"الطاف صحافت" کتاب پر ایک نظر

(Muhammad Aslam Lodhi, Lahore)
پاکستان کے نامور اور دلیر صحافی جناب الطاف حسن قریشی
جو وقت کی نبض پرہاتھ رکھنے کے ماہر ہیں اور ماشا اﷲ دلیر اتنے کہ مارشل لائی عدالتیں بھی انکا کچھ نہ بگاڑ سکیں

الطاف حسن قریشی نہ صرف قد آور صحافی ،دانش ور اور ادیب ہیں بلکہ اﷲ تعا لی نے ان کے قلم میں اتنی طاقت دے رکھی ہے کہ بڑے بڑے حکومتی ایوان بھی ان کی تحریر وں کی تاب نہ لاتے ہوئے کانپ اٹھتے ہیں ۔ وہ اﷲ کے سوا کسی سے نہیں ڈرتے اور نہ ہی کسی دباؤ کو خاطر میں لاتے ہیں ۔ان کی رگوں میں ایک عظیم پاکستانی اور بہترین مسلمان کاخون دوڑتا ہے ۔وہ تلوار لے کر میدان جنگ میں نہیں اترتے لیکن قلم سے ہی تلوار کا کام لے کر بڑوں کی طبیعت صاف کردیتے ہیں۔وہ پاکستان کے عالمی سطح پر پہچان بننے والے جریدے"اردو ڈائجسٹ"کے روح رواں ہیں اور علم و دانش کا محور بھی ۔جہاں تک اردو ڈائجسٹ کی بات ہے ،یہ وہ ماہانہ جریدہ ہے جس نے ایک نہیں، کئی نسلوں کی کردار سازی میں بھرپور حصہ لیا ہے ۔ اسے پڑھ کر جوان ہونے والے لوگ پاکستان کے تقریبا تمام شعبوں کی ترقی و خوشحالی میں موثر کردار ادا کررہے ہیں اور ہمیشہ ادا کرتے رہیں گے۔جبکہ صحافیوں کی جس کھیپ نے الطاف حسن قریشی کی سرپرستی میں اپنا صحافتی سفر شروع کیا ان کا شمار آج قومی سطح کے مشہور صحافیوں میں ہوتا ہے۔

اس وقت میرے پیش نظر الطاف حسن قریشی کی ادبی خدمات کے حوالے سے تالیف کی گئی کتا ب "الطاِف صحافت" ہے ۔اس کتا ب کو مرتب کرنے کا فریضہ ڈاکٹر طاہر مسعود نے انجام دیا۔ وہ لکھتے ہیں، میں خود بھی نہیں جانتا کہ یہ کتاب میں نے کیوں مرتب کی اور مجھے اس کی ضرورت کیوں پیش آئی۔اس سے بھی ضروری بات مجھے اس کا خیال کیوں اور کیسے آیا۔؟ڈاکٹر طاہر لکھتے ہیں کہ الطاف حسن قریشی میرے بچپن کے دوست ہیں ۔بچپن تو کب کا گزر گیا لیکن الطاف صاحب کو دیکھتا ہو ں ،ان کے باتیں سنتا ہو ں ،اردو ڈائجسٹ میں ان کے اداریے ،تجزیئے اور انٹرویو پڑھتا ہو ں تومیرا کھویاہوا بچپن واپس لوٹ آتا ہے۔یہ کتاب بھی اپنے بچپن کی انہی یادوں کو آواز دینے کی ایک کوشش ہے۔

ڈاکٹر طاہر مسعود نے سب سے پہلے ڈاکٹر اعجاز حسن قریشی صاحب کا انٹرویو کیا جو الطاف حسن قریشی صاحب کے بڑے بھائی ہیں ۔ڈاکٹر اعجاز حسن قریشی نے کہا-:الطاف البینوتھے اور بھائیوں میں سب سے چھوٹے ، لہذا سبھی ان سے لاڈ پیار کرتے ، الطاف کی پیدائش 3 مارچ 1932 ء کوبھارت کے ضلع کرنال کے ایک گاؤں"ہابڑی" میں ہوئی ،جہاں ان دنوں والد صاحب قیام پذیر تھے ۔1931ء میں والد صاحب نے اپنا تبادلہ سرسہ میں کروالیا۔اس تبادلے کے پیچھے یہ سوچ کارفرما تھی کہ ان کے بچے اعلی تعلیم حاصل کرسکیں کیونکہ ہمارا بڑا بھائی گل حسن جو اس وقت پرائمری پاس کرچکے تھے ،ان کو ہائی سکول میں داخلہ مل جائے۔یوں الطاف کے بچپن کا بیشتر حصہ سرسہ میں ہی گزرا۔1947ء میں الطاف میٹرک کے امتحان میں پورے سکول میں اول آئے۔ایک سوال کے جواب میں ڈاکٹر اعجاز حسن قریشی نے بتایا کہ ہماری والدہ روٹیاں پکانے کے لیے ان دنوں تندور جلایا کرتی تھی ،میں اور الطاف جنگل سے جھاڑیاں کاٹ کر لاتے، جنہیں خشک کرکے تندور میں جلایا جاتا ۔کچھ لوگ کہاکرتے تھے کہ دیکھو پٹواری کے بیٹے جھاڑیاں کاٹ کر لا رہے ہیں ۔اسی طرح ہم نے بھینسیں اور بکریا ں بھی چرائیں۔بکریاں چرتی رہتیں اور ہم درخت کے نیچے بیٹھ کر سکول کا کام کرتے رہتے ۔ ایک سوال کے جواب میں ڈاکٹر اعجاز حسن قریشی نے بتایا کہ ہمارے عہد طالب علمی میں سکول لائبریری کے ایک استادمسلمان تھے انہوں نے بطور خاص مسلمان طلبہ کو ہدایت کررکھی تھی کہ اس لائبریری کو اچھی طرح چاٹ لو ۔چنانچہ لائبریری میں موجود اردو اور انگریزی کتابوں سے ہم بھائیوں نے خوب استفادہ کیا۔ہماری اردو کی مہارت کے پیچھے اساتذہ کرام کا بڑا ہاتھ ہے ۔ الطاف کو مولوی سردار علی نے اردو کی تعلیم دی ۔یہ ہمارے فارسی کے استاد تھے جو ہمیں اردو بھی پڑھاتے تھے انہوں نے ہمیں ارود کی شاہکار کتاب "سرمایہ اردو"(حافظ محمود شیرانی ) میٹرک میں پڑھا دی ۔اسی کی بنیاد پر ہم نے ادیب فاضل کے مشکل ترین امتحان میں پہلی ہی کوشش میں کامیابی حاصل کی۔اس زمانے میں پنجاب یونیورسٹی کے امتحان "ادیب فاضل" کا نتیجہ پانچ چھ فیصد سے زیادہ نہیں ہوتا تھا۔ہمارے خاندان کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ ہم تینوں بھائیوں نے پہلی ہی کوشش میں" ادیب فاضل" کا امتحان پاس کرلیا۔ان تمام عوامل کے علاوہ ہمارے زمانہ طالب علمی ہی میں بڑے بھائی حافظ افروغ حسن کی معرفت مولانا مودودی اور دیگر اہل قلم ادیبوں کا لٹریچر گھر آنے لگا۔یہ اس دور کا جدید ترین ادبی اور اسلامی لٹریچر تھا جو ہم نے سب پڑھ لیا۔ہمیں اردو زبان کی وسعت کا ادراک بھی اسی زمانے میں ہوا۔یہی وجہ تھی کہ جب اردو ڈائجسٹ کا اجراء کیا تو قارئین تک تمام تحریریں درست اور شائستہ اردو میں پہنچانے کا بھرپور اہتمام کیاگیا۔اس زمانے میں اردو ڈائجسٹ کی دس کاپیاں ہواکرتی تھیں جن کی پروف ریڈنگ الطاف خود ہی کیا کرتے تھے۔

ممتاز ادیب اور صحافی جناب الطاف حسن قریشی "میری زندگی کے کٹے پٹھے اوراق"میں لکھتے ہیں کہ قیام پاکستان کے بعد نومبر1947 ء کو ہمارے خاندان نے بھارت کے شہر سرسہ سے پاکستان ہجرت کی اور ٹرین کے ذریعے پہلے ہارون آباد اور بعد ازاں لاہور پہنچے ۔یہاں ہمارے بڑے بھائی جناب گل حسن محکمہ انہار میں سینئر کلرک کی حیثیت سے ملازم تھے،میں نے ان سے ٹیلی گرافی سیکھی اور ساڑھے سولہ سال کی عمر میں محکمہ انہار کے اپرچناب سرکل میں سیگنیلربھرتی ہو گیا۔جس کا دفتر گنگارام بلڈنگ مال روڈ لاہورپر واقع تھا۔ بعد میں میرا تبادلہ مرالہ ہیڈ ورکس ہو گیا،جہاں میں 1950ء تک رہا۔میں نے وہاں رہتے ہوئے ادیب فاضل کا امتحان پاس کرلیا۔1952ء کے اوائل میں میرا تبادلہ محکمہ انہار سیکرٹریٹ لاہور میں ہو گیا۔جہاں میں نے پولیٹکل سائنس اور عربی کے اختیاری مضامین کے ساتھ گرایجویشن کی ۔بعد ازاں ایم اے پولیٹکل سائنس میں اول آیا۔اس کے بعد مجھے علامہ علاؤ الدین صدیقی کی راہنمائی میں علوم اسلامیہ میں بھی ایم اے کرنے کی سعادت حاصل ہوئی ۔محکمہ انہا ر میں سگنیلرایسوسی ایشن کا دس سال سیکرٹری جنرل رہا۔ دوران ملازمت میں نے سندھ طاس معاہدہ اور واپڈا کو وجود میں آتے دیکھا ،ان معلومات کی بنا پر ایم اے پولیٹیکل سائنس میں، میں نے اپنا مقالہ اریگیشن ریسرچ انسٹی ٹیوٹ لکھا ۔بارہ سال بعد محکمہ انہار کی ملازمت سے مستعفی ہوا اور بڑے بھائی ڈاکٹر اعجاز حسن قریشی کی سربراہی میں -5مین سمن آباد میں لاہور مسلم کالج قائم کیا ۔جہاں سے قدرت ہمیں کوچہ صحافت میں لے آئی۔اس مقدس پیشے میں کا م کرتے ہوئے ہمیں اب 60سال ہو چکے ہیں۔

مولانا نصراﷲ خاں عزیز جو روز نامہ" تسنیم "اور سہ روزہ" کوثر" کی ادارات کررہے تھے ان کے بڑے صاحبزادے ظفراﷲ خاں ملک ،لاہور مسلم کالج میں اردو ڈائجسٹ کا منصوبہ لے کر آئے ۔اس منصوبے کو عملی جامہ پہنانے میں کئی ماہ لگ گئے۔ بالاخر نومبر 1960ء کی صبح اردو ڈائجسٹ کا پہلاشمارہ صحافتی افق پر طلوع ہوا۔ابتدائی چند برسوں ہی میں اس کی اشاعت پچیس تیس ہزار تک پہنچ گئی جو بعد ازاں سوا لاکھ سے بھی تجاوز کرگئی ۔اس ڈائجسٹ نے عوام بالخصوص نوجوانوں میں پڑھنے کا شوق پیدا کیا اور شائستگی ،متانت اور سیاسی تہذیب کو فروغ دیا۔1969ء میں جناب مجیب الرحمان شامی کی ادارت میں ہفت روزہ "زندگی" کا اضافہ ہوااور 1970ء میں روزنامہ "جسارت" پہلے ملتان پھر کراچی سے میری ادارت میں منصہ شہود پر آیا۔

"الطاف صحافت " میں جناب مجیب الرحمان شامی لکھتے ہیں ۔بے شک الطاف حسن قریشی حرفوں کے بنے ہوئے نہیں ہیں لیکن ایک ایک حرف کے پس منظر اور پیش منظر سے واقف ہیں۔الطاف صاحب کو ڈائجسٹ کہانی بھی قرار دیا جا سکتا ہے لیکن صرف کہانی کہنے سے ان کی وسعتوں کا اندازہ نہیں ہوسکتا۔ اگر یہ کہاجائے تو مضائقہ نہیں کہ وہ خود ڈائجسٹ ہیں ۔الطاف صاحب کو اردو ڈائجسٹ قریشی بھی کہا جا سکتاہے اور اردو ڈائجسٹ کا نام "الطاف ڈائجسٹ " بھی رکھا جا سکتا ہے۔وہ سب کچھ الطاف صاحب میں موجود ہے جو اردو ڈائجسٹ میں ہے ۔رنگا رنگ ،سرورق، مضبوط جلد،المیہ ،طربیہ ،چونکا دینے والے واقعات، گنگ کردینے والے معاملات ،معانی کا شکوہ ،افسانے سے دل چسپ حقائق،حال کا انبوہ، مستقبل کے خواب۔ وہ اگر سیاست دان ہوتے تو ذوالفقار علی بھٹو کی بے تابیوں کو سید موددی کا سوز مل جاتا۔ اگر ناول نگار ہوتے تو نسیم حجازی اور قرۃ العین حیدر کو یک جان کرنا پڑتا۔شاعر ہوتے تو اقبال ؒ کی آرزوئیں داغ کے لہجے میں ڈھل جاتیں۔اردوڈائجسٹ کی ایجاد سے انہوں نے ادب کو عام آدمی تک پہنچایا، حقائق ،کہانی کے انداز میں سنائے اور گھر گھر اپنا سکہ جمایا۔الطاف صاحب نے یہ بات منوا لی کہ عوام کی زبان میں دل کی بات کی جائے تواس کا راستہ روکا نہیں جا سکتا۔الطاف صاحب کے ہاں جنس تھی ،نہ بداخلاقی ،جذبات کا کاروبار تھا ،نہ الفاظ کا بیوپار ۔وہ دل میں اس طرح جا اترتے اور جگہ بنالیتے کہ آہٹ تک نہ ہو پاتی۔کانوں کان خبرنہیں ہوتی اور دل ان کی مٹھی میں آجاتا۔وہ بھٹو دور میں معتوب ٹھہرے اور زندان ان کا مستقل گھر بن گیا۔بھٹو کا عہد رسوائی ختم ہوا تو ان کی اسیری ختم ہوئی۔پھر جنرل ضیاء الحق کے دوستوں میں شمار ہونے لگے۔اس میں کیا شک ہے کہ الطاف صاحب ایک مکتبہ فکر کے، ایک سکول آف تھاٹ کے امام ہیں۔جنرل ضیاء الحق کے دور کے آخری دنوں میں انہیں "ستارہ امتیاز "دیا گیا۔بے نظیر بھٹو نے یہ امتیاز واپس لے کر ضبط کرلیا۔جب بے نظیر کا اقتدار ختم ہو ا تو ستارہ امتیاز پھر الطاف صاحب کی خدمت میں حاضر ہو گیا۔مجھے ان کے خلیفہ مجاز ہونے کا شرف حاصل یوں ہواکہ انہوں نے اپنی نگرانی میں مجھے ہفت روزہ "زندگی "کا باقاعدہ ایڈیٹربنا دیا۔پھر ایک دن ایسا بھی آیا کہ "زندگی " ڈیکلریشن ہی مجھے مرحمت فرما دیا۔

ممتا ز ادیب اور استاد ڈاکٹر شفیق جالندھری لکھتے ہیں کہ الطاف حسن قریشی ان چند بلند قامت شخصیات میں سے ہیں جنہیں اردو صحافت میں نئی راہیں تراشنے اور بلند معیار متعارف کرانے کا ا عزاز حاصل ہے ۔ان کا نام اردو کے ایسے ممتاز صحافیوں میں شمار کیا جائے گا جنہوں نے اپنی طویل صحافتی زندگی میں قومی فکراور سوچ پر اپنے گہرے نقوش مرتب کیے اور مشکل وقت میں قوم کا حوصلہ بڑھانے اور درپیش مسائل کا حل بتانے کا فریضہ انجام دیا۔الطاف صاحب کا اسلوب بے حد دل نشین اور بات کہنے کا طریقہ بے مثل ہے ۔ان کے معروضی تجزیوں میں بھی ایک چاشنی ہے۔قوم و ملت کی بڑی شخصیات سے لیے گئے ان کے انٹرویو جیسا اسلوب اور موثرانداز کسی بھی انٹرویو لکھنے والے کو نصیب نہیں ہوا۔ان کی شخصیت محبت کا پیکر ہے ۔ان سے ملنے والے ہمیشہ ان کی شخصیت کے جادو کا شکا رہو جاتے ہیں۔ڈاکٹر شفیق جالندھری ایک واقعے کا ذکرکرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ الطاف حسن قریشی صاحب رات ایک بجے فون کر کے پوچھا کرتے تھے، کیا خبر یں ہیں اب تک کیں؟ میں انہیں تمام خبروں کے متعلق بتاتا اور جو خبر میرے ہاتھ میں تھی اس کے متعلق بتایا کہ اس کا بہت کم حصہ ترجمہ ہو ا ہے اس پر الطاف صاحب نے کہا بھئی پھر تو بہت دیر ہو جائے گی اور آپ یہ انگریزی کی خبر پڑھ کر مجھے سنائیں ۔میں نے گز بھر لمبی خبر انہیں سنا دی ۔اسے ایک بار سننے کے بعد الطاف صاحب جسارت کے ملتان فون پر اس طویل خبر کا اردو ترجمہ اسی ترتیب سے لکھوا دیتے۔ان کی یہ مہارت دیکھ کر مجھے حیرت ہوتی۔دراصل وہ فوٹو جینک میموری کے مالک ہیں۔ان کے مطالعے کی رفتار بے حد تیز اور حافظہ بھی بلا کا ہے۔

ڈاکٹر جالندھری ایک واقعے بطور خاص ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں جب بھٹو دور میں الطاف صاحب، ڈاکٹر اعجاز حسن قریشی اور مجیب الرحمان کو کرلیا گیا تو ان کے خلاف مقدمہ فوجی عدالت میں مقدمہ چلنا شروع ہوا۔ دوسری جانب قریشی برادران کے بہنوئی ضیاء الرحمن نے ہائی کورٹ میں رہائی کے لیے رٹ کردی ۔فوجی عدالت اور ہائی کورٹ کی جانب سے مقدمے کی سماعت کے لیے 15تاریخ مقرر کردی گئی ۔ بعد میں فوجی عدالت نے 13اپریل کو ہی طلب کرلیا ۔اس موقع پر قریشی بردران اور مجیب الرحمان شامی صاحب کی جانب سے فوجی عدالت میں تاریخی بیان دیاگیاکہ وہ اس فوجی عدالت کو عدالت ہی نہیں مانتے ۔انہوں نے فوجی عدالت میں ہی مارشل لا مردہ باد کے نعرے بھی لگائے ۔ان کے تاریخی اور باغیانہ رویے کا ملک بھر میں بہت چرچا ہوا۔فوجی عدالت نے انہیں ایک سال کی سزا سنا دی اوریہ فیصلہ بھی دیا کہ ملزمان زندگی بھر کسی اخبار یا جریدے کی ادارت نہیں کرسکیں گے ۔اس فوجی عدالت کے فیصلے کے خلاف ہائی کورٹ میں جودرخواست دائر کی گئی تھی ۔ججوں نے فوجی عدالت کے کرنل کو بھی عدالت میں طلب کرلیا اور یہ فیصلہ سنایا کہ مقررہ تاریخ سے پہلے ہی ملزمان کو بلاکر فیصلہ سنا دینے سے فوجی عدالت کے جج کی بدنیتی ظاہر ہوتی ہے ۔ہائی کورٹ نے قریشی برادران اور مجیب الرحمان شامی کو بھی رہا کردیا ۔بعد ازاں پنجاب حکومت اس فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ بھی گئی لیکن سپریم کورٹ نے بھی ہائی کورٹ کا فیصلہ برقرار رکھا ۔

ایک اور دلچسپ واقعے کا ذکر محسن فارانی کچھ ان الفاظ میں کرتے ہیں کہ ایک بار الطاف صاحب نے مشرقی پاکستان کے ڈپٹی سپیکر عبدالمتین کا انٹرویو ہوٹل میں بیٹھے بیٹھے اس طرح کیا کہ دو اڑھائی گھنٹے مختلف موضوعات پرگپ شپ ہوئی اور ان سے اجازت چاہی تووہ حیران ہو کر کہنے لگے پھر انٹرویو کب لیناہے ؟ الطاف صاحب نے قہقہہ لگاتے ہوئے کہاوہ تو ہوگیا۔اس پر وہ حیران ہوئے کہ اچھا۔الطاف صاحب نے اپنی یاد داشت سے وہ انٹرویو قلم بند کیا جو اگلے شمارے میں شائع ہوا۔

یہ تو وہ کرامات ہیں جو ان کے ساتھیوں اور بزرگ بھائی ڈاکٹر اعجاز حسن قریشی کی زبانی آپ نے پڑھیں ۔مجھے بھی الطاف صاحب کے ساتھ بطور سیکرٹری ادارہ امور پاکستان میں کچھ عرصہ کام کرنے کا موقعہ میسر آیا،میں نے خود مشاہدہ کیا کہ نہ صرف ان کا حافظہ بلا کا ہے بلکہ وہ بڑی سے بڑی غلطی کو بھی معاف کرنے کا جذبہ بھی رکھتے ہیں ،الطاف صاحب دوستانہ انداز میں کام کرنے کے حامی ہیں ۔ادارہ امور پاکستان اور اب پائنا کے پلیٹ فارم پر ہونے والے مذاکروں میں شرکت کرنے والے مقررنین کو وہ خود فون کرتے ہیں اور ان سے دوستانہ انداز میں کچھ اس طرح بات کرتے ہیں کہ ہر شخص کھینچا چلاآتاہے ۔چند ماہ پہلے میرا ایک کالم نوائے وقت میں شائع ہوا۔ "میرے والد میرے ہیرو"وہ کالم الطاف صاحب کو بہت پسند آیا انہوں نے بطور خاص مجھے کال کی اور کالم کی تعریف کرکے میرا حوصلہ بڑھایا۔ جو میرے لیے کسی اعزاز سے کم نہیں ہے۔

"الطافِ صحافت"کتاب میں پچاس کے لگ بھگ اہم ترین شخصیات جن میں ڈاکٹر عبدالقدیرخاں، ایس ایم ظفر، مخدوم جاویدہاشمی ،کرنل محمد خاں ، سید ضمیر جعفری ، سید مشکور حسین یاد قابل ذکر ہیں ۔صفحہ نمبر 522 سے 533صفحات تک جناب الطاف حسن قریشی کی نعت ،غزل اور چند نظمیں بھی کتاب میں شامل ہیں ۔یہ کتا ب تاریخ کا ایک اہم باب ہے جسے بطور خاص تعلیمی اداروں اور پاکستان بھر کی یونیورسٹیوں کی لائبریریوں میں ضرور ہونا چاہیے اگر ایم اے ماس کیمونیکیشن اور جنرنلزم کے نصاب میں بطور نصاب شامل کردیا جائے تو نوجوان نسل کی شخصیات سازی میں یہ کتا ب اہم کردار ادا کرے گی۔
 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 78 Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Muhammad Aslam Lodhi

Read More Articles by Muhammad Aslam Lodhi: 518 Articles with 238687 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Comments

آپ کی رائے
Language: