مستقبل کی نئی قیادت

(Sarwar Siddiqui, Lahore)

کبھی کبھی سوچ کر دل دہل جاتاہے کہ پاکستان کی مستقبل کی نئی قیادت کیسی ہوگی ؟ جو اپنے رہنماؤں کی اگلی نسل کے حق میں دن رات نعرے لگاتے ہیں وہ تو بخوبی جانتے ہیں لیکن شاید ان کی سوچ پختہ نہیں یا ان کی سوچ ہی محدود ہے بہرحال غوروفکرکا مقام ہے تبدیلی سرکارکے خلاف دمادم مست قلندرکرنے کے لئے بالآخر بلی تھیلے سے باہرآگئی آصف زرداری نے تو برملا اس بات کا پیشگی اظہار کردیا تھا کہ پاکستان میں جمہوریت کیلئے مستقبل کی نئی قیادت مریم نواز شریف، بلاول بھٹو زرداری اور فضل الرحمن کے فرزند ِارجمند اسدالرحمن کریں گے ۔بہرحال مریم نواز ، بلاول بھٹو زرداری دل سے حکومت کے خلاف مشترکہ فیصلہ کن جدوجہد کرنے کے خواہاں ہیں یہ لوگ دیگر اپوزیشن جماعتوں سے بھی رابطے کرنا چاہتے ہیں لیکن ان کا اتفاق نہیں ہورہا حالانکہ حکومت کوٹف ٹائم دینے پر سب ہی اتفاق ہے ماضی کی حکمران دونوں بڑی جماعتوں کی نئی قیادت کاخیال ہے ملک میں ہر شعبہ زندگی زوال کا شکار ہے ملک کو اقتصادی تباہ حالی کی گہری دلدل میں دھکیل دیا گیا ہے اورمعیشت کے تمام اعشاریے شدید بحران کی طرف جا رہے ہیں، پاکستان کو عالمی ساہوکا روں کے پاس گروی رکھ دیا گیا، قومی ادارے غیروں کے سپرد کرنے کے باوجود صورت حال تیزی سے بگڑ رہی ہے، روپے کی قیمت مسلسل کم اور مہنگائی بڑھ رہی ہے مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی کے رہنماؤں نے چیئرمین نیب کی یکطرفہ انتقامی کارروائیوں اور حکومتی ملی بھگت کے ساتھ اپوزیشن کے ساتھ ٹارگیٹڈ سلوک پر بھی غور کیا جبکہ نیب کے جعلی، بے بنیاداور من گھڑت مقدمات سے متعلق عدالتوں کا طرز عمل بھی زیر غور آیا۔ فضل الرحمان سے مشترکہ لائحہ عمل پر بھی بات چیت کی گئی جس پر ان کا فتویٰ بھی آچکاہے کہ موجودہ حکومت’’ ناجائز ‘‘ہے لیکن کما ل کی بے حسی ہے کہ عوام پھر بھی عمران خان حکومت کے خلاف ٹس سے مس نہیں ہورہے مستقبل کی نئی قیادت کے تمام ممبران میں اتفاق ہے کہ موجودہ غیر نمائندہ حکومت عوام کے حقیقی مینڈیٹ کی ترجمانی نہیں کرتی لیکن وسیع تر ملکی مفاد میں دھاندلی زدہ انتخابات کے جعلی نتائج کو نظر انداز کیا لیکن PTI حکومت کی نااہلی نے معیشت، قومی سیاست و انتظامی کارکردگی کو بھی تماشا بنا دیا ہے۔ مستقبل کی نئی قیادت کا خیال ہے محترمہ بے نظیر بھٹو اور نواز شریف کے درمیان 2006 میں میثاق جمہوریت ایک اہم دستاویز ہے جسے نئے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کی ضرورت ہے۔ لیکن اس بات پر کوئی غور کرنے کو تیار نہیں کہ غریبوں کے لیڈرز پرائیویٹ جیٹ سے اترتے ہیں اور کروڑوں کی بلٹ پروف گاڑیوں میں بیٹھ کر اربوں کی سلطنت میں پہنچ کر جہاں ڈیزائنر فرنیچر پر تشریف رکھتے ہیں فرانس کے پانی سے ان کی تواضع کی جاتی ہے پھر سب کے سب مہنگائی اور غریبوں کے حالات پر گفتگو کرتے ہیں تو ان کو کیسا لگتاہے لیکن مہنگائی کا ذکر کرنے والے خود سونے کا چمچہ منہ میں لے کر پیدا ہوئے، کھانوں کی لمبی فہرست یہ بات سامنے لائی کہ آپ غریب کی بات کیسے کرسکتے ہیں؟ کیونکہ عوام سمجھتے ہیں کہ یہ 10سال اقتدار میں رہنے والی دونوں جماعتیں، 2سال کی حکومت سے حساب مانگ رہی ہیں اوروہ بھی اس چیز اور مسائل کا جو انہیں جماعتوں کے پیدا کردہ ہیں۔ آج اگر عوام مشکلات کا شکار ہیں تو اس کی وجہ بھی دونوں جماعتیں مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی ہیں۔ اپوزیشن کی گٹھ جوڑ اور مْک مْکا کی سیاست کے تحت وہ حکومت کو بجٹ سے دور رکھنے کی حکمت عملی ترتیب دے رہی ہے ، ان کو یہ سمجھ آنی چاہئے کہ یہ آئینی ذمہ داری ہے ، بجٹ ملک کی ایک آئینی ضرورت ہے اور بجٹ پاس کرنا پارلیمنٹ کی آئینی اور قانونی ذمہ داری ہے۔ جو پارلیمنٹیرین بھی پارلیمنٹ کے اندر بیٹھا ہے اس کا فرض ہے کہ ملک، عوام ، دفاع اور قومی سلامتی کیلئے بجٹ ناگزیر ہے اور اس بجٹ کو پاس کرنا قومی ضرورت ہے جبکہ چیئرمین نیب نے ایک بارپھر کہاہے کہ بدعنوانی نہ ہوتی تو پاکستان کو قرض نہیں لینا پڑتا، واحد خواہش کرپشن سے پاک پاکستان ہے۔ بدعنوان عناصر کے خلاف قانون ضرور حرکت میں آئے گا اور جو لوٹ مار کرے گا اسے نیب کی مزاحمت کا سامنا کرنا پڑے گا۔ ان دنوں بہت سے سقراط اور بقراط پیدا ہوگئے ہیں جنہوں نے نیب کا قانون ہی نہیں پڑھا، نیب کالا قانون ہوتا تو سپریم کورٹ اسے ختم کردیتی، یہ ان لوگوں کے لئے کالا قانون ضرور ہے جو ڈکیتیوں میں مصروف ہیں، کالک ان ہاتھوں میں ہوتی ہے جو قانون کا غلط استعمال کرتے ہیں۔ نیب قانون کسی اور پر لاگو ہو تو ٹھیک اور جب آپ پر آئے تو یہ کالا قانون ہو جاتا ہے، جب تک نیب موجود ہے وہ اس قانون کے مطابق فرائض انجام دیتا رہے گا۔ چند دن پہلے ایک صاحب نے کہا کہ نیب منی لانڈرنگ کا ادارہ ہے، نیب اگر منی لانڈرنگ کرے گا تو وہ عوام کے لیے ہوگی، پیرس میں جائیداد بنانے کے لیے نہیں۔ وہ دور گزر گیا جب بدعنوانی اور کرپشن کی چشم پوشی کی جاتی تھی۔بہرحال حالات کے تناظرمیں یہ بات کہی جاسکتی ہے کہ تبدیلی سرکارکے خلاف دمادم مست قلندر ماضی کے حکمرانوں کی مفادات کی جنگ ہے جو وہ ہرقیمت پر جیتنا چاہتے ہیں خوفناک بات یہ ہے کہ مستقبل کی نئی قیادت کے سب کے سب، تمام کے تمام مہرے کرپٹ ہیں مریم نواز شریف، بلاول بھٹو زرداری، حمزہ شہباز، مونس الہی، سلمان شہباز اور کئی حکمرانوں کے ولی عہد ان تمام کے خلاف نیب عدالتوں میں کرپشن کے مقدمات چل رہے ہیں اس کا مطلب ہے کہ پاکستان کا مستقبل خطرے میں ہے سوچنے کی بات یہ ہے کہ اگر خدانخواستہ یہ لوگ برسر ِ اقتدار آگئے تو پھر کیابنے گا ؟ حیرت تو ہمیں یہ دیکھ کربھی ہوتی ہے کہ راجہ ظفر الحق، قمرالزماں کائرہ، خورشید شاہ،سعدرفیق، فضل الرحمن ، چوہدری اعتزازاحسن ،یوسف رضا گیلانی، پرویزاشرف، شاہدخاقان عباسی جیسے رہنما جب بلاول بھٹو یا حمزہ شہباز اور مریم نواز کے پیچھے یا آگے ہاتھ باندھے کھڑے ہیں تو خداکی قسم ایسی سیاست سے گھن آتی ہے ۔ آصف زرداری نے تو برملا اس بات کااظہارکرکے ہمارے پاؤں تلے سے زمین کھینچ لی ہے کہ اب جمہوریت کیلئے مریم نواز شریف، بلاول بھٹو زرداری اور فضل الرحمن کے فرزند ِارجمند اسدالرحمن کریں گے یعنی بالآخر بلی تھیلے سے باہرآگئی ہے اب غورکرنا ہوگا جس پاکستان کی قیادت ایسے لوگ کریں گے وہ پاکستان کیسا ہوگا ؟ اﷲ ہم پر اپنا رحم فرمائے یہ سوچ سوچ کر ہی دل کانپ کانپ جاتاہے ۔الحفیظ والامان
 

Total Views: 115 Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Sarwar Siddiqui

Read More Articles by Sarwar Siddiqui: 205 Articles with 52726 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Comments

آپ کی رائے
Language: