89واں یوم شہدائے کشمیر

(Ghulam Ullah Kiyani, Islamabad)

 سرینگر کے مزار شہدا ء پر ہر سال یوم شہداء کو بھارت نواز اورآزادی پسند حاضری دیتے ہیں۔ یہ سب عوام کو دھوکہ دینے کی کوشش نہ ہو تو شہداء کے مشن کی آبیاری ہوتی۔ شہداء یا ان کے مشن کا احترام ہوتا تو بھارت کے قبضے کو مضبوط کرنے کے بجائے آزادی کے لئے کردار ادا کیا جاتا ۔یہ اقتدار، مراعات،روشن مستقبل کی بھوک ہے جو شہداء کے غداروں کو بھی مگر مچھ کے آنسو بہانے پر مجبور کرتی ہے۔ شہداء کے مقدس مشن کے سامنے انا، تنظیم بازی، پارٹی بندی، علاقہ پرستی یا کسی گروہ بندی کی کوئی بال برابر بھی گنجائش نہیں۔ گزشتہ 8 دہائیوں سے کشمیری 13جولائی کویوم شہداء کشمیر کے طور پر مناتے ہیں اور آزادی کے لئے اپنے اس عزم کا اعادہ کرتے ہیں کہ وہ آزادی کے حصول تک اپنی جد وجہد کو جاری رکھیں گے ۔اس دن یہ عہد بھی کیا جاتا ہے کہ شہداء کی قربانیوں کے ساتھ کوئی سودا بازی نہیں ہوگی اور نہ ہی کسی کو شہداء کے قبرستانوں پراقتدار کے محلات تعمیرکرنے کی اجازت دی جائے گی ۔اس آزادی کے لئے اب تک لاکھوں کشمیری شہید ہوچکے ہیں ۔ہزاروں کو معذور بنادیاگیا۔1931 ء سے لاکھوں کشمیری مہاجرت کی زندگی بسر کررہے ہیں ۔لاتعداد کشمیری پہاڑوں اور برف پوش چوٹیوں، بیابانوں میں بے گوروکفن دفن ہوگئے ۔لاتعداد اپنے گھروں سے دور کسمپرسی کی زندگی بسر کرنے پرمجبور ہیں ۔ 13جولائی کو ہر برس کشمیرکی خونی لکیر کے دونوں اطراف تقاریب کا انعقاد کیاجاتاہے ،ریلیاں اور جلوس نکالے جاتے ہیں ۔آزادی کے حق میں مظاہرے کئے جاتے ہیں۔اور شہداء کے مشن کو جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیاجاتا ہے ۔لوگ شہداء کا انتقام لینے کی بھی قسم کھارہے ہیں۔ کورونا وائرس یا کوئی بھی طاقت انتقام کی آگ کو سرد نہیں کر سکتی۔

سانحہ جلیانوالہ باغ کے 12سال بعد13 جولائی 1931 ء کو سرینگر میں ڈوگرہ فورسزنے 22 کشمیریوں کو اندھا دھندفائرنگ کرکے بے دردی سے شہید کردیا ۔بھارتی وردی پوش فورسز کی دہشگردی نے جنرل ڈائر کی بربریت کو بھی مات دے دی۔کشمیریوں کے قتل عام کا یہ واقعہ اس وقت رونما ہوا جب جموں وکشمیر میں ڈوگروں کے مظالم میں اضافہ ہوگیا۔مسلمانوں کے خلاف مظالم کے پے در پے واقعات رونما ہونے لگے۔23 اپریل 1931ء کو مسلمان عید الاضحی منارہے تھے ۔جموں کے میونسپل باغ میں مسلمانوں کی بڑی تعداد نمازعید ادا کرنے کے لئے جمع تھی۔ مفتی محمد اسحاق خطبہ دے رہے تھے ۔وہ اسلامی تاریخ کے حوالے دے رہے تھے جب ہندوپولیس انسپکٹر کھیم چند نے خطبہ عید فوری طور پر روکنے کا حکم سنایا۔یہ ایک بار پھر مدا خلت فی الدین کا پہلا واقعہ نہ تھا۔جس پر مسلمانوں میں شدید غم وغصہ پھیل گیا اور وہ مذکورہ پولیس افسر کے خلاف کا رروائی کا مطالبہ کرنے لگے۔ڈوگرہ حکمرانوں نے مسلمانوں کے احتجاج اور مطالبے پر کوئی توجہ نہ دی بلکہ پر امن مظاہرین کو گرفتار کرلیا،اس دوران جموں کے سانبہ علاقے میں مسلمانوں کو چشمے سے پانی بھرنے سے روک دیاگیا۔ 4 جون کو ایک مسلمان قیدی فضل داد کو پولیس اہلکار لامبارام نے قرآن کی تلاوت سے روک دیااور قرآن پاک کی بے حرمتی کی ۔جس کے خلاف جموں وکشمیر میں ہڑتال کی گئی ۔جموں کے مسلمانوں کے ساتھ اظہار یک جہتی کے لئے 25 جون کو وادی کشمیر میں شدید مظاہرے ہوئے ۔مسلمانوں کی بڑی تعداد سرینگر کی خانقاہ معلےٰ کے باہر جمع ہوئی۔جس میں مورخین کے مطابق 60ہزار مسلمان شریک ہوئے ۔جلسے کی آزاد کشمیر کے سابق صدر مولانا میرواعظ یوسف شاہ نے صدارت کی ۔جبکہ چوہدری غلام عباس ،سردار گوہررحمان ،شیخ عبدالحمید ،خواجہ غلام نبی گلقار ،خواجہ غلام نبی عشائی ،آغا حسین شاہ جلالی ،مولانا عبدالرحیم ،مفتی جلال الدین وغیرہ نے خطاب کیا ۔اسی دوران ایک نوجوان سٹیج پر آیا اور خطاب شروع کردیا۔اس نوجوان کا تعلق کسی نے پنجاب اورکسی نے اترپردیش اور کسی نے پشاور سے جوڑا ہے ۔تاہم سب کو اس کے نام پر اتفاق ہے ۔ نوجوان نے اپنے خطاب میں جذباتی انداز میں کہا ’’ مسلمانو!جلسے جلوسوں، تقاریر سے کچھ بھی نہ ہوگا۔مسلمانوں پر مظالم بند نہیں ہونگے ۔اب عمل کا وقت آگیا ہے ۔ہم قرآن پاک کی بے حرمتی برداشت نہیں کرسکتے ‘‘۔ نوجوان نے ڈوگرہ شاہی محل کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ’’ اٹھو اور اس کی اینٹ سے اینٹ بجادو‘‘۔ اس تقریر نے لوگوں کے جذبات مشتعل کر دیئے،ان میں جوش وجذبہ پیدا کردیااور لوگ اٹھ کھڑ ے ہوئے اور شاہی محل کی طرف چل دیئے ۔تاہم کسی نے اس کے بعد کا واقعہ بیان نہیں کیا ۔سب اس نوجوان کو تلاش کرنے لگے۔ وہ راتوں رات کشمیریوں کا ہیرو بن چکا تھا۔ ڈوگرہ حکومت کو اسے گرفتار کرنے کی جلدی تھی۔کشمیر میں عبد القدیر نامی اس نوجوان نام زبان زد عام ہو گیا۔ ڈوگر ہ فورسز نے عبدالقدیر کوجھیل ڈل کی ایک ہاؤس بوٹ سے گرفتار کرلیا ۔اس کے بارے میں یہ بھی بتایا جاتاہے کہ وہ کسی انگریز سیاح کے ساتھ کشمیر آیا تھا اور اس کے باورچی کی خدمات انجام دے رہا تھا ۔اس نوجوان کی گرفتار ی کے چرچے دور دور تک ہونے لگے ۔اور جب عدالت نے اس کے خلاف کارروائی شروع کی تو لوگوں کا ہجوم امڈآیا۔عبدالقدیر کامقدمہ ڈسڑکٹ جج کرشن لعل کچلو کی عدالت میں سنا جارہا تھا ۔لوگ عبدالقدیر کی ایک جھلک دیکھنے کو بے قرار تھے ۔جج نے گھبرا کر مقدمہ کی شنوائی عدالت کے بجائے سنٹرل جیل سرینگر میں شروع کردی ۔12 جولائی کو عمائدین شہر کے اجلاس میں مطالبہ کیا گیا کہ عبدالقدیر کے مقدمے کوکھلی عدالت میں سناجائے ۔13 جولائی کو مقدمہ کی شنوائی سنٹرل جیل میں شروع کردی گئی۔لوگوں کی بڑی تعداد جیل کے باہر جمع ہوگئی ۔لوگ نعرہ تکبیر اﷲ اکبر، اسلام زندہ باد ،عبدالقدیر زندہ باہ کے نعرہ لگانے لگے۔اس دوران نماز ظہر کا وقت ہو گیا۔مسلمانوں نے جیل کے باہر نماز ادا کرنے کیلئے اذان دینے کا فیصلہ کیا،اذان دینے کے لئے ایک نوجوان اٹھا تو ڈوگرہ فورسز نے اُسے گولی مار کرشہید کردیا۔اذان مکمل کرنے کے لئے دوسرا نوجوان آگے بڑھا،اسے بھی گولی مار دی گئی۔ پھر تیسرا،چوتھا،اس طرح اذان مکمل کرنے تک 22نوجوانوں کو شہید کردیاگیا۔

13 جولائی کشمیر کی تاریخ میں جدوجہد آزادی کے حوالے سے ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے ۔قتل عام کے اس واقعہ سے کشمیر یوں پر مظالم کا چرچادور دور تک ہونے لگا ۔شیخ محمد عبداﷲ اپنی خودنوشت آتش چنار میں لکھتے ہیں کہ اس دن ایک زخمی نے مجھے اپنے قریب بلایا اور کہا، ’’شیخ صاحب ہم نے اپنا فرض ادا کردیا،اب آپ کی باری ہے‘‘، اور یہ الفاظ کہنے کے بعد ہی وہ شہید ہو گیا،شیخ محمد عبداﷲ نے کشمیر کی آزادی کے لئے تحریک چلائی ۔برسوں جیل بھی کاٹی لیکن بالآخر دیگر عوامل سمیت جواہر لعل نہروکی دوستی اور اقتدار کی لالچ میں کشمیریوں کی قربانیوں پر پانی پھیردیا۔نیشنل کانفرنس کے ہمدرد اگر چہ شیخ صاحب کے احترام میں حقائق کو تسلیم کرنے سے گریز کرتے ہیں تاہم وہ آج اعتراف کرتے ہیں کہ شیخ صاحب بھارت کے ساتھ سمجھوتہ نہ کرتے تو آج صور تحال مختلف ہوتی ۔ لمحوں نے خطا کی ،صدیوں نے سزا پائی ۔ ورنہ کشمیری آج اپنی قیادت کی اناپرستی،مفادپسندی ،اقتدار اور مراعات کے حرص کی سزا نہ بھگت رہے ہوتے ۔موجود ہ مسلح جدوجہد کے دوران بھی بعض کشمیریوں نے یک طرفہ اور ذاتی مفادیااپنی پارٹی ،تنظیم یا ادارے کے مفاد کو سامنے رکھ کر فیصلے کئے ۔مشاورت سے کنارہ کشی کی ۔جماعتی اور پارٹی بالادستی کا سہارالیا۔تعداد، نفری اور وسائل کے نشے میں چور ہوئے ۔ڈیڑ ھ ڈیڑھ اینٹ کی مساجد تعمیر کیں ۔جس کا نتیجہ ہمارے سامنے ہے ۔اب بھی کفارہ ادا کرنے کا وقت ہے ۔ماضی کی غلطیوں سے سبق سیکھاجاسکتاہے ۔اﷲ تعالیٰ سے معافی مانگی جانی چاہیے ۔شیخ عبداﷲ کے حشر کوسامنے رکھ کراپنی پالیسی پر ازسر نوغور کرنا غلط نہ ہوگا ۔یوم شہداء کشمیر صرف تقاریر، جلسے جلوسوں،نعروں کانہیں بلکہ عملی اقدامات کا تقاضا کرتا ہے ،1931 ء سے اب تک لاکھوں کشمیریوں نے قربانیاں پیش کی ہیں ،ان قربانیوں کو نظر انداز کیا گیا تو کشمیری سوائے رسوائی کے اور کچھ حاصل نہیں کر سکتے۔شہداء کو خراج عقیدت پیش کرنے کا بہترین طریقہ یہی ہے کہ شہداء کے مشن کو جاری رکھنے کیلئے اتحاد واتفاق کے ساتھ خلوص ونیک نیتی سے مؤثر وبا مقصد عملی اقدامات کئے جائیں ۔ تحریک آزادی کو منجمد کرنے یا آئندہ نسلوں پر چھوڑنے کے بجائے سیاسی، عسکری، سفارتی اور میڈیا سمیت ہر محاذ پر بڑھ چڑھ کر حصہ لیا جائے۔اور یکسوئی سے تحریک سے وابستہ لوگ متحرک کردار ادا کریں۔جو لوگ مفادات اور مراعات حاصل کرنے کے لئے یا اس کے بعدمختلف حیلے بہانوں، مجبوریوں، مصلحتوں، دباؤ، انتقام یا نا میدی سے منظرسے ہٹ گئے اور خود سائیڈ لائین ہو گئے ، وہ اﷲ تعالیٰ کو دھوکہ نہیں دے سکتے ہیں۔ انہیں حساب دینا ہو گا۔ ’’ بیس کیمپ‘ کا کردار بھی متعین کرنا ہو گا۔ ’’ تم بھی اٹھو اہل وادی‘‘ پکارنے اور ترانے بجانے والوں کو بھی جواب دینا ہو گا کہ وہ کیوں خاموش ہو گئے اور اقتدار اور کرسی کے لئے شہداء کی قربانیوں کو کیوں بھلا دیا گیا۔کشمیر کاز، شہدا، قربانیوں کے نام پر سیاست کرنے والوں کو بلا شبہ عبرتناک انجام سے دوچار ہونا پڑے گا۔ہمارا ایمان ہے کہ 5لاکھ شہدا کی قربانیاں کبھی رائیگان نہیں جائیں گی۔کشمیری ضرور آزادی حاصل کریں گے۔

 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Ghulamullah Kyani

Read More Articles by Ghulamullah Kyani: 585 Articles with 229174 views »
Simple and Clear, Friendly, Love humanity....Helpful...Trying to become a responsible citizen..... View More
14 Jul, 2020 Views: 213

Comments

آپ کی رائے