کورونا نے معیشت تباہ کردی

(Sonia Ali, Karachi)

پاکستان میں 26فروری کو کورونا وائرس کا پہلا مریض سامنے آیا تو صوبائی اور وفاقی حکومتوں نے اس خطرناک وائرس سے شہریوں کو بچانے کے لئے لاک ڈاؤن کا حکم دے دیا عوام کو ایس او پیز پر عمل در آمد کرنے کے لئے احکامات جاری کر دیئے عوام نے شروع میں کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو سنجیدگی سے نہیں لیابلکہ بعض تو اسے مزاق ہی سمجھتے رہے مگر جیسے جیسے کرونا وائر س نے پھیلناشروع کیا اور اس سے ہلاکتوں میں اضافہ ہونے لگا تو عوام کو اس وباء کی سنگینی کا پتہ چلا جس کے بعد عوام بھی محتاط ہو گئے دنیا بھر میں اب تک کورونا وائرس سے تقریباََ چار 75ہزار سے زائد افراد انتقا ل کر چکے ہیں کورونا وائرس نے جہاں زندگی کے دیگر شعبوں کو نقصان پہنچایا ہے وہیں عالمی معیشت کو بھی زبر دست دھچکا لگا ہے لاکھوں افراد بے روز گار ہوگئے کارخانے ،فیکٹریاں دفا تر اسکولز، ایئر پورٹس بند ہونا شروع ہو گئے غرض اب ہر جانب معاشی تباہی پھیل چکی ہے بندر گاہوں پر ہزاروں کنٹینرز پھنسے ہوئے ہیں ہر قسم کی امپورٹ اور ایکسپورٹ تقریباََبند ہو گئی ہے پاکستان میں بھی کورونا وائرس کے باعث ہزاروں لوگ بے روزگار ہو چکے ہیں جس سے ایک خطر ناک صورتحال جنم لے رہی ہے حکومت نے شروع میں ایسی فیکٹریوں کو کھلنے کی اجازت دی جو ایکسپورٹ کئے مال تیار کرتی ہیں جس سے بعد دیگرتاجر برادری نے بھی دکانیں،مارکیٹ ،بازار اور شاپنگ سینٹرز کھولنے کا مطالبہ کردیاپھر حکومت نے ان کے لئے بھی احتیاطی تدابیر(ایس او پیز) بنا ئیں تا کہ تاجروں کو کاروبار کرنے میں آسانی ہو سکے جب کراچی سمیت سندھ بھر میں پہلی مرتبہ 15روز کا لاک ڈاؤن شروع کیا گیااورعوام کوگھرمیں رہنے کے لئے کہاگیا توبہت کم لوگوں نے اس پر عمل کیاجبکہ عوام کی بڑی تعداد نے اس کا کوئی نوٹس ہی نہیں لیاان کا کہنا تھا کہ وہ گھرو ں میں محدود رہیں گے تو کھائیں گے کہا ں سے ہر شخص پریشان تھا کہ وہ اپنے بچوں کا پیٹ کیسے پالے گا لاک ڈاؤن میں وفاقی حکومت نے متاثرہ افراد کے لئے احساس پروگرام کے تحت 12000روپے امداد فراہم کی جبکہ صوبائی حکومت اور بہت سے سماجی اداروں نے عوام میں راشن کی تقسیم کا اہتمام کیااور عوام کے گھروں کی دہلیز تک راشن پہنچانے کے انتظامات بھی کئے مگر اکثر لوگ راشن نہ ملنے کی شکایت ہی کرتے رہے جبکہ بہت سے افراد کو راشن ملا اور بہت سارے افراد محروم رہ گئے لاک ڈاؤن کا سلسلہ چلتا ہی رہا اب کورونا وائرس کے پھیلاؤ کوپانچ ماہ ہو گئے ہیں اس دوران ڈاکٹرز پیرا میڈیکل اسٹاف پولیس ،رینجرز اور فوج کے جوانوں نے کورونا وائرس میں مبتلا مریضوں کے علاج اوردیکھ بھال کا انتہائی جانفشانی سے کام سر انجام دیاجبکہ بعض ڈاکٹرزاورنرسز کے علاوہ پولیس کے جوان بھی کورونا وائرس میں مبتلاہو کر اس جہاں فانی سے کوچ کر گئے پاکستان میں کورونا وائرسے طلباء کا بھی بے حد تعلیمی نقصان ہوا ہے لاکھوں بچے پہلے ہی اسکولوں سے باہر تھے مہنگائی اور غربت کے باعث ان کے والدین بچوں کو اسکولوں میں پڑھانے کے بجائے انہیں دکانوں ،ہوٹلوں اورورکشاپ پر محنت مزدوری پر لگا دیتے تھے جس کی وجہ سے بچوں کی ایک بڑی تعداد چائلڈ لیبر کے قانون کے با وجود مشقت کرنے پر مجبور تھی اور جو بچے اسکولوں میں تعلیم حاصل کر رہے تھے وہ بھی لاک ڈاؤ ن میں پانچ ماہ سے اپنے گھروں میں محدود ہو گئے ہیں جس کی وجہ سے وہ بھی تعلیم سے دور ہوکر رہ گئے ہیں والدین انہیں آن لائن کہاں سے پڑ ھا سکتے ہیں جب کہ اکثر والدین بے روز گار ہو چکے ہیں ان کے پاس گھر کا چولہاجلانے کے لئے بھی رقم نہیں ہے کورونا وائرس کی وجہ سے نظام زندگی مفلوج ہو کر رہ گیا ہے حکمران کہتے ہیں کہ کچھ نہیں معلوم کہ کورونا وائرس کب ختم ہو گا یا ہمیں کورونا وائرس کے ساتھ ہی زندہ رہنا ہوگاان حالات میں کورونا وائرس کی وجہ سے ہر چیز تبدیل ہو کر رہ گئی ہے جس کی وجہ سے سب سے زیادہ نقصان عوام کا ہی ہو اہے بجلی ہو یا گیس پیٹرول ہویا اشیا ء خوردونوش ہر چیز کی قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں حکومت مہنگائی کو کنٹرول کرنے میں مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے جسکی وجہ سے ہر شخص پریشانی میں مبتلاہے غریب بے روز گاری،مکان کے کرائے ،ادویات کی بڑھتی ہوئی قیمتیں غرض ہر چیز کی قیمتوں کو پر لگ گئے ہیں اگر حکومت نے فوری طور پر لاک ڈاؤن کے خاتمے کے لئے اقدامات نہ کئے تو ملک میں مزید ابتری آجائے گی اور حالات بھی مزید خراب ہو جائیں گے چونکہ کورونا وائرس کی وجہ سے بے روزگاری عام ہو چکی ہے اور نہ معلوم یہ سلسلہ کب تک چلتا رہے گا

 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 89 Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Sonia Ali

Read More Articles by Sonia Ali: 31 Articles with 13021 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Comments

آپ کی رائے
Language: