نسلی منافرت کا انسانی المیہ ابھی ختم نہیں ہوا

(Tahir Ayub, )

امریکی ریاست منی سوٹا کے شہر منی ایپلس میں ریاستی پولیس کے ہاتھوں قتل ہونے والے سیاہ فام امریکی شہری جارج فلائیڈ کی کہانی ایک امریکی ساحل کے کنارے سے شروع ہوتی ہے- جب 1502 عیسوی میں بیڑیوں میں جکڑے پہلے کالے حبشی غلام کو امریکہ کے ساحل پر اتارا گیا- یہ بدنصیب سیاہ فام کورڈوبا نامی بردہ فروش کے ہاتھوں پہلی بار فروخت کے لئے امریکہ میں پیش ہوا- اس بے نام افریقی غلام کا شمار بحری جہاز پر موجود سامان تجارت میں کیا گیا تھا- اور فہرست میں اس کا اندراج سامان کے نَگ طور پر ہوا- یہی لمحہ اس طویل انسانیت سوز داستان کا نقطۂ آغاز ہے، جو بعد میں آنے والے لاکھوں انسانوں کو غلامی کی بھینٹ چڑھانے کا موجب بنا- رنگ اور نسل کے اعتبار سے بات غلامی کی ان زنجیروں کی حد تک ہی رہتی تو شائد پھر بھی سمجھنا آسان تھا، لیکن ہوس زر اور جاہ و منفعت کے پالے ہوئے خوں آشام درندوں کے ہاتھوں ذلت انسانی شائد اس زمین کا مقدر بننا تھی-

اکتوبر 1492ء کو کرسٹوفرکولمبس کا جہاز امریکہ کے ساحلوں پر اترنے کی ہی دیر تھی کہ یورپین اقوام کے جرائم پیشہ عناصر، راہزن، ڈاکو، قاتل اور لٹیرے یہاں آ کر آباد ہونا شروع ہو گئے- یہاں کی سادہ لوح اور امن پسند مقامی آبادی ریڈ انڈینز ان کی چالوں کو نہ سمجھ سکے، اور یوں کچھ ہی عرصے میں ان منجھے ہوئے جرائم پیشہ عناصر نے اپنی چالاکیوں سے مقامی آبادی کو زیر کرنا شروع کر دیا- یہ لوگ اپنی پیشہ وارانہ مہارتوں اور جدید وسائل کو بروئے کار لاتے ہوئے علاقوں پر علاقے فتح کرتے گئے، اور ریڈ انڈینز کے قبیلوں کے قبیلے صفحہ ہستی سے مٹاتے گئے- انہیں اس وقت کی یورپئین طاقتوں کی سرپرستی بھی حاصل تھی- جو اس نئے خطۂ ارض پر حکمرانی کے خواب دیکھ رہی تھے-

1510 عیسوی میں عیسائی بادشاہ فرڈی نینڈ نے امریکہ میں افریقی غلاموں کی برآمد پر ہسپانوی حکومت کی طرف سے عائد کردہ پابندیاں نہ صرف ختم کر دیں، بلکہ اس کے طریقہ کار کو بھی مزید سہل بنا دیا- اس طرح اس نودریافت شدہ جزیرے پر محنتی اور جفاکش افریقن حبشیوں کو سامانِ تجارت کی شکل میں لانے کا باقاعدہ آغاز ہوا- کئی صدیوں پر محیط اس سفر میں افریقہ کے جنگلوں سے لاکھوں سیاہ فام غلام یورپی بردہ فروشوں کے ہاتھوں اغواء ہو کر امریکہ پہنچائے گئے، جو بظاہر تو انسان تھے، لیکن حقیقت میں انہیں جانوروں سے بھی بدتر درجے پر رکھا جاتا تھا-

سترھویں صدی میں ریڈ انڈینز سے ساڑھے تین لاکھ مربع میل زمین ہتھیائے جانے کے بعد یورپین سفید فاموں کے لئے اگلا مرحلہ ان سونا اگلتی زمینوں پر کاشت کاری کا تھا- مادی وسائل سے لیس، سہل پسند یورپینز کو اس کا بہترین حل سخت جان اور قوی ہیکل سیاہ فام غلاموں کی صورت میں نظر آیا- اس وقت ریاست ورجینیا افریقہ سے لائے ہوئے غلاموں کی سب سے بڑی انسانی منڈی ہوا کرتی تھی- جہاں ان دنوں اس سیاہ فام پراڈکٹ کی مانگ میں اضافے کے بعد ایک ہلچل مچی اٹھی- مارکیٹ میں سٹاک کم اور گاھک زیادہ ہونے کے سبب یہ غلام منہ مانگی بولیوں پر بکنے لگے- چمکتے سیاہ جسموں کی بڑھتی ڈیمانڈ کو دیکھ کر ھسپانوی ،ولندیزی، پرتگالی،برطانوی اور سوئیڈش بردہ فروشوں کی تو جیسے چاندی ہو گئی- یہ اغواء کار وسائل کے بل بوتے پر بھیڑ بکریوں کی طرح افریقہ سے کالے حبشیوں کو پکڑتے یا کسی طرح اونے پونے میں خرید کر انہیں سمندری راستوں سے امریکہ پہنچا دیتے، جہاں ان کی منہ مانگی قیمت کی صورت میں بھاری سرمایہ ان کا انتظار کر رہا ہوتا تھا- ان کے خریداروں کے بھاری دام بھرنے کی سب سے بڑی وجہ یہ تھی کہ انہیں ایک ہی بار کی انویسٹمنٹ سے ساری زندگی کے لئے بیگار مفت میں مل جاتا تھا- بردہ فروشی کے اس منفعت بخش کاروبار کو اس قدر عروج حاصل ہوا، کہ مارکیٹ میں ہر روز بڑھتی ڈیمانڈ کو پورا کرنے کے لئے افریقہ کے ساحلی ملکوں ماریطانیہ، تنزانیہ، کانگو، موزمبیق نمبیلا، انگولا، سینیگال، گیانا، گنی، گھانا، نائیجیریا اور جنوبی افریقہ سے لاکھوں سیاہ فاموں کو دھڑا دھڑ ذرائع رسد ورسائل کی کمی کے باعث جہازوں میں نہایت شرمناک اور غیر انسانی طریقوں سے ٹھونس کر لایا جانے لگا- لوہے کے پنجرے نما کیبنز میں زنجیروں میں جکڑے ان سیاہ رنگ سیاہ بختوں کو ننگے بدن، الٹا سیدھا ایک دوسرے کے اوپر پھینک دیا جاتا، اس کے بعد اس حالت میں کئی کئی ماہ کی جان گسل اور روح فرسا سفری مشقت سے گزرنا ایک کرب ناک مرحلہ ہوتا تھا- یہاں تک کہ ان میں سے اکثر سفری صعوبتوں اور انسانیت سوز سفری انتظامات کے سبب راستے میں ہی دم توڑ دیا کرتے، جنہیں وہیں سمندر برد کر دیا جاتا تھا- ان حالات میں بچا کھچا مال ہی امریکی ساحلوں تک پہنچ پاتا- ایک اندازے کے مطابق ان اغواہ کاروں نے افریقہ سے تقریباً 40 ملین سے زیادہ لوگوں کو امریکہ لے جانے کے لئے اغواء کیا- جن میں سے صرف 10 ملین کے لگ بھگ ہی بحفاظت امریکی منڈیوں تک پہنچ سکے، جب کہ بقیہ 30 ملین راستوں میں ہی تڑپ تڑپ کر سمندر برد ہوئے-

