حقائق تو یہ ہیں . سلیم اللہ شیخ کی تصنیف(تقریظ)

(Dr Rais Ahmed Samdani, Karachi)

حقائق تو یہ ہیں . سلیم اللہ شیخ کی تصنیف(تقریظ)
ڈاکٹر رئیس احمد صمدانی
[email protected]

سوشل میڈیا لکھنے والوں کے لیے بھی ایک نعمت ثابت ہوا ہے ۔ نئے لکھنے والوں کے لیے اس نے نئے راہیں کھول دی ہیں ، لکھنے کا حوصلہ دیا ہے، ان کی تصنیفی و تالیفی صلاحیتوں کو جلا بخشی ہے ۔ ساتھ ہی اخبارات و رسائل کے مدیران و ذمہ داران کی خوشامد درآمد، طویل انتظار اور انتظار کے بعد اپنی تحریر کے بارے میں اس جملے سے آزاد کردیا ہے کہ ’آپ کی تحریر قابل اشاعت نہیں ‘ ۔ شوق کی تکمیل کے لیے لکھنے والوں کو سوشل میڈیا کی صورت میں ایک ایسا سہارا اور ذریعہ ملا ہے جس نے ان کے حوصلوں کو، لکھنے کے جذبے کو مفقود ہونے سے بچا لیا ۔ سوشل میڈیا کے ادارے ’’ہماری ویب‘‘ سے میں 2013ء میں منسلک ہوا،اس وقت لکھنے والے اپنی تحریریں ہماری ویب کی ویب ساءٹ پر پوسٹ کر رہے تھے ۔ 2014ء میں ہماری ویب کی جانب سے تحریک ملی کہ آن لائن لکھنے والوں کا کوئی باقاعدہ ادارہ تشکیل دیا جائے ۔ یو تو ملک میں بے شمار علمی وادبی ادارے اور انجمنیں تھیں لیکن آن لائن لکھنے والوں کے لیے ’رائیٹرز کلب ‘کا قیام روایتی اداروں سے ہٹ کر جدید ٹیکنالوجی کی دنیا میں پہلا قدم تھا جس کا قیام 2014ء میں عمل میں آیا ۔ لکھنے والوں کے لیے جو برقی میڈیا پر لکھنا چاہتے تھے یہ ادارہ ایک خوشگوار احساس کا باعث ہو ۔ ہماری ویب کی جانب سے چند متحرک دوستوں کا اجتماع ہماری ویب کے آفس میں منعقد ہوا اور ’’ہماری ویب رائیٹرز کلب ‘‘ کا ڈول ڈال دیا گیا ۔ عہدیداران کا انتخاب عمل میں آیا ،صدارت کی ذمہ داری ہ میں سونپ دی گئی ۔ ہماری ویب کے احباب کلب کی سرگرمیوں کے لیے متحرک تھے، اس کے اجلاس بھی گاہے بگائے ہوا کرتے تھے، انہی ساتھیوں میں ایک نوجوان، چہرہ نورانی، کالی داڑھی ، گفتگو کرتا تو چہرہ پر مسکراہٹ نمایاں ہوتی، کبھی کبھی زلفیں بکھری ہوئی میٹنگ میں اعتماد سے گفتگو کرتا دکھائی دیتا ۔ وہ ہماری ویب رائیٹرز کلب کی ٹیم کا حصہ بن گیا ۔ تعارف ہونے پر معلوم ہوا کہ نوجوان اسکول میں استاد ہیں ، لکھنے کا شغف رکھتے ہیں اور کئی سالوں سے ہماری ویب پر لکھ رہے ہیں ۔ ہ میں تو مخلص، بے لوث، خدمت کا جذبہ رکھنے والے ، خاص طور پر تصنیفی و تالیفی دنیا سے تعلق رکھنے والوں کی تلاش رہتی ہے، چنانچہ ہم نے دیگر کی طرح اس نوجوان کو بھی لکھنے ، آن لائن شاءع ہونے اور علمی و ادبی سرگرمیوں میں حصہ لینے کی ترغیب دی ۔ گو وہ سرگرمیوں میں کم کم دکھائی دیا، شاید اس کی وجہ اس کی معاش کی مجبوری تھی، جس کا علم ہ میں بعد میں ہوا، یہ نوجوان ہیں سلیم اللہ شیخ ۔

رمضان کا آخری عشرہ تھا ، سلیم اللہ شیخ کا میسیج واءٹس اپ پرموصول ہواجس میں انہوں نے اپنے مضامین کے مجموعے پر پیش لفظ لکھنے کی درخواست کی، ساتھ ہی یہ بھی لکھا کہ وہ کتاب کا مسودہ پی ڈی ایف فارمیٹ میں فراہم کرسکیں گے ۔ ویسے بھی کورونا کے باعث سماجی دوری اور لاک ڈاوَن کا تقاضہ تھا کہ نہ ہم کسی کے گھر جائیں اور نہ ہی کسی کو دعوت دیں ۔ چنانچہ انہیں لکھ دیا کہ کتاب کی پی ڈی ایف کاپی ارسال فرمادیں ۔ کتاب کا عنوان ہے’’حقائق تو یہ ہیں ‘‘ ۔ اس تصنیف میں مصنف کے مختلف موضوعات پر کوئی 42مضامین وکالم شامل ہیں ۔ ان موضوعات میں معاشرہ اور ثقافت، سماجیات،معاشرہ اور ثقافت، سماجیات، مذہب، بین الاقوامی ،،شوبز،طنز و منزاح چند متفرق موضوعات پر ہیں ۔

سلیم اللہ شیخ پیشے کے اعتبار سے استاد ہیں ، اردو میں ماسٹر ڈگری رکھتے ہیں ، مذہبی فکرکے حامل ہیں ۔ زبان خواہ کوئی سی بھی ہو اس پر کسی کی اجارہ داری ہر گز نہیں ہوتی، جو جس قدر زبان سیکھنے پر توجہ دیتا ہے، اس بان سے محبت کرتا ہے، وقت دیتا ہے زبان اسے اپنے سینے سے لگالیتی ہیں ۔ علامہ اقبال، فیض، احمد ندیم قاسمی، ڈاکٹر سلیم اختر، ڈاکٹر انور سدید،احمد فراز اور دیگر کی مثالیں ہمارے سامنے ہیں جن کی مادری زبان اردو نہیں تھی ۔ سلیم اللہ شیخ کی مادری زبان سندھی ہے لیکن اردو پر انہیں کیا خوب دسترس حاصل ہے، خوب لکھتے ہیں ، صاف ستھرا لکھتے ہیں ، روانی سے لکھتے ہیں ، ان کا اسلوب سادہ، عام فہم ہے، مشکل الفاظ استعمال کر کے پڑھنے والوں پر روعب نہیں ڈالتے ۔ میں نے ان کے مضامین کا مطالعہ کیا، گو اسکرین پر پڑھنا مشکل عمل ہوتا ہے، کیونکہ میں میرا قلم بھی کمپیوٹر کا کی بورڈ ہے اس لیے میں اس کا عادی ہوں ۔ اس سے قبل بھی کئی دوستوں نے اپنی تصانیف واٹس اپ پر ہی بھیجیں ہیں ۔ ہ میں زمانے کے ساتھ چلنا ہوگا ، اگر یہ خیال کر کے کہ یہ ہمارے بس کی بات نہیں تو ہم آگے جاتی دنیا کا ساتھ نہیں دے سکیں گے ۔ جیسے حالات ہوں ان کے مطابق خود کوڈھالنے میں ہی بہتری ہے ۔ اب کورونا وائرس نہ معلوم کب تک رہتا ہے اور چلا بھی جاتا ہے تو اس کے اثرات کب تک رہیں گے، ہ میں ان حالات کا بھی مقابلہ کرنا ہوگا، ضروری احتیاطی تدابیر کے ساتھ زندگی کو رواں دواں رکھنا ہوگا ۔ اسی میں ہماری بھلائی ہے ، اسی میں ملک و قوم کی ترقی مضمر ہے ۔

سلیم اللہ شیخ ایک سیلف میڈ نوجوان ہیں ، میں نے انہیں قریب سے دیکھا، ان کی زندگی محنت اور مشقت سے عبارت ہے، معلمی کے درجہ پر یہ کئی کٹھن منزلیں طے کر کے پہنچے ہیں ، یہی وجہ ہے کہ انہیں اپنے مقام و مرتبہ کا ادراک ہے جس کا اظہار ان کی تحریروں میں نمایاں دکھائی دیتا ہے ۔ محنت و مشقت کا یہ سلسلہ اب بھی جاری ہے ایسی صورت میں ان کے لکھنے کی جو رفتار ہے اسے دیکھتے ہوئے کہا جاسکتا ہے کہ انہیں لکھنے کا شوق جنون کی حد تک ہے، لکھنا ان کی زندگی ہے ۔ انہوں نے 2004 میں لکھنا شروع کیا اور پہلا مضمون روزنامہ جسارت میں شاءع ہوا ، ہماری ویب میں انہوں نے 2008 ء سے لکھنا شروع کیا ، ان کا کہنا ہے کہ ’پھر یہ ہماری ویب کے ہی ہوکر رہ گئے‘ ۔ اب یہ دیگر جگہ اور اخبارات و رسائل میں بھی لکھ رہے ہیں ۔ لیکن ان کے بقول ان کا پہلا عشق ہماری ویب ڈاٹ کام ہے ۔ ان کے پسندیدہ موضوعات سیاست، اخلاقیات اور تاریخ ہیں ۔ یہ شاعر ی بھی کرتے ہیں ۔ انہوں نے پیراماوَنٹ کے لیے ابتدائی جماعتوں کی اسلامیات کی دو کتابیں بھی مرتب کی ہیں ۔ مضامین کی تعداد جو ہماری ویب پر آن لائن ہیں 550 سے زیادہ ہوچکی ہے ۔ پیش نظر کتاب ہماری ویب پر شاءع شدہ مضامین و کالموں کا ہی مجموعہ ہے ۔

پیش نظر تصنیف کے مضامین کے عنوانات پر نظر ڈالیں تو معلوم ہوتا ہے کہ انہوں نے اپنی دلچسپی کے موضوعات پر بھر پور لکھا بلکہ زندگی کا کوئی شعبہ ایسا نہیں جس کو انہوں نے اپنا موضوع نہ بنایاہو ۔ معاشرہ ، ثقافت اور سماجیات کے حوالے سے ان کے مضامین میں ’’کیا بھارت کو پاکستان سے جنگ کی ضرورت ہے;238;،کیا یہ انتہا پسندی نہیں ، عورتوں سے متعلق غلط سوچ کا خاتمہ کریں ،شکر (ایک مکالمہ)، چند اصلاحی غلطیاں ، فلسطینی مسلمانوں کی وقعت گدھ سے بھی کم، آج کے نوجواں سن لے میری فغاں ، کرکٹ کے لیے ایک خواب، بسنت جشن بہاراں ، اپریل فول کی تاریخ اور نقصانات، ہیں تلخ بہت بندہ مزدور کے اوقات، بازگشت، ہمارا نظام تعلیم اور طبقاتی تفریق ۔ وطینت کے موضوع پر ’’عبد القدیر خان ، ایٹمی پروگرام اور عالمی سازشیں ، 23مارچ اور حب الوطنی، جاگو اہل وطن جاگو، قیام پاکستان کا مقصد، ستمر1965اور ستمبر 2009ء‘‘، مذہب کے حوالے سے ’’اوبامہ کی صدارت اور مسلمانوں کی تاریخ، مغرب شریعت سے خوفزدہ کیوں ;238;، وہی خدا ہے، نبی اکرم ﷺ کی آمد کی پیشن گوئیان، شیطان ۔ مقرب سے مردود تک، اسلام اور دید، روداد سفر معراج النبی ﷺ، سوچتا ہوں کہ توبہ کرلوں لیکن‘‘، بین الاقوامی کے موضوع پر ’’کیا اسلام امریکہ کا دشمن ہے;238;، امریکی دہشت گردی کی تاریخ;238;، لبرٹی حملہ ! بھارت کی سازش، شہید حجاب ۔ مرواشیربینی‘‘، شوبز کے موضوع پر’’ادا کار شکیل صدیقی پر تشد، مغرب کے اصل چہرے کی ایک جھلک،آج کل اشتہارات ۔ سلوپوائزن، میڈیا ۔ بڑھتی ہوئی فحاشی‘‘، طنز و منزاح پر ’’لوڈ شیدنگ کے فوائد، بس کا، شعر، شاعر اور فلمی شاعری، سیاست اور سائیکل سواری‘‘، چند متفرق موضوعات پر جیسے’’ سوائن وائرس ۔ انسان کا دشمن، بھارت میں بھی طلبان;238;،بلیک واٹر ا کالا پانی، اور تین خبرین تین سبق‘‘ ۔ شامل ہیں ۔
پیش نظرتصنیف میں مصنف نے جانفشانی و عرق ریزی سے کام لیا ہے ۔ اپنے موضوع پر عمدہ کاوش، اللہ کرے زور قلم اور زیادہ
پروفیسر ڈاکٹر رئیس احمد صمدانی
صدر: ہماری ویب رائیٹرز کلب و سرپرست : سلسلہ ادبی فورم
(24مئی2020ء، مطابق 29رمضان المبارک 1441ھ)

۔۔‘‘‘‘‘‘‘‘۔۔۔۔----
Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 120 Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Prof. Dr Rais Ahmed Samdani

Read More Articles by Prof. Dr Rais Ahmed Samdani: 707 Articles with 563214 views »
Ph D from Hamdard University on Hakim Muhammad Said . First PhD on Hakim Muhammad Said. topic of thesis was “Role of Hakim Mohammad Said Shaheed in t.. View More

Comments

آپ کی رائے
Language: