کیا پاکستان کووِڈ 19 کی وبا کا عروج دیکھ چکا !

(Muhammad Arshad Qureshi, Karachi)
پاکستان میں کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے بارے میں خود وزیراعظم پاکستان عمران خان کا کہنا تھا کہ کورونا کا عروج جولائی کے آخری دنوں میں یا اگست کے اوائل میں ہو گا۔ مگر کل حکومت کی جانب سے کہا گیا کہ شاید ابتدائی اندازوں کے برعکس حالات جولائی کے پہلے ہی ہفتے میں بہتری کی جانب جانے لگے مگر ماہرین کا کہنا ہے کہ اس وقت یہ کہنا مشکل ہے کہ پاکستان میں کورونا اپنی جوبن پر پہنچ چکا یا پاکستانی کورونا کا عروج دیکھ چکے۔
اس وقت ہر پاکستانی کے زہن میں کورونا کے حوالے سے ایک ہی سوال ہے کہ کیا کورونا اپنی جوبن پر پہنچ کر دم توڑ رہا ہے یا اس میں نظر آنے والی کمی یا سستی عارضی ہے اور یہ ایک بار پھر سر اٹھا ئے گا۔

اگر کوورونا وائرس کے حوالے سے اعداد و شمار کو بغور دیکھا جائے تو جون کے آغاز سے وسط جون تک ملک میں یومیہ متاثرین کی تعداد تیزی سے بڑھ رہی تھی۔ پاکستان میں یومیہ متاثرین کی سب سے زیادہ تعداد 13 اور 14 جون کو دیکھی گئی تھی جو یومیہ6500 سے تجاوز کر گئی تھی۔ اس حوالے سے ایک پریس کانفرنس میں ڈاکٹر یاسمین راشد نے کہا تھا کہ ہمارے ہسپتالوں میں 12 اور 13 جون کے دن سب سے زیادہ دباؤ دیکھا گیا اور اس دوران شدید بیمار مریضوں کی تعداد میں بھی اضافہ ہوا۔

پاکستان میں کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے بارے میں خود وزیراعظم پاکستان عمران خان کا کہنا تھا کہ کورونا کا عروج جولائی کے آخری دنوں میں یا اگست کے اوائل میں ہو گا۔ مگر کل حکومت کی جانب سے کہا گیا کہ شاید ابتدائی اندازوں کے برعکس حالات جولائی کے پہلے ہی ہفتے میں بہتری کی جانب جانے لگے مگر ماہرین کا کہنا ہے کہ اس وقت یہ کہنا مشکل ہے کہ پاکستان میں کورونا اپنی جوبن پر پہنچ چکا یا پاکستانی کورونا کا عروج دیکھ چکے۔

کورونا کی آمد کے بعد سے اگر سرکاری اعداد و شمار کا باریک بینی سے مشاہدہ کیا جائے تو ایک دو بار اس سے ملتی جلتی صورتحال ہم پہلے بھی دیکھ چکے ہیں جب مریضوں کی تعداد کم ہونا شروع ہوئی لیکن عیدالفطر کے بعد اس میں نہ صرف تیزی آئی بلکہ تعداد میں خاصہ اضافہ بھی نظر آیا۔

کورونا ایڈوائیزری کمیٹی کے چیئرمین ڈاکٹر محمود شوکت کہتے ہیں یہ حقیقت ہے کہ مریضوں کی تعداد می کمی آئی ہے، لیکن ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ واقعتاً پاکستان اس وائرس کی انتہا سے گزر چکا ہے۔

اگر ہم سائنسی اعتبار سے دیکھیں تو اس کے لیے ماہرین ’آر نوٹ‘ کا لفظ استعمال کرتے ہیں، جس سے ہم یہ اندازہ لگاتے ہیں کہ وائرس کا پھیلاؤ اس وقت کتنا ہے۔ ااس تحقیق کے مطابق جون کے مہینے میں آر نوٹ 2.25 فیصد تھا جو کہ اب ایک فیصد ہوچکا ہے ۔

لیکن یہاں یہ بات اہم ہے کہ اس سے ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ ہم اس وائرس کی انتہا یا عروج دیکھ چکے اور اب اس کے زوال کا مشاہدہ کر رہے ہیں ۔ کیوں کہ اس کے لیے اس میں مسلسل کمی آنی ضروری ہے کسی ایک دن بھی گذشتہ دنوں کی بانسبت اضافہ اس بات کی نفی کردے گا ہم بہتری کی طرف جارہے ہیں ۔

کچھ ماہرین اس خدشے کا بھی اظہار کر رہے ہیں کہ ممکن ہے کمی کی وجہ یہ بھی ہو کہ ٹیسٹ ہی کم کیے جارہے ہوں ظاہر ہے جب ٹیسٹ ہی کم کیے جائیں گے تو نئے مریضوں کی تعداد میں بھی کمی آئے گی۔ جب کہ حکومت اس بات کی نفی کرتے ہوئے کہتی ہے کہ جتنے بھی ٹیسٹ کیے جا رہے ہیں، چاہے روزانہ ایک ہزار یا دس ہزار ان میں سے کتنے ایسے لوگ ہیں جو کہ کورونا میں مبتلا پائے جاتے ہیں۔ یعنی ہم اس شرح کا جائزہ لیتے ہیں کہ کُل کیے گئے ٹیسٹ میں سے کتنے لوگوں میں مرض کی تصدیق ہوتی ہے۔

یہاں ایک بات اور بھی اہم ہے کہ ہمارے یہاں صرف ان لوگوں کے کورونا کے ٹیسٹ کیے جارہے ہیں جن میں کورونا سے متاثر ہونے کی علامات ظاہر ہو رہی ہیں ۔دوسرا یہ کہ اب بیرونِ ملک سے آنے والوں کے بھی پالیسی کی تبدیلی کے بعد ٹیسٹ نہیں کیے جارہے۔

دوسری اہم بات یہ کہ کورونا کے حوالے سے ابتدائی وقت میں کچھ اس طرح کی خبریں آئیں جس کے بعد لوگوں نے علامات ظاہر ہونے پر بھی اس کو چھپایا۔ ایک اچھی اور حوصلہ افزا بات یہ ہے کہ شدید بیمار مریضوں کی تعداد میں کمی واقع ہوئی ہے۔ اس میں کمی آنے کی کئی دوسری وجوہات بھی ہوسکتی ہیں جیسا کہ لوگوں میں اس حوالے سے مزید شعور آیا ہے اور لوگوں نے احتیاطی تدابیر اپنائی ہیں اور علامات ظاہر ہوتے ہیں علاج کے ساتھ ساتھ بہت زیادہ احتیاط کی۔

اس میں کوئی دوسری رائے نہیں کہ آنے والے دن پاکستان کے لیے بہت اہم ہیں کیوں کہ عید الضحیٰ قریب ہے اور جانوروں کی خریداری نمازِ عید کے اجتماعات اور قربانی کا اہتمام اگر ان تمام کی ادائیگی میں بہت زیادہ احتیاط سے کام لیا گیا تو ان شاء اللہ ہم اسی طرح کورونا سے دور ہوتے رہیں گے اور اگر پھر کوتاہی برتی تو شاید ہم اس کے شکنجے میں مزید سختی سے پھنس جائیں۔ کیوں کہ امریکہ سمیت کئی ممالک میں صورتحال دیکھ کر اندازہ لگایا گیا تھا کہ یہ کورونا کا عروج دیکھ چکے اور اب یہ زوال پذیر ہے لیکن اب پھر سے اس میں تیزی دیکھنے میں آئی ہے۔
Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 116 Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Muhammad Arshad Qureshi

Read More Articles by Muhammad Arshad Qureshi: 124 Articles with 70920 views »
My name is Muhammad Arshad Qureshi (Arshi) belong to Karachi Pakistan I am
Freelance Journalist, Columnist, Blogger and Poet.​President of Internati
.. View More

Comments

آپ کی رائے
Language: