بھارتی میڈیا پر آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کا موسمی حال ٗآخر کیوں؟۔

(Syed Noorul Hassan Gillani, )

قیام پاکستان سے لے کر آج تک بھارت پاکستان کے خلاف سازشیں کرنے میں مصروف ہے ۔بھارت نے ہر محاذ پر کوشش کی کہ کسی نہ کسی طرح پاکستان کو شکست دی جاسکے لیکن جب ہر محاذ پر شکست ملی تو اُس نے ففتھ جنریشن وافئیر کا سہارا لے کر عوام کا دماغ Manipulateکرنا شروع کردیا لیکن سلام ہے ہمارے گمنام ہیروز کو جنہوں نے بھارت کو اس محاذ پر بھی شکست دی اور اُس کی بولتی بند کردی ۔ بھارت کا پاگل وزیر اعظم نریندر مودی ہمیشہ سے ہی پاکستان کے خلاف زہر اگلتے آیا ہے جس کیلئے اُس نے بھارتی میڈیا کو بھی خرید کر بھارت کی عوام میں پاکستان کے خلاف انتشار پھیلانے کی کوئی کسر نہ چھوڑی ۔ بھارت کے حالیہ الیکشن کے دوران ان پروپیگنڈوں میں بہت اضافہ دیکھنے کو ملا اب تو یہ پروپیگنڈے روزانہ کا معمول سے بن گئے ہیں جہاں بھارت کبھی کبوتر کو جاسوس قرار دیتا ہے تو کبھی پلوامہ ڈرامہ رچاتا ہے ۔ گزشتہ سال5اگست 2019ء کو نریندر مودی نے کشمیر سے متعلق نہ صرف اقوام متحدہ کی قراردادوں بلکہ اپنے ہی ملک کے آئین کے آرٹیکل 370 جس کے تحت ریاست کشمیر کو بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ متنازع علاقہ ہونے کی وجہ سے خصوصی حیثیت دی گئی تھی، کی دھجیاں اڑاتے ہوئے مقبوضہ ریاست کی خصوصی حیثیت کو ختم کرکے اسے بھارت کا حصہ قرار دے دیا اور اس طرح بھارت کی سرحد کو توسیع دے کر ایک طرف آزاد کشمیر اور دوسری طرف پاکستان کی سرحد سے ملادیا اور اس کے ساتھ ہی آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان بھارت کا حصہ ہونے کا نام نہاددعویٰ کیا ۔ جس پر اقوام متحدہ خاموش رہی ۔بھارت نے نہ صرف بین الاقوامی قوانین نیز اقوام متحدہ میں اپنے ہی بانیوں کی طرف سے کئے گئے وعدوں کی بھی پاسداری نہیں کی بلکہ فسطائی ہتھکنڈے استعمال کرتے ہوئے جو کبھی نازی ہٹلر کا خاصہ تھے، کشمیریوں کے ساتھ ساتھ خود بھارت میں مقیم مسلمانوں پر بھی عرصہ حیات تنگ کرنا شروع کردیا نیز عالمی رائے عامہ کو گمراہ کرنے کے لئے بھارت نے نشریاتی محاذ پر پاکستان کے خلاف پروپیگنڈا بھی مزید تیز کردیا۔ بدقسمتی سے بھارت نے پاکستان کی امن کی خواہش اور مسائل کو بات چیت کے ذریعے حل کرنے کی پیشکش کو پاکستان کی کمزوری پر محمول کیا۔ اب بھارت نے اپنے توسیع پسندانہ عزائم کو مزید آشکار کرتے ہوئے اور نشریاتی جارحیت کا ارتکاب کرتے ہوئے اپنے سرکاری ٹیلی وژن دور درشن اور آل انڈیا ریڈیو پر خبرنامے کے بعد موسم کی خبروں میں آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے علاقوں کو بھی شامل کرلیا ہے اور ان علاقوں کے موسم کی پیش گوئی بھی اسی طرح کی جارہی ہے جیسے بھارت کے دوسرے خطوں کے موسم کا احوال بتایا جاتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی بھارت کے محکمہ موسمیات کی ویب سائٹ پر شمال مغربی سب ڈویژن کے تحت مظفرآباد، اسکردو اور وادی نیلم کے موسم کی روزانہ خبر دی جارہی ہے۔بھارت کے ذرائع ابلاغ کی طرف سے ایسا کیوں کیا گیا؟ اس کا اندازہ بھارت کی سیاسی و فوجی قیادت نیز دیگر کارپردازان کے بیانات اور دھمکیوں سے بخوبی ہوجاتا ہے۔ مثلاً بھارت کے وزیر خارجہ ایس جے شنکر کا اپنے ایک بیان میں کہنا ہے کہ ’’پاکستان کے زیر انتظام کشمیر (آزاد کشمیر) بھارت کی ملکیت ہے اور ہم توقع کرتے ہیں کہ ایک دن یہ باضابطہ طور پر بھارت کا حصہ بن جائے گا۔ اسی طرح بھارت کے محکمہ موسمیات کے سربراہ مرتونجے موہاپاترا کا کہنا ہے کہ ہم موسم کی خبروں میں گلگت بلتستان اور مظفرآباد کا ذکر کررہے ہیں کیونکہ یہ ہمارے دیش کا حصہ ہیں۔ہندوستان ٹائمز نے حال ہی میں اپنی ایک رپورٹ میں بعض سرکاری اہلکاروں کے حوالے سے انکشاف کیا کہ پاکستان کے زیرانتظام علاقوں کو بھارت کے موسم کی خبروں میں شامل کرنے کا شاطرانہ منصوبہ بھارت کے قومی سلامتی کے مشیر اجیت دووال کے شیطانی ذہن کی اختراع تھی اور اس سلسلے میں ایک باضابطہ تجویز تین مہینے پہلے تیار کی گئی تھی۔ اس تجویز کو قومی سلامتی کے نائب مشیر کے دفتر سے خارجہ اور داخلہ سیکرٹریوں کے پاس بھیجا گیا اور اسے انٹیلی جنس بیورو اور بھارت کے بدنام زمانہ جاسوسی ادارے ’’را‘‘کے پاس بھی بھیجا گیا، تجویز کی حتمی منظوری تقریباً تین ہفتے قبل دی گئی اور تقریباً ایک ہفتے کی فرضی مشق کے بعد اسے سرکاری ٹیلی وژن دور درشن اور آل انڈیا ریڈیو کے خبرناموں کا باقاعدہ حصہ بنانے کے علاوہ بھارت کے محکمہ موسمیات کی ویب سائٹ پر نمایاں طور پر شامل کرلیا گیا۔ہندوستان ٹائمز نے ایک اعلیٰ بھارتی اہلکار کے حوالے سے ہرزہ سرائی کی ہے کہ’’ بھارت پاکستان اور اس کے اتحادیوں کو واضح طور پر یہ پیغام دینا چاہتا ہے کہ اسلام آباد نے جموں و کشمیر کے 86ہزار مربع کلومیٹر کے رقبے پر غیر قانونی طور پر قبضہ کررکھا ہے‘‘۔بھارت اس وقت میڈیا کا استعمال کرتے ہوئے ایک بہت بڑی سازش رچنا چاہتا ہے ۔ اس صورتحا ل میں جبکہ بھارت گزشتہ سال5اگست سے اپنی حدود کو پاکستان اور آزاد کشمیر کی سرحدوں تک بڑھا چکا ہے اور آئے دن کنٹرول لائن اور ورکنگ باؤنڈری کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔5 اگست سے ہی مقبوضہ جموں و کشمیر کے عوام محاصرے کی حالت میں ہیں،ا ن کے ساتھ وہی کچھ سلوک کیا جارہا ہے جو اسرائیل فلسطینیوں کے ساتھ کررہا ہے۔ کشمیریوں کی جان و مال کے علاوہ عزت و آبرو بھی محفوظ نہیں ہے۔ کشمیریوں کی آبادی کا تناسب تبدیل کرنے کے لیے کشمیر میں شہریت کا قانون تبدیل کردیا گیا ہے اور اب پورے بھارت سے ہندؤں کو خاص طور سے کشمیر میں لا کر بسایا جارہا ہے۔ بھارت روز کنٹرول لائن پر فائرنگ کرکے پاکستان کے علاقے میں بسنے والی سول آبادی کو نشانہ بناتا ہے۔ ایسے میں بھارت نے پاکستان کے خلاف ایک بہت بڑا منصوبہ بنایا ہے مگر انشاء اﷲ اس بار بھی اسے ہمیشہ کی طرح ناکامی کا سامنا کرنا پڑے گا۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Syed Noorul Hassan Gillani

Read More Articles by Syed Noorul Hassan Gillani: 44 Articles with 11297 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
06 Jun, 2020 Views: 127

Comments

آپ کی رائے