بے اۤبرو بھارتی فوج اور امریکی اۤرزو

(Zakirullah, )

 فروری 14، 2019کو سری نگرجموں شاہراہ پر کشمیری النسل، جواں سال مجاہد، عادل احمد ڈارنے بارود سے لدی گاڑی،بھارتی فوجیوں سے بھری بس کے ساتھ ٹکرائی۔ اس طاقتور خود کش حملہ کی وجہ سے نہ صرف کشمیر بلکہ پوری دنیا گونج اُٹھی۔ابتدائی سکتہ کے بعد، دہلی کی جانب سے حسب روایت پاکستان کو موردالزام ٹھہرا کر کہا کہ پاکستان بھارت کو بدحال اور تباہ و برباد کرنا چاہتا ہے۔ میڈیا سمیت بھارتی حکمران پاکستان دشنامی کا پہاڑہ پڑھناشروع ہوگئے۔ بھارتی میڈیا سینٹرز بڑی تیزی کے ساتھ واررومز میں ڈھلنے لگے۔ دونوں ممالک کی ایک دوسرے کو دھمکیوں میں سرعت اور شدت آئی۔ پاکستان سے تجارت کے حوالے موسٹ فیورٹ نیشن کا درجہ واپس لیا گیا۔ دہشت گردوں اور ان کے سرپرستوں کوسبق سکھانے کا اعلان ہوا۔مودی نے جہاں ہلاک ہوئے سپاہیوں کو خراج عقیدت پیش کیا وہیں بھارتی سینا کو اپنا کام کرنے کے لیے سو فیصد آزادی دینے کا اعلان کیا۔ یہ جنگ کی جانب عملی اقدام تھا۔دونوں ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات تقریباً ختم ہوکر رہ گئے۔ اقدامات اور جوابی اقدامات کا سلسلہ بڑھتا چلا گیا یہاں تک کہ پاکستان نے بھارت کے لیے تمام تر پروازوں کے لیے اپنی ائر سپیس بند کردی۔

بالآخر 24فروری صبح کے تین بجے،بھارتی ائر فورس،خون کھولتے بھارتیوں کو اطمینان دلانے کے لیے پاکستان کے فضائی حدود میں داخل ہونے کی مہم جوئی پر مجبور ہوا۔ بھارتی فضائیہ نے تین منٹوں میں بالاکوٹ میں کون سی کاروائی انجام دی،دنیا کی کوئی انٹلی جنس سراغ لگا سکی نہ ہی بھارت سمیت دنیا کا کوئی سیٹلائیٹ نظام کسی قسم کا تصویری ثبوث فراہم کرکے بھارتی دعوے کی حقانیت ثابت کرتا۔ہاں اتنا ضرور کہا جاسکتا ہے کہ بھارتی فضائیہ نے چائے کی پیالی میں طوفان برپا کرنے کی کوشش ضرور کی۔دن کی روشنی میں 27فروری کو پاکستانی ائرفورس کے ہاتھوں جس ذلت،رسوائی اور بے بسی کا سامنا انڈین ائر فورس کو رہا، مودی کے ان الفاظ " آج اگر ہمارے پاس رافیل ہوتے تو نتیجہ کچھ اور ہوتا " میں صاف جھلک رہا ہے۔

کیرن اور ہندواڑہ معرکے اپنی نوعیت کے لحاظ سے پلوامہ حملہ سے بھارتی فوج پر کہیں زیادہ بھاری تھے۔کیونکہ ان خونین معرکوں میں نہ صرف تیس کے قریب بھارتی فوجی اپنے انجام کو پہنچے بلکہ ان ہلاک شدہ فوجیوں میں ایک کرنل دو میجر اور ریاستی پولیس کا سب انسپکٹر بھی شامل تھا۔اب کی بار مودی بوکھلا گیا نہ آ تش جولاں میں بے خطر کود جانے کو تیار ہوا، بھارتی میڈیا سینٹرز وار رومز میں بدل گئے نہ ایک دوسرے کو دھمکیاں دینے میں شدت آئی۔ دہشت گردوں اور نہ ہی اُن کے سرپرستوں کو سبق سکھانے کا اعلان ہوا۔ حالانکہ اب تو بھارت کے پاس رافیل بھی ہیں۔

ژنجمولہ ہندواڑہ معرکہ میں جہاں ہندواڑہ کے گنڈ چبوترا گاؤں سے تعلق رکھنے والا آصف ریشی ایک مقامی مجاہد بھارتی فوجیوں کو نہ بھولنے والا سبق پڑھا کر ابدی نیند سو گیا،وہیں آزاد کشمیر سے تعلق رکھنے والے حید ر نے بھی اس معرکے میں داد شجاعت دیتے ہوئے دشمن کو چاروں شانے چت کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ کیرن تو سیز فائر لائن کے قریب واقع ہے۔ بھارتی نکتہ نگاہ کے لحاظ سے بات پوری طرح واضح ہوجاتی ہے کہ ان واقعات میں پاکستان کے ملوث ہونے کے لیے مزید کسی ثبوت کی ضرورت نہیں۔

لیکن اب کی بار بھارتی قیادت آپے سے باہرہوئی نہ انگاروں پر لوٹتی نظر آئی۔ حالانکہ بالاکوٹ کاروائی کے وقت بھارتی وزیر وجے کمار سنگھ، سابق بھارتی چیف آف آرمی سٹاف نے اپنے ٹویٹر اکاؤنٹ پر عقاب کے پنجوں میں جھکڑے سانپ کی تصویر شئیر کرتے ہوئے لکھا تھا " وہ کہتے ہیں کہ وہ چاہتے ہیں کہ وہ بھارت کو ہزارزخم دیں، ہم اُن کو بتا دینا چاہتے ہیں کہ ہروقت جب بھی آپ ہمیں زخم دو گے،یقین رکھیں ہم آپ پر حملہ آور ہوجائیں گے،مزید سخت اور مضبوط طریقے سے "۔ سخت اور مضبوط جواب دینا تو درکنار،لہجہ ایسا تبدیل تھا، ایسا نرم اور گداز، لگ رہاتھا کہ مذاکرات کی میز پر امریکی،طالبان کے ساتھ بات چیت کررہے ہیں۔

بھارت کا یہ نیا رنگ و روپ سیاسی و سفارتی شائستگی ہے نہ کوئی عسکری حکمت عملی،بلکہ یہ اس امر کی واضح دلیل ہے کہ انڈین آرمی میں کسی پروفیشنل آرمی سے دو دو ہاتھ کرنے کی سکت ہے نہ صلاحیت۔ کون نہیں جانتا کہ سری لنکا پر قابض ہونے کے خواب لیکر جانے والی بھارتی فوج کا کیاحشر ہوا۔ کارگل جنگ نے بھی بھارتی فوج کی جنگی صلاحیت ان گنت سوال کھڑے کردیئے تھے۔ ایک طرف پوری انڈین ائر فورس جنگ میں کود چکی تھی، دوسری طرف پاک فضائیہ استعمال ہی نہیں ہوئی، پھر بھی بھارت کا مگ 27جنگی جہاز گرایا گیا اور اُس وقت کے ابھے نندن(کمبام پتی ناچی کیتا) آٹھ دن پاکستان کی قید میں رہا، چائے کی پیالی دونوں میں قدرمشترک تھی ہی ساتھ ساتھ دونوں کے نصیب میں 27تاریخ بڑی بھاری ثابت ہوئی۔ ابھے نندن کی طرح ناچی کیتا بھی 27تاریخ کو ہی گرفتار ہوئے۔ فروری 27، نے صرف بھارتی فوج کو بے آبرو نہیں کیا بلکہ بھارتی سیاسی حیثیت جو پہلے ہی داغ دار تھی، رسوا ہوکر رہ گئی۔

دنیا کے مشہور ترین اخبارات نیو یارک ٹائمزمیں شائع ہوئے ہونے والے "ماریہ ابی حبیب" کے مضمون میں بھارتی شکست پر یوں تبصرہ کیا گیا " اخبار نے لکھا، یہ بھارتی فضائیہ کا دہائیوں کے بعد ایک باریک، رقیق اور غیرمعمولی امتحان تھا،لیکن اُس کی کارکردگی نے مشاہدہ کرنے والوں گونگا کردیا. کالم نگار نے طنزیہ انداز میں لکھا کہ سہما ہوا، زخموں سے چو ر "ابھے نندن" اپنے طیارہ سے زیادہ خوش قسمت نکلاکہ وہ جلد اپنے وطن واپس پہنچ گیا۔" تبصرہ نگارنے مزید لکھا کہ" بھارتی فوج شدید، سخت اور زیادہ دیر کی لڑائی میں اپنے سپاہیوں کو صرف دس دن تک لڑنے کے لیے گولہ بارود مہیا کرسکتی ہے۔تقریباً 68 فیصد ہتھیار ناکارہ اور ناقابل استعمال ہے۔بھارتی فوج میں وسائل کا فقدان ہے، ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرنے کے بجائے بھارت کے تینوں مسلح افواج ایک دوسرے کے ساتھ مقابلہ آرائی میں لگے ہوئے ہیں۔ "

حقیقت یہی ہے کہ بھارتی فوج میں نہتے لوگوں سے لڑنے کی صلاحیت بدرجہ اتم موجود ہے، خواتین کی آبروریزی کو جنگی ہتھیار کے طور استعمال کرنا جانتی ہے۔ مرغ چوری سے لیکر قتل عام تک ہر جرم اس کی پہچان بن چکی ہے۔ یہ کام کبھی یہ اپنے سجیلے جوانوں کے ذریعے انجام دیتی ہے تو کبھی پرائیوٹ ملیشیاء بنا کر۔ سیکڑوں واقعات ہمارے سامنے، سرن کوٹ پونچھ اور چھٹی سنگھ پورہ کے واقعات کو ہی لیجئے۔ 3اگست 1998کو رات کی تاریکی میں بھارتی فوج کی مدد سے یہی پرائیوٹ ملیشیاء(ویلج ڈیفنس کمیٹی) کے اہلکار سرن کوٹ پونچھ میں ایک ہی گھرکے 19افراد کو آن واحد میں خاک اور خون میں نہلاتے ہیں۔ یہ حزب المجاہدین کے مجاہد "میجر گل " کا گھرانہ تھا۔ بعد میں جب اس مجاہد میجر گل سے امیر حزب المجاہدین سید صلاح الدین نے تنظیمی کمیونکیشن نیٹ ورک کے ذریعے رابط کرکے اس کی ڈھارس باندھنے کی کوشش کی، تو، بقول سید صلاح الدین " میں اس مجاہد کے عزم و استقلال پہ حیران ہوں، یہ تو اپنے الفاظ سے میری ہمت بڑھا رہا ہے " اس کے کچھ عرصہ بعد میجر گل کا چراغ بھی ان ہی راہوں کو روشن کرتے کرتے گل ہوا۔

بھارتی فوج کا مسئلہ صرف وسائل کی کمی،زائد المعیاد ہتھیار، معیار سے گری ہوئی تربیت،کرپشن اور آ پسی تامیل کا فقدان ہی نہیں بلکہ اس سے سنگین تر مسئلہ یہ ہے کہ بھارتی سینا میں جذبے کی شدید کمی ہے، وہ لڑنے سے جی چراتے ہیں۔ وہ موت کا تعاقب کرنے کی آرزؤ نہیں رکھتے۔ ایسے میں مجھے بالی وڈ کی فلم " ہتھیار " کا یہ ڈائیلاگ بار بار یاد آتا ہے،جس میں فلم کا ہیرو، ولن سے کہتا ہے کہ"ہتھیار ہاتھ کے اشارے سے چلتا ہے " مطلب یہ کہ اصل میں ہتھیار نہیں، بلکہ اس ہتھیار کے پیچھے جو انسان ہے وہ لڑتا ہے۔ اگر لڑنے والے میں جذبہ ہی نہ ہو، تو اُس کے ہاتھ میں دنیا کا جدید ترین ہتھیار بھی تھما دو،وہ کوئی معرکہ سر نہیں کرسکتا۔یہی وجہ ہے کہ بھارتی فوج کشمیری مجاہدین کے خلاف لڑتے ہوئے پوری پوری بستیوں کو نظر آتش کرتے ہیں۔ حال ہی میں شہر سری نگر میں جنید صحرائی اور اس کے ساتھی کے خلاف کاروائی کے دوران تقریباً دو درجن کے قریب رہائشی مکانات کو شعلوں کی نذر کردیا۔یہ دہشت گردی کی بدترین مثال ہے اور دہشت گردی کسی بہادر سپاہی کا کام نہیں۔

بھارتی فوج کی اس پتلی حالت کو دیکھ کر، حیرت اس بات نہیں کہ امریکہ بھارت کو تھپکی دے کر، بیساکھیوں کے سہارے کھڑا کرکے چین کے بڑھتے قدموں کو روکنا چاہتا ہے چاہتا ہے، بلکہ بھارتی میڈیا اورفوجی قیادت کی عقل پر ماتم کرنے کو جی چاہتا ہے، رہی بات بھارتی سیاسی قیادت کی جو اس وقت برسر اقتدار ہے، وہ تو ایسے لوگوں پر مشتمل ہے جو برطانوی سامراج کی ہاتھ کی چھڑی اور جیب کی گھڑی اُس وقت تھے،جب بھارتی لوگ بلاتفریق مذہب و ملت انگریزوں کے خلاف سینہ سپر تھے وہ آج بھی بھارت کے کم،اپنی انااور اپنے مفادات کے زیادہ اسیر ہیں۔ بھارت اگر چین کے ساتھ ٹکراتا ہے اور دنیا کے معاشی دیو کے بڑھتے قدموں پر روک لگانے میں کامیاب ہوجاتا ہے اور امریکی اۤرزو بھر اۤتی ہے یا بدترین اور ذلت آمیز شکست سے دوچار ہوجاتا ہے (جو نوشتہ دیوار ہے), امریکہ دونوں صورتوں میں کامیابی کا ہی مزہ چکھے گا۔

 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Zakirullah

Read More Articles by Zakirullah: 2 Articles with 461 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
06 Jun, 2020 Views: 221

Comments

آپ کی رائے