وزیر اعظم کا چھٹا خطاب : مری وفا پہ کبھی انحصار مت کرنا

(Dr Salim Khan, India)

کورونا کے زمانے میں مودی جی نے چھٹی بار قوم سے خطاب فرمایا ۔ اس بار بھکتوںکو یقین تھا کہ وہ اپنے بھاشن سے چین کو چھٹی کا دودھ یاد دلا دیں گے لیکن پھر ایک بار ’’دل کے ارماں آنسووں میں بہہ گئے‘‘۔ بھکت بیچارے چین کے بارے سننا چاہتے تھے لیکن وزیر اعظم نے ان کو چنا تھما دیا ۔ فی الحال مودی جی کے لیےچین لوہے کا چنا بنا ہوا ہے۔ وہ جب بھی اس کو چبانے کا ارادہ فرماتے ہیں تو دانت کھٹے ہوجاتےہیں نیز بھکت ناکوں چنے چبانے کے لیے مجبور ہوجاتے ہیں ۔ ان بیچاروں کے آنکھوں پر چونکہ عقیدت کی پٹی بندھی ہوئی ہےاس لیے وہ پہلے حقائق بینی کے بجائے وزیر اعظم کی تقاریر دیکھ اور سن کر اپنا دل بہلا لیا کرتے تھے ۔ اب مودی کے دشمن ان کی پرانی ویڈیوز نکال نکال کر بھکتوں کو منہ چڑھا رہے ہیں۔ پچھلے 6 سالوں میں پہلی بار ایسا ہوا ہے کہ ڈھٹائی سے جھوٹ بولنے اور حجت کرنے والے بھکتوں پر منہ چھپاتے پھرنے کی نوبت آن پڑی ہے ۔

کورونا کا تعلق کسی ملک خاص نہیں بلکہ یہ ایک عالمی وبا ہے لیکن ہندوستان کے اندر کے اندر اس نے ایسے گل کھلائے جو پوری دنیا میں منفردو نایاب ہیں ۔ مثلاً تارکین وطن مزدوروں کا معاملہ جس طرح ہمارے ملک میں سامنے آیا ساری دنیا ایسی مثال پیش کرنے سے قاصر ہے۔ اسی طرح کورونا سے لڑنے والے ڈاکٹروں کے ساتھ جو سلوک ہم نے کیا ایسا بھی کہیں اور نہیں ہوا ہوگا۔ عوام نے ان کو گھروں سے نکالنے کی کوشش کی اور سرکار نے ان کی تنخواہ تک ادا نہیں کی۔ یہ ایسی غیر انسانی حرکتیں ہیںکہ جن کا تصور محال ہے۔ مودی جی نے کورونا کے خلاف پہلی علامتی تقریر 103دن قبل 19مارچ کو نشر کی تھی ۔ اس خطاب علامتی اس لیے تھا کیونکہ اس میں ایک علامتی جنتا کرفیو کا اعلان کیا گیا تھا نیز تالی یا تھالی کی مدد سے کورونا کو بھگانے کی ترکیب سجھائی گئی تھی۔ بھکتوں کا یہ من پسند مشغلہ تھا ۔ وہ اس طرح کے کھلونوں سے کھیلنے کے عادی بنادیئے گئے ہیں ۔ اچھے دنوں سے لے کر سب چنگا سی تک یہی افیون پلائی گئیا ور خواب بیچے گئے اس لیے ان پر شاد عظیم آبادی کا یہ شعر صادق آتا ہے؎
تمناؤں میں الجھایا گیا ہوں
کھلونے دے کے بہلایا گیا ہوں

مودی جی کو اپنی پہلے خطاب کے 5 دن بعد ہی پتہ چل گیا کہ کورونا اور کانگریس میں بہت بڑا فرق ہے۔ کورونا نامی جرثومے کو قابو میں کرنے کے لیے لاک ڈاون کرنا پڑے گا لیکن وہ تو ملک کے اندرکسی عقوبت خانے (ڈٹینشن سینٹر) کی موجودگی کا انکار کرچکے تھے اس لیے اس کومقید کرنے کے بجائے پوری قوم کو قرنطینہ کر کے بنا سوچے سمجھے تالہ بندی کا اعلان فرما دیا ۔ وہ اس خوش فہمی کا شکار تھے کہ پوری قوم ان کی اطاعت کرے گی لیکن تارکین وطن مزدوروں نے وہ بھرم توڑ دیا ۔ ان پر وزیر اعظم کے وعدے کارگر نہیں ہوئے۔ ان کو نہ جانے کیسے اندازہ ہو گیا کہ کورونا کے خلاف 21دن کی مہابھارت میں مودی جی شکست فاش سے دوچار ہونے والے ہیں ۔ وہ پا پیادہ اپنے بال بچوں کے ساتھ نکل کھڑے ہوئے ۔ بڑے بڑے دانشور اور ماہرین سیاست و طب ان کو سمجھاتے رہے لیکن کسی کی ایک نہ چلی وہ’ چلتے رہے چلتے ہی رہے‘ اور اپنی منزل پر پہنچ گئے۔ آج ان کی بغاوت اور وزیر اعظم کی حماقت پر اقبال کا یہ شعر یاد آتا ہے؎
حرم رُسوا ہُوا پیرِ حرم کی کم نگاہی سے
جوانانِ تتاری کس قدر صاحب نظر نکلے

دوسرے خطاب کے 10 دن بعد وزیر اعظم پھر سے ٹیلی ویژن کے پردے پر نمودار ہوئے اور 9 بج کر 9 منٹ پر 9 منٹ کے لیے دیپ جلانے کا مشورہ دے کر رفو چکر ہوگئے۔ مودی جی کا یہ چھوٹا ریچارج پیک تھا۔ اس سے قبل دو مرتبہ انہوں نے تقریباً آدھا گھنٹہ سمع خراشی کی تھی مگر اس بار 12 منٹ میں رخصت ہوئے ۔ بھکتوں نےرواداری اور یکجہتیکا مظاہرہ کرتے ہوئےدیپک جلانے سے گریز کرنے والوں کے گھر تک جلادیئے ۔ اس کے 11دن بعد مودی جی پھر سے لاک ڈاون کی توسیع کے لیے آئے اور اپنی آدھے گھنٹے کی روایتی تقریر فرما دی ۔ لوگ حیران تھے کہ آخر یہ بھاشن پر بھاشن کا سلسلہ کب تک چلے گا ۔ راشن جوختم ہورہا ہے وہ س کی بات کب کریں گے؟ کیا عوام کو یہ دیکھنے کی تلقین کردینے سے کہ ان کے آس پاس کوئی بھوکا نہ سوئے کام چل جائے گا؟ کیا حکومت لوگوں کا پیٹ بھرنے کے لیےصرف لکچر پلاتی رہے گی ؟ اور وہ اس کو پی پی کر کتنے دنوں تک زندہ رہ سکیں گے ؟ اب یہ حساب شروع ہوگیا تھا کہ کورونا سے زیادہ لوگ مریں گے بھوک سے ؟ افسوس کے ایک غریب گھرانے سے آنے والا وزیر اعظم بھی ان فاقہ کشوں کا درد نہیں محسوس کرسکا جنہوں نے اپنے وطن کے راستے میں داعی ٔاجل کو لبیک کہہ دیا بقول اخلاق ساغری ؎
مرنے والا جانے کب کا بھوکا لگتا ہے
بھوک میں کوئی کیا بتلائے کیسا لگتا ہے

14 اپریل سے 12 مئی کی طویل خاموشی کے بعد مودی جی معاشی پیکیج کا جھنجھنا لے کر پانچویں بار نمودار ہوئے اور 2020 میں کورونا کے خلاف 20 لاکھ کروڈ کی امداد کا اعلان کردیا ۔ لوگ خوش ہوگئے اور بھکتوں نے نعرۂ مستانہ بلند کیا ’دیر آید درست آید ‘ عوام نے راحت کی سانس لے کر کہا ’دیر لگی آنے میں ان کو لیکن شکر ہے آئے تو ‘۔ وزیر اعظم تو ’آتم نربھر‘ (خود انحصاری) کا پروچن سنا کر چلے گئے اور جاتے جاتے یہ بتا گئے کہ وزیر خزانہ نرملا سیتا رامن معاشی پیکیج کی تفصیل سمجھائیں گی ۔ بھکتوں کو بڑے دنوں کے بعد اپنے مخالفین کا جواب دینے کی خاطر گولہ بارود میسر آگیا لیکن وہ پانچ دن کی دیوالی دوسرے ہی دن ٹائیں ٹائیں فش ہوگئی ۔ تیسرے دن سے لوگوں نے مایوس ہوکر نرملا سیتا رامن کی پریس کانفرنس کو سننا بند کردیا اس لیے کہ خود انحصاری کے معنیٰ ان کی سمجھ میں آگئے تھے ۔ عوام اس بات کو اچھی طرح جان گئے تھے کہ یہ حکومت ان کے لیے کچھ نہیں کرے گی ۔ سرکار کے بجائے انہیں پروردگار اور محنت و مشقت پر ہی مکمل انحصار کرنا ہوگا۔وزیر خزانہ نےڈاکٹر عاصم واسطی کی زبان میں وزیر اعظم کا یہ پیغام پہنچا دیا ؎
تمہارے ساتھ مرے مختلف مراسم ہیں
مری وفا پہ کبھی انحصار مت کرنا

اس بیچ گلوان کی وادی میں فوجی تصادم ہوگیا ۔ بھکتوں نے سوچا اب مزہ آئے گا ۔ مودی جی اس طرح چین کو للکاریں گے کہ لوگ کورونا کو بھول جائیں گے لیکن افسوس کہ انہیں مایوسی پر مایوسی ہوتی چلی گئی۔ پہلی بار کل جماعتی اجلاس میں ان کے کان چین کا نام سننے کے لیے ترستے رہے پھر سوچا کہ من کی بات میں تو فوجیوں کا ذکر ضرور آئے گا اس لیے کہ ہر سال دیوالی منانے کے وزیر اعظم فوجیوں کے پاس جاتے تھے اور تصویریں کھنچواکر بھجواتے تھے ۔ وہاں بھی خاموشی رہی ۔ چینی ایپ کی پابندی کے بعد بھکتوں کو یقین ہوگیا تھا کہ چار بجے سے قبل گھر میں گھس کر ائیر اسٹرائیک ہوچکا ہوگا اور مودی جی اس کی تفصیل ملک کے باشندوں کو بتائیں گے لیکن وہ تو دال چاول اور چنے بانٹنے پر خرچ ہونے والی رقم کا حساب کتاب بتاتے رہے ۔ مودی جی نے بڑی دلداری دکھا کر جو ایک کلو چنے کا اضافہ کیا تو پتہ چلا کہ ۵۶ انچ کے سینے میں ان کا دل چنے کے دانے سے بھی چھوٹا ہے۔ مودی جی نے چھٹے خطاب میں ۶ مرتبہ چھٹ کے تہوار کا ذکر کرکے یہ ظاہر کردیا کہ شاہ جی نے بہار کی جس انتخابی مہم کا افتتاح کیا تھا یہ اس کی ا اگلی کڑی ہے۔ قوم چائنا اور کورونا کی شکر گزار ہے کہ ان دونوں نے مل کر وزیر اعظم کی توجہ ملک کے غرباء اور مساکین کی جانب مبذول کرادی ورنہ تو وہ پاکستان کی سرحد پر ٹہلتے اور ٹہلاتے ہوئے اپنےپانچ سال گزار دیتے ۔ اس لیے راہل گاندھی کو اس طرح کے اشعار سنا کر ان کا ذہن پراگندہ نہیں کرنا چاہیے؎
نہ اِدھر اُدھر کی تو بات کر یہ بتاکر ،یہ بتا کہ قافلہ کیوں لٹا
مجھے رہزنوں سے غرض نہیں ، تیری رہبری کا سوال ہے

 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 224 Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Salim

Read More Articles by Salim: 1019 Articles with 342735 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Comments

آپ کی رائے
Language: