بھارت دنیا میں ’’تیسری جنگ عظیم‘‘ برپا کرنا چاہتا ہے۔

(Syed Noorul Hassan Gillani, )

جنت نظیر وادی کشمیر دنیا کا وہ بدنصیب خطہ ہے جہاں کے باسیوں پر گزشتہ72سالوں سے ظلم و ستم کے پہاڑ توڑے جارہے ہیں ، ماؤں بہنوں کی عزتیں پامال کی جارہی ہے ، معصوم بچوں کو اغواء کیا جارہا ہے اور اُن پر پیلٹ گن کا آزادانہ استعمال کیا جارہا ہے ، نوجوانوں کے سینوں کو گولیوں سے چھلنی کیا جارہا ہے ، خود کشمیریوں سے اُنہی کی زمینیں چھینی جارہی ہیں یہ سب صرف اس لئے کیونکہ کشمیری مسلمان ہیں اس سے بھی بڑھ کر کہ وہ آزادی کیلئے گزشتہ 72سالوں سے جدوجہد کررہے ہیں جسے روکنے میں مودی جیسا مکار انسان بھی ناکام ہوگیا ہے یہی وجہ ہے کہ آئے روز وادی کشمیر میں ظلم و ستم کو مزید بڑھا دیا جاتا ہے ، نئے نئے حربے ایجاد کرکے کشمیریوں کو اذیت دی جاتی ہے تاکہ وہ تحریک آزادی کشمیر سے پیچھے ہٹ جائیں ، مگر ہر بار بھارت کو الٹے پاؤں واپس جانا پڑتا ہے کیونکہ کشمیری وہ قوم ہے جو مرنا تو پسند کرسکتی ہے لیکن آزادی سے پیچھے ہٹنا نہیں اور اُن کا یہی جذبہ مکار بھارت کے تمام مذموم عزائم کو چکنا چور کردیتا ہے ۔ آج جنت نظیر وادی کشمیر میں تاریخ کا طویل ترین کرفیو نافذ ہے جسے آج تقریباً302دن ہوگئے ہیں جہاں پر انسانی حقوق کی کھلے عام دھجیاں اڑائی جارہی ہیں۔ کشمیریوں کے لئے ذرائع ابلاغ کے تمام راستے بند کردیے گئے ہیں، تاکہ دنیا مظلوم کشمیریوں پر ہونے والے بھارتی ظلم سے بے خبر رہے۔ اس وقت جموں و کشمیر میں ادویات و خوراک کی شدید قلت پائی جارہی ہے اور وہاں کے لوگ وائرس سے زیادہ بھوک سے مرنے پر مجبور ہوگئے ہیں۔ ان کا کاروبار بالکل تباہ ہوگیا ہے،10ماہ کے طویل ترین لاک ڈاؤن نے انہیں پوری دنیا سے کاٹ کر رکھ دیا ہے اور عالمی برادری کورونا وائرس کی افتاد کے سبب انہیں بالکل فراموش کر بیٹھی ہے۔ بھارت عالمی برادری کی اسی کمزوری کا فائدہ اٹھاتے ہوئے مقبوضہ کشمیر میں معصوم کشمیریوں کی نسل کشی کی بھرپور کوشش کررہا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ خطے میں ایک جنگ بھی برپا کرنا چاہتا ہے۔ وہ مقبوضہ کشمیر میں آبادی کا تناسب تبدیل کرکے کشمیری مسلمانوں کی مذہبی، ثقافتی، تہذیبی اور لسانی شناخت تبدیل کرکے ان کے قومی وجود کو بالکل ختم کرنا چاہتا ہے۔بھارت کے لئے سب سے بڑا مسئلہ ہی یہ ہے کہ ریاست جموں و کشمیر مسلم اکثریتی خطہ ہے جہاں کے باشندے بھارت کے ساتھ نہیں رہنا چاہتے ۔ انصاف کا تقاضا تو یہی تھا کہ انہیں تقسیم ہند کے وقت ہی بھارت اور پاکستان میں سے کسی ایک کے ساتھ اپنی قسمت وابستہ کرنے کا اختیار دے دیا جاتا لیکن اس وقت ایک سازش کے تحت ان کی قسمت کو معلق کردیا گیا اور بھارت نے فوجی طاقت کے بل پر اس خطے پر غاصبانہ قبضہ کرلیا۔ جب بھارت کے خلاف مسلح مزاحمت شروع ہوئی تو وہ اس تنازع کو ازخود اقوام متحدہ میں لے کر چلا گیا جہاں اس نے جنگ بندی کی اپیل کی جہاں پر یہ طے ہوا ہوا ہے حالات سازگار ہوتے ہی کشمیری عوام کو آزادانہ رائے شماری کے ذریعے اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا اختیار دے دیا جائے گا ۔ اقوام متحدہ نے اس سلسلے میں رائے شماری کمشنر بھی مقرر کردیا۔ بھارت پہلے تو ٹال مٹول کرتا رہا پھر اپنے وعدے سے منحرف ہوگیا اور مقبوضہ کشمیر پر اپنی گرفت مضبوط کرنے کے لیے ہر ممکن جتن کرنے لگا۔یوں تو بھارت کی ساری حکومتیں کشمیری عوام کی آزادای سلب کرنے اور انہیں انسانی حقوق سے محروم کرنے کی کوشش میں لگی رہی ہیں لیکن مودی سرکار ماضی کی تمام حکومتوں سے بازی لے گئی اور وادی میں ظلم و ستم کی ایک نئی داستاں رقم کررہی ہے۔ اس نے نہ صرف مقبوضہ کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت ختم کردی ہے بلکہ کشمیری عوام کو گھروں میں محصور کرکے ان پر مسلسل جابرانہ قوانین مسلط کر رہی ہے وہ مقبوضہ علاقے میں مسلمانوں کو اقلیت میں تبدیل کرنے کا وسیع تر منصوبے کو عملی جامہ پہنانا چاہتی ہے جس کیلئے بھارت نے کئی بار کوشش بھی کی ہے ۔ 5اگست 2019ء کو بھارت نے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کو ختم کرکے مقبوضہ کشمیر میں مسلمانوں کی نسل کشی کی پہلی اینٹ رکھی جس کے بعد بھارت نے وادی کشمیر میں کرفیو نافذ کیا جس کو آج 302دن مکمل ہوگئے ، یاد رہے کہ یہ تاریخ کا طویل ترین کرفیو ہے ۔ یہ کرفیو اس لئے لگایا گیا کیونکہ بھارت جانتا تھا کہ مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے بعد وہاں سے کشمیریوں کا سیلاب آئے گا اور پورے بھارت کو ساتھ بہا لے جائے گا۔بہرحال آج وادی کشمیر میں اس کرفیو کو302دن ہوگئے ہیں جہاں پر بھارت کا معصوم کشمیریوں پر ظلم و ستم اور تشدد اور بربریت ابھی بھی برقرار ہے بلکہ دن بدن شدت اختیار کر تا جا رہا ہے جہاں پر مظلوم کشمیریوں کو ان کے گھروں میں قید کر رکھا ہے تمام مساجد سکولز کالجز تمام ثقافتی مذہبی کاروباری اور معاشی سرگرمیاں بند ہیں کشمیری قید و صعوبت کی زندگیاں گزار رہے ہیں جہا ں پر کرونا وائرس نے کشمیریوں کی مشکلات میں دگنا اضافہ کردیا ہے کیونکہ اس وقت وادی کشمیر میں ادویات کی شدید قلت ہے اور ہسپتال بھی بند ہیں اس کے علاوہ وادی میں خوراک کی بھی قلت ہے جس کی وجہ سے معصوم کشمیری کرونا وائرس کے علاوہ بھو ک سے بھی مررہے ہیں ۔ ایسے میں مکار بھارت وادی کشمیر میں مسلمانوں کی نسل کشی کی ہر ممکن کوشش کررہا ہے تاکہ اُس کے اکھنڈ بھارت کے خواب کو پورا کیا جاسکے ۔مودی کی اسی خواب نے بھارت کو تباہی کے دہانے پر لاکھڑا کردیا ہے کیونکہ اس وقت بھارت کے چین ، نیپال اور پاکستان کے ساتھ سرحدی تنازعات چل رہے ہیں جس میں بھارتی فوجیوں کو عبرتناک شکست ہورہی ہے ، بھارت اس وقت جنوبی ایشیاء کے امن کیلئے بہت بڑا خطرہ بن چکا ہے ، جسے اگر جلد از جلد روکا نہ گیا تو خطے میں ایک بہت بڑی جنگ چھڑ سکتی ہے ۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Syed Noorul Hassan Gillani

Read More Articles by Syed Noorul Hassan Gillani: 44 Articles with 11295 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
04 Jun, 2020 Views: 171

Comments

آپ کی رائے