تعلیمی درس گاہیں

(RIAZ HUSSAIN, Chichawatni)
تاریخ کی جانب بڑھتے ہیں تو خالد بن ولید ؓکے تاریخی کلمات سب کو یاد ہونگے کہ موت خود زندگی کی حفاظت کرتی ہے، جب موت مقدر بن جائے تو پھر دوڑتی ہوئی پہنچ جاتی ہے۔ مسلمان کے ایسے بنیادی عقائد اور سوچ کو یکسر بدلنے کی کوشش کی جاری ہے۔

اللہ کے پیارے حبیب رحمت اللعالمین خاتم النبین حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب اس دنیا سے رخصت ہوئے ان کے اثاثے میں اس وقت کا جنگی سازو سامان میں تلواریں تھیں، اللہ کے نبی ﷺ کی زندگی ہمارے لیے رشدوہدایت ہے اور مسلم امہ انہی کی تعلیم پر عمل پیرا ہے۔ خطبہ حجتہ الوداع دیتے ہوئے آپ ﷺ نے پوری کائنات کو سمیٹے ہوئے تعلیم فرمائی، احادیث مبارکہ، سنتوں بھری عملی زندگی، یہ سب امت مسلمہ کے لیے ضابطہ حیات ہے، جس پر عمل کرتے ہوئے اللہ کے ہاں سرخرو ہو سکتے ہیں، وقت کے بدلتے انداز، سائنس کی جدت اور معاشرتی نظام کے تغیر و تبدل نے دُنیا کو یکسر بدل کر رکھ دیا۔ جن مسلمان رہنماؤں نے اللہ کے رسول ﷺ کے بتائے ہوئے طریقوں کو اپنی زندگی کا معمول بنا لیا اس قوم کا معاشرتی نظام بھی اسلام کی ترجمانی کرتا ہے، وہاں عدل و انصاف، حقوق العباد، رشوت ستانی اور دیگر کئی معاشرتی اکائیوں کو بہتر انداز میں جانچے اور لاگو کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔ تاریخ کی جانب بڑھتے ہیں تو خالد بن ولید ؓکے تاریخی کلمات سب کو یاد ہونگے کہ موت خود زندگی کی حفاظت کرتی ہے، جب موت مقدر بن جائے تو پھر دوڑتی ہوئی پہنچ جاتی ہے۔ مسلمان کے ایسے بنیادی عقائد اور سوچ کو یکسر بدلنے کی کوشش کی جاری ہے، جس سے اسلامی معاشرے میں بگاڑ جنم لیتا ہے، اس بگاڑ کو تقویت دینے کے لیے الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا سرفہرست ہے، افسو س ہوتا ہے کہ میڈیا پاکستان میں ہی رہ کراپنا ایسا کردار اداکررہا ہے جو ہمارے اندر خوف، دین سے دوری، اسلامی اسلاف سے بے راہ روی کی طرف لے جا رہا ہے لیکن ہم آنکھیں بند کرکے اس پر عمل پیرا ہیں، اس عمل کو روکنے کے لیے اسلامی اور معاشرتی اقدار کو بہتر بنیادوں پر استوار کرنے کے لیے درس گاہیں میدان عمل میں اپنا کردار ادا کرتی ہیں لیکن باوجود اس کے ہم پھر اپنے اسلاف سے کیوں دور ہو رہے ہیں، اس کی ایک بنیادی وجہ یہ ہو سکتی ہے ہمارے تعلیمی نظام میں جونصاب تیار کیا جاتا ہے شاید یا یقینا اس میں ہیرا پھیری ہو رہی ہے، جس کی وجہ سے آج کا استاد وہ سب کچھ نہیں دے پاتا جو مسلم معاشرے کی ضرورت ہے، یا پھر استاد کی تربیت کچھ ایسے انداز میں کر دی جاتی ہے کہ وہ خود اسلامی اقدار سے دور ہوتا جا رہا ہے، بہر کیف کہیں نہ کہیں بہت بڑی کمی ہے، ترکی کو دیکھ لیں وہ اپنی قوم اور معاشرے کی تربیت کس انداز میں کرتا ہے، وہ ایک قوم تیار کرنے پر تلا ہوا ہے، نماز کا عادی کرنے کے لیے چالیس دن کا ریگور نمازی کے لیے انعام، سمر کیمپ کے دوران مختلف مقابلہ جات کروائے جاتے ہیں، پوزیشن ہولڈرکو انعام جو اس دوران قرآن مجید کو حفظ کر لیتا ہے اس کو حکومت اپنے خرچہ پر عمرہ کرواتی ہے، بچہ چالیس دن میں نماز کا عادی ہو جاتا ہے، سمر کیمپ میں دینی علوم سیکھنے کا موقع ملتا ہے اور پھر وہ بچہ باقاعدہ دینی اسلاف کو اپناتے ہوئے اپنی زندگی گزارتا ہے، ہمارے ہاں ایسا کرنا معیوب سا لگتا ہے، این سی سی ختم کروا دی گئی، سکاؤٹس کا دورانیہ صرف ایک ہفتہ جو کہ ناکافی ہے، سمر کیمپ کے دوران سکول کھلے جانے پر بالکل پابندی ورنہ جرمانے کے ساتھ سیل کر دیا جاتا ہے، اس میں والدین بھی برابر کے شریک ہیں، امسال2020کو سامنے رکھ لیں کورونا کی وجہ سے لاک ڈاؤن اور پھر اس کا ختم ہو جانا لیکن تعلیمی ادارے پرلاک ڈاؤن قائم ہے، جب بازار اور مارکٹیں کھولنے کے لیےSOPs بن سکتی ہیں تو تعلیمی اداروں میں ایسا ہجان کیوں؟ آج بازار وں کا دورہ کرو توبڑوں کی نسبت بچے زیادہ نظر آئیں گے جس سے کورونا کو پھیلنے میں ساز گار ماحول میسر آئے گا، اگر یہی بچے سکول میں ہوتے بازاروں میں رش ایک تہائی سے بھی کم ہوتا، لیکن ایسا نہیں ہو سکا، لاک ڈاؤن کھولنے کا مقصد عام آدمی، چھوٹا دکاندار اپنے لیے روزی روٹی کما سکے، مزدور دیہاڑی پر جا سکے، حکام بالا اس بات سے بے خبر کیوں ہے کہ پرائیویٹ تعلیمی اداروں کے اونرز سبھی بیوریو کریٹس،سرمایہ داروں کے نہیں ہیں ان میں سفید پوش اور اپنی عزت نفس کو سبھنالے ہوئے ہیں، جن کو والدین وقت پر فیس ادا کرنا بھی جرم سمجھتے ہیں، کچھ ایسے اساتذہ بھی ہیں جن کا دارو مدار اکیڈیمز پرتھا اور ہے، اب یہ عام سکول اونرز اور اکیڈیمی استاد سفید پوش اپنی ضروریات زندگی کیسے پوری کریں گے، نا تو یہ غربت کی لائن میں کھڑا ہو سکتے ہیں اور ہی پلو اٹھا کر مانگ سکتا ہے، خیرجب درسگاہوں کو کسی نہ کسے حیلے بہانے سے بند کر دیا جائے، ان کی سرگرمیوں کو مشکوک کہہ کر پابندی لگا دی جائے تو پھر ان درسگاہوں سے ہم کس قوم اور ترقی کی امید لیے بیٹھے ہیں، جب تک ہماری قیادت استاد کا ادب و احترام، اور اس کی زندگی کو آسان نہیں بناتی اس وقت درسگاہیں سوائے نصاب مکمل کروانے اور رٹا لگوانے کے کچھ نہیں دے سکتیں، ہونا تو یہ چاہیے تھے کہ لاک ڈاؤن کے دوران چند کلاسز کو بلا کر نصابی اور ہم نصابی سرگرمیوں میں مشغول رکھاجاتا جس سے ان کی ذہنی اور جسمانی تربیت جاری رہتی ہے۔ ہماری اسلامی تاریخ اب صرف اسٹیج پر کھڑے ہو کر دہرانے کے سوا کچھ نہیں رہی، اگر اس تاریخ کو حقیقت میں پڑھایا جائے اور میڈیا پر دکھا یا جائے تو مسلم امہ ایک بہترین قوم پھر سے بن سکتی ہے اور کوئی بھی ان کی طرف میلی آنکھ سے دیکھ نہیں سکتا۔ افسوس ایسا ممکن نظر نہیں آتا۔۔۔۔ اللہ کریم سے دُعا گوہوں کہ ہمیں اسلامی اقدار پر رہتے ہوئے اسلامی معاشرہ کی تشکیل کی توفیق عطا فرمائے آمین۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: RIAZ HUSSAIN

Read More Articles by RIAZ HUSSAIN: 118 Articles with 68000 views »
Controller: Joint Forces Public School- Chichawatni. .. View More
12 May, 2020 Views: 842

Comments

آپ کی رائے