کشمیر بھارت کو ڈبو دے گا

(Abdul Waris Sajid, )

یہ 13 جولائی 1931ء کی دوپہر تھی۔ سرینگر کے ایک میدان میں اسلامیانِ کشمیر کا ایک عظیم الشان اجتماع ہورہا تھا۔ حاضرین بڑے جوش و جذبے کے ساتھ ڈوگرہ حکمرانوں سے اپنے حقوق کی واگزاری کا مطالبہ کررہے تھے۔ اجتماع پورے عروج پر تھا۔ ہر طرف سے بلند آواز نعرے بلند ہورہے تھے۔ اچانک ایک شخص اجتماع میں سے اٹھا اور اسٹیج پر کھڑا ہوکر لوگوں کو مخاطب کرکے کہنے لگا۔ ’’ڈوگرہ حکمرانوں کو کشمیر پر حکومت کرنے کا کوئی آئینی یا قانونی حق نہیں لہٰذا اس حکومت کو تہس نہس کرکے اپنا حق آزادی حاصل کرو۔‘‘

اس نعرۂ مستانہ کو بغاوت قرار دے کر ڈوگرہ حکمرانوں نے اس جری مجاہد ’’عبدالقدیر‘‘ کو گرفتار کرلیا۔ اس مجاہد ملت کی گرفتاری پر سرینگر کی عوام سراپا احتجاج بن گئی۔ عبدالقدیر کی رہائی کے لیے کشمیری عوام نے ایک جلوس نکالا تو ان پر ڈوگرہ حکمرانوں نے گولیوں کی بوچھاڑ کردی۔ یوں اس اندوہناک واقعہ میں جنت نظیر اس دھرتی کے 22 سپوت خون میں نہا کر دم تو ڑ گئے۔ یہ وہ تاریخ ِ کشمیرکا پہلا معرکہ تھا جس میں شہداء نے اپنا خون پیش کرکے تحریک آزادی کا پہلا باب رقم کیا تب سے آج تک شہادتوں کا یہ عظیم سفر جاری ہے۔ اَن گنت شہادتوں اور بے پناہ قربانیوں کے باوجود بھی کشمیری عوام کا جذبہ آزادی کم نہیں ہوا۔ شہداء کا یہ مسکن اپنی بین الاقوامی سیاسی اور فوجی اہمیت کے پیش نظر ہمیشہ برسرِ اقتدار اور آئندہ ابھرنے والی طاقتوں کا مرکز نظر رہا ہے۔ ہر دور کے حکمرانوں نے کشمیریوں کی اس تحریک آزادی کو دبانے کے لیے ہر حربہ استعمال کیا اور بے پناہ تشدد کے ساتھ ان کی اس آواز حق کو دبانا چاہا مگر ہوا یہ کہ جتنا اسے دبایا گیا اتنے ہی جوش کے ساتھ ابھر کر یہ سامنے آئی۔

مغل دور ہو یا پٹھانوں کا دور، سکھ حکومت ہو یا ڈوگرہ راج ان سب نے کشمیریوں کی روح آزادی کو کچلنے کے لیے ایک سے ایک بڑھ کر سفاک گورنر کشمیر پر مسلط کیے مگر اس کے باوجود کشمیریوں نے مغل دور سے لے کر ڈوگرہ راج تک سب کے خلاف اپنی جنگ ِ آزادی جاری رکھی۔ ہر دور میں اس دھرتی کے ہزاروں فرزند اپنی مادر گیتی پر نثار ہوتے رہے اور یوں کشمیریوں نے ظلم و ستم کے سائے میں بھی خون کا نذرانہ پیش کرکے ترانہ آزادی جگائے رکھا۔

شہداء کا یہی خون آج بھی آزادی کشمیر کے لیے جان قربان کرنے والوں کے لیے مشعل راہ بناہوا ہے۔ اب کشمیری نوجوان اپنے لہو کے چراغ جلا کر غلامی کی سیاہ رات میں اجالا کررہے ہیں۔ انہی شہداء کے خون کی بدولت آزادی کشمیر کی منزل قریب نظر آرہی ہے۔ مسئلہ کشمیر دنیا بھر میں اجاگر ہورہا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ عالمی سطح پر ہندوستان پر دباؤ بڑھتا جارہا ہے۔ ہندوستان مختلف حیلوں و بہانوں کے ساتھ مسئلہ کشمیر کو نصف صدی سے سرد خانے میں پھینکے ہوئے ہے۔ جب بھی اس پر کوئی دباؤ پڑتا ہے تو وہ اس مسئلہ سے اقوام عالم کی نظر ہٹانے کے لیے کوئی نئی سازش منظر عام پر لے آتا ہے۔ حقیقت حال یہ ہے کہ انڈیا ہر وہ حربہ آزما رہا ہے جس سے تحریک آزادی کشمیر دب جائے مگر اس بیچارے کی ہر چال ناکام ہوتی ہے۔ اب ایک نئی چال ہے۔ انڈین حکومت شاید یہ نہیں سمجھتی کہ کشمیری عوام اپنی اَن گنت قربانیوں کو کسی صورت ضائع نہیں ہونے دیں گے۔

جب تک ایک بھی کشمیری زندہ ہے وہ خون کے آخری قطرے تک آزادی اور اس کی بقاء کے لیے لڑ رہے ہیں، وہ اپنا حق خود ارادیت مانگتے ہیں جسے ساری دنیا نے تسلیم کیا ہے تاکہ وہ اپنے مستقبل کا فیصلہ خود کرسکیں۔ ہندوستان کو یہ بات ذہن نشین کرلینی چاہیے کہ یہ اس کی روز روز کی شعبدہ بازیاں کبھی کامیاب نہیں ہوسکتیں۔ کشمیری عوام آزادی چاہتے ہیں اور وہ خون کے آخری قطرے تک لڑک کر بھی لیں گے۔ ان شاء اﷲ
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Abdul Waris Sajid

Read More Articles by Abdul Waris Sajid: 45 Articles with 19090 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
06 Jun, 2020 Views: 113

Comments

آپ کی رائے