سائنس ، سیاست اور سماجیات کے بارے میں کثیر تعداد میں مضامین لکھے۔ ان کا تاحیات مشن اپنے ملک میں ایسی کتابیں اور رسالے لکھنا اور شائع کرنا تھا جہاں خواندگی کی شرح معمول سے انتہائی کم ہے۔ وہ جہالت ، ناخواندگی اور جنونیت کے یکسر خلاف تھے۔

سید قاسم علی محمود 17 نومبر 1928ء ہندوستان کے ضلع سونی پت کے ایک قصبے کھرکھودہ میں پیدا ہوئے ۔ ان کے والد سید ہاشم علی شاہ کا شماربڑے زمینداروں ہوتا تھا۔ سید ہاشم تعلیم یافتہ انسان تھے لیکن وہ مغربی تعلیم کوپسند نہیں کرتے تھے۔جس تعلیم سے سر سید احمد خان اپنے مسلمان نوجوانوں آراستہ کرنا چاہتے تھے۔ اس نے اسے کفر (کفر) کہا۔ لیکن سید قاسم محمود کی والدہ( فردوسی بیگم )مدرسہ تعلیم کے بعد اپنے بیٹے کو اسکول میں بھی تعلیم دلوانا چاہتی تھیں۔اس نے تعلیمی اخراجات پورے کرنے کے لیے اپنے ہاتھوں میں پہنی ہوئی چوڑیاں فروخت کیں اور بیٹے کو سرکاری سکول میں داخلہ دلوا دیا ۔

سید قاسم محمود 1940 میں ، صوبہ پنجاب میں پرائمری اسکول کے امتحان میں پہلے نمبر پر آئے۔ انہوں نے 40 میں سے 40 نمبر حاصل کرکے سب کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا.۔ اس وقت کے وزیر اعلی پنجاب ، سر سکندر حیات خان سید قاسم محمود کو انعام دینے کے لئے خود ان کے گاؤں کھرکھودہ پہنچے۔ سید قاسم محمود پنجاب کا پہلا مسلمان بچہ تھا جس نے پرائمری امتحان میں اول پوزیشن حاصل کی۔ 1947 میں میٹرک کے امتحان میں آپ انبالا ڈویژن میں پہلے نمبر پر رہے۔یہ وہ ایام تھے جب حصول پاکستان کی تحریک زوروں پر تھی چنانچہ رگوں میں دوڑنے والا مسلمانوں کا خون کہاں خاموش رہ سکتا تھا۔ نہ صرف آپ تحریک پاکستان میں ذہنی اور جسمانی طور پر شریک ہوئے بلکہ انہیں کھرکھودہ پرائمری مسلم لیگ کا جوائنٹ سکریٹری منتخب کرلیاگیا۔ بعدازاں آپ اپنے خاندان کے ہمراہ دہلی منتقل ہوگئے۔ 1946ء میں ، میٹرک کے امتحان کے بعد پہلی مرتبہ دہلی کے ہمدرد دواخانہ میں آپ نے ملازمت کرلی ۔یہاں مجدد طب اورممتاز دانشور حکیم محمد سعید کے ساتھ کچھ مہینوں کام کرنے کااعزاز حاصل کیا۔1947ء میں مسلمانوں کو ایک نیا اور آزاد ملک پاکستان ملا ، تو کروڑوں مسلمان ہجرت کرکے پاکستان پہنچے اور لاکھوں مسلمان عورتوں بچوں اور مردوں کو پاک سرزمین تک پہنچنے سے پہلے ہی آزادی کے مخالف ہندووں اور سکھوں نے شہید کردیا ۔

جب پاکستان معرض وجود میں آگیاتو نوجوان سید قاسم محمود بھی اپنی آنکھوں میں نئے خواب سجائے ہندوں اور سکھوں سے بچ بچا کربذریعہ ٹرین لاہورآ پہنچے ۔ابتداء میں ملازمت کے حصول کے لیے سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ پیسہ کمانے کے لئے انہیں چھوٹی چھوٹی ملازمتیں کرنا پڑیں۔ اخبار بیچا ، چپڑاسی کی نوکری کی ، لکڑی ہارے کا کام کیا اور پھر محکمہ ٹیلیفون میں بطور لائن مین کچے ملازم ہوگئے۔ آخر کار ، انہیں اردو کے مشہور قومی روزنامہ" زمیندار" میں ملازمت مل گئی ۔ چونکہ سید قاسم محمود فطری طور پر تحریرو تحقیق کو پسند کرتے تھے ، لہذا "زمیندار" اخبار میں کام کرتے ہوئے ان کے مراسم اردو کے بڑے ادیبوں اور صحافیوں سے قائم ہوئے ، ان میں مولانا ظفر علی خان ، مولانا اظہر امرتسری ، حاجی لق لق ، مولانا مرتضی احمد خاں مکیش اور مولانا ابو سعید بزمی جیسے لوگ شامل ہیں۔ سید قاسم محمود نے فکری طور پر ان ادبی شخصیات سے بھرپور استفادہ کیا۔

1948 میں ہی ، انہیں بطور منیجر عالمگیر میں کام کرنے کی پیشکش ہوئی۔ ان دنوں عالمگیر ایک مشہور ادبی رسالہ تھا ، اس کے مالک اور ایڈیٹر حافظ محمد عالم تھے۔ وہاں مرزا ادیب اور شیخ محمد اسماعیل پانی پتی جیسے لوگوں سے شناسائی ہوئی ۔ 1949 ء میں آپ نے ہفتہ وار خیام میں کام کیا ۔ 1951 سے 1960ء تک مشہور پبلشنگ ادارے ‘ یونائیٹڈ پبلشر میں بھی کام کیا۔جنوری 1950ء میں جب آپ اپنی میٹرک کی سند حاصل کرنے کی غرض سے پنجاب یونیورسٹی گئے۔ تو وہاں ان کی ملاقات اسسٹنٹ رجسٹرار ، محمد افضل سے کی ، جوسید قاسم محمود کی تعلیمی قابلیت اور شخصیت سے بے حد متاثر ہوئے۔ انہوں نے آپکو یونیورسٹی میں اچھی تنخواہ کے عوض عالم کی ملازمت کی پیش کش کی۔ جسے سید قاسم محمود نے اعزاز سمجھ کر قبول کرلیا ( یادرہے جنرل محمد ضیاء الحق کی حکومت میں ، ڈاکٹر محمد افضل وزیر تعلیم کے عہدے پر فائز تھے)۔ اس طرح پنجاب یونیورسٹی میں سید قاسم محمود کوپاکستان کی قومی زبان اردو کے فروغ میں اپنی خدمات انجام دینے کا موقع مل گیا ۔1963ء میں آپ کا پہلا ناول شائع ہوا۔1965ء میں بطور ایڈیٹر اردو انسائیکلوپیڈیا فیروز سنز میں ملازمت کا آغاز کیا ۔1966ء میں مشہور ادبی رسالے "ادب لطیف "کی ادارت سنبھالی ۔1966ء میں ہی ابن انشا کے اصرار پرآپ کو نیشنل بک کونسل کے لاہور آفس کا انچارج بنادیاگیا ۔1967ء میں سید قاسم محمود نے قائد اعظم ؒ کی تقاریر اور تحریروں کے قیمتی اور نایاب حصوں کااردو میں ترجمہ کیا ۔ 1969ء میں حکومت پاکستان نے مینا رپاکستان پر لگنے والے سنگ مرمر پر قرار دادلاہور کو اردو میں لکھوانے کا فیصلہ کیا ۔ اس اہم ترین منصوبے کے لیے بطور ایڈیٹرسید قاسم محمود منتخب ہوئے ۔قرارداد لاہور کا جو ترجمہ آپ نے کیا وہی عالمی شہرت یافتہ خطاط ‘ حافظ یوسف سعدی ‘ اقبال ابن پروین‘ صوفی خورشید عالم اور محمد صدیق الماس نے سنگ مرمر پر کندہ کیا ۔اس منصوبے کے نگران کمشنر لاہور مختار مسعود تھے ۔

1975ء میں آپ نے شاہکار اسلامی انسائیکلو پیڈیا کو مکمل کیا جو اپنے وقت کا بہت بڑا کارنامہ تصور کیا جاتا ہے ۔1976-77ء میں آپ حکومت پنجا ب کی مجلس زبان دفتری کے رکن منتخب کرلیے گئے۔اس دوران کمیٹی کے دیگر اراکین کے ہمراہ آپ نے سرکاری خط و کتابت ( انگریزی سے اردو ) کی پانچ سو صفحات کی لغت مرتب کی ۔کچھ عرصہ کے لیے آپ نے بطور ڈپٹی ایڈیٹر نوائے وقت کراچی کو بھی جائن کیا ۔بعدازاں آپ نے کراچی میں شاہکار بک فاؤنڈیشن کے نام سے اپنا الگ ادارہ قائم کیا ‘اس ادارے کے تحت مختلف موضوعات پر 35کتابیں شائع کی گئیں۔1986ء میں آپ نے انسائیکلو پیڈیا آف فلکیات شروع کیا ۔یہ منصوبہ 1987ء میں پایہ تکمیل کو پہنچا ۔بعد ازاں انسائیکلو پیڈیا ایجادات کو شروع کرکے مکمل کیا۔ 1995ء میں آپ نے انسائیکلو پیڈیا پاکستانیکا کو پایہ تکمیل تک پہنچایا۔ اس میں تاریخ ‘ پاکستانی ثقافت ‘فنون لطیفہ ‘ سیاست ‘ جغرافیہ اور قابل ذکرشخصیات وغیرہ کے بارے میں مواد شامل ہے ۔1998ء میں سید قاسم محمود ایک بار پھر لاہور تشریف لے آئے ۔1999ء میں آپ نے انسائیکلو پیڈیا آف ہیومن کنڈہسٹری کی تدوین کی ۔اس میں انسانیت کی مذہبی‘ سیاسی ‘ معاشی ‘ معاشرتی ‘ ثقافتی ‘ سائنسی ‘ ادبی اور تکنیکی تاریخ کے بارے میں تجزیاتی تحریریں شامل تھیں ۔2000ء میں آپ نے سیرت النبی ﷺ کے حوالے سے انسائیکلوپیڈیا لکھنا شروع کیا جو 2004ء تک پایہ تکمیل کو پہنچا ۔2014ء میں اس انسائیکلوپیڈیا کو الفیصل پبلشرز اردو بازار لاہورنے شائع کیا۔ انسائیکلوپیڈیا آف قرآن کی ابھی چھ ہی قسطیں تیار ہوئی تھیں کہ آپکو شوگر ‘ السر‘ دل اور گردوں کی موذی بیماریوں نے آگھیرا ۔31مارچ 2010ء کے منحوس دن پاکستانی قوم کا یہ عظیم محقق ‘ ادیب اور دانش ور موت کی وادی میں جاسویا ۔جہاں سے کوئی لوٹ کر واپس نہیں آتا ۔ بے شک ہم سب اﷲ کے لیے ہیں اور اسی کی جانب لوٹ کر جانے والے ہیں ۔
...................
سید قاسم محمود واقعی ایک انسائیکلوپیڈک انسان تھے امید کی جاتی ہے ۔اتنے بڑے تحقیقی اور تخلیقی کام کو پایہ تکمیل تک پہنچانے والے عظیم شخص کی خدمات کو پاکستان اکیڈمی آف لیٹرز اور وزارت تعلیم کو محفوظ کرنے کے ساتھ ساتھ سید قاسم محمود مرحوم کو حکومت پاکستان کی جانب سے کسی بڑے اعزاز سے نوازانا چاہیئے اور ان کے تخلیقی کام کو آنے والی نسلوں کے لیے محفوظ رکھا جائے۔سید قاسم محمود جیسے عظیم محقق اور تخلیق کار کم کم ہی پیدا ہوا کرتے ہیں ۔بلکہ پاکستان میں جتنی بھی یونیورسٹیاں اس وقت موجود ہیں ہر یونیورسٹی میں سید قاسم محمود کے کام پر تحقیقی مقالے لکھے جانے چاہئیں اور بطور خاص اردو اور عربی کی اعلی تعلیم میں سید قاسم محمود کے انسائیکلوپیڈیا سے استفادہ ضرور کیاجانا چاہیئے ۔

میں یہاں مختصر ان کی لکھی ہوئی کہانیوں اور ناول کا تذکرہ کرتا چلوں -دیور پیٹھ کی (پتھر کی دیوار) قاسم کی مینڈی (قاسم کی مہندی)۔ سید قاسم محمود کا افسانی (قاسم محمود کی مختصر کہانیاں)۔ چلے دن بہار کے (بہار کے دنوں سے) ، ناول۔ پنڈت جلال الدین نہرو ، ناولٹ۔ انوکی کہانیاں۔ترمیم شدہ رسائل
خواتین (خواتین) اجالا (فجر) قندیل (موم بتی) صادق (سچ)۔ لیلو۔نہار (رات اور دن) صحیفہ (ایک کتاب) سائرا ڈائجسٹ۔ ادیب لطیف۔ Kitabv (کتاب) خیلات (خیالات) قفلہ (کاروان) عالمی ڈائجسٹ۔ طالب العلم (طالب علم) سائنس میگزین۔ افسانہ ڈائجسٹ۔ پاکستان ڈائجسٹ۔ اسلامی ڈائجسٹ۔ اہیہ خلافت۔ اہی e العلوم (احیاء علم)

آسن مشیطو (اقتصادی آسان) مسیحت کی جدد نذیرے (اقتصادیات کے نئے نظریے) مبارک مسیحات (اقتصادیات کی بنیادی باتیں)۔ Usool Siasiat (پولیٹیکل سائنس کی بنیادی باتیں)۔ کلیوپیٹرا کی کہانی (ملکہ کلیوپیٹرا کی زندگی) سکندر اعظم کی کہانی (سکندر اعظم کی زندگی) سردار عبدالرب نشتر۔ سائنس کیا ہے (سائنس کیا ہے)۔ جانسی رسومات (جنسی رسم و رواج) نواب محمد اسماعیل خان۔ فرہنگ مش معیشت (اقتصادیات کی لغت) قائد اعظم کا پاگام (قائد اعظم محمد علی جناح تقریریں اور تحریریں) بسیویان سعدی اور امریت (بیسویں صدی اور ڈکٹیٹرشپ) اسلامی دنیا 2012۔ عالم قرآن اسلامی سائنس۔ روح القرآن (روح القرآن) پیامِ رومی۔ نواب محمد اسماعیل خان (زندگی اور پاکستان تحریک کی معروف لاؤمری کے کارنامے) پیام اقبال با نوجوان ملییت (نئی نسل کو اقبال کا پیغام)۔ ڈاکٹر ایم حمید اﷲ کی بہترین تہران۔

آپ نے قرآن پاک کے مختلف زبانوں میں تراجم بھی کیے ۔ 1996 ء میں ایک اور بہت بڑی اشاعت منظرعام پر آئی اور وہ انسائیکلوپیڈیا پاکستان تھی جس کے بعد سیرت النبی انسائیکلوپیڈیا تھا۔

آپ کے قابل ذکر ناولوں میں ‘دو شہروں کی ایک کہانی ، چارلس ڈکنز۔ سمندر کا گھاس ، کونراڈ ریکٹر۔ ووٹرنگ ہائٹس ، ایملی برونٹی۔ جواری ، فیوڈور دوستوفسکی۔ Une vie ، گائے ڈی ماؤپاسنٹ۔ زندگی کی ہوس ، آرنگ اسٹون۔ بھوانی جنکشن جان ماسٹرز۔ کیپٹن احتیاط ، کینتھ رابرٹس۔ ایوین الیچ ، لیو ٹالسٹائی کی موت۔تیمبورالائن ، کرسٹوفر مارلو۔

ایک گڑیا کا گھر ، ابیسن۔ جسٹس ، جان گالسافل۔ لا مورٹ ڈی ٹنٹاگلز ، مورس میترلنک انٹونی اور کلیوپیٹرا ، ولیم شیکسپیئر۔ میکبیتھ ، ولیم شیکسپیئر۔ اوٹیلو ، ولیم شیکسپیئر۔ ہیملیٹ ، ولیم شیکسپیئر۔ رومیو اور جولیٹ ، ولیم شیکسپیئر شامل ہیں۔ماہرین ادب‘ سید قاسم محمود مرحوم کے بارے میں کہتے ہیں کہ بظاہر یہ شخص ایک ہی دکھائی دیتاتھا لیکن اگر ان کے تحقیقی اور تدوینی کام کو دیکھا جائے تو وہ ایک بڑا اور حیرت انگیز ادارے کا کام بنتا ہے جس نے اپنی زندگی کو تحقیق‘ تخلیق ‘ ادب اور صحافت کو ہی اوڑھنا بچھونا بنائے رکھا ۔ زندگی بھر وہ شہرت سے دور ہی بھاگتے رہے ‘ یہی چلن ان کے بیٹے سید عاصم محمود کا ہے جو آجکل اپنے والد کے نقش قدم پر چلتے ہوئے نت نئے موضوعات پر تحقیقی ‘ تہلکہ آمیز اور طویل قومی اور بین الاقوامی سطح کے مضامین تخلیق کررہے ہیں۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Muhammad Aslam Lodhi

Read More Articles by Muhammad Aslam Lodhi: 575 Articles with 292202 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
04 May, 2020 Views: 763

Comments

آپ کی رائے