اُف یہ موبائل ۔۔!

(Roshan Khattak, Peshawar)

 ایک ہمارے بچپن کا زمانہ تھا، جب پیغام رسانی خط کے ذریعے ہوتی تھی ،پھر ٹیلیگرام(تار) اور ٹیلیفون کا زمانہ آیا ۔ترقی نے ایک اور قدم بڑھایا تو ’’موبائل ‘‘ آگیا ۔آج شاید ہی کوئی ہوگا جس کے پاس موبائل نہ ہو، اور وہ اس کا پوراپورا فائدہ نہ اٹھا رہا ہو ۔

کئی لوگوں نے تو دو دو موبائل بھی رکھے ہیں۔ میں جب اس چھوٹے سے مشین یعنی موبائل کی طرف دیکھتاہوں تو اس پر بڑا رحم آتا ہے اور شکر کرتا ہوں اﷲ کا ، کہ یہ ایک بے جان مخلوق ہے،ورنہ اس کی زندگی تو عذاب بن جاتی۔اس بیچارے کو روز کیا کیا سننا اور سہنا نہیں پڑتا۔خوشی اور غمی کی خبریں، کاروباری اتار چڑھاؤ ، نفع و نقصان کی باتیں۔خوشی کی باتیں ہوں تو قہقہے سنتا ہے ورنہ گالی گلوچ بھی سننی پڑتی ہے ۔اب آپ ہی بتائیے ! اس میں موبائل بیچارے کا کیا قصور ہے ؟ پیکیج ہونے کی صورت میں گھنٹوں پیار و محبت کی باتیں چپ چاپ سنتا رہتا ہے، بلکہ بیچارہ وہ باتیں بھی سنتا رہتا ہے جو شاید آپ کے کان بھی سننا گوارا نہیں کرتے۔موبائل بے چارہ نہ جذبات میں آسکتا ہے، نہ کسی کو روک سکتا ہے۔ نیٹ کی مصیبت الگ سر پر آپڑی ہے، باتوں سے کچھ فراغت مِلے تو فیس بک، یو ٹیوب،وٹس ایپ اور ٹویٹر اس کے جگر ِ نامراد پر سوار ہو جاتے ہیں ۔

آج تو یہ حال ہے کہ ہر کمپنی موبائل میں زیادہ سے زیادہ کشش پیدا کرنے اور سہولتیں دینے کی دوڑ میں لگی ہو ئی ہیں جس کی وجہ سے لوگوں میں خصوصا نو جوانوں میں نئے نئے کپڑے بدلنے کی طرح موبائل بدلنے کا رواج بھی ہے جو کورونا کی طرح ایک دوسرے کو لگ رہی ہے ۔لڑکے ہوں یا لڑکیاں ، گھر میں ہوں،بازار میں ہوں یا راستے پر چل رہے ہوں،موبائل کان کے ساتھ چمٹا ہوا ہوتا ہے۔

حد تو یہ ہے کہ موٹر سائیکل سوار نے بھی موبائل سے نکلے ہوئے دو تار کانوں میں ایسے لگائے ہوئے ہو تے ہیں جیسے یہ بھی ان کے جسم کا مستقل حصہ ہوں ۔گھروں میں خواتین برتن دھو رہی ہوں یا کپڑے واشنگ مشین میں دے رکھے ہوں، موبائل بے چارہ ان کے کان اور کندھے کے درمیان دبا ہوا ہوتا ہے ۔کندھا تو زیادہ اوپر اٹھ نہیں سکتا ،سر کو ہی کندھے تک لے جانا پڑتا ہے ،یہ کرتب روزانہ دیکھنے کو ملتے ہیں۔ نو جوان تو موبائل کے رسیا بن چکے ہیں کیونکہ جو باتیں وہ کسی سے رو برو نہیں کر سکتے وہ موبائل پر کر لیتے ہیں۔ سوشل میڈیا کا استعمال، یو ٹیوب پر گانے اور فلموں کے دیکھنے کے شوق نے نوجوانوں کی عادتیں بگاڑ دی ہیں ،اگر گھر میں چار افراد ہیں تو دنیا سے بے خبر چاروں کی انگلیاں موبائل پر ٹِک ٹاک کر رہی ہو تی ہیں ۔ہماری نوجوان نسل کے اخلاق بگاڑنے میں موبائل بے چارے کا کیا قصور ؟ موبائل تو موجودہ زمانے کی ایک ایجاد ہے اور ایجاد ات کو کوئی روک نہیں سکتا ، ہاں اپنے آپ پر روک لگا سکتے ہیں ،جو بہت آسان بھی ہے مگر بس ذرا صبر ، اعتدال اور ضبط سے کام لینا چاہیئے۔ موبائل بے شک آج کی ایک ضرورت بن چکی ہے مگر اس کا استعمال ضرورت کی حد تک ہی ہونی چا ہئے۔ شیطان ہمیں نظر نہیں آتا، اگر چہ وہ ہمیں ورغلانے کے لئے ہر وقت ساتھ رہتا ہے اور کوئی موقع ہمیں بہکانے کے لئے ہاتھ سے جانے نہیں دیتا ، لیکن جیسے ہی ہمیں شیطان کی شیطانی کا احساس ہو تا ہے ،ہم لا حولہ ولا ، پڑھ کر شیطان کو بھگا دیتے ہیں مگر مٹھی میں آنے والے اس شیطان یعنی مو بائل کو ہم ہمیشہ دل کے قریب رکھتے ہیں۔مسجدوں میں بھی اپنے ساتھ رکھتے ہیں۔ کھانا کھاتے وقت بھی ہمارے ساتھ اور سوتے وقت بھی ہمارے پہنچ سے دور نہیں ہوتا ۔آدھی رات کو آواز دیتا ہے تو ہم فورا لبّیک کہتے ہیں ۔صبح سویرے جب آنکھ کھلتی ہے تو سب سے پہلے مو بائل پر نظر پڑتی ہے ۔

بے شک مو بائل ایک دوسرے سے رابطہ بہتر بنانے میں ایک اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ کال، ایس ایم ایس، ویڈیو چیٹ اور اس طرح کے نہ جانے اور کون کون سے طریقے ہیں جس نے رابطہ کی راہ میں حائل تمام رکاوٹوں کو ختم کر دیا ہے ۔ مگر یہ بات بھی ہمیشہ ذہن میں محفوظ رکھنی چا ہئے کہ موبائل کا غلط استعمال تباہی کا باعث بھی بن سکتا ہے۔ صحت پر منفی اثرات، تعمیری صلاحیتوں میں کمی، ذاتی معلومات کو خطرہ ، غیر اخلاقی مواد کی تباہ کاریاں اور نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں کا ناپسندیدہ رابطہ اسی مو بائل کی وجہ سے ہی تو ہے۔

با ایں وجہ نوجوانوں سے اپیل ہے کہ وہ اپنی سوچ کو بدلیں، مو بائل پر وقت ضائع کرنے کی بجائے تعلیم کے میدان میں خود کو مقابلہ کے لئے تیار رکھیں، موبائل رکھنا بھی ہو تو اس کے استعمال کے اصول بنائیں اور ان اصولوں پر عمل بھی کریں تاکہ کل کو پشیمانی نہ ہو۔

موبائل میں موجود کسی بھی ایسے راستے پر نہ چلیں ، کہ کل کو لوٹ آ نا ممکن نہ ہو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: roshan khattak

Read More Articles by roshan khattak: 271 Articles with 159864 views »
I was born in distt Karak KPk village Deli Mela on 05 Apr 1949.Passed Matric from GHS Sabirabad Karak.then passed M A (Urdu) and B.Ed from University.. View More
11 May, 2020 Views: 292

Comments

آپ کی رائے