صدیوں پر محیط غلامی کا یہ سفر یونہی جاری رہا، یہاں تک کہ 1777ء میں امریکہ کی جدید جمہوری اور آئینی حکومت قائم ہوئی اور جارج واشنگٹن اس کے پہلے امریکی جمہوری صدر بنے، لیکن اس کے بعد بھی سیاہ فام نسلی منافرت کی تیرگی کم نہ ہو سکی، بلکہ نسل در نسل غلامی کے اس سلسلے کو قانونی اور آئینی حیثیت حاصل ہو گئی- 1793ء کا امریکی کانگریس کا پاس کردہ قانون "Fugitive Slave Act" اور جم کرو قوانین" اسی سلسلے کی ہی ایک کڑی ہیں- یوں جمہوریت اور سیاہ فام غلامی مزید ڈیڑھ سو سال تک ہاتھوں میں ہاتھ ڈالے محو سفر رہے، 1860 سے 1870 کے درمیان غلامی سے نجات کی پرتشدد تحریک میں امریکہ سے غلامی کی قانونی حیثیت تو ختم ہو گئی، لیکن عملاً اسے نہ ختم کیا سکا- ایک اندازے کے مطابق اس خانہ جنگی میں ساڑھے تین لاکھ سے زیادہ لوگ مارے گئے- لیکن اس کے بعد نسلی منافرت اور تعصب پسندی کو اس قدر شہ ملی کہ سفید فام نسل پرستوں نے بدنام زمانہ لنچنگ ایکٹ کے نام پر سیاہ فام غلاموں کو خود سے ہی سرعام پھانسی کی سزا سنانا شروع کر دی- لنچنگ کا یہ خونی کھیل اس قدر عام ہوا کہ جہاں کہیں بھی کوئی سیاہ فام کسی معمولی سے جرم کا ارتکاب کرتا، اسے پکڑ کر سرعام درخت سے لٹکا کر پھانسی دے دی جاتی، اور عبرت دلانے کے لئے لاش کئی کئی دنوں تک درخت سے ہی لٹکی رہتی-
صرف یہی نہیں گزشتہ پانچ صدیوں میں موجودہ دور کے انسانی حقوق کے ان چیمپئنز نے ان بے بس اور لاچار لاکھوں افریقی غلاموں کی غلامی کو دوام بخشنے کے لئے وہ کون سا حربہ ہے جو استعمال نہیں کیا؟ انسانی اقدار کی پامالی کی ایسی ایسی دلخراش اور اندوہناک داستانیں ہیں کہ جنہیں لکھتے لکھتے کئی ضخیم کتب مرتب کی جا سکتی ہیں-

اگرچہ آج امریکہ سپر پاور کا روپ دھارے حقوق انسانیت کے لئے دھاڑتا پھرتا ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس کے روشن اور مہذب چہرے کے پیچھے چھپا صدیوں کی غلامی کا یہ المیہ ابھی ختم نہیں ہوا، بیسویں صدی کی جدیدیت، مہذب پن اور روشن خیالی کی یہ چکا چوند بھی کئی صدیوں کی اس تیرگی کو ختم کرنے میں ناکام ہیں- یہی وجہ ہے کہ امریکہ کے سب سے بڑے صدارتی عہدے پر آج بھی ایک نسل پرست صدر براجمان ہے- جس کے ٹویٹر سے آئے روز نسل پرستی کے جلوے بکھرتے نظر آتے ہیں- بحرحال 2014 کا "ایرک فارنر" ہو یا 2020 کا "جارج فلائیڈ" سیاہ فام غلامی کا یہ قصہ صدیوں سے جاری ہے، اور پتا نہیں مزید کتنے ایرک اور جارج اس کہانی کے کرداروں کی صورت میں سامنے آتے رہیں گے-

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 204 Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Tahir Ayub

Read More Articles by Tahir Ayub: 14 Articles with 3100 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Comments

آپ کی رائے
Language: