خون کی اہمیت

(Tariq Hussain Butt, UAE)

آج کل بھارت اور چین کے درمیان مخاصمت کی فضا سے جنگ کے بادل ہر سو چھائے ہوئے ہیں۔اہل جہاں پر کسی ان دیکھی تباہی کا خوف طاری ہے۔ہر گزرتا لمحہ کسی ناگہانی جنگ کی تباہی کا منظر پیش کر رہا ہے جس سے ہر ذی روح کی جان خوف کے شکنجے میں پھنسی ہوئی ہے۔ایک طرف چین دنیا کی سپر پاور بنے کے لئے پر تول رہا ہے تو دوسری جانب بھارت بھی خود کو جنوبی ایشیا کا چوہدری سمجھتا ہے۔علاقے پر اپنی حاکمیت کا خمار دونوں مما لک کے درمیان وجہِ تنازعہ بنا ہوا ہے جس سے کوئی بھی پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں ہے۔جو جہاں بیٹھا ہوا ہے وہ خود کو اس علاقے کا مالک تصور کر رہا ہے۔لداخ کا علاقہ چونکہ انتہائی اہم ہے اس لئے دونوں میں سے کسی کے بھی پیچھے ہٹنے کے امکانات کم ہیں۔بھارت نے ۵ دسمبر کو کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کر کے کشمیر ، لداخ اور اس کے ملحقہ علاقوں کو اپنی قلمرو میں شامل کر لیا تھا جس پر چین کے تحفظات ہیں ۔کچھ دیر تک تو یہ معاملہ سفارتی سظح پر چلتارہا لیکن جیسے ہی بھارت نے لداخ سے ملحقہ علاقوں پر شاہرائیں تعمیر کرنا شروع کر دیں تو چین کو حرکت میں آنا پڑا۔چین کی پر عزم سپاہ کا مقابلہ کرنا شائد بھارت کے بس میں نہیں ہے اس لئے اسے حزیمت اٹھانی پڑی۔ انسانی زندگی سے محبت نے اب فوج کے حوصلوں کو بھی پست بنا رکھا ہے۔اب فوجی جوانوں کا جان دینے اور کٹ مرنے کا وہ معیار نہیں رہا جو کبھی ہوا کرتا تھا۔یہ تو اسلام کے غازیوں کو طرہِ امتیاز ہے کہ وہ شہادت کے جذبوں سے لیس ہو کر موت کی تمنا کرتے اور اسے گلے لگانے میں فخر محسوس کرتے ہیں لہذا وطن پرست قوموں اور ان کی افواج سے ان کے لا ہوتی جذبوں کا موازنہ نہیں کیا جا سکتا۔ غازی جوان جنگ میں اترنے اور شہادت کا جام پینے کی جس طرح آرزو کرتے ہیں وہ ناقابلِ بیان حقیقت ہے جسے الفاظ میں بیان کرنا ممکن نہیں ہے۔کیا موت سے نبر آزما ہونے والوں کو کوئی شکست سے ہمکنار کیا جا سکتا ہے؟کیاٹینکوں ،توپوں، جہازوں ،طیاروں ، میزائلوں اور شمشیروں کی کثرت انھیں زیر کر سکتی۔ بالکل نہیں۔اور پھر وہ قوم جو بت پرست ہو،مورتیوں کی پوجا کرتی ہو اور اپنے ہاتھوں سے تراشیدہ بتوں کے سامنے سجدہ ریز ہوتی ہو اس کے لئے جان دینے کیلئے کوئی مضبوط بنیاد نہیں ہوتی لہذا ایسی فوج کا عزم و حوصلہ بھی انتہائی کمزور ہوتا ہے جس کی وجہ سے وہ ایمان میں گندی ہوئی فوج کا سامنا کرنے سے قاصر ہوتی ہے۔ایسی فوج پہلے ہی حملے میں بھاگ کھڑی ہوتی ہے ۔غازی جب جذبہِ شہادت سے لیس ہو کر اﷲ اکبر کے نعروں کی گونج میں دشمن کی سپاہ پر حملہ آور ہوتے ہیں تو ان کے نعروں اور جذبوں کی گونج سے د ھرتی بھی کانپ اٹھتی ہے اور مخالف فوج سرا سیمگی کی حالت میں جائے فرار تلاش کرتی ہے۔

چینیوں کے ہاں مذہب کا کوئی تصور نہیں ہے ۔ا ن کے لئے ان کا وطن ہی ان کا خدا ہے اس لئے وہ اپنے خدا کی خاطر میدانِ جنگ میں اترتے ہیں لہذا مورتیوں کی پوجا کرنے والی قوم ان کے جذبوں کا سامنا نہیں کر سکتی ۔ کنفیوشش کی قوم کبھی بڑی مذہب پرست ہو تی تھی لیکن پھر کارل ماکس کے نظریہ سے متاثر ہونے والے عظیم راہنما ماؤزے تنگ کے دماغ میں یہ خناس سوار ہو گیا کہ مذہب ایک افیون ہے اور کمزود دل لوگوں کا اعتقاد ہے جبکہ حقیقت میں کوئی خدا نہیں ہے۔اس ایک نعرے نے کنفیوشش کی پوری قوم کو لادین بنا دیا۔مذہب کا چین سے خاتمہ ہو گیا لیکن چینیوں کو پھر بھی کسی بلندو بالا ہستی کے وجود کی ضروت تھی۔ ایک ایسی ہستی جس کی عظمت کے سامنے وہ سرنگوں ہو سکیں لہذا اس ہستی کا وجود انھوں نے وطن میں سمو لیا۔اب وہ اسی خدا کی خاطر سر بکف رہتے ہیں ۔ چینی قیادت نے اپنی لگن ِ،محنت اور ویژن سے جس طرح چین کو عالمی سطح پر سپر پاور بنانے کا کارنامہ سر انجام دیا ہے جس سے اپنی دھرتی سے چینیوں کی محبت اوجِ ثریا کو چھو رہی ہے۔وہ دشمن کے سامنے سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن کر کھڑا ہو جاتے ہیں۔ قیادت مخلص ہو تو جان دینے میں بھی لطف آتا ہے۔چوروں ،لٹیروں اور خاصبوں کی خاطر موت کو کون گلے لگاتا ہے؟لداخ کا علاقہ چینی علاقہ کے اندر ہے اور چین کا حصہ ہے لہذا اپنے علاقے کی خاطر اس کا بھارت کو للکارنا جائز ہے۔زندہ قومیں اپنی زمین کے ایک ایک انچ کا دفاع کرتی ہیں۔ان کیلئے دھرتی کا ایک ایک ایک ذرہ انمول ہوتا ہے ۔ چاہے اس پر گھاس بھی نہ اگتی ہو۔گھاس کا دھرتی کے تقدس اور آزادی سے کوئی تعلق نہیں ہوتا؟جان چھڑانی ہو تو کہہ دیا جاتا ہے کہ جس جگہ گھاس نہیں اگتی وہ اتنی اہم نہیں ہے حا لانکہ گھاس کا ہونا یا نہ ہونا دھرتی کی عظمت کے سامنے بے معنی ہوتا ہے۔،۔

اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ بھارت کی چین کے ہاتھوں جو سبکی ہوئی ہے اس نے بھارتی سپر میسی کو زمین بوس کر دیا ہے۔بھارت اپنی عظمت کے جو گن گا رہا تھا چین کی ایک معمولی یلغار نے اسے بھسم کر کے رکھ دیا ہے۔بھارت تو پورے علاقے پر اپنی حاکمیت کے پھریرے لہرانا چاہتا تھا لیکن چین کے ہاتھوں پسپائی نے دوسرے ممالک کو بھی بغاوت پر کمر بستہ کر دیا ہے۔نیپال جیسا کمزور ملک جو بھارت کے نام سے کانپتا رہتا تھا اب کھلے عام بھارت کوللکار رہا ہے اوربھارت دم سادھے اس کی تنقید برداشت کر رہا ہے۔ نیپال کو چینی اشیر واد حاصل ہے لہذا نیپال سے چھیڑ چھاڑ چین سے پنجہ آزمائی کے مترادف ہو گی اور بھارت چین سے پنجہ آزمائی کی ہمت نہیں رکھتا۔بھارت کو بخوبی علم ہے کہ چین کا پلڑا بھاری ہے کیونکہ اس کی سپاہ بے خوف ہے۔چینی بھارتی مسلمان نہیں جھنیں بزورِ قوت دبا لیا جائے،شمشیروں اور نیزوں کی انیوں پر جن کے سروں کو اٹھا لیا جائے ،جھنیں شب کی تاریکی میں اغوا کر لیا جائے،جھنیں سرِ عام لاٹھیوں اور برچھیوں سے لہو لہان کر دیا جائے اور ان کا کوئی پرسانِ حال نہ ہو۔چین ایک آزاد اور زندہ قوم ہے ۔ ایک ایسی قوم جو پر عزم اورجواں ہمت ہے اور وطن کی خاطر مر مٹنے کا جذبہ رکھتی ہے ۔بھارت اسی غلط فہمی میں تھا کہ اس نے جس طرح کشمیر میں نہتے کشمیریوں کو یرغمال بنا لیا ہے اور بھارتی مسلمانوں کو ریاستی جبر سے دبا لیا ہے وہ چین کو بھی ایسے ہی دبا لے گا لیکن بسا آرزو کہ خاک شدی۔ جب اس کی کشتی دوبنے لگی تو پھر اس نے اپنے حلیف امریکہ کو آواز دی۔امریکہ اور چین کی دشمنی تو پوری دنیا پر عیاں ہے۔امریکہ کی خاطر ہی تو بھارت نے چین سے پنگا لے رکھا ہے لہذا امریکہ کا بھارتی آواز پر لبیک کہنا ضروری تھا۔ امریکہ نے بھارت ک پیٹھ ٹھونکی کہ تم چین کے سامنے ڈٹے رہو میں تمھارے ساتھ ہوں ۔ چین میں ابھی اتنی قوت نہیں کہ وہ میری موجودگی میں تمھیں کوئی گزند پہنچا سکے۔بھارتی حمائت میں امریکی بحری بیڑے حرکت میں آ چکے ہیں ۔ کشمیر ی کتنے بد قسمت ہیں کہ ان کے خلاف امریکہ بھارت کی پیٹھ ٹھونک رہا ہے ۔امریکہ کو کشمیری معصوموں کا لہو نظر نہیں آرہا لیکن بھارتی فوجیوں کی چند لاشوں پر وہ برہم ہے۔ کشمیری پاکستان کی جنگ لڑ رہے ہیں لیکن پاکستانی قیادت اخباری بیانات تک محدود ہے۔کشمیر ایک متنازع علاقہ ہے لیکن ہماری حکومت میں اتنا دم خم نہیں کہ وہ اس متناع علاقہ میں بھارتی مداخلت پر کاروائی کرے۔چین کے علاقے میں بھارتی مداخلت پر چین نے بھارت کو جو سبق سکھایا ہے ضروری ہے کہ پاکستان بھی بھارت کوایسا ہی سبق سکھائے تا کہ بھارت کے ہوش ٹھکانے آ سکیں لیکن شائد ایسا فی الحال ممکن نہیں ہے کیونکہ وزیرِ اعظم پاکستان کی نظر میں کشمیریوں کے خون کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔،۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Tariq Hussain Butt

Read More Articles by Tariq Hussain Butt: 527 Articles with 220855 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
17 Jul, 2020 Views: 392

Comments

آپ کی رائے