حکمت آمیز باتیں۔ پینتسواں حصہ

(Zulfiqar Ali Bukhari, Islamabad)
یہ تحریر فیس بک کے آفیشل پیج www.facebook.com/ZulfiqarAliBukhari
پر میری کہی گئی باتوں کا مجموعہ ہے، میری سوچ سے سب کو اختلاف کا حق حاصل ہے،میری بات کو گستاخی سمجھنے والے میرے لئے ہدایت کی دعا کر سکتے ہیں یا اپنے لئے مشعل راہ بھی بنا سکتے ہیں۔
کسی اور کا غصہ یا پریشانیوں کی وجہ سے بچوں کے ساتھ غلط برتاو آپ کے اور بچوں کے بیچ میں فاصلہ قائم کرتا ہے۔

بچوں کو پیار کی زبان سے نہ سمجھانے والے ایک دن بہت پچھتاوے کا شکار ہو جاتے ہینِ، بچوں کے ساتھ کسی بھی طرح کا تشدد یا مار پیٹ ان کو والدین کے خلاف کرتی ہے اس سے گریز بہتر ہے۔

اگر آپ بڑوں کے ساتھ ساتھ بچوں کو بھی اپنی باتوں سے قائل نہیں کر سکتے ہیں تو پھر اپنی سوچ کو بدل لیں۔

ہم سب مغربی ممالک میں عیاشی کر سکتے ہیں مگر ہمارے پاکستان میں غیر مسلم آزادی سے نہیں جی سکتے ہیں ہمارا دین تو سب کے لئے امن و سلامتی کا درس دیتا ہے مگر ہم اپنے ہی دیس کے امن و سکون کو خراب کر رہے ہیں کاش یہ سوچ بدل جائے۔
جو غلط کرے اُسے سزا دو مگر جرم سے پہلے سزا نہیں ملنی چاہیے۔

اگر آپ کی نیت سچی ہے تو پھر آپ کو لوگوں اور مشکل حالات سے ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے کہ ان سے نمٹ کر ہی آپ کندن بنتے ہیں۔

جن لڑکیوں نے گھر بسانا ہو وہ چھوٹی چھوٹی باتیں،
سسرال کی غلطیاں، شوہر کی خامیاں اپنی ماں کو نہیں بتاتیں،
اوراگر بیٹیاں بتا بھی دیں تو سمجھدار مائیں سمجھا دیتی ہیں بیٹی اپنی غلطیاں خود میاں بیوی
سدھاریں
جہاں ایسا نہ ہو وہاں روز تماشے ہوتے ہیں یا پھر ایک روزپرچہ تھام
گھرکر آتی ہیں اور بولتی ہیں
کہ میرا کیا قصور تھا؟

محبت کو رسوا کرنے والے واجب القتل ہیں کہ محبوب کی عزت جو نہ کر سکے وہ محبت کیا خاک کریں گے۔

چھوڑنے والے جانے والے ہی ہوتے ہیں ہم سمجھ نہیں سکتے ہیں وگرنہ اُن کے ساتھ رہیں بھی نا اور زندگی کو اجیرن نہ کریں، کم لوگوں کو کسی کا بعد میں احساس ہوتا ہے وہ بھی اس صورت کہ ضمیر جاگ جائے ۔

ہم جس معاشرے میں رہ رہے ہیں وہاں اچھائی کا پرچار کرنے والوں کی کم ہی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے۔

اچھے دوستوں کی کمی اور دل کا غبار نہ نکالنا آپ کو نفسیاتی مسائل کے بے حد قریب کر دیتا ہے لہذا ذہن میں کوئی فتور نہ پیدا ہونے دیں۔

مثبت سوچ تب تک ہی رکھ سکتے ہیں جب تک منفی سوچ کے حامل افراد ہماری زندگی میں گھس کر اُسے منفی رجحان زدہ نہ کر دیں، اس لئے کہا جاتا ہے کہ اپنے گرد مثبت سوچ والے افراد کو رکھیں۔

نیند کی کمی بے شمار نفسیاتی مسائل کا شکار کر دیتی ہے لہذا اپنے سونے کے اوقات میں کوئی کام مت کیجئے کہ نیند سے بڑھ کر کچھ نہیں ہے۔

👌👍اچھا استاد ملنا بھی بڑی نعمت ہے

ڈر آپ کو یا تو بہادر بنا دیتا ہے یا پھر بزدل ترین انسان بنا کر رکھ دیتا ہے لہذا ڈر کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اُسے خوف زدہ کر دیں تاکہ آپ ایک کامیاب زندگی گذار سکیں۔

انسان سے خطا جتنی بھی احتیاط کی جائے ہو ہی جاتی ہے۔

ہم دوسروں کے لبادے میں اپنی ذات کو چھپا کر کچھ بھی کرلیتے ہیں مگر اپنے اصلیت سامنے نہیں آنے دیتے ہٰیں کہ اپنے آپ کا سامنا کرنا مشکل ہوتا ہے۔

جب تک اہم اپنے مسائل کے حل کی جانب نہیں بڑھیں گے تب تک ہم ذہنی الجھنوں کا شکار رہیں گے۔

سکون حاصل کرنے کے لئے کسی دوسرے کا سکون برباد نہ کریں۔

ہم اچھے کاموں کے لئے بھی بُرے طریقہ کار کو استعمال کرتے ہیں کہ ہمارا مقصد نیک ہے مگر کیا اچھائی اچھے سے نہیں کی جا سکتی ہے اگر کی جا سکتی ہے تو پھر اُس پر عمل کرنا چاہیے۔

کسی کی مدد کریں تاکہ اللہ بھی آپ کے کاموں میں مدد فرمائیں۔

جب تک آپ اپنے دماغ کو قابومیں کرنا نہیں سیکھیں گے اُسوقت تک آپ زندگی میں کامیابی حاصل نہیں کر سکتے ہیں کہ قوت ارادی سب سےبڑی طاقت ہوتی ہے جو آپ کو کسی منزل تک لے جاتی ہے۔

احترام، عزت اور محبت اپنی زندگی میں آنے والے ہر شخص کو دینا چاہیے۔جس کا جو ظرف ہوگا وہ اسی کے مطابق عمل کرے گا مگر احساس کرنے والے اس کی لاج رکھ کر اس کو مزید تقسیم کریں گے۔

اپنے آپ کو سکون دینا ہےیا مسائل کو حل کرنا ہے تو پہلے انسان کو خود تو سوچ لینا چاہیے کہ کیا کرنا ہے کیونکہ جب تک ایسا نہ ہو ہم کتنی باتیں کہہ لیں سن لیں ہم سے کوئی فیصلہ بھی نہیں ہوتا ہے۔

اجنبی افراد سے گفتگو بڑی مہنگی بھی پڑ جاتی ہے تو بہتر ہے کہ سوچ سمجھ کر کچھ بیا ن کیا جائے۔

کسی مسئلے یا بات کو سرپر سوار کریں گے تو وہ آپکو دماغی طور پر مفلوج کر دے گی لیکن آپ اُن کو پاوں تلے روند ڈالیں گے تو پھر آپ کی زندگی میں خوشیوں کی روشنی ہمیشہ جلتی رہے گی۔فیصلہ آج آپ کو کرنا ہے کہ پرسکون رھنا ہے یا پھر ذہنی مریض بننا ہے۔

عمدگی سے کسی کے ذہن کو کچھ سوچنے پر اُکسانا بھی ایک فن ہے۔

ہمارے ہاں بھیڑ چال ہے بس ایک ہی طرح کے شعبہ جات میں جانے کا سوچا جاتا ہے کتنے ہی ہونہار بچے کسی اور شعبہ میں جا کر بدل ہو جاتے ہیں یا اس کے ساتھ بھرپور انصاف نہیں کر سکتےہیں کہ انکی مرضی کہیں اور ہوتی ہے، اس حوالے سے مربوط نظام ترتیب دیا جائے اور والدین کو آگاہی دی جائے کہ بچوں کی رجحان سازی کے مطابق شعبہ کا انتخاب عمدہ صلاحیتوں کے اظہار کا سبب بنتا ہے۔
Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 221 Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Zulfiqar Ali Bukhari

Read More Articles by Zulfiqar Ali Bukhari: 290 Articles with 238096 views »
I'm an original, creative Thinker, Teacher, Writer, Motivator and Human Rights Activist.

I’m only a student of knowledge, NOT a scholar. And I do N
.. View More

Comments

آپ کی رائے
Language: