کشمیر کی حیثیت کو مٹانے والے خود مٹ جائیں گے !

(Syed Noorul Hassan Gillani, )

دنیا میں اگر اﷲ رب العزت نے جنت بنائی ہے تو وہ کشمیر ہے صرف اور صرف ’’کشمیر‘‘ ۔ سر سبز و شاداب پیڑ پودے، اونچے اونچے پہاڑ سبزے میں لدھے ہوئے پہاڑوں سے بہتے ہوئے جھرنے اور جھیل، ہر طرف ہریالی ہی ہریالی، وہاں کے باشندوں کا رہنا سہنا۔ بھیڑ بکریوں کو چراتے ہوئے لوگ قدرت کا انمول منظر پیش کرتے نظر آتے ہیں نظر کیا، دل کیا انگ انگ میں ترو تازگی بھر جاتی ہے قدرت کی صنائی دیکھ کر جب دنیا کی جنت اتنی خوبصورت ہے تو اﷲ کی جنت کیسی ہو گی آج وہی جنت جس کو دیکھنے کے لئے لوگ دور دور سے آتے ہیں لہو لہو ہو رہی ہے ہر طرف ظلم و ستم کی ایک داستان ہے ہر گلی ہر کوچہ پر چوراہا لہولہان ہو گیا ہے۔جموں و کشمیر دنیا کا ایسا بدنصیب خطہ ہے جو آج سے نہیں بلکہ ڈوگرہ راج کے زمانے سے ظلم و ستم سہہ رہا ہے ، بار بار اسے دھوکہ دیا گیا، اور کتنی ہی بار آزادی کی منزل دو ہاتھ کے فاصلے پر پہنچ کر ان سے چھین لی گئی، کسی مکار نے، کسی عیار نے اور اقوام متحدہ جیسے نام نہاد انسانی حقوق کے علمبردار نے ، ہر بار ہی کشمیریوں سے حق ِ آزادی چھین لیا۔ کشمیریوں کی جدوجہد آزادی کا آغاز 1846ء سے شروع ہوتا ہے ۔جب جنت نظیر وادی کشمیرکا سودا 75 لاکھ نانک شاہی میں ہوا، اور اسے گلاب سنگھ کی جھولی میں ڈال دیا گیا۔تقسیم ہند 1947ء کے وقت یہ طے پایا تھا کہ مسلم اکثریتی علاقوں کاپاکستان کے ساتھ الحاق کیا جائے گا اور ہندو اکثریتی علاقوں کا الحاق بھارت کے ساتھ کیا جائے گا ۔ اس وقت برصغیر میں تقریباً5سو سے زائد شاہی ریاستیں تھی جنہیں فیصلہ کرنے کا حق دیا گیا ۔ بہت سے مسلم اکثریتی علاقے ایسے بھی تھے جن کو بھارت نے ناانصافی کرتے ہوئے طاقت کے بل بوتے پر زبردستی قبضہ کرلیا ، ایسا ہی کچھ کشمیر کے ساتھ بھی ہوا جس پر بھارت نے زبردستی قبضہ جمانے کی کوشش کی جسے کشمیر کے عوام نے تسلیم نہیں کیا اور بزور شمشیر اپنا حق حاصل کرنے کی جدوجہد شروع کر دی،اس جنگ میں پاکستان بھی کشمیریوں کے ساتھ آگے بڑھا اور بھارت کے مذموم مقاصد کو مٹی میں ملادیا اور اپنی قوت ِ ایمان اور جذبہء جہاد سے کشمیر کے کافی حصے کو آزاد کروا لیا، بھارت نے کشمیر کی ریاست کو ہاتھ سے نکلتا دیکھا تو اقوام ِ متحدہ میں پہنچ کر واویلا کیا، اور یوں کشمیر ایک متنازعہ خطہ قرار پایا جس کی عوام نے اپنی مرضی سے رائے شماری کے ذریعے اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنا تھا، کشمیر کے آزاد شدہ حصے نے پاکستان سے الحاق کر لیا، اور دوسرے حصے پر بھارت نے جبراً اپنی فوجیں داخل کردی، ہر گزرتے دن کے ساتھ بھارت اپنے وعدوں کی تکمیل میں لیت و لعل ہی سے کام نہیں لیتا رہا بلکہ ہر کچھ عرصہ بعد ظلم کے اس شکنجے کو اور زیادہ شدید کرتا چلا جا رہا ہے۔ لیکن جب کشمیری قوم آزادی سے کم کسی شے پر راضی نہ ہوئی تو انہیں طاقت سے کچلنے کی کوشش کی، اور ان کو تباہ و برباد کرنے میں کوئی کسی نہیں اٹھا رکھی، انکے باغوں کو آگ لگائی اور کبھی مکانوں کو، ان کے کاروبار تباہ کر دیے گئے، مردوں کی بڑی تعداد کو شہید کیا گیا، عورتوں کی عصمت دری کی گئی، اور نوجوانوں کی بڑی تعداد کو ٹارچر سیلوں میں موت سے بڑھ کر اذیتوں سے دو چار کیا گیا، کتنے ہیں جو ابھی تک جیلوں میں بند ہیں، جنہیں خوراک تک نہیں ملتی ہے نہ علاج معالجہ کی سہولت، کرونا وائرس نے تو حالات کو مزید نازک کردیا ہے ، ،کتنے ہی لیڈرز کو شہید کیا جا چکا ہے، وادی میں گزشتہ 10ماہ سے کرفیو نافذ ہے ۔ کشمیرکو دنیا کی سب سے بڑی جیل میں تبدیل کردیا گیا ہے ، کشمیر کے باسیوں پر اُن کی ہی زمین تنگ کی جارہی ہے ، ان کی نسل کشی کی کوشش کی جارہی ہے ۔ بھارتی فوج کشمیریوں کے جسموں پر ’’پیلٹ گنز‘‘ سے حملہ کر رہی ہے، جس سے کئی نوجوانوں کی آنکھیں تک ضائع ہو چکی ہیں، لیکن کیا جبر کے ان ہتھکنڈوں سے کشمیری عوام آزادی کے خواب دیکھنا چھوڑ دے گی؟ہر گز نہیں، کشمیر کے شہیدوں کا خون رائیگاں نہیں جائے گا۔یہ 2016ء کی بات ہے ، جب برہان مظفر وانی کو شہید کر کے بھارت نے اپنے طور ایک کانٹا صاف کیا تھا، مگر اس کے پچاس مرتبہ پڑھے جانے والے جنازے نے ہی بھارت کی نیندیں اڑا دی تھیں، اور آزادی کی تحریک کو نیا ولولہ مل گیا تھا۔کشمیری عوام گزشتہ 72سالوں سے آزادی کیلئے جدوجہد کررہے ہیں ۔ اُن کی کتنی نسلیں اسی آزای کی چاہ میں ختم ہو گئیں۔ مگر آج بھی اُن کے حوصلے جواں ہیں نہتے بھارتی فوج کے آگے ڈٹے ہوئے کہیں پیلٹ گنوں سے اندھا کیا جا رہا ہے تو کہیں جوانوں کو شہید کیا جا رہا ہے۔ بوڑھوں تک کو اذیت کا نشانہ بنایا جا رہا ہے اور عورتوں کی عزت کو پامال کیا جا رہا ہے ۔ لوگ بھوک پیاس سے مر رہے ہیں ظلم کی انتہا ہے اور ان کو روکنے والا کوئی نہیں۔ مگر پھر بھی معصوم کشمیری نہتے ہوتے ہوئے بھی گزشتہ 72سالوں سے بھارت کی بزدلی کا سامنا کررہے ہیں اور بڑی جرات سے سامنا کررہے ہیں جس کی جتنی تعریف کی جائے کم ہے ۔ کشمیر کی حیثیت کو مٹانے والے خود مٹ جائیں گے، مگر نظریے کی اس لکیر کو مٹانا بھارت کے بس میں نہیں ہے۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Syed Noorul Hassan Gillani

Read More Articles by Syed Noorul Hassan Gillani: 44 Articles with 14469 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
15 Jun, 2020 Views: 169

Comments

آپ کی رائے