گروتھ ان ٹیلی کام سیکٹر

(Muhammad Farooq, Islamabad)

یہ ڈنمارک کے ماہر فلکیات اولس رومر تھے جنہوں نے 1676ء میں مشتری کے چاند گرہن کے مشاہدات پر مبنی علم سے روشنی کی رفتار کو کامیابی سے ناپ لیا۔ جس کے مطابق روشنی کی رفتار 30کروڑ میٹر فی سیکنڈ کے لگ بھگ ہے۔ جسے بعد ازاں جرمن نژاد ماہر طبیعات و ریاضی دان البرٹ آئن سٹائن نے بیسویں صدی عیسوی کے اوائل میں اپنے مشہور زمانہ فارمولا E=mc2 میں بنیاد بنایا کہ کسی بھی مادے کی کمیت کی حرکی توانائی، روشنی کی رفتار کے مربع کے برابر ہوتی ہے اس فارمولے نے روشنی کی رفتار کی تھیوری کو تقویت دی اور اسے ممکنہ طور پر قابلِ حصول ٹارگٹ بنا دیا اس نظریے کے تناظر میں اگر تاریخ کے اوراق میں جھانکا جائے تو ایک بات واضح طور پر سامنے آتی ہے کہ انسان اپنے فطری تجسس اور جستجو کی بنا پر زیادہ سے زیادہ سپیڈ کے ساتھ توانائی کے حصول کے خبط میں مبتلا ہے۔ اور لگتا ہے کہ سپیڈ آف لائٹ کے حصول کی راہ پر گامزن ہے وہ چاہے صنعتی انقلابات ہوں یا موبائل ٹیکنالوجی جنریشنز- اور یہ کہنا بالکل بے جا نہ ہو گا کہ نئی ٹیلی کام ٹیکنالوجیز اس حصول کی طرف بڑھتا ہوا ایک قدم ہیں۔ کیونکہ گذشتہ دہائی میں ایک چیز جو دنیا بھر میں لوگوں کی ذاتی زندگیوں، معاشرتی رویوں، حکومتی پالیسیوں، عالمی معاشرت اور سیاست و سماج پر سب سے زیادہ اثر انداز ہوئی ہے وہ ہے ٹیلی کمیونی کیشن- اگرصحیح معنوں میں دیکھا جاے تو روٹی کپڑا مکان کے ساتھ انٹرنیٹ بھی زندگی کا لازمی جز وبن گیا ہے۔اور جب بات ہو سپیڈ کی تو موبائل ٹیلی کمیونی کیشن ٹیکنالوجی اس میدان میں بازی لے جاتی ہوئی محسوس ہو رہی ہے۔ سپیکٹرم، برقی مقناطیسی لہروں اور فریکونسی بینڈز کی آنکھ مچولی کے امتزاج سے قوس قزح کے طلسمی رنگ بکھیر رہا ہے فائیو جی دور میں سپیڈ، ذہانت، تحفظ اور موزوں لاگت جیسی ترجیحات متوقع ہیں۔

حالیہ برسوں میں مصنوعی ذہانت(AI) جیسی ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجی غیر معمولی رفتار سے آگے بڑھ رہی ہے مصنوعی طور پر ذہین مشینیں وسیع پیمانے پر کام سر انجام دینے کے لیے بڑے پیمانے پر ڈیٹا کی جانچ پڑتال اور تشریح کر سکتی ہیں۔ زرعی پیدواری صلاحیت میں اضافہ،کینسر اور دیگر پیچیدہ موذی امراض کی تشخیص اور خاتمے میں معاون ثابت ہو سکتی ہیں۔تحفظ ماحولیات اور تبدیلی آب و ہوا جیسے اہم مسائل پر بھی ٹیکنالوجی کی مدد سے قابو پایا جا سکتا ہے دنیا میں سستی اور صاف توانائی کے حصول سے لے کرصفر شرح بھوک تک کی توقع کی جا رہی ہے خود کار گاڑیاں ہر سال ہماری سڑکوں پر ہونے والی 1.3ملین اموات کو کم کرنے کی بڑی صلا حیت ظاہر کرتی ہیں۔انٹرنیٹ آف تھنگز 2025ء سے انٹرنیٹ کے ساتھ منسلک آلات کی تعداد کسی بھی وقت 50ارب تک پہنچنے کا امکان ہے۔مستقبل کے حالات شنید دے رہے ہیں کہ احساسات و جذبات کا کھوج لگانے والی ٹیکنالوجی یعنی ایموشن ڈی ٹیکٹنگ (emotion detecting) یا ایفکٹ ریگگنیشن ٹیکنالوجی آپ کے چہرے کے باریک تاثرات ،آپ کے لہجے حتیٰ کہ آپ کی چال کو پڑھ کر آپ کی اندرونی جذباتی کیفیت بتا دے گی۔

2050ء تک آدھے انسان اور آدھے ربوٹک ’’سایئبورگ سولجر‘‘ بنانے کی بازگشت سنائی دے رہی ہے یعنی انسان اور مشین کا ا نضمام جو انفراریڈ اینڈ الٹراوائلٹ ویژن کا حامل ہو گامسل ریسٹوریشن باڈی سوٹ جو سنسر نیٹ ورک سے لیس ہو گا اور صوتی لہروں کے بل بوتے پر انفراسونک اور الٹراسونک آوازیں سننے کے قابل ہو گا۔نیورل بڑھوتری اور ٹیکنالوجی کے تال میل سے مشین اور انسانی دماغ تبادلہ خیال کر سکیں گے کمیونیکیشن ٹیکنالوجی کے میدان میں معجزات جیسی انقلابی ایجادات اور عقل سلیم مواصلات کوجس بام عروج پر لے جا رہے ہیں اس پر عالمی انسانی معاشرے کے تغیرات پر گہری نظر رکھنے والے جملہ علوم کے ماہرین انگشت بدنداں ہیں اور اب یہ ٹیکنالوجی مواصلاتی رابطہ کاری کی حدود کو پھلانگتے ہوئے نہ صرف ملکوں کی اقتصادیات اور تہذیبی ارتقا پر براہ راست اثر انداز ہو رہی ہے بلکہ دفاعی اور عسکری استحکام کا موضوع بھی بنتی جا رہی ہے

جہاں دنیا بھر میں جدید ٹیکنالوجیز پر پیش رفت جاری ہے اور گذشتہ سال ٹیکنالوجی کو بر ا ئے ترقی ، امید، توانائی اور جوش و خروش کے ساتھ دیکھا گیا تو وہاں یہ جاننا کہ پاکستان اس دوڑ میں کہاں کھڑا ہے اور کیا مطلوب درجے کا کردار ادا کر رہا ہے تو خوش قسمتی سے تمام تر بحرانوں اور چیلنجز کے باوجود دیگر شعبوں کی نسبت جہاں شرح نمو قدرے سست روی کا شکار رہی وہاں سال رفتہ پاکستان ٹیلی کام سیکٹر کی کارکردگی حوصلہ افزا اور خوش آئند رہی۔ اگر ٹیلی کام سیکٹر کی سالانہ کارکردگی کا جائزہ لیا جائے تو پاکستان ٹیلی کام اتھارٹی بطور ٹیلی کام ریگولیٹر کے ایک نمایاں ادارہ بن کر ابھرا ہے وہ بھلے ٹیکنالوجی کی بڑھوتری ہو ، ڈیجیٹل وا قتصادی ترقی ہو، صارفین کے حقوق کا تحفظ ہو یا بین الاقوامی سطح پر شناخت توہم بلا شبہ یہ کہہ سکتے ہیں کہ پی ٹی اے کے حوالے سے سال 2019ء کامیاب ترین سالوں میں سے ایک رہا۔ جنوری2019ء میں پی ٹی اے چیئرمین میجر جنرل (ر) عامر عظیم باجوہ ستارۂ امتیاز اور ممبر کمپلائنس اینڈ انفورسمنٹ ڈاکٹر خاور صدیق کھوکھر کی تقرری عمل میں آئی اس طرح ممبر فنانس محمد نوید کی موجودگی سے اتھارٹی ممبرز کی تکمیل کا عمل مکمل ہوا۔ اتھارٹی نے ٹیلی کام کے شعبہ کو مزید فروغ دینے اور پی ٹی اے کی کارکردگی کو مزید مضبوط اور بہتر بنانے میں اپنا کردار ادا کرنے اورپاکستان میں ڈیجیٹل واقتصادی ترقی کی اہمیت اور ضرورت کے پیش نظر کثیر المقاصد، وسیع البنیاد اور پائیدار ترجیحات و اہداف کا تعین کیا ہے۔

پاکستان ٹیلی کام اتھارٹی جدید ٹیکنالوجیز اور دستیاب وسائل کو بروئے کار لاتے ہوئے ملک کے طول و ارض میں صارفین کو زیادہ سے زیادہ سہولت اور مفید ٹیلی کام سروسز تک آسان رسائی کے لیے مصروف عمل ہے جس سے صارفین کی تعداد میں بتدریج اضافہ ہو رہا ہے۔ جنوری2019ء میں موبائل صارفین کی تعداد 154 ملین اور تھری جی فور جی استعمال کرنے والوں کی تعداد 62ملین کے لگ بھگ تھی جو ایک سال کے عرصہ میں بالترتیب 165ملین اور 76ملین کی شماریاتی حد عبور کر رہی ہے یعنی ایک برس میں موبائل اورتھری جی فورجی صارفین کی تعداد میں بالترتیب گیارہ اورچودہ ملین سے زائد اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

صارفین کے حقوق کے تحفظ اور بہترین سروس کی فراہمی کے لیے پی ٹی اے کی انفورسمنٹ ٹیمیں سال میں متعدد بار سروس کے معیار کو جانچنے کے لیے سروے کرتی ہیں اور جہاں کسی کمی و کوتاہی کی نشاندہی ہوتی ہے تو متعلقہ آپریٹر کے خلاف قانون کے مطابق ایکشن لیا جاتا ہے جبکہ پی ٹی اے شکایات سیل جدید سائنسی بنیادوں اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے طریقوں کے مطابق صارفین کی شکایات کے ازالہ اور رہنمائی کے لیے ہمہ وقت مصروف عمل ہے شکایت پر نہ صرف فوری رد عمل دیا جاتا ہے بلکہ متعلقہ کمپنی کے خلاف قانونی کارروائی و جرمانہ بھی کیا جا تاہے یہ سیل ایک سال میں ہزاروں شکایات کو حل کر چکا ہے۔ شکایات درج کرانے کے لئے080055055 پر کال کی جا سکتی ہے ،پی ٹی اے پر لوگوں کے اعتماد کا اظہار حالیہ دنوں میں وزیر اعظم پاکستان سٹیزن پورٹل کی جاری کردہ رپورٹ سے ظاہرہوتاہے جس کے مطابق شکایات کے فوری ازالہ اور صارفین کے اطمینان کے لحاظ سے پی ٹی اے بطور ریگولیٹر اولین درجے پرہے اور اگر بات ہو انٹرنیٹ پر نفرت انگیزمواد کی تو پی ٹی اے انسداد الیکٹرانک کرائم ایکٹ 2016ء کے تحت انٹرنیٹ پر موجود نقصان دہ اور غیر قانونی مواد جیسا کہ توہین مذہب و شر انگیزی ، انتہا پسندی کی تراویج، فحاشی و عریانی کے مواد کو بلاک کرنے یا ہٹانے میں اہم کردارادا کر رہا ہے اور اس سلسلے میں اس سال کے دوران سینکڑوں ویب سائٹس بلاک کر چکا ہے۔ ایسے مواد کی شکایاتgov.pk [email protected]پر کی جا سکتی ہیں۔

ملک کو ڈیجیٹلائزیشن کی راہ پر گامزن کرنے کے ساتھ ساتھ پی ٹی اے قومی امنگوں اور جذبات کی بھی بھرپور عکا سی کر رہا ہے۔ وہ پلانٹ فار پاکستان میں شمولیت ہو، کشمیریوں کے ساتھ اظہار یکجہتی ہو، پولیو کے خاتمے اور پولیو سے پاک پاکستان میں حکومت اور عالمی اداروں کی جانب سے کوششوں میں تعاون ہو ،یوم دفاع کو ملی جذبے سے منانے کا موقع ہو یا دیگر اہم قومی امور کی آگاہی مہم ہو تو پی ٹی اے ان سب میں پیش پیش رہا ہے۔اس کے علاوہ کھیلوں کے حوالے سے صحت مندانہ سر گرمیوں میں ادارے کے ملازمین کو صلاحیتوں کے اظہار کے مواقع بھی فراہم کر رہاہے۔

سال رفتہ قومی سطح پر جہاں پی ٹی اے پر اعتماد میں اضافہ ہوا ہے وہاں بین الاقوامی محاذ پر بھی اس کے کردار کو تسلیم کیا گیا ہے۔ جی ایس ایم اے نے اپنے پہلے بین الاقوامی کیپسٹی بلڈنگ سینٹر برائے ایکسی لینسی کے قیام کے لیے پی ٹی اے کا انتخاب کیا ہے یہ ایک بہت بڑا اعزاز ہے کہ پی ٹی اے کو علاقائی ریگولیٹری تربیت کے لیے سنٹر آف ایکسی لینسی کا درجہ دیا گیا ہے پی ٹی اے اور جی ایس ایم اے اس حوالے سے مشترکہ طور پرآ ئی سی ٹی اور ٹیلی کمیونیکیشن کی ترقی کے موضوعات پر جنوبی اور مشرقی ایشیاء کی ریاستوں سے وابستہ حکومتی و ریگولیٹری افراد کی تربیت ومہارت کے حوالے سے اقدامات کر رہے ہیں اور یہ گلوبل سنٹر پی ٹی اے کی میزبانی سے خطے کے ممالک کے پروفیشنلز ،ماہرین اور پالیسی سازوں کو فائیو جی نیٹ ورکس جیسی جدید ترین ٹیکنالوجیز کی تربیت فراہم کر رہا ہے اور خطے کے ممالک اس منفرد تر بیتی پروگرام سے مستفید ہو رہے ہیں۔اس کے علاوہ عالمی سطح پر پی ٹی اے کے اقدامات کو سراہا جا رہا ہے اور اس سے استفادہ حاصل کرنے کے لیے دنیا کے کئی ممالک پی ٹی اے کے ساتھ رابطے میں ہیں حال ہی میں انڈونیشیا کی وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی کے نمائندہ وفد نے پی ٹی اے ہیڈ کوارٹر کا دورہ کیا او رڈی آ ئی آربی ایس کے نظام کو اپنے ملک میں لاگو کرنے میں دلچسپی کا اظہار کیا ہے اس طرح بین الاقوامی سطح پر پاکستان کی پذیرائی میں اضافہ ہوا ہے۔

جدید ٹیکنالوجیز پر پیش ر فت کے حوالے سے دیکھا جائے تو پاکستان میں صارفین کو جدید ٹیکنالوجیز سے روشناس کرانے اور اس کے ثمرات سے مستفید ہونے اور عالمی برادری کے ساتھ ہم آہنگ ہونے کے لیے فائیو جی ٹیکنالوجی و دیگر متعلقہ سروسز کا آزمائشی طور پر آغاز ہو چکا ہے موبائل آپریٹروں کو غیر کمرشل بنیادوں پر ٹرائل کی اجازت دی گئی ہے۔ا س عمل سے نہ صرف پاکستانی عوام کو بلا تعطل ٹیلی کام کی بہتر خدمات کے حوالے سے مزید معاونت ملے گی بلکہ یہ عمل ٹیلی کام سیکٹر میں مسابقت او ر سرمایہ کاری کے فروغ میں معاون ثابت ہو گا کیونکہ پاکستان ٹیلی کام سیکٹر سرمایہ کاری کے لحاظ سے ایک پر کشش مارکیٹ ہے خاص کر انٹرنیٹ آف تھنگز، موبائل سازی کی صنعت ، موبائل بینکنگ اور موبائل براڈ بینڈ میں سرمایہ کاری کے بے پناہ مواقع موجود ہیں۔

ٹیلی کام سیکٹر میں گروتھ سے نہ صرف معاشرے اور طرز زندگی پر بلکہ ملکی اقتصادیات پر بھی مثبت اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ اگر مجموعی طور پر اثر دیکھیں تو اکنامک سروے آف پاکستان 2018-19کے مطابق شعبہ ٹیلی کام سرمایہ کاری کے لحاظ سے چوٹی کے چند شعبوں میں سے ایک ہے ۔پی ٹی اے کے سٹیٹ آف دی آرٹ ، بین الاقوامی معیار کے منفرد نظا م ڈی آ ئی آربی ایس (DIRBS)کے نفاذسے نہ صرف غیر قانونی طریقوں او ر ذرائع سے درآمد کیے جانے والے جعلی و غیر معیاری موبائل فونز میں کمی آئی ہے بلکہ قومی خزانے میں کروڑوں روپے ٹیکسزکی مد میں آمدنی ہوئی ہے اور یہ وہ پیسہ ہے جو غیر قانونی ذرائع سے موبائل فونز کی درآمد سے ضائع ہو رہا تھا۔پی ٹی اے کی لگاتار نگرانی ،مسلسل کوششوں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے تعاون سے گرے ٹریفک کی روک تھام کے لیے سینکڑوں کامیاب کارروائیاں کی گئیں جن میں غیر قانونی گیٹ ویز ایکسچینج اور فعال سمیں قبضہ میں لی گئی ہیں ان اقدامات سے قومی خزانے کی آمدن میں خاطر خواہ اضافہ ہو گا۔

ملک میں انفارمیشن ٹیکنالوجی اور ٹیلی کمیونی کیشن کے شعبہ جات میں براہ راست بیرونی سرمایہ کاری کے حجم اور شرح میں جاری مالی سال کے د وران نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ پی ٹی اے کی طرف سے خصوصاًبراہ راست جمع کرائی گئی رقوم اور ٹیلی کام انڈسٹری کی طرف سے حاصل شدہ بلاواسطہ اور بلواسطہ آمدنی سے ملک کی جی ڈی پی میں خاطر خواہ اضافہ ہوا ہے۔حال ہی میں موبائل کمپنیوں کے لائسنس کی تجدیدی فیس کی مد میں 107 ارب روپے قومی خزانے میں جمع کرائے گئے ہیں۔
اگرچہ آج کل جدید ٹیکنالوجیزہر ایک کو آواز دیتی ہیں چاہے وہ جہاں بھی ہوں اور بین الاقوامی معاشی و اقتصادی ترقی میں نمایاں حصہ داربھی ہیں لیکن اس کے ساتھ ساتھ چیلنجز بھی درپیش ہیں کہ کیا نئی ٹیکنالوجیز ہمیں زیادہ سے زیادہ محفوظ بنائیں گی؟ کیا یہ ہمارے انسانی حقوق میں اضافہ یا کمی کریں گی ؟ کیا یہ کم و بیش عدم مساوات پیدا کریں گی؟ اس سے بڑے پیمانے پر مسائل حل کرنے میں مدد ملے گی۔ یا نئی پریشانیوں کا سبب بن سکتی ہیں؟جدید ٹیکنالوجیز کو مفاد عامہ میں استعمال کر کے اپنی مذہبی، ثقافتی، تہذیبی و نظریاتی اقدار و حدود کے پیش نظر قومی اقتصادی ترقی و سلامتی کو ملحوظ خاطر ر کھتے ہوے صائب مواقع میں کیسے بدلنا ہے؟ اور اس ٹیکنالوجی کی سپیڈکا مؤثر استعمال اور اسے اپنے کنٹرول میں رکھتے ہوئے اس کو توانائی میں کیسے ڈھالنا ہے؟ٹیلی کام کے شعبہ میں ٹیکنالوجی کے رحجانات میں تیزی سے بدلتے ہوئے عالمی منظر نامے اور ضروریات کے مطابق قانون سازی و حکمت عملی مرتب کرنے اوراپنی ترجیحات کاتعین و بروقت تیاری ضروری ہے۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Muhammad Farooq

Read More Articles by Muhammad Farooq: 4 Articles with 1127 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
08 Jun, 2020 Views: 261

Comments

آپ کی رائے