شمال اور مشرق سے ابھرتی جنگ!!!

(Prof Muhammad Khursheed Akhter, Islamabad)

 چین اور بھارتی فوج کے درمیان تصادم میں لداخ کی گلون ویلی میں شدید جھڑپ سے ایک کرنل سمیت تین بھارتی فوجی ہلاک ہوگئے، چین نے الزام عائد کیا کہ بھارتی فوج نے سرحد پر اشتعال انگیزی کی جس کی وجہ سے تصادم ھوا، بھارتی حکومت اور وزارت خارجہ مکمل خاموش ہے حالانکہ چین کی افواج کافی عرصہ سے کئی کلومیٹر اندر بھارت کی سپلائی لائن روک کر بیٹھی ھیں، دوسری طرف نیپال جو بھارت پر انحصار کرنے والا چھوٹا سا ملک ہے اس نے بھی نہ صرف بھارت سے چھیڑ چھاڑ شروع کر دی ہے بلکہ ماؤ نواز حکومت نے بھارت کے خلاف قرارداد منظور کی ھے۔تیسری اھم تبدیلی یہ آئی کہ حسینہ واجد نے سی پیک کے منصوبے ون بیلٹ روڈ میں دلچسپی کا اظہار کیا ہے جس سے وہ چین کے ساتھ کھڑی ھو سکتی ھیں۔بھارتی حکومت جس آر ایس ایس کے منشور پر عمل پیرا تھی اسی کی طرف سب سخت دباؤ کا شکار ہے ، آر ایس ایس مودی کو چین پر حملے کے لیے دباؤ ڈال رہی ہے، اس موقع پر کشمیری رہنما عمر عبداللہ نے اھم بات کی ہے کہ جب حکومت سے سوال پوچھنے والوں کو غدار کہا جائے گا تو پھر یہ تو ھوگا، مودی حکومت جب دوبارہ انتخابات جیت کر آئی تھی اس نے آر ایس ایس کے اصل ایجنڈے اور ھندو ازم کے لیے بھرپور ظالمانہ طریقے سے کام شروع کیا، کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کر کے تمام کشمیریوں کو ایک قلعہ نما زنداں میں دھکیل دیا، جبکہ دوسری طرف ھندوستان میں رہنے والے مسلمانوں کی شہریت ختم کرنے کے لیے قوانین پاس کیے بھارتی مسلمان آج تک اسی جبر اور ظلم کا نشانہ بن رہے ہیں جو تقسیم ھندوستان سے پہلے تھا، کشمیر میں چلنے والی تحریک تیسری نسل میں پہنچ کر انتفادہ جیسی بن چکی ھے۔جس پر پتھر کے جواب میں گولیاں برستی اور کشمیری نوجوانوں کے جنازے اٹھنا شروع ھوگئے۔ کورونا کے دوران مسلمانوں سے بھارتی حکومت کا رویہ بھی نا مناسب رہا ھے، مودی کی انتخابی مہم کی کامیابی ھو یا حکومت کے اقدامات اس کے پیچھے صرف بھارتی میڈیا ھے جو مودی کے گیت گا رہا ہے ، میڈیا کے ھتھیار کو مودی نے خوب استعمال کیا لیکن اس کا بھی ایک وقت ھوتا ھے چین کی جانب پیشقدمی پر بھارت روایتی حربوں کی تلاش میں نکل گیا ایک طرف اسے " یاجوج ماجوج" کے خوف ناک حملے کا ڈر اور دوسری طرف امریکہ سے پکڑی گئی"سپاری" کی فکر، ایسے میں بڑا خطرہ یہ ہے کہ مودی بوکھلاہٹ میں پاکستان کی طرف رخ کر دے، سرحد پر تو پہلے ہی جھڑپیں عام ھیں، 27 فروری کا واقعہ بھی ملال پیدا کر رہا ہے، امریکہ کا دباؤ بھی، اور سب سے بڑھ کر اپنے اندر کے خوف کو مٹانے کے لیے فتح کی تلاش میں گیدڑ کہیں شہر میں نہ نکل آئے، تو ھم سب اندازہ کر سکتے ہیں کہ اس جنگ کے کیا نتائج نکلیں گے، اصل بات جیت ھار کی نہیں ھو گی بلکہ اس خطے کو سو سال پیچھے لے جانے پر سب ختم ہو گا، چین اگر نیپال، پاکستان اور بنگلہ دیش میں ھوگا تو ھو سکتا ھے امریکہ افغانستان، بھارت اتر کر جنگ لڑے پھر ھم کیا منظر دیکھتے ہیں، ھاتھیوں کی لڑائی میں چینٹیاں خود مسلی جائیں گی یا کوئی راستہ ھے بچنے کا، ایک بات تو طے ہے کہ پاکستان کی افواج پہلے ھی تیار اور حکمران چیلنجوں کا مقابلہ کرنے والا ھے، عمران خان جب سے آیا ہے کشمیر، اسلام فوبیا، ملکی بد ترین معاشی حالات، کورونا، ٹڈی دل، اور غربت کے بڑے بڑے چیلنجوں کا مقابلہ کر رہا ہے، اس میں بھی وہ سخت جواب دے گا، پھر یہ خطہ میدان جنگ بن جائے گا، مشرق سے اگر آفتاب خون ملے ھوئے نکلا تھا تو شمال سے بھی آگ برسے گی، پھر مغرب اور جنوب بھی اسی جیو اسٹرٹیجک علاقے میں اتر آئے گا دنیا بڑی تباہی سے ھمکنار ھوگی ویسے بھی چین اور امریکہ کے درمیان معاشی اور اب کورونا کی وجہ سے سرد جنگ چل رہی ہے وہ گرم جنگ میں بدل جائے گی، پاکستان کی حکومت اور فوج کو اس وقت ان بدلتے حالات پر نظر رکھنی ھو گی کیونکہ تازہ جھڑپ کے اثرات بہت گہرے ھو سکتے ھیں۔ کشمیر کی حالت انتہائی مخدوش ہے ، کورونا وائرس میں تو کشمیری مسلمانوں کو دوائی اور ڈاکٹر تک رسائی حاصل نہیں ہے۔ویسے بھی عالمی حالات ایک نئی معاشی بساطِ بچھانے کے منصوبے بنا رہے ہیں، کیپٹل ازم پہلے گرتا ہے یا کمیونزم، حیاتیاتی جنگ ھوگی یا کیمیائی وایٹمی دنیا تباھی کے ساماں تیار کر رہی ہے، چیلنج لداخ کے پہاڑوں سے ھوتا ھوا، کوہ سلیمان اور ھمالہ کا رخ کر سکتا ھے، نشانہ ھم بن سکتے ہیں، انہی پہاڑوں پر تو ھمارا انحصار ھے، پھر مذھبی تحرک بھی موجود ہے، ھنو مان جی کے پیروکار ھوں یا یا جوج ماجوج، کوئی بھی نکل آیا تو بس دنیا دوڑ پڑے گی، کورونا کی جنگ کہیں پس منظر میں چلی جائے گی، پھر کروز کی جنگ ھوگی جس کے بادل ھی انسانیت کا سکھ چھین لیتے ہیں۔
 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 295 Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Prof Muhammad Khursheed Akhter

Read More Articles by Prof Muhammad Khursheed Akhter: 86 Articles with 20931 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Comments

آپ کی رائے
Language: