دیویندر فردنویس: دوزخ تیری پنہاں ہے تیرے خونِ جگر میں

(Dr Salim Khan, India)

پیوش گوئل وزیر ریلوے ہیں اس کا پتہ اس وقت چلا کہ جب ان پر مہاراشٹر حکومت کے خلاف ٹویٹ کرنے کا بھوت سوار ہوگیا ورنہ تو ہندوستان میں فی الحال ایک وزیر اعظم ہے اور وہی سب کچھ ہے ۔ ان کو جب ضرورت ہوتی ہے وزیر داخلہ کے ذریعہ کچھ بل پاس کروالیے جاتے ہیں اور اس کے بعد انہیں اپنے بل میں بھیج دیا جاتا ہے جہاں وہ دبک کراگلی باری کے انتظار میں بیٹھ جاتے ہیں ۔ وزیر خزانہ کومعاشی پیکیج کی تفصیلات پیش کرنے کا حکم دیا جاتا ہے اور پھر انہیں پیک کرکے کسی کونے میں پھینک دیا جاتا ہے تاکہ دوبارہ ضرورت کے وقت کام آئیں۔ پیوش گوئل کا معاملہ ذرا مختلف ہے ۔ انہیں اپنی نااہلی چھپانے کے لیے ازخود تال ٹھونک کر میدان میں آنا پڑا۔ مہاجر مزدوروں کو اپنے گاوں پہنچانے والی گاڑیاں جب اقتدار کے نشے میں اِدھر اُدھر بہکنے لگیں ۔ بہار جانے والے گاڑی بنگلورو کی سیر کرکے ۹دن بعد اپنی منزل پر پہنچی ۔ گورکھپور والوں کو اڑیسہ پہنچا دیا گیا اور ایسے ایک دو نہیں چالیس واقعات منظر عام پر آگئے ۔ اس دوران ایک مسافر کی ساٹھ گھنٹے بھوکا رہنے کے سبب موت بھی ہوگئی تو پیوش گوئل جاگے اوراپنی ناکامی کی پردہ پوشی کے لیے مہاراشٹر حکومت کے خلاف ایک کے بعد ۶ گھنٹوں میں ۹ ٹویٹ کردیئے ۔ مرکز میں بیٹھے پیوش گوئل کا مسئلہ ہے وہی ہے جو ممبئی میں براجمان دیویندر فردنویس کا ہے کہ وہ اپنی کم عقلی کو چھپانے کے لیے آئے دن ادھو ٹھاکرے پر نزلہ اتارتے رہتے ہیں ۔

سابق وزیر اعلیٰ دیویندر فردنویس کواس بار قانون ساز کونسل کی تین کے بجائے چوتھی اضافی نشست کے مل جانے سے اپنے پرانے پاپوں کےپرایشچت کاسنہری موقع ملا تھا لیکن وہ بھی ان کی خود غرضی کی نذر ہوگیا ۔ پچھلے الیکشن میں اپنی بیجا خود اعتمادی کے خمار میں فردنویس نے اپنی ہی پارٹی کے اپنے چار حریفوں کا کانٹا نکال دیا تھا۔ ان میں پہلے تو ممبئی اور کوکن کے علاقہ سے آنے والے مراٹھا سماج کے رہنما ونود تاوڑے تھے ۔ انہیں ٹکٹ سے محروم کردیا گیا ۔ خاندیش میں لیوا پاٹل سماج کے ایکناتھ کھڑسے کے ساتھ بھی یہی ہوا لیکن اس کے لیے پہلے ان کی بہو کو رکن پارلیمان بنایا گیا اورپھر بیٹی کو صوبائی اسمبلی کا ٹکٹ دینے کے بعد ہروایا گیا ۔ گوپی ناتھ منڈے کی بیٹی اورطاقتور دھنگر سماج کی نمائندگی کرنے والی مراٹھواڑہ کی رہنماپنکجا منڈے کا ٹکٹ تو فردنویس نہیں کاٹ سکے مگر ان کو بھی الیکش جیتنے سے محروم کردیا گیا ۔ اسی طرح خود ان کے اپنے ودربھ سے تعلق رکھنے والے نہایت فعال سابق وزیر توانائی اور تیلی برادری کے رہنما چندر شیکھر باون کلے کو بھی فردنویس نے کامیاب نہیں ہونے دیا۔

1995 میں یہی کھیل شرد پوار نے کھیلا تھا اور اس کے نتیجے میں شیوسینا کے منوہر جوشی کو وزیر اعلیٰ بننے کا موقع مل گیا تھا ۔ اس بار دیویندر فردنویس نے پوار کی پیروی کی اور اقتدار گنوا بیٹھے لیکن حسن اتفاق ہے کہ پچھلی مرتبہ بھی اس کا فائدہ شیوسینا کو ہوا اور اس بار بھی ادھو ٹھاکرے غیر متوقع طور پر وزیر اعلیٰ بن گئے۔ اس سے پتہ چلتا ہے مکافاتِ عمل پوار یا فرد نویس میں تفریق نہیں کرتی ۔ وہ بلا امتیاز سبھی کو یکساں سزا دیتی ہے اور اقتدار ان لوگوں کے حصے میں آجاتا جس کی کسی کو امید نہیں ہوتی ۔ اگر یہ بات نہ ہوتی تو 2014 میںکون سوچ سکتا تھا کہ ایکناتھ کھڑسے اور ونود تاوڑے کے ہوتے منوہر جوشی کے بعد ایک اور دیویندر فردنویس نام کا براہمن رہنما مہاراشٹر کا وزیر اعلیٰ بن جائے گا لیکن جس کو اللہ رکھے اس کو کون چکھے کی مصداق وہ دونوں وزیر اعلیٰ بنے۔
دیویندر فردنویس نے جن چار رہنماوں کا کا نٹا نکالا ان کا تعلق نہ صرف مہاراشٹر کے چار مختلف علاقوں سے ہے بلکہ وہ چار اہم ذاتوں کی نمائندگی کرتے ہیں ۔ فردنویس نے اپنے ذاتی فائدے کے لیے ان ساری برادریوں کو ناراض کرکے اپنا دشمن بنایا۔ اس خسارے کو پورا کرنے کے لیے حزب اختلاف کے رہنماوں کو خرید کر ان کی مدد سے اقتدار میں آنے ناکام کوشش کی گئی ۔ بی جے پی کو ان کی اس حرکت نے بڑا نقصان پہنچایا ۔ اس بار یہ ہوسکتا تھا کہ وہ ان چاروں کو ودھان پریشد کا رکن بناکر پارٹی پر ان کی برادری کا اعتماد بحال کرتے لیکن پھر ایک بار ان کی خود غرضی آڑے آگئی ۔ انہوں ان چاروں بڑے رہنماوں کو درکنار کرکے ایسے لوگوں کو نامزد کروا دیا جن کا نام تک لوگ نہیں جانتے تاکہ وہ نووارد احسانمند ہمیشہ اپنے وفادار بنے رہیں۔ فردنویس کی یہ تنگ نظری اور رعونت بی جے پی کے لیے زحمت اور مخالفین کی خاطرغیر متوقع نعمت بنی ہوئی ہے۔

صوبے میں ایم ایل سی الیکشن کی گہما گہمی کے دوران بی جے پی امیدوار وں کا اعلان ہوتے ہی پارٹی کے سینئر لیڈران ونود تاوڑے ،پنکجا منڈے اورچندر شکھیر باونکلے نے ڈھکے چھپے انداز میں اپنی ناراضگی کا اظہار کرنا شروع کردیا لیکن سابق وزیر محصول ایکناتھ کھڑسے اپنے آپ پر قابو نہیں رکھ سکے ۔ انہوں نے ذرائع ابلاغ میں اپنی ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے یہ انکشاف کیا کہ انہیں قانون ساز اسمبلی (ایم ایل سی ) کی چھٹی نشست کیلئے کانگریس کی جانب سے پیشکش کی گئی تھی۔ بی جے پی کے ۶؍ سے۷؍ارکان اسمبلی انہیں ووٹ دینے کیلئے تیار بھی ہو گئے تھے لیکن انہوں نے کورونا کی وباء کے دوران سیاست کرنا ا مناسب نہیں سمجھا ۔ کھڑسے کے بیان سے ظاہر ہے کہ بی جے پی کے لیے کورونا کے سبب خطرہ ٹل تو گیا مگر موجود ہے۔ وباء کے خاتمہ پر وہ اپنے حامیوں کے ساتھ مشور ہ کرکے آئندہ کا لائحۂ عمل بنائیں گے ۔

آگے چل کرکھڑسے جو راستہ اختیار کریں گے اس کا اشارہ انہوں ے یہ کہہ کر دے دیا ہے کہ ماضی میں سب مل بیٹھ کر فیصلے کرتے تھے لیکن اب چند مخصوص وگ کرتے ہیں۔ایسے لوگوں کو اعلیٰ کمان کی تائید حاصل ہے ۔ بی جے پی میں کچھ لوگ اپنے آپ کو پارٹی کا مالکیا آمر سمجھنے لگے ہیں ۔ پارٹی میں اب جمہوریت نہیں ہے۔ اپنے دعویٰ کی دلیل کے طور پر کھڑسے نے انکشاف کیا کہ ایم ایل سی انتخابات کیلئے بی جے پی کی ریاستی سلیکشن کمیٹی کیتجویز کردہ فہرست میں چندر شکھیر باونکلے، ،پنکجا منڈے ،ونود تاوڑے اور ایکناتھ کھڑسے کا نام شامل تھا لیکن اس میں سے باہر کے چار لوگوں کی نام لکھ کر اس ہائی کمان کی مہر لگولی گئی ۔ سابق وزیر محصول کے مطابق ان کے ساتھ وعدہ خلافی ہوئی ہے ۔ پارٹی کے وفاداروں درکنار کرکے اس کی مخالفت کرنے والوں قانون ساز کونسل کا رکن بنانے سے انہیں ٹھیس پہنچی ہے ۔

امیت شاہ جب تک پارٹی کے صدر تھے تو ان کو بی جے پی کا چانکیہ کہا جاتا تھا کیونکہ وہ روپیوں کے بل بوتے پر مخالفین کو توڑنے میں ماہر تھے لیکن ان کی اپنی ہی پارٹی کے علاقائی رہنماوں پر ایک نہیں چلتی تھی ۔ راجستھان کی وزیراعلیٰ وسوندھرا راجے اور گجرات کی آنندی بین کے نزدیک امیت شاہ کی کوئی وقعت نہیں تھیں ۔ آنندی بین کو تو خیرپٹیل ریزرویشن کی تحریک کا بناکر ہٹایا گیا لیکن وسوندھرا کا آخری وقت تک بال بیکا نہیں ہوا۔ یہاں تک کہ عوام نے انہیں ہٹا دیا۔ کرناٹک کے وزیر اعلیٰ بی ایس یدورپاّ کے خلاف کئی عوامل تھے ۔ اول تو ان کی عمر ۷۵ کی حد کو تجاوز کرچکی تھی اس پر بدعنوانی کا الزام ان کے دامن گیر تھا ۔ ایک زمانے میں وہ پارٹی سے بغاوت کرنے والا یہ رہنمااسمبلی میں اعتماد کا ووٹ حاصل کرنے بھی ناکام ہوچکا تھا اس کے باوجود شاہ جی کسی کو وزیر اعلیٰ نہیں بناسکے۔ یہی حال شیوراج چوہان کاہے ۔ وزیر اعلیٰ کے طور پر وہ انتخاب جیتنے میں ناکام رہے۔ ویاپم گھوٹالہ کاکلنک ان کی پیشانی پر لگا ہوا ہے اس کے باوجو د کئی متبادل کی موجودگی میں انہیں کو وزیراعلیٰ بنانا پڑا۔

شاہ جی مہاراشٹر میں بھی دیویندر فردنویس کو شیوسینا کے ساتھ حکومت سازی پر راضی نہیں کرسکے اس لیے منہ کا نوالہ چھن گیا اس کے باوجود انہیں کو اسمبلی کا لیڈر بنایا جانا حیرت انگیز تھا ۔ پارٹی کے اعلیٰ کمان کی اسی کمزوری کا فائدہ اٹھا کر وہ پارٹی کی بیخ کنی کیے جارہے ہیں ۔ مہاراشٹر میں بی جے پی کی سرکار کو جڑ اکھاڑنے کا کریڈٹ ویسے تو شرد پوار کو دیاجاتا ہے لیکن اگر دیویندر فردنویس میں تھوڑی بھی عقل ہوتی تو پوار کو اپنے جوہر دکھانے کا موقع نہیں ملتا۔ شرد پوار ٹیلی ویژن پر یہ اعتراف کرچکے ہیں کہ ہمارے سامنےجو موقع آیا اس کا ہم نے فائدہ اٹھایا۔ سوال یہ ہے وہ موقع کس نے فراہم کیا؟ اس کا واحد جواب فردنویس ہے ۔ اسی کے ساتھ مہاراشٹر کی مختلف برادریوں کو بی جے پی سے دور کرکے اس کو کمزور کرنے میں دیویندر فردنویس نادانستہ جو اہم کردار نبھا رہے ہیں اس کا مقابلہ کانگریس ، این سی پی اور شیوسینا مل کر نہیں کرسکتے ۔ اصل محنت تو فردنویس کررہے ہیں اور باقی لوگ تو بس اس سے استفادہ کر رہے ہیں۔ فردنویس کی سیاست پر ایک شعر ترمیم کے بعد صادق آتا ہے ؎
دوزخ تیری پنہاں ہے تیرے خونِ جگر میں
اے پیکرِ گل کوششِ پیہم کی سزا دیکھ
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Salim

Read More Articles by Salim: 1060 Articles with 363292 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
30 May, 2020 Views: 137

Comments

آپ کی رائے