ٹیلی مواصلات فائدے میں ۔۔۔

(Prof Shoukat Ullah, Banu)

آج کل انٹرنیٹ کا استعمال حد سے تجاوز کرگیا ہے۔ گزشتہ ماہ اپنے ٹیلی فون بل میں براڈ بینڈ انٹرنیٹ کی تفصیل دیکھی تو معلوم ہوا کہ اس ماہ گھر والوں نے دو سو ساٹھ گیگا بائٹ ڈیٹا استعمال کیا۔اس کو کچھ یوں سمجھا جا سکتا ہے کہ ایک گیگا بائٹ 1024 میگا بائٹ پر مشتمل ہوتا ہے اور 680 میگا بائٹ کی ایک سی ڈی پر چالیس لاکھ صفحات محفوظ کیے جاسکتے ہیں۔اَب آپ خود اندازہ لگا لیں کہ دو سو ساٹھ گیگا بائٹ کتنی بڑی مقدارکا ڈیٹا ہو گا۔ یہاں یہ بتانا بھی ضروری ہے کہ موبائل فون ڈیٹااس کے علاوہ ہے۔ ہم نے جب اپنے موبائل کے اعداد و شمار چیک کئے تو ایس ایم ایس ، کالز اور انٹرنیٹ کا استعمال 23 ، 12 اور 77 فیصد بالترتیب رہا۔ یہاں بھی انٹرنیٹ کے استعمال کا واضح فرق دیکھا جا سکتا ہے۔مالی سال 2018-2019 میں براڈ بینڈ نیٹ ورکس پر ڈیٹا کا استعمال 2545 پیٹا بائٹ تھا جس میں سال 2017-2018 کے مقابلے میں 113 فیصد اضافہ دیکھنے کو ملا تھا۔ٹیلی مواصلات کے شعبے نے ٹیکسوں ، ڈیوٹیوں اور محصولات کی مد میں قومی خزانے میں چھیانوے ارب سے زائد رقم جمع کرائی تھی۔ اسٹیٹ بنک آف پاکستان کے حالیہ ایک بیان کے مطابق کورونا وبا کے باعث ملک میں انٹرنیٹ اور موبائل بینکاری کے رجحان میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ انٹرنیٹ اور موبائل بینکاری صارفین کی روزمرہ بینکاری اور مالیاتی ضرورتوں کو پورا کرنے کا اہم ذریعہ بن رہے ہیں۔ آئندہ سہہ ماہی میں ان کی نمو کا سلسلہ جاری رہنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔ بینکنگ سیکٹر کے علاوہ انٹرنیٹ کا استعمال دیگر شعبہ جات میں بھی ہو رہا ہے۔جن میں شعبہ تعلیم نمایاں ہیں۔ سکول ، کالج اور یونیورسٹیاں اپنے طلباء کو تعلیمی سرگرمیوں میں مصروف رکھنے کے لئے واٹس ایپ ، زوم اور یوٹیوب وغیرہ کا استعمال کر رہی ہیں جہاں طلباء کے پاس انٹرنیٹ اور دیگر سہولیات نہیں ہیں وہاں آن لائن کلاسوں کے خلاف مظاہرے بھی ہو رہے ہیں۔پاکستان سے ہٹ کر دنیا کی بات کی جائے تو گلوبل ویب انڈیکس کی 2018 ء سروے کے مطابق انٹرنیٹ استعمال کرنے والے افراد روزانہ اسطاً چھ گھنٹے تک آن لائن ہوتے ہیں۔یہ سروے چونتیس ممالک میں کیا گیاتھا۔اس سروے میں چند ممالک ایسے بھی بتائے گئے ہیں کہ جہاں افراد روزانہ اوسطاً نو گھنٹے تک آن لائن رہتے ہیں۔ان اعداد و شمار میں دنیا بھر میں لاک ڈاؤن اور لوگوں کے گھروں تک محدود رہنے کے باعث انٹرنیٹ کے استعمال میں بے انتہا اضافہ ہوا ہے۔

پاکستان میں جب مارچ کے مہینے میں لاک ڈاؤن شروع ہوا تو ہمارا مشورہ تھا کہ موبائل فون پر انٹرنیٹ پیکجز کو سستا یا چند ماہ کے لئے مفت کیا جائے۔ یوں کروڑوں موبائل صارفین گھروں میں مصروف ہوجاتے اور جس سے لاک ڈاؤن کی مؤثریت اور افادیت پر ضرور مثبت اثر پڑتا لیکن حکومت اور موبائل کمپنیوں کی جانب سے ایسا کوئی قدم نہیں اٹھایا گیا۔ البتہ کمپنیوں نے موبائل ایپسمتعارف کرائے تا کہ صارفین آسانی سے گھر بیٹھے اُن کے بل ادا ، کارڈ حاصل اور پیکج لگوا سکیں، یعنی انہوں نے بہتی گنگا میں خوب ہاتھ دھوئے ۔ چلیں ، اُنہوں نے اپنی سروسز کو سستا یا مفت نہیں کیا لیکن انہیں چاہیے تھا کہ اس مہلک ترین وبا کے دوران پیکجز کی ٹائمنگ میں تبدیلی لازمی کرتے ۔ عموماً دیکھا گیا ہے کہ کال ، ایس ایم ایس اور انٹرنیٹ پیکجز شام کے بعد سستے ریٹس پر ملتے ہیں تو انہیں کم از کم دن کے اوقات میں سستا کیا جاتا تاکہ اس سے صارفین نہ صرف استفادہ اٹھاتے بلکہ لاک ڈاؤن کے دوران گھروں پر بھی رہتے۔ کیوں کہ اس وقت ملک بھر میں موبائل صارفین کی تعدادایک سو پینسٹھ ملین سے زائد ہے جو کل آبادی کا تقریباًاسّی فیصد حصہ بنتا ہے جب کہ تھری اور فور جی صارفین چھیاتر ملین ، بنیادی ٹیلی فونی صارفین تین ملین اور براڈ بینڈ صارفین اٹھہتر ملین ہے۔ پاکستان ٹیلی مواصلات اتھارٹی کے اعداد و شمارہ کے مطابق 2007 ء اور 2010ء میں موبائل فون صارفین کی تعداد چار کروڑ پچاسی لاکھ اور دس کروڑ دو لاکھ بالترتیب تھی۔ یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ کورونا کی وبا میں یہ وہ واحد معیشت ہے جو نہ صرف اپنے پاؤں پر کھڑی رہی ہے بلکہ خوب پھل پھول رہی ہے۔ خیال رہے کہ یہاں مینوفیکچرنگ اور ٹیکنالوجی کمپنیوں کی بات نہیں کی جارہی ہے بلکہ ہم ٹیلی مواصلات سروس ( یعنی انٹرنیٹ ، ٹیلی فونی وغیرہ ) کی بات کر رہے ہیں۔دیگر صنعتوں کی طرح موبائل ٹیکنالوجی کی صنعت کو بھی نقصان پہنچا ہے۔ پاکستان اپنے صارفین کے لئے ہر مہینے دس لاکھ موبائل فون چین سے درآمد کرتا تھا لیکن کورونا کی وجہ سے یہ صنعت کافی متاثر ہوئی۔ اُمید کی جاتی ہے کہ حالیہ بجٹ میں موبائل فون مینوفیکچرنگ کو فروغ دینے کے لئے خصوصی مراعات دی جائیں گی۔خیال رہے کہ اس وبا سے ایک اندازے کے مطابق دنیا کو ساڑھے آٹھ ہزار ارب ڈالر کا نقصان ہوسکتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ موبائل فون ٹیکنالوجی کو بھی دنیا بھر میں کافی نقصان پہنچا ہے۔ موبائل ٹیکنالوجی کا بڑامیلہ موبائل ورلڈ کانگریس ( ایم ڈبلیو سی ) کورونا کی نظر ہوچکا ہے جس کو ماہ فروری کے آواخر میں اسپین کے شہر بارسلونا میں منعقد ہونا تھا۔ کورونا وبا کے خطرات کے پیش نظر دنیا کی بڑی کمپنیوں ایل جی ، زید ٹی ای ، ایریکسن ، سونی اور ایمازون نے ایم ڈبلیو سی ٹی ٹوئنٹی(2020 ) میں شرکت سے انکار کر دیا تھا۔ اگر ملک ِ چین کی بات کی جائے تو وہاں ’’دی کینٹن‘‘ کا میلہ مارچ میں سجنے والا تھالیکن ووہان شہر سے شروع ہونے والی اس بلا کی وجہ سے تاحال ملتوی ہے۔گزشتہ برس اس میلے میں 29.7 ارب ڈالرز کے معاہدے ہوئے تھے۔ ان تمام حقائق سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ کورونا وبا کی وجہ سے موبائل مینوفیکچرنگ کی صنعت دیگر صنعتوں کی طرح بری طرح متاثر ہوئی ہے جب کہ ٹیلیمواصلات سروس مستحکم اور فائدے میں رہی ہے۔ پس موجودہ تشویش ناک ملکی حالات میں ان کو اپنا بھرپور کردار تعلیمی اور دیگر شعبہ جات میں ادا کرنا چاہیے تاکہ عوام گھروں میں رہیں ، سماجی فاصلہ رکھیں اور ٹیلی ورکنگ کی سہولیات سے بھرپور فائدہ اٹھائیں۔

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 156 Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Prof Shoukat Ullah

Read More Articles by Prof Shoukat Ullah: 202 Articles with 105939 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Comments

آپ کی رائے
Language: