اسامہ بن لادن-شہید یا دہشتگرد.کس کو کیا ملا؟

(Abid Ali, Peshawar)
اسامہ بن لادن شہید سے دہشت گرد کیسے بنا؟ کن کن ممالک نے اسکا استعمال کیا اور پاکستان کو کیا ملا؟

The writter is a Gold medalist and Ph.d Scholar

اسامہ بن لادن-شہید یا دہشتگرد. کسں کو کو کیا ملا؟

صبح جب بھی میری آنکھ کھلتی ہے تو نماز اور ناشتہ کرنے کے بعد میرا پہلا کام یہی ہوتا ہے کہ دنیا میں چلنے والی خبروں سے خود کو با خبر رکھوں اور اس مقصد کیلئے میں دنیا کے مختلف اخبار، ارٹیکلز، پوڈکاسٹس، ویڈیوز اور مختلف کتابیں دیکھنے لگ جاتا ہوں. کسی اعظیم انسان کا یہ خوبصورت قول ہے کہ "ایک اچھی کتاب اور سچا دوست قسمت والوں کو ملتی ہے"
معمول کے مطابق جب میں صبح اٹھا اور اور خبروں کے طرف بڑھنے لگا تو سوشل میڈیا پہ ایک آگ سی لگی ہوئی تھی اور خبر یہ تھی کہ ہمارے وزیرآعظم نے پارلیمنٹ میں کھڑے ہو کر اسامہ بن لادن کو شہید کہا تھا. نیویارک ٹائم، واشنگٹن پوسٹ اور دی ایکانومسٹ جیسے بڑے اخباروں نےبھی عمران خان کے اس بیان کو ہیڈلائنز میں فلیش کیا تھا. ہماری مختلف سیاسی پارٹیز اور انکے ڈیزائن کئے گئے میڈیا سلز، جو 24/7 ایکٹیو رہتے ہیں، اور اعوام اس بحث میں الجھے ہوئے تھے کہ آیا اسامہ بن لادن دہشتکرد تھا یا شہید. اسلئے میں نے سوچا کہ اپنی علم کے مطابق اپنے پڑھنے والوں کیلئے کچھ لکھوں کہ یہ سانخہ کیسے پیش آیا، کن کن ممالک نے اسے اپنے فائدے کیلئے استعمال کیا اور اپنے زہانت کا استعمال کرتے ہوئے وہ خود یہ فیصلہ کریں کہ آیا اسامہ بن لادن شہید تھے یا دہشت گرد.
دنیا کی تاریخ اٹھا کر دیکھ لے جب بھی کوئی اسرجنسی یا اپرئز ہوتی ہے یا آسان الفاظ میں یون کہوں کہ جب لوگ ظلم، نا انصافی، آزادی یا قانون کے خلاف کھڑے ہوکر کوئی تخریک چلاتی تو دنیا کی سوچ دو خصوں میں بٹ جاتی ہے. ایک طرف لوگ اسکو مجاہدین یا فریڈم فائٹر کہتے ہیں اور دوسری طرف لوگ اسکو غددار اور دہشتگرد کہتے ہیں. اسکی سب بڑی مثال جارج واشنگٹن ہے. یہ آدمی امریکن ریوالوشن کے دوران فریڈم فائٹرز جسے کنفڈریٹ آرمی کہتے تھے اسکا ہیڈ تھا اور برطانیہ سے امریکہ کو آزاد کرانے کیلئے انگریزوں کے خلاف لڑ رہا تھااور جو بعد میں امریکہ کا پہلا صدر منتخب ہوا. برطانیہ نے جارج واشنگٹن کو باغی اور دہشتگرد قرار دیا تھا لیکن امریکی اعوام کیلئے وہ ایک ہیرو تھا.

مئی 2، 2012 یہ وہ رات تھی کہ جس رات پورے پاکستان کے اعوام، سکیورٹی ایجنسیز، پاک آرمی ، انٹیلجنس ایجنسیز اور ختی کے تیکنالوجیز بھی سو رہے تھے اور امریکہ نے راتوں رات بغیر پاکستان کے اجازت اور خفیہ طور پرایک خفیہ اپریشن کے ذریعے اسامہ بن لادن کو ایبٹ میں سر میں گولی ماری. اسامہ بن لادن گیریسن ٹاون میں قیام پزیر تھے جو پاکستان ملٹری اکیڈمی کے قریب اور اسلام آباد سے 31 میل کے فاصلے پے واقع ہے. 2 مئی کی صبح پوری دنیا کے اخباروں اور نیوز چینلز نے تمام رپورٹس چھوڑ کر ایک ہفتے تک یہ خبر چلائی کہ دنیا کا سب سے خطرناک دہشت گرد پاکستان کے اندر ایبٹ آبا د میں مارا گیا اور پوری دنیا نے خوشی کی جشن منائی سوائے خماس جو غزہ سٹرپ میں ہے، چند مسلم ممالک اور طالبان کے. ہمارے سیکیورٹی ایجنسیز نے اسے سیکیورٹی فیلرز مانا اور امریکہ نے اسے سی ائی اے اور یو ایس نیوی سیلزکا متفقہ کامیاب ترین اپریشن قرار دے دیا. کچھ لوگوں کے مطابق امریکن گارڈز نے اسے شوٹ کیا کچھ آفیشلز یہ کہتے ہے کہ اسامہ کے اپنے گارڈ نے اسامہ کے کہنے پہ اسے شوٹ کیا. اسامہ بن لادن القاعدہ کا بانی تھا اور اس پر یہ چارج تھا کہ وہ 9/11 ورلڈ ٹریڈ سنٹر کے خملوں میں ملوث تھا.

القاعدہ کیا ہے اور یہ کیسے وجود میں آئی؟

یہ اس وقت کی بات ہے کہ جب سوویت افغان جنگ چل رہی تھی اور مجاھدین روس کے خلاف جہاد کر رہی تھی اور مجاہدین کو آمریکہ سمیت پوری دنیا نے سپورٹ کیا تا کہ روس کو آفغانستان سے نکالا جائے. ان لوگوں میں ایک شخص اسامہ بن لادن تھا جو ایک ارب پتی باپ کا بیٹا تھا اور جو مجاہدین کو جہاد کیلئے پیسے اور ہتھیار مہیا کرتا تھا. 1989 میں سوویت یونین کو شکست ہوئی اور افغانستان سے نکل گئے تو اسامہ بن لادن نے عبداللہ اعظم، جو کہ فلسطین میں ایک سنی اسلامک لیڈر تھے، کی مدد سے القاعدہ بنایا جسکا مقصد دنیا میں اپنے طور سے مظلوم مسلمانوں کی مدد کرنی تھی. 1989 سے پہلے اسامہ بن لادن امریکہ سمیت پوری دنیا کیلئے ایک ہیرو تھا اور افغان خکومت اور روس کیلئے دہشت گرد تھا لیکن جب القاعدہ نے امریکہ کا مشرق وسطی اور دیگر ممالک میں جابرانہ پالیسیوں کو چیلنج کیا تو اسامہ بن لادن دنیا کا سب سے بڑا اور خطرناک دہشتگرد بن گیا.
اب آپنے پڑھنے والوں کو محتصر بتاتے ہیں کہ دنیا میں اس سانخے کو مختلف ممالک نے کیسے استعمال کیا اپنے فائدے کیلئے. اور ہم نے کیا کمایا.

ا.امریکہ: اس سانخے کا سب سے بڑا فائدہ امریکہ کو ہوا. سوویت کی موجودگی میں دنیا دو خصوں میں تقسیم تھی جسکو ہم بائپولر ورلڈ کہتے ہیں ایک طرف روس کا ورسا پیکٹ تھا اور دوسری طرف آمریکہ کی نیٹو تھا. سوویت یونین کے ختم ہونے کے بعد امریکہ واحد ملک تھا جو ٹیکنالوجی اور ایکانومی کے لخاظ سرد جنگ سے اچھی خالت میں نکلی تھی. روس اور چائنہ کو دبانے کیلئے اور اپنے اپکو سپر پاور ڈکلیر کرنے کیلئے انھوں نے اسامہ جیسے کیرکٹر کو مہرا بنا کے افغانستان میں ڈھیرہ جما لیا اور اسلامک ٹررزم کا منترا پیدا کرکے پورےدنیا کوخوفزدہ کرکے گلوبل وار آن ٹیرر لانچ کیا. جسکا مقصد پوری دنیا کو دباکر اپنے ساتھ ملانا، روس اور چائنہ کو کنٹین کرنا اور اپنی مدت بطور سپر پاور بڑھانا تھا. انھوں نے اسامہ بن لادن اور اسلامک ٹررزم کو دنیا کے کونے کونے تک پہنچانے کیلئے باقاعدہ فلمیں بنائی. پہلا فلم جو کیتھرائن بگلو نی ڈائریکٹ کیا تھا 19 دسمبر 2019 کو زیرو ڈارک تھرٹی کے نام پے ریلیز ہوا. 157 منٹ کی اس فلم نی ایک مہینے میں 132.8 ملین ڈالرز کمائے.

2: انڈیا: انڈیا جو 72 سال سے ہمارا دشمن ہے اور پاکستان کو نیچا دکھانے کیلئے یہ کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتی. اس سانخے کے فورا بعد انڈیا کی نیوز چینل، ٹائمز آف انڈیا نے بریکنگ نیوز لگائی" اسامہ بن لادن مر گیا اور پاکستان کا مکروہ چہرہ بے نقاب ہو گیا".
میل ٹوڈے نے ہیڈ لائینز لگائی" اسامہ مر گیا اور پاکستان زخمی ہو گیا".
انڈیا ٹوڈے نے اپنے کور پے بڑے خروف سے چھپوا دیا "terroristan"
ختی کہ پاکستانی رائیٹر محمد خنیف نے بھی اپنے ناول میں لکھا( جو اس سخت وقت میں لکھنا نہیں چاہئے تھا) " پاکستان صبخ جاگتے وقت اس سے نہیں ڈرتا کہ انڈیا خملہ کریگی بلکہ بازارو اور مسجدوں میں بمو سے ڈرتی ہیں اور پاکستان آرمی کی وجہ تخلیق انڈیا ہے". اسکے علاوہ انڈیا نے ہر فورم پے پاکستان کو ایک دہشت گرد ملک ڈکلیر کرنے میں کوئی کثر نہیں چھوڑی اور مکار ذہنیت اور پاکستان کے نا اہل خکمرانوں کی بے کار پالیسیوں سے فائدہ اٹھا کر پاکستان کو ایف اے ٹی ایف کے گرے لسٹ میں شامل کردیا.

3. پاکستان: ان سب سانخوں سے گزر کر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پاکستان کو کیا ملا؟ پاکستان کہا کھڑا ہے آج ؟ میں کچھ بڑے فگر بتاتا ہوں اپ لوگوں کو اور اپ لوگ خود فیصلہ کریں کہ پاکستان نے کیا پایا.

48 پاکستان میں غربت کی شرح
پاکستان کی ایکنامک گروت -0.4%
پاکستان میں خواندگی کی شرح 60% اور 60% ہماری بیٹیاں اب بھی سکول نہیں جاتی
مہنگائی کا شرخ 16% above
ڈالر ا167
شکریہ

 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Abid Ali

Read More Articles by Abid Ali: 4 Articles with 2192 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
14 Jul, 2020 Views: 184

Comments

آپ کی رائے