افغانیوں کے ساتھ اپنی دوستانہ پالیسی پر نظرثانی کرنا ہوگی

(Syed Maqsood ali Hashmi, )

یہ 1960 کا ایک دن تھا ،سینکڑوں کلومیٹر پر محیط پاک افغان بارڈر کھلا ہوا تھا جہاں سے مقامی افراد باآسانی بارڈر کراس کر لیتے تھے۔ افغانستان کو مسلمان ملک خیال کرتے ہوئے اس بارڈر کے ساتھ پاک فوج کی نفری بھی تعینات نہیں تھی۔ ان دنوں پاک افغان سرحد کی طرف سے ایک ہزار سے زائد افغان فوجیوں کا لشکر باجوڑ ایجنسی پر حملہ آور ہوا۔ حملہ آور فوج ہر طرح سے تربیت یافتہ اور اس وقت کے بہترین اسلحے سے لیس تھی، جس کا مقابلہ باجوڑ کے غیرتربیت یافتہ مقامی قبائلیوں نے کیا۔ افغان فوج نے قبائل کو سرنڈر کرنے اور اطاعت قبول کرنے کا حکم دیا لیکن نواب آف باجوڑ ایوب خان اور صوبن خان نے ہتھیار ڈالنے کی بجائے آخری سانس تک افغان فوج کا مقابلہ کرنے کی ٹھان لی۔ اپنے مقصد میں ناکامی کے بعد افغان فوج نے نہتے پشتونوں کا قتل عام شروع کر دیا ، عین اسی وقت پاک فوج کی نفری موقع پر پہنچ گئ جس نے فضائیہ کی مدد سے افغان فوجیوں کو تہ تیغ کر دیا۔ اگرچہ تمام کے تمام حملہ آور افغانی مارے گئے لیکن جنگ ختم ہونے تک بہت سارے پاکستانی قبائلی شہید ہو چکے تھے جن کے لیے حکومت پاکستان نے اعزازات کا اعلان کیا۔ یہ واقعہ افغانیوں کی تاریخی بزدلی اور پاکستان دشمنی کی یاد دہانی کرواتا ہے لیکن افسوس کی آج کی پاکستانی نسل افغانیوں کی اس تاریخی نمک حرامی کو نہیں جانتی۔ حقیقت تو یہ ہے کہ افغانیوں نے ہمیشہ پاکستان کی پیٹھ میں چھرا کھونپا ہے۔ آج بھی یہ افغانی پاکستان میں پاکستان کش تحریکیں چلا کر اپنی تاریخی نمک حرامی کا ثبوت دے رہے ہیں۔ آج نہیں تو کل،

ہمیں افغانیوں کے ساتھ اپنی دوستانہ پالیسی پر نظرثانی کرنا ہو گی۔

 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Syed Maqsood ali Hashmi

Read More Articles by Syed Maqsood ali Hashmi: 127 Articles with 46051 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
16 May, 2020 Views: 303

Comments

آپ کی رائے