حکومتی پالیسیوں پر نظر ثانی کی ضرورت؟

(Hammad Asghar Ali, )

 اگرچہ پچھلے تین ماہ سے پوری دنیا کورونا جیسی مہلک وبا کا سامنا کر رہی ہے اور اس کے نتیجے میں تقریبا پونے 4لاکھ افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں مگر یہ امر کسی حد تک غنیمت ہے کہ پاکستان اور خطے کے دیگر ملکوں میں صورتحال تاحال قابو میں ہے لیکن د وسری طرف پچھلے کئی ہفتوں سے وقفوں کیساتھ ٹڈی دل پاکستان کے بعض علاقوں پر حملہ آور ہے اور خدشہ ہے کہ پاکستان کی زرعی پیداوار کو اس سے شدید نقصان پہنچے گا۔ کورونا کے نام پر کیے جانے والے لاک ڈاون کی بناء پر صنعتی شعبہ پہلے ہی بند ہے جس کی وجہ سے ملک کی مجموعی قومی پیداوار میں زبردست کمی کے اندیشے ظاہر کیے جارہے ہیں ۔ اقوام متحدہ نے بھی اس سلسلے میں خبردار کیا ہے۔ تاہم یہ بات سمجھ میں نہیں آتی کہ اقوام متحدہ نے اپنا کردار ادا کرنے کے بجائے محض کمنٹری کا شعبہ کیوں سنبھال لیا ہے۔

کبھی اقوام متحدہ کی جانب سے کہا جاتا ہے کہ اگر بروقت توجہ نہ دی گئی تو روہنگیا مہاجرین کا مسئلہ انسانی المیے میں تبدیل ہوسکتا ہے تو کبھی فرمایا جاتا ہے کہ اسرائیلی توسیع پسندی خطے میں امن کے لیے شدید خطرہ ہے۔ اگر اقوام متحدہ اپنا کردار موثر طریقے سے ادا کررہی ہوتی تو آج دنیا اتنے مسائل کا شکار نہ ہوتی۔ ٹڈی دل کے معاملے میں بھی اقوام متحدہ نے یہی کیا ہے۔ جس طرح سائبیریا سے ہجرت کرنے والے پرندوں کا ایک راستہ ہے، بالکل اسی طرح ٹڈی دل کا بھی اپنا ایک راستہ ہے۔

یہ ٹڈیاں مشرقی افریقا میں پیدا ہوتی ہیں اور مصر، سعودی عرب، مسقط سے ہوتی ہوئی پاکستان کے علاقے بلوچستان میں پہنچتی ہیں پھر یہ سندھ اور پنجاب سے ہوتی ہوئی بھارت میں داخل ہوتی ہیں۔ دہائیوں سے اقوام متحدہ ان ٹڈیوں کی افزائش کو مانیٹر کرتا رہا ہے اور ان کے خطرناک صورت اختیار کرنے سے قبل ہی انہیں تلف بھی کرتا رہا ہے مگر گزشتہ کئی برسوں سے اقوام متحدہ نے اپنا کام موثر طریقے سے نہیں کیا ہے جس کی بناء پر اب ٹڈیوں کی یہ فوج انسانو ں کے لیے خطرے کی صورت اختیار کرچکی ہے۔

یہ حکومت پاکستان کی بھی ذمہ داریوں میں شامل ہے کہ وہ ٹڈیوں کے خلاف اپنی سرزمین پر کارروائی کرتی مگر یہاں تو حکومت کورونا کے نام پر لوٹنے میں مصروف ہے۔ کسان مریں یا جیئیں، نہ تو صوبائی حکومت کو اس کی فکر ہے اور نہ ہی وفاقی حکومت کو، بس الزام تراشی کا کھیل جاری ہے۔ وفاقی حکومت کے زیرا نتظام پلانٹ پروٹیکشن ڈپارٹمنٹ کے نام سے ایک ادارہ قائم ہے جس کے دیگر وظائف کے علاوہ ٹڈیوں کو ٹریک کرکے ان کاخاتمہ کرنا بھی اہم ہے۔ اس کے لیے پلانٹ پروٹیکشن ڈپارٹمنٹ کے پاس ہوائی جہازوں کا بیڑا بھی موجود ہے اور تجربہ کار اسٹاف بھی۔ اسے المیہ ہی کہا جاسکتا ہے کہ ان جہازوں میں سے صرف ایک جہاز قابل استعمال حالت میں ہے جبکہ بقیہ جہاز ضروری مرمت نہ ہونے کی بناء پر ناکارہ ہوچکے ہیں۔

کیا پلانٹ پروٹیکشن ڈپارٹمنٹ کے ذمہ داروں کو اس کا علم ہے کہ انہوں نے پاکستان کی معیشت کے ساتھ کیا کیا ہے۔ فصلیں تباہ ہونے کا خمیازہ صرف کسان ہی نہیں بھگتیں گے بلکہ اس کے مضر اثرات پورے ملک پر پڑیں گے۔ بہتر ہوگا کہ صوبائی اور وفاقی حکومتیں اب کورونا کے بخار سے باہر نکلیں اور ملک کی حالت کی طرف توجہ دیں۔ کورونا کے نام پر ہر چیز کو پس پشت ڈال دیا گیا۔

شاید ایک طرح سے کورونا حکومت کے لیے نعمت ثابت ہوا ہے جس کی آڑ میں حکمرانوں کی ہر نااہلی نہ صرف چھپ گئی ہے بلکہ ان کے وارے نیارے الگ سے ہوگئے ہیں۔ موجودہ صورتحال کو دیکھ کر یہ اندازہ کرنا مشکل نہیں ہے کہ ماضی کی طرح اب بھی حکومت مسئلے کے حل کے بجائے لکیر پیٹنے میں دلچسپی رکھتی ہے۔ فصلوں کی تباہی کا واحد مطلب یہی ہے کہ آئندہ برس درآمدات میں اضافہ اور درآمدات میں اضافے کا مطلب ہے مزید قرضے۔ اور یوں ملک غربت کی دلدل میں مزید دھنس جائے گا۔

ملک کے زرعی شعبے کا حال پہلے ہی دگرگوں ہے۔ مہنگی کھاد، مہنگی اور ملاوٹ شدہ جراثیم کش ادویات اورمہنگی زرعی مشینری نے پہلے ہی کسانوں کے ہوش اڑائے ہوئے ہیں کہ اب ہائبرڈ بیجوں کی وجہ سے ان کے لیے مزید مسائل پیدا کردیے گئے ہیں۔ اس تمام صورتحال کے باوجود جب فصل تیار ہوتی ہے توچینی اور گندم مافیا ان کی فصلوں کو اونے پونے خرید کر سرکار سے زرتلافی بھی لیتی ہے اور ذخیرہ کرکے کئی گنا قیمت بھی وصول کرتی ہے۔

کیا سرکا رکو یہ بتانے کی ضرورت ہے کہ زراعت ملک کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے اور کیا ارباب اقتدار کو یہ بھی بتانے کی ضرورت ہے کہ ان کی پالیسیوں کے نتیجے میں روز کئی ہزار پاکستانی خط غربت کو عبور کرجاتے ہیں۔ آئی ایم ایف کی ٹیم نے پہلے ہی ملک کا بُراحال کیا ہوا ہے، رہی سہی کسر ٹڈی دل کا بروقت مقابلہ نہ کرنے جیسی پالیسیوں نے پوری کردی ہے۔بہر کیف امید کی جانی چاہیے کہ حکومتی حلقے اس ضمن میں موثر حکمت عملی اپنائیں گے تاکہ مجموعی صورتحال سے بہتر طور پر نمٹا جا سکے
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Hammad Asghar Ali

Read More Articles by Hammad Asghar Ali: 15 Articles with 4218 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
30 May, 2020 Views: 152

Comments

آپ کی رائے