عظیم علمی وروحانی شخصیت مولانا محمد حسین ؒ

(Muhammad Idress Sani, )

 موت سے کسے مفرہے۔کل نفس ذائقۃ الموت بلاشبہ اٹل خدائی فیصلے ہیں اوران سے چھٹکاراممکن نہیں مگرموت العالم موت العالم۔ایک عالم کافوت ہوجانا پوری دنیا کے لئے المیہ ہے اوراگروہ شخصیت انسانیت کے لئے طبی وروحانی مسیحاکادرجہ بھی رکھتی ہوتواس کرب والم میں مزیداضافہ ہوجاتاہے ایسی ہی انسان دوست،علمی،دینی اورپاکیزہ ومبارک ہستی مولانامحمدحسین نوراﷲ مرقدہ کی ذات کسی تعارف کی محتاج نہیں،آپ تحریک دعوت وتبلیغ کے علمبرداراورجامع شخصیت کے مالک تھے آپ کی قومی،دینی وسیاسی اورسماجی خدمات سنہرے حروف سے لکھے جانے کے قابل ہیں اﷲ تعالیٰ کے پیغام کواﷲ کے بندوں تک پہنچاناان کی حیات مستعارکاہدف تھاملک کے طول وعرض میں ہمہ وقت اورہمہ تن قرآن وحدیث کی تبلیغ واشاعت میں مصروف رہتے تھے تبلیغ،سیاست،سماجی خدمات،ہرمیدان میں بیک وقت کارکن اورقائدکے طورپرکرداراداکیا طبی وروحانی خدمت خلق کے ذریعے اسلام کی تعلیمات کوفروغ دینے اورانہیں لوگوں کی روزمرہ زندگی کاحصہ بنانے کی سعی کی اس اعتبارسے ان کاکردارمبلغ وداعی کاتھاجوکئی جہات میں بیک وقت مصروف عمل رہتا تھاوہ علامہ اقبال کے اس شعرکی عملی تفسیرتھے ۔
جس میں نہ ہوانقلاب موت ہے وہ زندگی
روح امم کی حیات کشمکش انقلاب

تبلیغ دین کے علاوہ مولانامحمدحسین نے ملک بھرمیں ہونے والی تحریکوں میں ہراول دستہ کاکام کیا1953ء کی تحریک تحفظ ختم نبوت ہویا1974ء میں ذوالفقارعلی بھٹوکے دورمیں اس مقصدکے لئے لڑاجانے والافیصلہ کن معرکہ انہوں نے ہرمحاذپرقائدانہ کرداراداکیاانہوں نے قادیانیوں کے مکروہ سیاسی عزائم کوطشت ازبام اوردین اسلام کے خلاف ان کی ناپاک سازشوں کاپردہ چاک کیا 1996ء میں نگران حکومت نے مرزائیوں کواحمدی قراردینے کا فیصلہ کیاتوآپ نے اس اقدام کے خلاف جامع رحمانیہ میں بہت بڑے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا"قادیانی مرزائی غیرمسلم ہیں انہیں غیرمسلم ہی لکھاجائے نگرانوں نے اگرمرزائیوں کواحمدی قراردینے کا فیصلہ واپس نہ لیاتومنتخب حکومت کا انتظارکئے بغیرنگرانوں کوبھاگنے پرمجبورکردیاجائے گا جانثاران محمدمصطفیﷺ اپنی جانوں کانذرانہ دے کراسلام ،عقیدہ ختم نبوت اورحرمت رسولﷺ پہ کوئی آنچ نہیں آنے دیں گے"ان کے ایمان افروزخطاب سے متاثرہو کر لوگ تحفظ ختم الرسلﷺ پراپنی جانیں نچھاورکرنے پرتیارہوگئے چنانچہ گورنمنٹ کواپنافیصلہ واپس لیناپڑاردقادیانیت کے لئے ان کی خدمات ناقابل فراموش ہیں مولانامحمدحسین نوراﷲ مرقدہ ہرمکتبہ فکرکے علمی وعوامی حلقوں میں یکساں مقبول تھے ہرکوئی آپ کی دل وجان سے عزت وتکریم کرتاتھاآپ نے کئی مواقع پر کمال دانش مندی سے شہرکوخون ریزمذہبی وسیاسی تصادم سے بچایا آپ نے روحانی فیض داعی الی اﷲ امیرالمجاہدین حضرت صوفی محمدعبداﷲ آف ماموں کانجن سے حاصل کیااورپھرساری زندگی لاکھوں لوگ آپ کے ہاتھوں شفایاب ہوتے رہے۔ آپ کے عقیدت مندوں اورمریدین کی تعدادبہت زیادہ ہے جو اندرون وبیرون ملک پھیلے ہوئے ہیں،محبت وشفقت،ایثاروقربانی اورہمدردی ورحمدلی کاجذبہ ان کے دل میں بہت زیادہ تھاوہ دکھی انسانیت کے مسیحااورغمگسارتھے آپ کی خصوصیات بے شماراورلازوال ہیں اپنی خداداد صلاحیتوں،دلاآویزشخصیت اورذاتی کردارکے باعث عبدالحکیم شہرہی نہیں بلکہ پورے ملک کے دینی وسیاسی حلقہ کے آپ میرکارواں ہو گئے ایک سادہ سی بات سے گفتگوکاآغازکرتے اوردیکھتے ہی دیکھتے پورااجتماع ان کی مٹھی میں ہوتاتھاانہوں نے باباجمہوریت نوابزادہ نصراﷲ خان کے شانہ بشانہ سیاسی واسلامی تحاریک میں اپنی قائدانہ صلاحیتوں کالوہامنوایامتعددبارانہیں پابندسلاسل بھی رکھاگیامگرآپ کے عزم واستقلال میں ذرہ بھربھی کمی نہ آئی آپ نے ہمیشہ ذاتی مفادات سے بالاترہوکرسیاست کی اورقومی مفادات کومقدم رکھا اصولی ونظریاتی طورپر بھٹوازم کی ڈٹ کرمخالفت کی لیکن انہیں ذوالفقارعلی بھٹوکی موت کابھی بیحدصدمہ وافسوس ہواوہ اسے ملک وقوم کے لئے عظیم نقصان قراردیتے تھے ان کے بقول سیاسی جنگ عوام اورسیاست کے میدان میں لڑی جانی چاہئیے تھی آپ کی اعلی ظرفی اورکمال سیاسی بصیرت کی وجہ سے سیاسی مخالفین بھی آپ کی قدرکرتے ہیں اہم قومی شخصیات ورہنماآپ سے سیاسی ونجی امورپرصلاح مشورہ کیاکرتے تھے مخدوم جاویدہاشمی،ڈاکٹرخاورعلی شاہ اورسیدفخرامام کی سیاسی کامیابیوں میں مولاناکااہم کردارتھاکیونکہ آپ کاجہانیاں ،کبیروالاوعبدالحکیم میں اچھاخاصاحلقہ اثرموجودہے ۔ سابق وزیراعظم سیدیوسف رضاگیلانی کے سسر پیرسیداسرارشاہ آف سندھیلیانوالی آپ کی ﷲیت کی وجہ سے بیحدعزت وتکریم کرتے تھے ۔ ایک دفعہ سفر سے واپسی پر سندھیلیانوالی چوک میں انکی گاڑی خراب ہوگئی تو مولانانے اپنے ڈرائیورخادم حسین کو گاڑی سامنے ڈیرے میں لے جانے کوکہاتواس نے قدرے ہچکچاہٹ کے ساتھ گاڑی گیٹ سے اندر داخل کردی ،سیداسرارشاہ مرحوم سامنے چارپائی پر آرام فرما رہے تھے،کچھ مریدین سامنے موجود تھے اورمزدور تعمیراتی کام کررہے تھے ۔پیراسرارشاہ کی مولانا پر نظرپڑی تووہ فورا اٹھے اورننگے پاؤں دوڑکرگاڑی کادروازہ کھولااورمولاناکوپرجوش اندازمیں گلے ملے اوران کے ننھے صاحبزادے احمدحسین کوخوب پیارکیا۔وہ انہیں اپنی نجی رہائش گاہ میں لے گئے۔ اسی روزمولانا محمدحسین سے مشاورت کے بعدسیداسرارشاہ نے اپنی صاحبزادی محترمہ سیدہ فوزیہ صاحبہ کی سیدیوسف رضاگیلانی کے ساتھ شادی کرنے کافیصلہ کیا تھا۔ سابق وزیراعظم چودھری محمدعلی ؒبھی آپ کی قابلیتوں کے بے حدمعترف تھے مولانانے ان کی نظام اسلام پارٹی کے قیام واستحکام میں بھی نہایت مخلصانہ کرداراداکیا اسی طرح سابق وزیراعلی پنجاب غلام حیدروائیںؒ شہیدسے آپ کے قریبی دوستانہ مراسم تھے۔مولانانے ہرخاص وعام سے اپنے تعلقات کوہمیشہ خوش اسلوبی سے نبھایا لیکن اہم شخصیات کے ساتھ تعلق داری سے کوئی فائدہ نہیں اٹھایابلکہ جب کوئی اقتدارمیں ہوتاتو ملاقات سے اجتناب کرتے تھے ۔ نوابزادہ نصراﷲ خان مرحوم قومی اسمبلی کی کشمیرکمیٹی کے چیئرمین بنے توانہوں نے اپنے پرانے رفیق مولانامحمدحسین کو ملاقات کاپیغام بھیجا تو مولانا نے یہ کہہ کرانکارکردیاکہ میں آپ کی کرسی کوسلام کرنے اسلام آباد نہیں آسکتا۔ بزرگ سیاستدان سابق ممبرقومی اسمبلی وسینیٹر ایم حمزہ اپنے نجی وسیاسی معاملات پرمولاناسے مشاورت کرتے ہوتے تھے۔ آپ جماعت اہل حدیث کے نامورعالم دین تھے الحمداﷲ آپ کا پوراخاندان عصری ودینی دولت علم سے مالامال ہے امام کعبہ فضیلۃ الشیخ محمدبن عبداﷲ السبیل اورسعودی شاہی خاندان سے بھی آپ کی فیملی کااچھاتعلق ہے۔ دوران حج مولانامحمدحسین کوشاہی مہمان کااعزازبھی حاصل رہا اس وقت آپ کے صاحبزادے حکیم احمدحسین اتحادی آپ کی دینی ،روحانی وسیاسی وراثت کے امین ہیں جواپنے نیک سیرت والدکی طرح مثبت سوچ کے حامل شریف الطبع انسان ہیں اوروہ بھی اپنے والدکی طرح انسانیت کی خدمت میں مصروف عمل ہیں، مولانامحمدحسین عبقریانہ اوصاف کی حامل ایک ہستی تھے جنہوں نے ارباب علم اورمیدان علم میں ایک نمایاں حیثیت اختیارکی ہوئی تھی غالبا ایسی ہی نابغہ روزگار شخصیات کے بارے میں کہاگیاہے ؂
ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے
بڑی مشکل سے ہوتاہے چمن میں دیدہ ورپیدا

3 نومبر1998ؤقت موعودتھاآن پہنچافرشتہء اجل نے آپ کے درپردستک دی مولانانے لبیک کہی اور اﷲ کے حضورحاضرہوگئے گویا ؂
خوف مرگ سے مطلق بے نیازہوں دانش
میں جانتاہوں موت ہے سنت رسول کی

آپ کی نمازجنازہ شیخ الحدیث مولاناعبدالرشیدہزاروی نے پڑھائی مولانابھی روئے اورجنازہ پڑھنے والی ہزاروں آنکھوں سے بھی ساون کی جھڑیاں لگ گئیں بالاآخرآپ کو آہوں اور سسکیوں کے ساتھ رحمت باری کے سپردکردیاگیا
آسمان تیری لحدپرشبنم افشانی کرے
سبزہ نورستہ تیرے گھر کی نگہبانی کرے۔
 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 436 Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Muhammad Idress Sani

Read More Articles by Muhammad Idress Sani: 8 Articles with 2239 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Comments

آپ کی رائے
Language: