امریکہ کے کمیشن برائے عالمی مذہبی آزادی کی تشویشناک رپورٹ

(Dr Salim Khan, India)

امریکہ کا کمیشن برائے عالمی مذہبی آزادی (یو ایس سی آئی آر ایف) ایک آزادانہ طور پر کام کرنے والی امریکی تنظیم ہے۔ اسے عالمی آزادی مذہب کے آرٹیکل 1998 کے تحت بنایا گیا تھا ۔ اس کا مقصد دنیا میں مذہب کی آزادی کی صورتحال پر نظر رکھنا ہے۔یہ تنظیم پوری دنیا میں مذہبی آزادی کو یقینی بنانے کے لیے امریکی صدر اور دیگر حکومتی اداروں کو اپنی سفارشات بھیجتی ہے۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ ہندوستانی دورے سے چار دن قبل اس نے اپنی رپورٹ میں شہریت کے متنازعہ قانون سی اے اے و این آر سی ( نیشنل رجسٹر آف سیٹیزنز) پر تشویش کا اظہار کیا تھا اور امریکی حکومت سے سفارش کی تھی کہ اس کا وفد ہندوستان کے حالات کا جائزہ لے کر حکومت پر دباؤ ڈالے۔ اس نے یہ سفارش بھی کی تھی کہ ہندوستان میں اقلیتوں کے خلاف ہونے والے جرائم سے نمٹنے کے لیے پالیسی وضع کرنے میں مودی حکومت کاتعاوم کیا جائے۔اس وقت ’یو ایس سی آئی آر ایف‘ نے سی اے اے اور این آر سی مخالف ملک گیر احتجاج کو مذہبی تفریق کی مثال کے طور پر پیش کرکے ہندوستان میں مذہب کے نام پر استحصال کے واقعات میں اضافہ کی جانب توجی مبذول کرائی تھی۔ ڈونلڈ ٹرمپ اس مسئلہ پر کیا بات کی یہ کوئی نہیں جانتا لیکن دہلی کے فسادات کا تحفہ قبول کرکے لوٹ گئے یہ سب جانتے ہیں ۔

گزشتہ سال دسمبر میں ہندوستان کی ایوان زیریں میں متنازعہ شہری ترمیمی بل کی منظوری کے فوراً بعد امریکی کمیشن برائے عالمی مذہبی آزادی نے وزیر داخلہ امیت شاہ پر پابندیاں لگانے کا عندیہ دیا تھا ۔ اس نے نہایت سخت لہجہ میں لکھا تھا کہ نریندر مودی کا ہندوستان مسلمانوں سمیت تمام اقلیتوں کے لیے دوزخ بن گیا ہے۔اس بل کی منظوری پر اپنی شدید پریشانی ظاہر کرتے ہوئے اس کو خطرناک اور گمراہ کن قرار دیتے ہوئے اس کمیشن نے امیت شاہ اور دوسری مرکزی قیادتامریکہ میں داخلہ پر پابندیاں لگانے کی سفارش کی تھی ۔ اب اس نے امریکی حکومت سے سفارش کی ہے کہ ہندوستان کو اُن ممالک میں شامل کیا جائے جہاں مذہبی آزادی کے حوالے سے خاص تشویش پائی جاتی ہے۔اس رپورٹ کی خوبی یہ ہے کہ اس ہر اس تنازع کا ذکر موجود ہے جس پر اس صورتحال کی ذمہ داری ہے۔ اس میں کہا گیا ہے ''گزشتہ برس ہندوستان میں مذہبی آزادی بُری طرح متاثر ہوئی ہے۔ حکومت نے اپنی پارلیمانی اکثریت کو استعمال کرتے ہوئے ایسی پالیساں اختیار کیں جن میں مسلمانوں کی مذہبی آزادی کے ساتھ مساوی حیثیت کو متاثرکیا۔''

شہریت کے ترمیمی قانون کا حوالہ دے کر اس رپورٹ میں لکھا گیا ہے کہ ''یہ قانون غیر مسلم مہاجرین کو جلد از جلد ہندوستانی شہری بنانے کی اجازت دیتا ہےاور اس کا مقصد غیر مسلمین کی حفاظت کرنا ہے‘‘۔ این آر سی کے تعلق سے امتیازی سلوک ،پریشانی، حراست اور بے وطنی کی صورت حال پر بھی تشویش ظاہر کی گئی ہے۔ آئین کی ریاست جموں کشمیر سے متعلق کی جانے والی ترمیم کا اس رپورٹ میں حوالہ موجود ہے اور اس کے بعد وہاں مذہبی آزادی پر مبینہ پابندی کا ذکر بھی کیا گیا ہے ۔ ہجومی تشدد کے بارے میں کہا گیا ہے کہ گائے کو ذبح کرنے کے واقعات کا الزام لگاکر پرتشدد بھیڑ مبینہ طور پر مسلمانوں کو مارڈالتی ہے۔ اس کے علاوہ یہ سنگین الزام بھی لگایا گیا ہے کہ قومی اور ریاستی حکومتوں نے اقلیتوں کے خلاف تشدد اور ڈرانے دھمکانے کی مہم کی روک تھام میں اپنا کردار ادا نہیں کیا۔ اس سلسلے میں، نفرت انگیز اور تشدد پر اکسانے والے بیانات کو بھی برداشت کیا گیا۔ سچ تو یہ ہے معاملہ برداشت کرنے سےآگے بڑھ کر ان کی حوصلہ افزائی کی گئی ۔ دہلی کی انتخابی مہم کے دوران وزیر داخلہ کی موجودگی میں گولی مارنے کی دھمکی دی گئی اور اب دہلی فساد کے نام پر بے قصور نوجوانوں کی گرفتاریوں کا سلسلہ جاری کردیا گیا ہے۔ یہ شرمناک گرفتاریاں ایک ایسے وقت میں ہورہی ہیں جب عدالتی نظام معطل ہے ۔ دنیا بھر میں کورونا کے سبب ملزمین کو پیرول پر رہا کیا جارہا ہے۔

ہندوستان کی وزارتِ خارجہ کے لیے لازم تھا کہ وہ اس کو مستر د کرتا اس لیے حسب توقع یہی ہوا۔ اس کے مطابق ماضی کی طرح اب بھی امریکی کمیشن کی رپورٹ کومیں ملک کے خلاف تعصب نظر آتا ہے اس لیے اسے رد کیا جارہا ہے ۔ ماضی قریب پر تو یہ بات صادق آتی ہے مگر ایک زمانے تک دنیا بھر کے ممالک بشمول امریکہ ہندوستان کے مذہبی رواداری کی تعریف میں رطب اللسان رہے ہیں ۔ اس شک نہیں کہ کئی ماہرین کے خیال میں اس طرح کی رپورٹ سے مفادات پر منحصر باہمی تعلقات متاثر نہیں ہوں گے لیکن اس خیال سے اختلاف کرنے والوں کی رائے یہ ہے کہ اس کے اثرات سیاست و معیشت دونوں پر پڑیں گے ۔ ملک کے اندر اگر غیر یقینی صورتحال پیدا ہوجائے تو غیر ملکی سرمایہ دارہندوستان کے اندر سرمایہ کاری کرنے سے پہلے تذبذب کا شکار ہوجائے گا کیونکہ ہر تجارت کی کامیابی کے لیے امن و استحکام لازمی ہے۔

ایک سوال اگر یہ ہے کہ مذکورہ رپورٹ میں ہند وستان کے بجائے پاکستان کے بارے میں یہی سب کہا جاتا تو کیا اس صورت میں بھی حکومت ہند اس کو خارج کردیتی یا اس کے برعکس رویہ اختیار کرکے اس کے حوالے سے ساری دنیا میں ڈھنڈورا پیٹا جاتا ؟ یہ عجیب اتفاق ہے کہ اس بار یہ رپورٹ پاکستان میں 2019 کے اندر مثبت پیش رفت کا اعتراف کرتی ہے۔ امریکہ کے کمیشن برائے عالمی مذہبی آزادی نے اپنے موقف کے حق میں دلیل کے طور پر بہت سارے حوالے پیش کیے ہیں مثلاً پاکستان اور ہندوستان کے درمیان کھلنے والی کرتار پور راہداری کا کھولا جانا تاکہ سکھ عقیدتمند گردوارہ دربار صاحب کی زیارت کر سکیں ۔اس کے علاوہ پاکستان میں پہلی سکھ یونیورسٹی کے سنگ بنیاد کا حوالہ بھی دیا گیا ہے ۔ اس کے برعکس رامپور کے اندر مولانا آزاد یونیورسٹی اور خواجہ غریب نواز یونیورسٹی کے ساتھ اتر پردیش حکومت کے نا روا سلوک سکھ یونیورسٹی سے موازنہ کیا جائے تو فرق کھل کر سامنے آجاتا ہے۔ ایک طرف تو ہندوستان کے اندر بابری مسجد کے تعلق سے ایسا نامعقول فیصلہ سامنے آیا کہ کو ماہر قانون اس کی تائید نہ کرسکا دوسری سیالکوٹ میں ہندوں کے مندر کو تزئین و آرائش کے بعد دوبارہ کھولنے کا کام ہوا۔ اس رپورٹ میں الگ الگ مقام پر دونوں کا ذکر موجود ہے۔

توہین مذہب کے مقدمے میں پاکستانی سپریم کورٹ کے ذریعہ آسیہ بی بی کے بری ہونے کا تذکرہ خاص طور پر کیا گیا ہے۔ حکومت پاکستان کی جانب سے تعلیمی نصاب سے مذہبی منافرت کے خارج کرنے کو سراہا گیا ہے اور 30ہزار مدارس کو یکساں نصاب کے ذریعےقومی دھارے میں شامل کرنے کی حکومتی کوششوں کو مثبت پیش رفت قرار دیا گیا ہے۔ اس میں شک نہیں کہ ہنوز پاکستان کو اس درجہ بندی سے نکالا نہیں گیا کیونکہ وہاں ہنوز مذہبی آزادی کے سلسلے میں میں منفی رجحانات پائے جاتے ہیں۔ پاکستان میں توہین اسلام کے قوانین اور احمدیوں کے خلاف قوانین کو استعمال پر بھی تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔ کمیشن نے ہندوں، عیسائیوں اور سکھوں کے جبری تبدیلیٔ مذہب کو روکنے میں سرکار کی ناکامی پر تنقید کی ہے۔ اس کے باوجود یہ فرق واضح ہے کہ جہاں ناکام ریاست کہلانے والے پاکستان کی حالت میں سدھار آرہا ہے وہیں ہندوستا ن کا وقار مجروح ہورہا ہےاور اسے چین، پاکستان، شمالی کوریا، سعودی عرب اور روس جیسے13 ممالک کی صف میں کھڑا کردیا گیاہے۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Salim

Read More Articles by Salim: 1201 Articles with 435774 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
08 May, 2020 Views: 204

Comments

آپ کی رائے