ہندوستان کی، اقلیتوں کے خلاف جارحانہ پالیسی

(Prof Shabbir Ahmed Khursheed, Karachi)

 ہندوستان کا مصنوی چہرہ ساری دنیا دیکھ چکی ہے۔جو کچھ وہاں اقلیتوں اور خاص طور پر مسلمان اقلیت کے ساتھ ہو رہا ہے اس پر ہندوستان کی سول سوسائٹی کو تو چھوڑیئے۔سارے مغرب اور اس کی انسانی حقوق کی مصنوعی تنظیموں کو بھی جیسے سانپ سونگھ گیا ہے۔دوسری جانب اس کی روزنہ کی بنیاد پر پاکستان کی سرحدکی خلاف ورزیاں مسلسل جاری ہیں اور ہمارے نڈر جوانوں کی جوابی کاروائیاں ہندوستان کی بندقوں کے منہ بند تو کر دیتی ہیں۔ مگراس کے ظالمانہ کھیل کی مذمت کرنے اور ہمارا ساتھ دینے کو دنیا میں کوئی بھی تیار دکھائی نہیں دیتا ہے جو ہماری خارجہ پالیسی کی مکمل ناکامی کا بھی ثبوت ہے۔دوسری جانب ایران اور افغانستان سے مل کر ہندوستان ،پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں مسلسل دہشت گردی کی کارو ائیوں اور جارحیت کا مرتکب ہو رہا ہے۔ پاکستان کی درگذر کی پالیسیوں کو ہندوستان ہماری کمزوری سمجھ بیٹھا ہے۔حالانکہ یہ بازو اُس کے بھی آزمائے ہوئے ہیں!

ہندوستان کی جارحیت کے بارے میں یورپی پارلیمنٹ کے تحقیق کرنے والے ارکان نے ایک پالیسی رپورٹ میں کہا ہے کہ ہندوستان نے حالیہ مہینوں کے دوران اور خاص طور پر جس وقت سے مودی حکومت کا دوسرا دورِ حکومت ہندوستان میں شروع ہوا ہے۔اس وقت سے ملک میں اقلیتوں کے خلاف خطر ناک صورتِ حال پیدا کی ہوئی ہے۔جس سے ہندو قوم پرستی کا معاملہ اپنے عروج کو چھو رہا ہے۔ ہندو قوم پرستی سے ریاستی دہشت گردی کا معاملہ ہندوستان کی پالیسیوں کا حصہ بن چکا ہے۔اس رپورٹ میں کہاس گیا ہے کہ گذشتہ سال اگست میں ہندوستا نے جموں و کشمیر کی حیثیت کا خاتمہ کر کے (کشمیر یوں کی بندش کے بعد)فوجی قوت بڑھاکر ہزاروں رہنماؤں اور ورکرز کو پابندِ سلاسل کر دیا ہے۔ان سے ہر قسم کی سیاسی و سماجی سہولتیں چھین لی گئی ہیں۔نئے قوانین کے ذریعے جموں و کشمیر کی اصل حیثیت کا خاتمہ کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں

مذکورہ رپورٹ میں یہ بات بھی واضح کی گئی ہے کہ سالِ گذشتہ میں ہندوستان کے جمو و کشمیر کی خصوصی حیثیت کا خاتمہ کر دینے کے بعد مودی حکومت نے ایک متنازعہ شہریت کا قانون پاس کر کے ہندوستانی معاشرے کو تقسیم کر کے رکھ دیا ہے۔جس سے پورے ہندوستان میں احتجاجوں میں شدت آگئی ہے اور خاص طور مذہبی شدت پسندی پر شہریت دینے کے اس قانون نے ہندوستان کا سیکولر چہر ہ مسخ کر کے رکھ دیا ہے۔جس کی وجہ سے ہندستان کے مسلمانوں میں خاص طور پرخوف و حراس کا احساس شدت اختیارکر چکا ہے۔اس سال صرف دہلی میں 53، مسلمان بے گناہ شہید کردئے گئے ہیں اور ہندوستان کے دور دراز علاقوں میں کی جانیوالی دہشت گردی کی کاروائیاں ہزاروں میں ہیں۔

سوشل میڈیا پر روزانہ کئی کئی ویڈیو وائرل ہوتی ہیں جن میں ہندو غنڈوں کے گروہ اکیلے مسلمان نو جونوں پر کس طرح کا تشدد کر رہے ہوتے ہیں اور پولیس تماشائی بنی دیکھتی رہتی ہے۔ اسی طرح ہندو پولیس عوام کے ساتھ اور خاص طورپر خواتین اور بچوں کے ساتھ بہیمانہ تشدد کر رہی ہوتی ہے۔مگر مجال ہے کہ ہندو سول سوسائٹی میدان میں آتی ہو! ہنودستان میں مسلمان اپنے مذہبی فرائض کی انجام دہی بھی نہیں کر سکتے ہیں۔قربانی اہلِ ایمان کا فریضہ ہے۔جس کو ہندو اہلِ ایمان کو انجام دینے سے طاقت کے بل پر روکے ہوئے ہیں۔یہ ظالم ایک جانور کے ذبحہ کرنے پر مسلمانوں کی بستیاں کی بستیاں اُجاڑ کر رکھ دیتے ہیں اور انسانیکون مسلسل بہاتے دیکھے جاتے رہے ہیں۔جہاں مسلمانوں کی قوت ایمانی کا بھی امتحان ہے۔

ہم کہتے ہیں نہ سمجھو گے تو مٹ جاؤگے (ہندوستان کے مسلمانو!) تمہاری داستان تک نہ ہوگی داستانوں میں اب بھی وقت ہے اپنے آپ کو اپنے ایمان کو سنبھالو!اور آستینیں چڑھا کر بت شکن بن جاؤ ۔ورنہ تمہارادین، تمہارا ایمان اورتمہاری مساجد یوں ہی ہندو توا کا شکار ہوتی رہیں گی اور تم بزدلی کے ہاتھوں بے نام نشاں کر دیئے جاؤ گے۔تم اب تک پاکستان دشمنی میں اپنا سب کچھ گنواں دینے کے بعد بھی خالی ہاتھ ہی دکھائی دیتے ہو۔

ہندوستان کے ان مظلوم مسلمانوں کو ایک کام کرنا چاہئے،جیسے بھی ہو سکے اپنی آبادیوں کو وسعت دے کر اپنے علاقوں کے جتھوں کو مضبوط کر یں اور ہندو علاقوں سے منتقل ہو کر مسلمان اکثریت کے علاقے بنائیں ۔تاکہ مسلمانوں میں تحفظ کا احساس پیدا ہو اور دہشت گرد ہندوؤں کا مقابلہ کرنے کے قابل ہو جائیں۔اپنے علاقوں میں ہندوؤں کو بسنے نہ دیں تاکہ ہندوستان میں ’’ہندو توا‘‘کو دفن کیا جا سکے۔جب مسلمان اپنے علاقوں میں مضبوط ہوجائیں تو متعصب ہندودہشت گردوں کے تشدد اور دہشت گردی سے اپنے آپ کو محفوظ رکھ سکیں اور پھر نعرہ لے کر چلیں بن کے رہے گا ’’مسلمستان بٹ کے رہے گا ہندوستان‘‘ مسلمستان کا مطلب کیا لا الہ الااﷲ ۔۔۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Prof Shabbir Ahmed Khursheed

Read More Articles by Prof Shabbir Ahmed Khursheed: 285 Articles with 120463 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
20 May, 2020 Views: 242

Comments

آپ کی رائے