تعلیمی ادارے کھولیں مگر تیاری کے ساتھ ۔

(Muhammad Arshad Qureshi, Karachi)
ہمیں یونیورسٹی اور کالجوں سے کہیں زیادہ توجہ اسکولوں پر دینی ہوگی ۔ چھوٹے اسکولوں میں بجائے ایک ساتھ تمام کلاسوں کو بلانے کے مرحلہ وار کلاسوں کا آغاز بھی کیا جا سکتا ہے مثال کے طور پر ایک دن کے جی اور نرسری کلاسیں ہی اسکول میں آئیں اسی طرح مرحلہ وار میٹرک تک کی دو دو جماعتوں کو اسکول بلایا جائے ۔کئی اسکولوں میں ایک جماعت کے کئی کئی سیکشن ہیں اور جب ایس او پی کے مقررہ فاصلے کے تحت اسکول میں بچوں کو بٹھایا جائے گا تو یقیناً تمام بچے پہلے کی طرح ایک ساتھ اسکول میں نہیں بیٹھ سکیں گے اس لیے مرحلہ وار ہی کلاسوں کو بلانا بہتر ہوگا۔
حکومت نے 15 ستمبر سے تعلیمی ادارے کھولنے کا اعلان کردیا ہے ابھی دو ماہ باقی ہیں اور یہ تیاری کے لیے کافی ہیں ۔ لیکن اگر اس مرتبہ بھی لاک ڈاؤن کی طرح کی اچانک والی پالیسی اپنائی گئی تو ہم ایک بار پھر مشکلات کا شکار ہوجائیں گے۔ ایک اچھی بات یہ ہے کہ اب تک کئی ممالک میں تعلیمی ادارے کھول دیے گئے ہیں اور تعلیمی سرگرمیاں عروج پر ہیں اور جب دو ماہ بعد ہمارے تعلیمی ادارے کھل رہے ہوں گے اس وقت تک دنیا کے کئی مزید ممالک میں تعلیمی سرگرمیاں بحال ہوچکی ہوں گی۔ اس سے ہمیں اپنی تعلیمی اداروں میں احتیاطی ایس او پی بنانے اور اس پر عمل کرانے میں بہت مدد ملے گی ۔

جو لوگ ریڈیو سننے کے مشغلے سے جڑے ہیں وہ اچھے سے جانتے ہیں کہ کئی بین الاقوامی اردو نشریات کورونا کے حوالےسے اپنے ممالک میں ہونے والی تبدیلوں اور احتیاطی تدابیر کے حوالے سے روز ہی کئی مفید پروگرام نشر کرتے ہیں نہ صرف پروگرام نشر کرتے ہیں بلکہ یہ پروگرام سوشل میڈیا پر بھی اپلوڈ کیے جاتے ہیں ۔ ان میں سے ریڈیو جاپان اور چین سر فہرست ہیں جہاں کورونا کے حوالے سے بہت مفید پروگرام نشر ہوتے ہیں ۔ ریڈیو چین اس معاملے میں ایک قدم اور آگے یوں ہے کہ یہ اپنی نشریات شارٹ ویو فریکیونسی کے علاوہ ایف ایم 98 پر بھی نشر کرتا ہے جس کو سننے والوں کی بہت بڑی تعداد پاکستان میں موجود ہے ۔یہ نشریاتی ادارہ اس کام کے لیے ایک موثر ذریعہ ثابت ہوسکتا ہے ۔ کیوں کہ چین میں تعلیمی سرگرمیاں اپنے عروج پر ہیں اور چین کورونا وبا کا عروج دیکھ چکا ہے اور اس وقت بہت پھونک پھونک کر قدم رکھ رہا ہے ۔ اگر ریڈیو چین سے نشر ہونے والے ایسے پروگرام جو اس وبائی دور میں تعلیمی سرگرمیاں بحال کرنے کے حوالے سے ہوں ان کی زیادہ سے زیادہ تشہیر کی جائے اور ریڈیو پاکستان سے بھی ان پروگراموں کو نشر کرنے کا اہتمام کیا جائے تو کوئی شک نہیں کہ یہ پروگرام تعلیمی سرگرمیوں کی بحالی کے لیے بچوں ، والدین اور اساتذہ کے لیے بہت معاون ثابت ہوں ۔

اس بار ہمارے پاس کافی وقت ہے اس کی تیاری کرنے کے لیے، اساتذہ کو اس حوالے سے ٹریننگ دی جاسکتی ہے کہ جب تعلیمی ادارے کھولے جائیں گے تو تعلیمی سرگرمیاں کس طرح جاری رکھی جائیں گی۔ ہمیں یونیورسٹی اور کالجوں سے کہیں زیادہ توجہ اسکولوں پر دینی ہوگی ۔ چھوٹے اسکولوں میں بجائے ایک ساتھ تمام کلاسوں کو بلانے کے مرحلہ وار کلاسوں کا آغاز بھی کیا جا سکتا ہے مثال کے طور پر ایک دن کے جی اور نرسری کلاسیں ہی اسکول میں آئیں اسی طرح مرحلہ وار میٹرک تک کی دو دو جماعتوں کو اسکول بلایا جائے ۔کئی اسکولوں میں ایک جماعت کے کئی کئی سیکشن ہیں اور جب ایس او پی کے مقررہ فاصلے کے تحت اسکول میں بچوں کو بٹھایا جائے گا تو یقیناً تمام بچے پہلے کی طرح ایک ساتھ اسکول میں نہیں بیٹھ سکیں گے اس لیے مرحلہ وار ہی کلاسوں کو بلانا بہتر ہوگا۔

جہاں انٹرنیٹ کے ذریعے آن لائن کلاسوں کا سلسلہ جار ی ہے وہاں کم از کم یکم ستمبر سے 14 ستمبر تک آن لائن بچوں کو اسکول میں ایس او پی کے مطابق آنے کے حوالےسے ٹریننگ دی جانا انتہائی ضروری ہے تاکہ تعلیمی اداروں کے کھلتے ہی کسی پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ جب کورونا وبا کی آمد پاکستان میں ہوئی تھی اس وقت بغیر منصوبہ بندی کے کئی ایسے فیصلے کیے گئے جس سے ہمیں کافی نقصان اٹھانا پڑا اور اس میں جہاں بہت سا جانی و مالی نقصانات کا سامنا کرنا پڑا وہیں تعلیم کے حوالےسے بہت زیادہ نقصان اٹھا نا پڑا ، ہم نے اس حوالے سے وہ فیصلے کیے جو دیگر ممالک کر رہے تھے جب کہ ہمارے زمینی حقائق ان ممالک سے یکسر مختلف ہیں ۔ ہمارے وطن کے بہت سے علاقے جن میں زیادہ تعداد دیہی علاقوں کی ہے وہ آن لائن کلاسوں کے متحمل نہیں ہوسکتے ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ اسکولوں میں بغیر امتحانات کے ہمیں بچوں کو اگلے کلاسوں کے لیے اہل قرار دینا پڑا کیوں کہ ہمارے پاس اس کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ نہ تھا ۔ اگر ہم آن لائن امتحانات کی جانب جاتے تو دیہی اور شہری طلبہ کے درمیان ایک تعلیمی فاصلہ آجاتا جو سراسر دیہی علاقوں کے طلبہ کے ساتھ زیادتی ہوتی ۔

تو اب ضرورت اس امر کی ہے کہ اس حوالے سے ماضی میں ہونے والی غلطیوں ، کوتاہیوں سے سبق سیکھتے ہوئے تعلیمی سرگرمیوں کے شروع ہونے سے پہلے بھرپور منصوبہ بندی کی جائے تاکہ کسی بھی نقصان کا امکان صفر رہ جائے ۔ بچوں کو یہ احتیاط گھر میں ، دورانِ سفر اسکول وین میں ، کلاسوں میں ، اسکول کی کینٹین وغیرہ میں غرض ہر جگہ کرانی ہوگی نہ صرف بچوں کو بلکہ والدین، وین کے ڈرائیورسے لے کر اساتذہ تک سب کو کرانی اور سکھانی ہوگی ۔ یقیناً یہ کام کٹھن ہوگا مگر اس کے نتائج بہت اچھے ہوں گے ۔
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Muhammad Arshad Qureshi

Read More Articles by Muhammad Arshad Qureshi: 127 Articles with 80000 views »
My name is Muhammad Arshad Qureshi (Arshi) belong to Karachi Pakistan I am
Freelance Journalist, Columnist, Blogger and Poet.​President of Internati
.. View More
15 Jul, 2020 Views: 254

Comments

آپ کی رائے