ع اج دی رات میں کلا واں!

(Afzal Razvi, Adelaide-Australia)
ع اج دی رات میں کلا واں!
یہ دل بھی عجیب شے ہے۔کبھی کھو جاتا ہے، کبھی دے دیا جاتا ہے، کبھی لے لیا جاتا ہے تو کبھی زندگی کی علامت بن کر دھڑکنے لگتا ہے، کبھی اسے چیرنے سے بھی کچھ نہیں ملتا،بقول آتشؔ:
بڑا شور سنتے تھے پہلو میں دل کا
جو چیرا تو اک قطرہئ خوں نہ نکلا
لیکن کبھی کبھی ایسی خاموشی کا جامہ پہنتا ہے کہ پھر سنائی نہیں دیتااور چیرکر دیکھنے کی نوبت تک نہیں آتی۔زندگی اس کی مرہونِ منت ہے،یہ دھڑکتا ہے تو نظام تنفس چلتا ہے اور اس کی خاموشی گویا ابدی نیندکا پیغام ہو تی ہے اور بقول شاعر:
دھڑک اے میرے دل کہ تو سازِ زندگی ہے
تیری خامشی میں پنہاں اختتامِ زندگی ہے
مشکل ہے اگرچہ اس جہانِ کار ساز میں
نبھانی ہمیں ہر حد تک لیکن بندگی ہے
اور پھر اس دلِ نارسا کی خاموشی اس جہانِ ہست وبود سے اس جہانِ ابد میں لے جاتی ہے جس کا ادراک عقلِ انسانی کی محدود وسعتوں سے بہت پرے ہے۔اور بقول حیرت الہ آبادی:
آگاہ اپنی موت سے کوئی بشر نہیں
سامان سو برس کاہے پل کی خبر نہیں
یہ بات بر مبنیئ حقیقت ہے کہ ایک نہ ایک دن ہر نفس کو موت کا ذائقہ چکھنا ہے، ”کل نفس ذائقۃ الموت“ اور اس ذائقے کو چکھنے کے بعد ہر ذی روح کو اپنے پروردگار کی طرف لوٹ جانا ہے،”انا للہ وانا الیہ راجعون“لیکن انسان ہمیشہ سے ناسمجھ ہے کبھی کسی کے انتقال پر یہ کہتا سنا جاتا ہے کہ ”موصوف کا خلا پر نہ ہو سکے گا“ اور کبھی یہ کہتا سنا جاتا ہے کہ”مرحوم کو مدتوں یاد رکھا جائے گا“۔لیکن باوجود اس کے کہ:
موت کا ایک دن معین ہے
نیند کیوں رات بھر نہیں آتی
وہ دنیا کے اللوں تللوں میں ایسا مگن رہتا ہے کہ اپنا اصل کام جس کے لیے اس کی تخلیق ہوئی ہے فراموش کر دیتا ہے۔اس کالم کے لکھنے کا موجب کل کی وہ خبر تھی جس نے شب بھر مضطرب رکھا اور اس صبح ہوتے ہی یہ الفاظ ذہن کے نہاں خانے سے نکل کر نوک ِ قلم سے صفحہ قرطاس پر بکھرتے چلے گئے۔ایسا کیا ہوا کہ جس نے دلِ مطمئن کو بے قرارکر دیا، ایسا کیا ہوا کہ شب بھر نیند کوسوں دور رہی، ایسا کیا ہوا کہ ذہن یادوں کی بستی میں گم ہو گیا۔ تو سنیے! کل ”طارق عزیز“ کا انتقال ہو گیا۔انا للہ وانا الیہ راجعون۔جب یہ خبر ملی تو مرحوم کے الفاظ کانوں میں گونجنے لگے،”دیکھتی آنکھوں اور سنتے کانوں کو طارق عزیز کا سلام پہنچے“۔ طارق عزیز کا نیلام گھر محض ایک شو نہیں تھا، پاکستانیت کا استعارہ تھا، پاکستان کی تہذیب و ثقافت کی علامت تھا۔ افسوس صد افسوس کہ بجٹ کی ہنگامہ آرائی میں ”طارق عزیز“ کی موت کی خبر کچھ دیر تک تو گم رہی لیکن پھر اربابِ اختیار کو خیال آہی گیا کہ ایسے سچے محبِ وطن کی موت کی خبر عوام تک پہنچا ہی دی جائے۔اس دوران میرا ذہن تیزی سے مجھے ماضی کی یادیں دکھا رہاتھا اور میں سوچوں میں گم کہہ رہاتھا:
یہ جون کا مہینہ بہت سے جیون نگل گیا ہے
سارے عالم میں موت کا بجا کربگل گیا ہے
اک طرف ہے وبا تو اک طرف بجٹ ہے
ایسے میں دلِ نارسا کیوں کر پگل گیا ہے
طارق عزیز /28 اپریل 1936ء میں ہندوستان کے شہر جالندھر میں پیدا ہوئے اور آرائیں خاندان سے ان کا تعلق تھا۔ 1947 میں اپنے خاندان کے ہمراہ پاکستان ہجرت کی اور پنجاب کے شہر ساہیوال کے ایک گاؤں کو اپنا مسکن بنایا۔ ساہیوال اور لاہورمیں تعلیم حاصل کی۔بعدازاں ریڈیو پاکستان لاہور سے وابستہ ہوگئے۔آواز کی خاص کشش اور محنت نے طارق عزیز کو ہر دل عزیز بنادیا۔ پاکستانیت ان کے رگ و پے میں تھی۔ان کے والد میاں عبد العزیز پاکستان بننے سے دس سال پہلے سے اپنے نام کے ساتھ پاکستانی لکھتے تھے۔ 1964ء میں جب پاکستان ٹیلی وژن کا قیام عمل میں آیا تو پی ٹی وی پر سب سے پہلی آواز جوپاکستانی قوم نے سنی وہ طارق عزیز کی تھی-اور انکے یہ الفاظ اب تاریخ کا حصہ ہیں ”السلام علیکم!پاکستان ٹیلی ویژن سروس کی جانب سے طارق عزیز آپ سے مخاطب ہے- خواتین و حضرات آج جمعرات کا دن ہے اور نومبر کی 26 تاریخ ہے-“
بلا شبہ،طارق عزیز ہمہ جہت شخصیت کے مالک تھے۔ انہوں نے ریڈیو اور ٹی وی کے پروگراموں کے علاوہ فلموں میں بھی اداکاری کی۔ ان کی سب سے پہلی فلم انسانیت (1967ء) تھی اور ان کی دیگر مشہور فلموں میں سالگرہ، قسم اس وقت کی، کٹاری، چراغ کہاں روشنی کہاں، ہار گیا انسان، قابل ذکر ہیں۔انہیں ان کی فنی خدمات پر بہت سے ایوارڈ عطا ہوئے اور حکومتِ پاکستان کی طرف سے 1992ء میں حسن کارکردگی کے تمغے سے بھی نوازا گیا۔انہوں نے سیاست میں بھی حصہ لیا اور 1997 میں لاہور کے حلقے سے پاکستان مسلم لیگ (ن) کے پلیٹ فارم سے قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔
طارق عزیز ایک کامیاب اور اچھے کمپئر ہونے کے ساتھ ساتھ اچھے ادیب اور شاعر بھی تھے۔ انہوں نے پنجابی زبان سادہ، سلیس لیکن پر معنی اشعار کہے۔ ان کی پنجابی شاعری کا مجموعہ کلام ”ہمزاد دا دکھ“ شائع ہو چکا ہے۔ طارق پنجابی کے علاوہ اردو میں بھی شعر کہتے تھے۔علاوہ ازیں کالم نگاری کے فن سے بھی خوب واقف تھے۔ ان کے کالموں کا ایک مجموعہ ”داستان“ کے نام سے منظرِ عام پر آچکا ہے۔شاعری کے اس مجموعے کا عنوان انہوں نے اپنی ایک نظم ”ہمزادادکھ“ سے لیا ہے۔ کہتے ہیں:
پچھلی راتیں تیز ہوا
سارے شہر عچ پھر دی رہی
زہری قہر دا کوئی وظیفہ
چاروں پاسے کر دی رہی
میں تے بوہا بند ای رکھیا
اپنے پورے زور نال
پتہ نئیں کیہ بیتی ہووے
میرے جہے کسے ہور نال

ان کی ایک اور پنجابی نظم بعنوان ”گناہ کیہ اے ثواب“ ملاحظہ ہو:
گناہ کیہ اے ، ثواب کیہ اے
ایہہ فیصلے دا عذاب کیہ اے
میں سوچناں واں کہ چونہوں دِناں لئی
ایہہ خواہشاں دا حباب کیہ اے
جے حرف اوکھے میں پڑھ نئیں سکدا
تے فیر جگ دی کتاب کیہ اے
ایہہ سارے دھوکے یقین دے نیں
نہیں تے شاخ گلاب کیہ اے
ایہہ ساری بستی عذاب وچ اے
تے حکم عالی جناب کیہ اے
پاکستان ٹیلی ویژن کراچی کے سابق جنرل مینیجر قاسم جلالی نے طارق عزیز کی بحیثیت پروگرام کمپئیر فنی صلاحیتوں کا ان الفاظ میں اعتراف کیا ہے۔
ان دنوں جبکہ پروگرام ریکارڈ کرنے کی بجائے براہ راست چلائے جاتے تھے،طارق عزیز کو سخت محنت کرنا پڑتی تھی۔پروگرام شروع کرنے کے بعد کسی اداکار یا کردار نے آنا ہوتا تھااور اسے آنے میں تاخیر ہوجاتی تو طارق عزیز دیکھنے والوں کو اپنی ایسی باتوں میں لگا لیتے کہ تاخیر محسوس ہی نہیں ہوتی تھی، یوں تاخیر کا عرصہ کمال خوبی سے ازخود نکل جاتا تھا۔
ربِ کائنات سے دعا ہے کہ وہ مرحوم ومغفور کو جنت الفردوس بلند مقام عطا فرمائے اور لواحقین کو صبر ِجمیل عطا فرمائے-آمین!
طارق عزیز نے شاید اسی رات کے بارے کہا تھا:
اج دی رات میں کلاواں
کوئی نئیں میرے کول
اج دی رات تے میریا ربّا
نیڑے ہو کے بول
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
افضل رضوی، ایڈیلیڈ-آسٹریلیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
Total Views: 239 Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Afzal Razvi

Read More Articles by Afzal Razvi: 97 Articles with 33590 views »
Educationist-Works in the Department for Education South AUSTRALIA and lives in Adelaide.
Author of Dar Barg e Lala o Gul (a research work on Allama
.. View More

Comments

آپ کی رائے
Language: