عوام جاہل یا حکمران ظالم ۔۔؟

(Umar Khan Jozovi, )

کہتے ہیں ایک نائی باتوں میں تو بڑے تیزتھے لیکن کھانااس نے کبھی خواب میں بھی نہیں پکایاتھا۔ایک دن اتفاق سے وہ کسی شادی کے لئے کھاناپکارہے تھے کہ ان سے سارے چاول خراب ہوگئے۔چاول کواپنی آنکھوں سے خراب ہوتے دیکھ کرپہلے وہ بہت گھبرائے لیکن پھرجلدہی انہیں ایک بہانہ سوجھا۔اس نے شادی والے گھرفوراًیہ اعلان کروایاکہ سب دھیان رکھنا جب بارات آئے توکوئی پٹاخہ نہ چلادے۔نہیں توسارے چاول جڑکرخراب ہوجائیں گے۔جیسے ہی بارات آئی تولڑکی والے جلدی سے بارات کی طرف لپکے کہ ان کو پٹاخوں سے روک لیں مگران کے پہنچنے تک بارات نے آگے پیچھے کئی پٹاخے پھوڑدیئے۔جونہی نائی نے پٹاخوں کی آوازسنی تواس نے مونچھوں کوتاؤدیتے ہوئے پرناکندھے پررکھااوریہ کہتے ہوئے وہاں سے چل پڑا۔کہ آکھیاں وی سی ہن سانبھواپنی دیگاں میں چلاجے۔آپ کوکہابھی تھاپھربھی آپ نے سارے چاول خراب کردیئے۔اسی نائی کی طرح آج حکمران جماعت تحریک انصاف کے وزیروں،مشیروں اوررہنماؤں کوبھی یہ گلہ ہے کہ جاہل عوام نے پٹاخے پھوڑکرسارے ملک کوخراب کردیاہے ورنہ کروناکوتوہم نے پنجرے میں بندکردیاتھا۔ پنجاب کی خاتون صوبائی وزیرصحت تواس نئی سے بھی ایک نہیں دوقدم آگے نکلیں ۔غریب عوام پرکروناسے ملک خراب کرنے کے الزام سمیت ان کے بارے میں ایسے ایسے الفاظ اورجملے استعمال کئے۔کہ اف توبہ۔کل تک ایک ووٹ کی پرچی کے لئے جن کے پاؤں پکڑے جارہے تھے ۔جن کے گھروں کے طوافوں پرطواف کئے جارہے تھے۔جن کواشرف المخلوقات سے بھی آگے بہت آگے سب کچھ سمجھااورکہاجارہاتھا۔آج ان کے لئے ایسے الفاظ اورایسے القابات۔۔؟ویسے ایک طرح یاسمین راشدنے ٹھیک ہی تو کہاہمارے نزدیک نہ صرف لاہوراورپنجاب بلکہ پورے ملک کے عوام واقعی کوئی عجیب قسم کی مخلوق اورجاہل سے جاہل ترتوہیں ۔یہ اگرعجیب قسم کی مخلوق اورجاہل نہ ہوتے توکیا۔۔؟یہ 2018کے الیکشن میں تحریک انصاف کے ایسے جاہلوں اورعجوبوں کوووٹ دے کران کی سپورٹ کرتے۔ہمارے سمیت اس ملک کے سارے عوام جاہل توہیں جنہوں نے ایسے ایسے عجوبوں کوبطورحکمران اپنے اوپرمسلط کیاجن عجوبوں کوکوئی مہذب شہری اورباشعورقوم بطورحکمران منتخب کرناتودورایک لمحے کے لئے دیکھنابھی کبھی پسندنہیں کرے گی۔حکمران کیاایسے ہوتے ہیں ۔۔؟اس نئی کی طرح اس ملک کوکروناکی وجہ سے حکومتی وزیروں اورمشیروں نے اپنے غلط فیصلوں اوراقدامات سے خودخراب کیالیکن جب دیکھاکہ اب کروناکوقابوکرنے کاکوئی راستہ نظرنہیں آرہاتواس نئی کی طرح پرنااورچادریں اپنے کندھوں پرڈال کرساراملبہ غریب عوام پرڈال دیا۔ہم مانتے ہیں کہ ملک میں کروناکے پھیلاؤمیں عوام کی بے احتیاطی ،ناسمجھی اوربیوقوفی نے بھی اہم کرداراداکیالیکن ان سے زیادہ اس ملک میں یہ کروناحکمرانوں کی جاہلیت،نااہلیت،غفلت اورلاپرواہی کی وجہ سے گھرگھرتک پھیلا۔جس وقت کروناکے آگے بندباندھنے کی ضرورت تھی اس وقت رشتہ داریاں اوریاریاں پال کرانہی عقلمندحکمرانوں نے تفتان بارڈرسمیت نہ جانے کون کون سے بارڈرکروناکے مریضوں کے لئے نہیں کھولے۔ایران اوردیگرممالک سے کروناکے مریضوں کوگاڑیوں اورجہازوں میں بھربھرکرپورے ملک میں پھران کوقربانی کے گوشت کی طرح محلے محلے اورگلی گلی میں تقسیم کیاگیا۔اب جب پانی سرسے گزرچکا۔اس نئی کی طرح یہ واویلااورڈرامہ رچاناشروع کردیاہے کہ عوام نے پٹاخے چلاکرسارے ملک کوخراب کردیاہے۔حکمران عوام کے نوکراورخادم ہوتے ہیں ۔دولت ،شہرت اوراقتدارکے لئے سیاسی قبلہ بدلنے والے وزیروں اورمشیروں کویہ زیب نہیں دیتاکہ وہ عوام کے بارے میں اس طرح کی زبان استعمال کریں۔جاہل لاہوری ہیں نہ ہی اس ملک کے دیگرعوام ۔جاہلیت توکرائے کے ان سیاستدانوں اورحکمرانوں پرتمام ہے جوکبھی کہتے ہیں کہ کروناوائرس گرمی سے ختم ہوجائے گا۔کبھی کہتے ہیں کہ کروناسے ایک سے ڈیڑھ آدمی مرے گا۔کبھی کہتے ہیں کہ کروناکے ساتھ چلناپھرنااورجیناسیکھناہوگا۔نیوزی لینڈبھی توایک ملک ہے ۔کیاوہاں عوام نہیں ۔۔؟وہاں کے حکمرانوں نے بھی تواسے کرونافری ملک بنادیاہے۔کہتے ہیں کہ نیوزی لینڈمیں کوئی خاص آبادی نہیں ۔یہاں آبادی بہت زیادہ ہے۔آبادی زیادہ ہوئی توکیاہوا۔۔؟یہاں ایمانداربھی توبہت ہیں۔وہاں چندوزیراورمشیرہوں گے۔ہمارے ہاں توزیادہ آبادی کی طرح وزیراورمشیربھی توحدسے کچھ زیادہ ہی ہیں ۔ویسے کمان سنبھالنے والے ایمانداراوربہادرہوں وہاں پھرلشکرنہیں دیکھے جاتے۔ویسے ہم جن کے نام لیواہیں اورجس ریاست مدینہ کوہم دنیاکے سامنے ماڈل کے طورپرپیش کررہے ہیں اس ریاست مدینہ کے حکمرانوں نے توآدھی آدھی دنیاپرحکمرانی کی لیکن انہوں نے توفرائض کی ادائیگی سے جان چھڑانے کے لئے کبھی زیادہ آبادی یازیادہ زمین کابہانہ تو نہیں بنایا۔ویسے آبادی اگرزیادہ ہوں توپھرکیالاچار،مجبوراوربدقسمت عوام کواس طرح وباؤں اوربلاؤں کے آگے پھینکاجاتاہے۔۔؟جہانگیرترین اورخسروبختیارجیسے غریبوں کوچینی پرسبسڈی دینے کے لئے کروڑوں اوراربوں روپے ہیں مگرغریب عوام کوایک وقت کامفت کھانادینے کے لئے نہ حکمرانوں کے پاس کچھ ہے اورنہ ہی خزانے میں کچھ موجودہے ۔تین تین سوکنال اراضی پربنے محلات میں خراٹے مارکرقومی خزانے کوباب داداکی جاگیراورمیراث سمجھ کرعیاشیوں پراڑانے والے اگرچاہتے توکیاوہ اس مشکل میں غریبوں کوگھروں کی دہلیزپردووقت کاکھانافراہم نہیں کرسکتے تھے۔۔؟غریب کوئی اپنی خوشی سے گھروں سے باہرنہیں نکل رہے۔بھوک سے بلکتے اورتڑپتے بچے جب روٹی کے چندنوالے مانگتے ہیں توپھرغریبوں کوجان ہتھیلی پررکھ کرگھروں سے نکلناہی پڑتاہے۔پنجاب کی صوبائی وزیرصحت یاسمین راشداوران جیسے نواب،خان،چوہدری اوروڈیرے کیاجانیں کہ بھوک کی سختی،اذیت اورتکلیف کیاہوتی ہے۔۔؟ وباء کے اس موسم میں جہاں چارسوکرونانے خوف کے سائے پھیلائے ہوئے ہیں ایسے میں گھروں سے باہرنکلناکوئی آسان کام نہیں ۔۔؟سرکاری لینڈکروزر،مرسڈیزاوربلٹ پروف گاڑیوں میں گھومنے اورپھرنے والوں کوکیاپتہ۔۔؟کہ کدال،بیلچہ اورگینتری کندھے پر اٹھائے کروناکے سائے تلے محنت مزدوری کرناکتنامشکل اوردردناک ہے۔کروناہویابھرونا۔۔؟حکمرانوں کوتوکسی چیزکی کوئی فکرہوتی ہے اورنہ ہی کوئی غم۔عوام جاہل اس لئے ہیں کہ یہ 70سال سے مفت میں ان عقلمندحکمرانوں کے گناہ اوربوجھ اٹھارہے ہیں ۔یہ واقعی اگرعقلمندہوتے توان پرنہ یاسمین راشدجیسے عجوبے سیاستدان مسلط ہوتے اورنہ ہی ایسے بدزبان ان کے حکمران بنتے۔عوام جاہل اس لئے ہیں کہ کالے کرتوت کرتے حکمران ہیں اوران کے جرمانے بھرتے یہ عوام ہیں ۔عوام جاہل اس لئے ہیں کہ ٹیکسوں پرٹیکس یہ دیتے ہیں اورعیاشیاں حکمران ٹولہ اڑارہاہے۔عوام جاہل اس لئے ہیں کہ سترسالوں سے ملک حکمران کھارہے ہیں اورخزانہ اپنے خون پسینے کی کمائی سے یہ عوام بھررہے ہیں ۔عوام جاہل اس لئے ہیں کہ ووٹ یہ دیتے ہیں اورایم این اے،ایم پی اے،وزیر،مشیراورحکمران پھریہ عقلمندبنتے ہیں ۔عوام جاہل اس لئے ہیں کہ گناہ اورجرائم حکمران کرتے ہیں اورسزاپھریہ عوام بھگتتے ہیں ۔عوام جاہل اس لئے ہیں کہ وہ ان سرٹیفائیڈچوروں اورڈاکوؤں کواچھی طرح آزمانے اورپرکھنے کے بعدبھی فرشتوں کادرجہ دیتے ہیں ۔عوام جاہل اس لئے ہیں کہ یہ سوباریوٹرن لینے والے حکمرانوں کے جھوٹے دعوؤں اوروعدوں پرآج بھی یقین کررہے ہیں ۔عوام جاہل اس لئے ہیں کہ یہ آکسفورڈمیں پڑھنے اورامریکہ وبرطانیہ میں پلنے والوں سے آج بھی ،،ریاست مدینہ،، بنانے کی امیدلگائے بیٹھے ہیں ۔
 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 214 Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Umar Khan Jozovi

Read More Articles by Umar Khan Jozovi: 78 Articles with 19129 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Comments

آپ کی رائے
Language: