مولانا خلیل الرحمٰن سجاد نعمانی صاحب نقشبندی

(Fateh Mohd Nadwi, )

جمال اور جلال کا حسین عنوان
مولانا خلیل الرحمٰن سجاد نعمانی صاحب نقشبندی
فتح محمد ندوی
اس گیت کے تمام محاسن ہیں لازوال
اس کا وفور اس کا خروش اس کا سوزو ساز
(اقبال مرحوم)
مولانا خلیل الرحمٰن سجاد نعمانی صاحب نقشبندی سے باضابطہ ملاقات کا شرف کبھی حاصل نہیں ہوا، غالباً ۲۰۰۶؁ ء کی بات ہے، میں ندوہ میں زیر تعلیم تھا اس وقت آپ لکھنؤ میں قرآن کریم کی تفسیر کیا کرتے تھے اور آپ کے اس درس قرآن کا کا فی شہرہ تھا، اسی مناسبت سے ایک مرتبہ میں بھی آپ کے حلقہ درس میں شامل ہوا ،یہ اصالتاً ملاقات کا آپ سے پہلا موقع تھا ، جس میں آپ سے کوئی تعارف تو نہیں ہوا، ہاں آپ کی علمی شخصیت اور اس پر آپ کا افہام و تفہیم کا انداز اتنا غیر معمولی تھا کہ دل کو آپ کے اس آفاقی فکر و خیال اور گہرے علمی ادراک و شعور نے نہ صرف انپے حصار میں لے لیابلکہ آپ کے کوثر و تسنیم سے دھلے ہو ئے لب و لہجہ کا رنگ پوری طرح جذبات پر غالب آگیا۔ ایک اتفاق ا س روز یہ ہوا کہ آپ نے اپنے درس تفسیر میں تقدیر کے مسئلے پر ایسی مدلل اور علمی گفتگو اپنے اظہار و خیال کے پیکر میں ڈھال کر فرمائی کہ تقدیر کے حوالے سے تمام ابہام دور ہوگئے اور اس وقت سے آج تک تقدیر کے مسئلے کو سمجھنے میں کوئی دشواری پیش نہیں آئی۔

اس پہلے حصول نیازکے بعد دوسری مرتبہ آپ سے ملاقات گجرات میں ہوئی،ہوا یہ تھا کہ قطب ارشاد حضرت پیر ذولفقار صاحب نقشبند ی مدظلہ العالی کے خلیفہ اور تربیت یافتہ جماعت کے اہم روحانی بزرگ اور عالم دین مولانا صلاح الدین سیفی صاحب نقشبندی کے توسط سے صوبہ گجرات ترکیسر میں ایک خانقاہ کا وجود عمل میں آیا تھا، اسی کی دعائیہ تقریب اور افتتاح کے لئے مولانا سجاد نعمانی صاحب تشریف لائے تھے، میں بھی بالواسطہ اس پروگرام کا حصہ تھا ۔

بہر حال اس روحانی اجتماع میں تقریبا پانچ ہزار کا مجمع تھا،مولانا سجاد نعانی صاحب نے اپنے خاص انداز میں مجمع سے خطاب شروع کیا، آپ کے کمال خطابت سے ہر ایک سامعین پر وجد کی کیفیت طاری تھی اور ایک آگ ان کے سینے میں مشتعل تھی، شیرینی اور سلاست کے ملے جلے ماحول اور انداز سے ایسا محسو س ہو رہا تھاجیسے سمندر کی خاموش لہر یں اپنی لے میں مگن مسقبل کے سفر پر رواں دواں ، زبان سے افکار تازہ ہی نہیں بلکہ الہام کی بارش کا گمان ہورہا تھا ، حتیٰ کہ آپ کی یہ بامقصد اور مدلل گفتگو، اس پر افہام و تفہیم اور زور دار خطابانہ لب و لہجہ اور منفرد آہنگ و انداز کی مدد سے آپ مجمع کے اعصاب پر سوار تھے۔

مولانا سجاد نعمانی صاحب کی شخصیت کی تعمیر اور تربیت میں جہاں آپ کے والد محترم حضرت مولانا منظور نعمانی نوراﷲ مرقدہ کا کردار اور عمل شامل ہے وہیں مفکر اسلام حضرت مولانا ابوالحسن علی ندوی ؒبھی برابر کھڑے نظر آتے ہیں ۔غرض اول مرحلے میں یہی وہ دوعظیم بلا کی مردم شناس شخصیتیں ہیں جن کی آفاقی فکر و آگہی سے آپ شخص سے شخصیت اور فرد سے جماعت کے پیکر میں وارد ہوئے۔اس میں شک نہیں کہ مولانا ابوالحسن علی ندوی اور مولانا منظور نعمانی صاحب اپنے وقت کی عظیم شخصیت ہی نہیں بلکہ دو عظیم فکروں کا خوبصورت سنگم بھی ہیں،مولانا علی میاں ندوی ایک انقلابی اور تعمیری سوچ کے ساتھ بدلتی ہوئی جدید دنیا اور جدید تہذیب کی ادا شناسی اور دفاع کے حوالے سے اپنی ایک منفر د سوچ رکھتے ہیں ، بلکہ اسلامی افکار و خیالات کی مرکزیت پر مبنی گہرہ شعور آپ کی فکروں کا محور اور سرچشمہ ہے ۔

حضرت مولانا منظور نعمانیؒ اپنی علمی گہرائی ،دینی تصلب ،عزم و ثبات کے کوہ گراں،علوم قرآن اور علوم حدیث کے رمز شناس اور داعی حق جیسے گرانمایہ اوصاف سے آپ کی فکر کا خمیر تیار ہوا۔ مزیدآپ کی شخصیت پر بلکہ آپ کی روحانی تربیت میں عہد حاضر کی عظیم روحانی شخصیت ولی مرتاض عارف اﷲ حضرت پیر ذولفقار صاحب نقشبندی کا بڑا اہم رول ہے ،مولانا سجاد نعمانی صاحب ان کے حلقہ ارادت اور اثرمیں نہ صرف داخل ہوئے ، بلکہ ان کی صراحی میں بھرے ہوئے شراب معرفت کے جام سے خوب بادہ خواری کی، خوب جادہ معرفت کے ساغر اپنے سینے میں اونڈیلے،غرض کوئی دقیقہ آپ نے اپنے دامن مراد کو خداکی معرفت کی خوشبوسے آباد کرنے میں فراگزاشت نہیں ہونے دیا۔علم و عمل شریعت اور طریقت کے یہ زندہ پیکر آپ کی فکری جولانیوں کے گواہ بھی ہیں اور معمار بھی ۔انہیں کے حسن عمل کی خوشبوسے آپ کے قلب میں حکمت و دانائی، بصارت اور بصیرت کا خوبصورت امتزاج موجود ہے ، اسی طرح نظر کے ساتھ نظریے کی صداقت ،قوموں کے مزاج اور مذاق کا گہرا شعو ر اور ادراک ،بدلتے ہوئے دنیا کے حالات پر آپ کی غیر معمولی فہم و فراست اور بلاکا انداز تفہیم ، آپ کے اندر خدا نے ودیعت رکھا ہے وہ سب انہیں کیمیا ساز اکابر اور بزرگوں کی نظر کا کمال اور فیضان ہے ۔

آپ کی شخصیت کی ہمہ گیری اور ہمہ جوئی بلکہ جو انہیں اپنے معاصر میں عظمت، وقار اور اعتبار عطاکرتی ہے ، مزید یہاں میر ے مولانا سجاد نعمانی صاحب کے اس امتیازی وصف کو بیان کرنے کا مقصد بالکل یہ نہیں کہ ہندوستان کی دوسری بڑی شخصیتوں کا حترام یا مرتبہ کم کروں ، ہمیں ان سبھی کا دل سے احترام ہے اور احترام ہونا بھی چاہئے لیکن مولانا سجاد نعمانی صاحب سب سے ممتاز اور منفرد اس حیثیت سے نظر آتے ہیں کہ ان کے یہاں علم کے ساتھ عرفان ،دعوت کے ساتھ حکمت خطابت کے ساتھ افہام و تفہیم جذبہ اور ہمت کے سا تھ عزیمت اور استقامت موجود ہے۔بلکہ ان کے یہاں رسم شبیری بھی ہے ، اقبال اور رومی کا سوزدروں بھی،مجد د الف ثانی کی حکمت اور دانائی بھی اور خواجہ غریب نواز کی انسانی وحدت اور شرف آدمیت بھی ،غرض ان کا لہجہ اور آہنگ جلال اور جمال کی وحدت کا خوبصورت پیکر ہے۔

ایک مر تبہ آپ نے آر ایس ایس کے گڑھ ناگپور سے خطاب کرتے ہوئے آر ایس ایس کے نظریاتی تعفن کا جرأت کے ساتھ ذکر کرتے ہوئے کہا: ’’ مجھے ایسا لگتا ہے کہ آج کا دن ناگپور کی تا ریخ میں اتہا سک دن ہوگا ، ناگپو ر جھوٹ کی فیکٹری کی حیثیت سے جا نا جاتا تھا، یہاں سے جھوٹ ایکس پورٹ ہوتا تھا لیکن آج یہاں سے جھوٹ کے خاتمے کا آغاز ہوا ہے، ایک جھو ٹ تو ناگپور سے یہ چلا گیا کہ مسلمان آتنک وادی ہوتے ہیں ، میں سلام کرتا ہوں ہیمنت کر کرے او رایس ایم مشرف صاحب کو (سابق آئی جی پولیس مہار اشٹر مصنف کرکرے کے قاتل کو ن ) جن ہوں نے اس جھوٹ کا پردہ فاش کیا ۔ اسی طرح آج یہ بات بھی کھل کر سامنے آگئی کہ آتنک وادی مسلمان نہیں بلکہ آتنک وادی برہمن ہوتے ہیں۔مزید یہ بات بھی سامنے آگئی کہ سب سے بڑی آتنک وادی او ر گنائزیشن کا نام راشٹریہ سویم سیوک سنگھ ہے‘‘

آپ نے اپنے خطابت سے اسلام کا انقلابی اور آفاقی تصور بہت ہی خوبصورتی اور دور اندیشی سے پیش کیا ہے ، آپ کے یہاں اسلام کے نظریائے حیات کی جو تشریح موجود ہے وہ قرآن کریم اور پیغمبر اسلام صلی اﷲ علیہ وسلم کی سیرت اور کردار کے بہت قریب تر ہے ،یہی بنیادی وجہ ہے کہ ہر گفتگو میں قرآنی استدلال اور سیرت کے داعیانہ مزاج او ر منہج سے آپ محبوبیت کا عنوان بن جاتے ہیں۔ اگر چہ بہت سی مرتبہ آپ کا لہجہ اور انداز جذبے کی شدت سے سخت ہوجاتا ہے لیکن کا آپ کا حکیمانہ تخاطب لہجے کی اس شدت کو جذبے کی صداقت میں بدل دیتا ہے جس کی وجہ سے آپ کے اس لہجے کی آنچ حکمت کے پیکر میں بدل جاتی ہے۔

مولانا سجاد نعمانی صاحب کے یہاں خطابت کے کمال کے ساتھ قلم و کتاب سے گہری وابستگی اور مضبوط رشتہ ہے۔ بر صغیر کے اسلامک آرگن شاہکار مجلہ ’’ الفرقان‘‘ کے آپ تقریبا چار دہائیوں سے مدیر ہیں ، پرورش لوح و قلم کے حوا لے سے آپ کے تجر بے کا یہ ایک طویل عر صہ ہے۔ اس طویل مدت میں آپ کے قلم نے نکتہ رس خیال کے پیکر میں ڈھل کر ملت کے ذہنی ،فکری اور تعمیری شعور اور تربیت میں بڑا کارنامہ انجام دیا ہے، آپ کے نثری بیانیہ ادبی شگفتگی ، اظہار خیال کی تازگی اور پختگی اور اسی طرح لفظیات کے بر وقت اور خوبصورت استعمال کے ساتھ تخلیقی جمالیات کا حسین سنگم معلوم ہوتاہے ۔ دوسری بات اہم بات آپ کے تحریری بیانیہ کے حوالے سے جہاں لفظی کینوس کا مکمل ا ظہار ملتا ہے ، وہیں آپ کی معلومات کا دائرہ بے کنار جزیروں کی طرح ہے ،جب قلم چلتا ہے تو مضامین کی آمد پر الہامی نزول کا گمان ہوتا ہے، آپ کی جہان معلومات جس طر ح لسانی پیکر کے اظہار میں معنی شناسی اور فکر و خیالات کی ندرت پر اپنی بھر پور جولانیا ں دکھاتی ہیں اسی طرح قلمی جہات میں مضامین نو کے چشمے آبشاروں کی مانند ابلتے ہیں۔بقول اقبال
دلوں کو چاک کرے مثل شانہ جس کا اثر
تیری جناب سے ایسی ملے فغاں مجھ کو

الفرقان کے ایک اداریے میں قطر کی خارجہ پالیسی پر آپ کی عقابی اور مستقبل کی اداشناس نظررگ ا یام کے بدلتے ہوئے مزاج کو کیسے بھانپ تی ہے او ر کمال حیرت یہ ہے کہ تمام تر مصروفیات کے باوجود آپ کی فہم وفراست افکار و خیال کے کن کن نئے جزیروں کی سیر کراتی ہے اور بدلتی ہوئی نئی دنیا کے مزاج او رحالات سے آگاہی کیسے فراہم کرتی ہے ’ ’ پہلے تو یہ جان لیجئے کہ قطر کی حکومت نے جو خارجہ پالیسی اپنائی ہے ، اس کی وجہ سے اس نے عالمی برادری میں اپنے لئے ایک خاص مقام بنالیا ہے،عام طور پر قطر کو ایک ایسے ملک کی حیثیت سے جانا جاتا ہے جو عالمی حالات و واقعات پر سنجیدہ ،غیر جذباتی ، حقیقت پسندانہ مثبت اور معتدل نقطہ نظر رکھتا ہے ۔ اور دو ملکو ں یا کسی ملک کے مختلف گروہ کے درمیا ن نزاعات کو سلجھانے اور قیام امن کی کوشش کر نے کی غرض سے فعال کردار ادا کرنے میں گہری دلچسپی بھی رکھتا ہے۔اور لبنان ، سوڈان، یمن اور بعض افریقی مما لک میں اس سلسلے میں اس کی کار کردگی کی وجہ سے خطے اور بین الاقوامی برادری میں اس کی شبیہ اچھی ہے ۔ اور یہ بھی درست ہے کہ امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ اس کے تعلقات کی جو تاریخ ہے اس کی وجہ سے بہت سے لوگ اسے دوسری خلیجی ریاستوں سے ذرا بھی مختلف نہیں گردانتے بلکہ مغرب کی کاسہ لیسی میں اسے کچھ سواہی جانتے ہیں ۔ تاہم بعض مبصرین کا خیال ہے کہ اس سب کے باوجود قطر کے حکمرانوں نے حساس مسائل میں جو پالیسی اپنا ئی ہے یا جو قدم اٹھائیں ہیں ان کی وجہ سے کسی حد تک انہیں کچھ مختلف خانو ں میں ہی جگہ دینا ازروئے انصاف مناسب ہوگا مثال کے طور پر غزہ پر اسرئیلی حملے کے بعد قطر نے اسرئیل کے ساتھ اپنے تعلقات منقطع کر لئے اسی طرح قطر اور ترکی کے درمیا ن گزشتہ برسوں میں تعلقات میں جو گرم جوشی اور رابطوں میں جو تیزی نیز مختلف مسائل میں جو اصولی اتفاق رائے نظر آرہا ہے اس سے بھی اندازہ ہوتا ہے کہ شرق اوسط اور خطے کے بدلتے ہوئے حالات کو سمجھ نے میں اور خواہ اپنے مصالح کے تحفظ ہی کے مقصد سے ہو ۔بر وقت قدم اٹھانے میں وہ زیادہ سیاسی شعور اور چستی و بیداری کا ثبوت دے رہا ہے،(الفرقان مارچ ۲۰۱۲؁ ء)

مولانا سجاد نعمانی صاحب نے اپنی سر گر میوں اور اپنے وسائل فیضان کا دائرہ عمل اور پیغام بہ شمول دلتوں اور دگر پسماندہ برادریوں کے ساتھ اقصائے ہند کے ایک ایک فرد کو اپنا مخاطب بنایالیکن آپ کی تحرکات حیات کا زیادہ فوکس ہندوستان کی شیڈول کاشٹ رہی ہیں ۔ ہوسکتا ہے اس نظریے اور سوچ میں آپ کو کامیابی کا زیادہ امکان نظر آرہا ہو ۔ لیکن ادب اور معذرت کے ساتھ یہاں میں ایک بات ضرور کہوں گا کہ آپ کے اس نظریہ اور طریقہ کار میں ایک بات تو بہت اہم ہے اور اس سے انکار ناممکن ہے کہ آپ کے اس نظریہ سے یقینا دیگر بڑی برادریوں پر ایک نفسیاتی حملہ کا پہلو ضرور شامل ہے۔ مجھے مولا نا سجاد نعمانی صاحب کے اس مذکورہ نظریے سے کوئی اختلاف نہیں لیکن میری یہاں ایک ذاتی یہ رائے ہے ایک تو یہ سوچ انبیائی مشن کے خلاف بھی ہے کہ گروہ بندی سے کوئی کام کیا جائے دوسرے ہمارے ہندوستان کی روایت اور مزاج سے میل نہیں کھاتی کیوں کہ اپنے مشن میں ہم اگر ہندو ستان کی دیگر بڑی برادریوں کو ساتھ لیکر نہیں چلے گے اور ان کو کسی صورت بھی نظر انداز کردیں گے تو سوائے اپنے نقصان کے کچھ حاصل نہیں ہوگا ، کیوں کہ اس وقت پورا نظام ان کے ہاتھ میں ہے دوسری بات یہ ہے کہ بڑی برادریوں کے لوگ مثلا برہمن ، راجپوت یا اسی طرح دوسر ی بڑ ی ذات اور سماج کے افراد وفادار ی اور جرأت کے اعتبار سے ان سے زیادہ حجت اور معتبر ہیں ۔میں ادب کے ساتھ ایک مرتبہ پھر مولانا سے معذرت کروں گا کہ مجھے آپ کے اس مشن پر کوئی اعتراض نہیں، نہ مجھے اعتراض کا کوئی حق حاصل ہے میرے دل میں صرف یہ ایک خیال تھا جس کا میں نے اظہار کیا ہے ۔ بلکہ جہاں تک آپ کی نظر دیکھ سکتی ہے یا دیکھ رہی ہے وہاں تک ہمارے خیال کا پہنچنا بہت دشوار ہے ۔

آپ کے حوالے سے جو بات آپ کو اپنے معاصر سے ممتاز کرتی ہے بلکہ آپ کی محبوبیت میں بھی اضافہ کر تی ہے وہ آپ کا اپنے وجدان اور پختہ شعور کی مدد سے اظہار و خیالات کے نئے نئے افق اور نئے نئے تجربات ہیں ۔ لیکن آپ کے فکر و خیال اور تجربات میں اپنے سواد اعظم کا حد درجہ پاس و لحاظ ہے ، فضول بحثیں، بیجا تفردات اور اجتہاد کی جلوہ گیری دکھائی نہیں دیتی، آپ کے مشن میں مقصدیت اور ایقاظی اثر غالب ہے۔ آپ کو مکمل طور سے یہ آگاہی اور فراست حاصل ہے کہ شعوری لاشعوری طور پر پورے برصغیر میں یہ مزاج سرے سے خارج ہے کہ یہاں کے عام و خاص لوگ مشترکہ طور پر کسی تفرد کو جلدی سے قبول نہیں کر تے ، آپ کے یہاں اس سوچ کا بھر پور خیال ملتا ہے، بات بھی درست ہے کہ اگر ہر دن ہر آدمی اپنی الگ رائے پیش کریگا تو سوائے بے تو قیری اور انتشار کے کچھ فائدہ نہیں ہوگا ۔ مجھے تفردات اور اجتہاد کی افادیت سے قطعی انکار نہیں اس کا دروازہ قیامت تک کھلا رہے گالیکن اجتہاد کر نے والے لوگ اپنے علم اور فراست کا پہلے ایمانداری سے احتساب کریں، انصاف اور علم کی ترازو پر اپنے آپ کو تولیں اور پر کھیں آئمہ مجتہدین جن کو اولو الالباب اور دین وشریعت کے رمز شناس کہاگیا ان کی زندگیوں کا مطالعہ کریں ان کی آراء اور مزاج کو سمجھیں ، حضرت امام اعظم کا قول ہے کہ اگر میری کوئی بات قرآن و حدیث سے میل نہ کھاتی ہوں تو اس کو ردی کی ٹوکری میں ڈالدو۔

مولانا سجاد نعمانی صاحب کی اس آفاقی ، وجدانی اور جمالیاتی شعور کے لطائف میں جہاں حضرت خواجہ غریب نواز کی انسانی وحدت مولانا ابولکلام آزاد کا نظریہ قومی اتحاد، علامہ اقبال مرحوم کی ملی غیرت اور شعور اور اپنے شیخ اور مرشد کی مومنانہ فہم و فراست کا عکس شامل ہے وہیں اپنے دیگر اکابر اور اسلاف کی عظمتوں کا آپ خوبصور ت عنوان ہیں ۔ آپ کے سراپے میں مزید آپ کا یہ سلیقہ آپ کو اپنے دیگر معاصر سے بلند اور ممتاز کردیتا ہے بلکہ آپ کی انفرادیت اور عبقریت کو بھی دوبالا کردیتا ہے کہ کس وقت کیا اور کتنا بولنا ہے او ر کب کیا کہنا ہے کیانہیں ۔ پھر جو بولتے ہیں سوچ سمجھ کر بولتے ہیں، ہوش میں بولتے ہیں ، ان کے یہاں جوش اور ہوش کا حسین امتزاج ہے ،اور ساتھ ہی مستقبل کی آگاہی اور ادراک بھی ان کی نظروں میں ہرقت موجود رہتا ہے۔ غرض آپ کے یہاں بیمار قوموں کے امراض کے لئے وہ نسخہ شفاء بھی اور درد کا درما بھی اور ساتھ یہ حوصلہ اور ہنر بھی انہیں خوب ہے کہ مفتوح قوموں کالہو کیسے اور کس طرح گرمایا جا تاہے۔ اور کیسے ان کو معاصر قوموں کے شانہ بشانہ کھڑا کیا جا سکتا ہے۔

 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Fateh Mohd Nadwi

Read More Articles by Fateh Mohd Nadwi: 27 Articles with 14996 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
14 Jul, 2020 Views: 305

Comments

آپ کی رائے