طلوعِ خورشیدِ انقلاب کے بعد

(Murad Ali Shahid, Doha)

واصف علی واصفؔ کا مشہورَ زمانہ قول ہے کہ ’’انقلاب اگر ناکام ہو جائے تو بغاوت کہلاتی ہے اور اگر بغاوت کامیاب ہو جائے تو انقلاب بن جاتا ہے‘‘۔لیکن میرا ذاتی نقطہ نظر ہے کہ دورِ حاضر میں اگر کوئی فرد فکرِ معاش سے آزاد ہو جائے تو یا تو وہ صوفی ہوتا ہے یا انقلابی۔صوفی تلاش حق کا متمنی اور انسانی مساوات کا درس دینے والا وہ بندہ ہوتا ہے جسے آدمیوں میں سے انسان تلاش کرنا ہوتے ہیں۔جب تک وہ انسان تلاش نہیں کرے گا حق بات،حق دادرسید والا معاملہ نہیں ہو سکے گا۔انسان اور آدمی میں کیا فرق ہے تو اس کا جواب مولا نا روم میں بہت ہی خوب صورت انداز میں اپنی مثنوی میں بیان کیا ہے کہ وہ دن کے اجالے میں اجالے میں چراغ لے کر بازار میں گھوم رہے تھے کہ لوگوں نے دریافت کیا کہ بابا جی دن کی روشنی میں چھوٹے سے چراغ کی روشنی سے کیا تلاش کر رہے ہیں تو بابا جی نے جواب دیا کہ انسانوں کو تلاش کر رہا ہوں۔کیونکہ صوفی وہ ہوتا ہے جو مرتبہ کمال تک پہنچ چکا ہو اور کمال عروج تک وہی پہنچ سکتا ہے جسے انسانوں کے بیچ رہ کر انسانوں کی ان کی عظمت کی یاد دہانی کراتے ہوئے انہیں راہ حق کی شاہراہ کا مسافر بنانا ہوتا ہے۔یہ ایک بسیط موضوع ہے ان شااﷲ کسی دوسرے کالم میں بیان کروں گا فی الوقت اتنا بتا تا چلوں کہ صوفی دنیا کے نہیں بلکہ دنیا اس کے پیچھے ہوتی ہے جبکہ انقلابی کی سوچ انسانی مساوات کی آڑ میں معاشی مساوات میں پنہاں ہوتی ہے۔یعنی ہر صورت میں دنیا داری ہی ایک انقلابی کا منشا ہوتا ہے۔

کوئی بھی انقلاب کی تاریخ اٹھا کر دیکھ لیں جیسے کے روس،چین،فرانس،باستیل یا ٹی انقلاب کامیابی کے بعد زیادی دیر استحکام پذیر نہیں رہتا۔اس کی کیا وجوہات ہیں کہ انقلاب کامیاب ہونے کے بعد وہی انقلابی اپنے ہی لائے ہوئے انقلاب کے خلاف کیوں ہو جاتے ہیں۔ایک بڑی وجہ جو میں نے تاریخ کی کتابوں سے اخذ کی ہے وہ یہ ہے کہ جو توقعات وامیدیں دورانِ انقلاب راہنماؤں سے باندھ لی جاتی ہے ان سب کا نتیجہ انقلابی جلدی میں دیکھنے کے خواہاں ہوتے ہیں۔لیکن یہ برخلاف فطرت ہوتا ہے یعنی کوئی بھی انقلاب لاتے ہوئے انقلابی کو جتنی جدو جہد،مشکلات،جانی ومالی نقصان اور وقت درکار ہوتا ہے انقلابی اس کے نتائج پلک جھپکتے ہی دیکھنا چاہتے ہیں۔کیونکہ انقلابیوں کو راہنماؤں کی طرف سے سوہانے خواب اور دودھ کی نہروں میں نہانے کے قصے سنائے جاتے ہیں جو انقلاب کامیاب ہو جانے کے بعد ملک میں فوری طور پر نظر نہیں آتا تو راہنماؤں کے جلد deliver نہ کرنے کی ایک وجہ سے انقلاب اپنے نتائج ویسے اور جلد نہیں دے پاتا جس کی توقعات انقلابی رکھے ہوتے ہیں۔اس کے علاوہ میرے خیال میں انقلاب کامیاب ہونے کے بعد نتائج کیوں جلد نہیں ملتے اس کی تین بڑی وجوہات ہیں۔

سماجی مسائل،معاشی مسائل اور توقعات
یہ تینوں مسائل ایسے ہیں جو ایک دوسرے سے مربوط ہیں یا لازم وملزوم ہیں یعنی کہیں نہ کہیں ایک دوسرے پر منحصر ہوتے ہیں۔ان تینوں کا تعلق انسان اور سماج سے ہے۔گویا انسانی ترقی دراصل سماجی ترقی ہوتی ہے،انسان سماجی ترقی کے لئے انقلاب لاتے ہیں جس سے سماجی ترقی میں اضافہ ہوتا ہے۔ہمارا بنیادی مسئلہ یہ ہے کہ جس طرح ہم انقلاب کے زمانہ میں راہنما کی باتیں سنتے ہیں اور اس کی بجا آوری کے تن من کی بازی لگا دیتے ہیں انقلاب کے بعد ہم سمجھتے ہیں کہ اب ہماری نہیں بلکہ راہنما کی ذمہ داریاں شروع ہو چکی ہیں یقین جانئے یہی سب سے بڑی غلطی ہوتی ہے۔حقیقت اس کے برعکس ہونی چاہئے کہ انقلاب کے کامیاب ہو جانے کے بعد تو دراصل ہماری ذمہ داریاں شروع ہوتی ہیں کہ اب اس کامیابی کے استحکام کو کیسے استقلال بخشنا ہے۔راہنما کے کاندھے سے کاندھا ملانا ہے اور پورے معاشرے کو ایک پرچم تلے جمع کر کے انقلاب کے ثمرات کو محفوظ رکھنے کے طریقے بتانا ہیں تاکہ جو پھل اس انقلاب کے سائے تلے آبیار ہوا اس کی جڑیں بھی مضبوط رہیں اور ثمر آور بھی ہو۔اگر ہم یہ کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو اس طرح ہر کسی کو پنا اپنا معاشرتی کردار نبھانے کا موقع مل جائے گا جس سے معاشی ترقی ناگزیر ہو جائے گی لیکن اگر عوام کی توقعات پر پورا نہ اترا جاسکے تو پھر یا تو انقلاب ناکام ہو جاتے ہیں یا پھر نئے انقلاب کی راہیں ہموار ہونا شروع ہو جاتی ہیں۔اب جہاں ایک اور سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا ہمیں نئے انقلاب کے داعی بننا چاہئے یا پھر دوبارہ انہیں سیاسی راہنماؤں پر بھروسہ کیا جائے۔تو میرے خیال میں آزمودہ سیاسی ہاتھوں سے بہتر ہے کہ نئے انقلاب کی طرف جایا جائے۔کیونکہ آزمائے ہوئے کو آزمانا بے وقوفی ہوتی ہے اور پھر بحثیت مسلمان ہمارا یہ بھی عقیدہ ہونا چاہئے کہ مومون ایک ہی بات سے دو بار نہیں ڈسا جاتا۔ ہمیں نئے انقلاب کت ڈر سے آزمودہ کو نہیں آزمانا چاہئے بلکہ نئے انقلاب کے خواب دیکھنا شروع کر دینے چاہئے۔کیونکہ ہر انقلاب اسی سوچ کے ساتھ لایا جاتا ہے کہ معاشی خوش حالی ہوگی اور معیشت بہتر ہوگی جس سے عوام کا معیار زندگی بلند ہوگالیکن حقیقت میں کیا ہوتا ہے کہ جب انقلاب کامیاب ہوجاتا ہے،معاشی خوش حالی عروج پر جانے لگتی ہے تو پھر سیاسی کھیل شروع ہوجاتا ہے۔اس طرح ان لوگوں کی وجہ سے جو انقلاب معاشی خوش حالی کے لئے لایا گیا تھا اسی معاشی خوش حالی کی وجہ سے اپنی موت آپ مرجاتا ہے۔کیونکہ پیسے کی ریل پیل انسانوں میں لالچ اور خود غرضی پیداکر دیتی ہے جس سے کرپشن جنم لیتی ہے۔اسی کرپشن کی وجہ سے لوگوں میں دولت جمع کی ہوس پرورش پاتی ہے جو انقلاب کے موت کا باعث بن جاتی ہے۔لہذا انقلاب کامیاب کرانا اتنا مشکل نہیں جتنا کامیاب انقلاب کی پاسداری کے لئے جدوجہد کرنا۔
 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 120 Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Murad Ali Shahid

Read More Articles by Murad Ali Shahid: 88 Articles with 23644 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Comments

آپ کی رائے
Language: