اماں

(Saba Hassan, Lahore)

زندگی سے اگر آپ کو کوئی مہلت چاہئیے تو مانگ لیجیئے ایک وقت گزرنے کی بعد صرف ہاتھ میں پچھتاوا آتا ہے. ..... مجھے یاد ہے میرے والد صاحب اکثرمجھ سی گفتگو کے دوران اپنے دل کی نہاں خانوں میں پوشیدہ دلخراش لمحوں کا تذکرہ کر دیا کرتے تھے انکی حیات ناپائیدار کا ہر عمل صالحہ اور بد کی میں گواہ ہوں الله انکو بہشت میں مقام اعلی عطاکریں آمین ثم آمین اور ساتھ ہی یہ عہد لیتے کہ روز قیامت میں الله پاک کو گواہی دوں کہ میرے والد نے دنیا میں کسی کا برا نہیں کیا نادانشتہ گناہ کی الله کا ہاں معافی ہے اوراب میں ایک سچے دوست اور رفیق کی طرح والد صاحب کی کی گئی ان باتوں کو خلوت میں دھرا لیا کرتی ہوں مبادا روز محشرمیں بھول جاؤں اعادہ تو بہتر ہوتا ہے.
چند روزقبل مجھ سے ایک ضعیف عورت کی ملاقات ہوئی .... دلفریب نورانی چہرہ ڈھلتی زندگی کی نقاہت اور موسموں کی اتار چڑھاؤجھریوں میں صاف رقصاں وعیاں تھے اکثر ایک لڑکی کو اپنی ماں سی دور رہ کر ایسی محبت اماؤں سی ہوہی جایا کرتی ہے جیسے مجھے ہوئی.
ایک بھراپورا گھرانہ جس کی وہ بیوہ مالک تھی بہت سارا پیار لہجے میں اور شہد سی مٹھاس باتوں میں .... اکثر میری طرف آ کر وہ صرف مجھے دعائیں ہی دینے کا کام کیا کرتی تھی .اس روز وہ بہت اداس تھیں زندگی سی بیزار اور بلا کی تھکی ماندی دکھ رہی تھی .....گرم گرم چائے ہاتھ میں تھا مے وہ وقت کی بے رحم تمازت اور کہرزدہ لمحوں کو شائد شدت سےمحسوس کر رہی تھیں.
وقت کا چرخہ کسی کے حق میں نہں ہوتا یہ بات اپنی گرہ سے باندھ لے بچی... !!! وہ رندھی ہوئی آواز میں بولی اپنی اولاد کی خاطر تو بندہ کیا کیا کرتا ہے بدلے میں یہی خوف جان نہیں چھوڑتا کیا پتا مرنے کی بعد یہ اولاد اچھے الفاظ سی یاد بھی کرے گی کہ نہی, بیٹوں کی عزت کی خاطر کچھ ہی کر لو پتا نہیں کیوں نالاں رهتے ہیں ... بن بیاہی بیٹی اتنا بوجھ نہی ہوتی جتنا بیاہی بیٹی اورانکے ساتھ آئے انکے شوہر عزت کی مستحق ہوتے ہیں باپ کی مرنے کی بعد ایک ماں کو ہی باپ اور ماں دونو کے کردار نبھانے ہوتے ہیں اگر بیٹے اچھے ہوں تو بھرم آسانی سی پورا ہوتا رہتا ہے الله تیرا شکر انہوں نے منہ پر ہاتھ پھیرا .... اور میں ماتھے کی شکنیں چھپاےبےسکت تھی .... آج نہیں سمجھے گی میری اولاد میرے مرنے کے بعد سمجھ پائے گی لیکن زندگی کا دکھ اس سےزیادہ کیا لہو رلائےگا کہ آج اپنے بیٹو کی سوچ پڑھنا ایک ماں کے لے دنیا کا ہی عذاب بن گیا ہے .... ان کے بھرم کے لئے جب کوئی قدم اٹھاتی ہوں تو بھی دنیا کا عذاب میرے وجود کو اپنی لپیٹ میں لے لیتا ہے اور نہ اٹھانے کا تو میں سوچ ہی نہی سکتی .میری اولاد ہے میرے فہم و گمان سے کوسوں دور بچیاں جب بھائیوں کی مدد کرنے کی لئے آگے ہوتی ہیں تو یہ کہتے ہیں اپنا رعب اور دبدبہ اپنے پاس رکھو تمہاری امارت کے دوسرے چاپلوس ہونگے ہم نہی ....
یہ تصویرکاایک رخ ہے ....میرے بیٹے میری بہت عزت کرتے ہیں میرے لئے کچھ بھی کر سکتے ہیں ہاں...!!! بس میری تربیت ہے شائد کہ انکے لہجے میں اندازحکمرانی بستا ہے کبھی کبھی انکو انکی ماں غیر اہم اور نہ سمجھ لگتی ہے ....... ابھی نہی سمجھے گی میری اولاد ....... اماں جب ایسے کہتی تو گویا میرے وجود پر ایک تیز دھار خنجر کا وار کرتیں ......اماں ایسے تو نہ کہیں میں اپنے دھڑکتے دل کو منہ پر ہاتھ رکھ کرواپس کرتے ہوئے کہنے لگی ... نہ بچی!تونہی سمجھے گی تو کیا جانے اولاد کے دکھ یہ تو وہ آزمائش ہے جس میں انسان سرخ رو ہو کر بھی ہاتھ ملتا رہتا ہے ...... اماں جی .... کچھ زیادہ دلبرداشتہ سی تھیں میں اپنی بیٹیوں کے آگے بیٹوں کی رونے نہی روتی ...توبہ !!!! میری بچی لڑکیوں نے اپنے شوہرسے کہہ کر مچھلی کیا منگوا لی لگتا ہے میری آخرت یہ مچھلی خراب کر دی گی میں کیوں کہتی اپنی عزت کی بھائوالیوں سے کہ میرے بیٹے کی جیب خالی ہے ماں کے گھرخوش ہونے کی تم عمر گزار چکی.... جاؤ اپنے سسرال ایک ماں کا کلیجہ کٹتا ہے تمہیں خوش دیکھ کر .... میں ایک ماں ... جس پر صرف میرے سپوتوں کی اندھی محبت کی پٹی بندھی ہےایک نشان عبرت ہوں ایک مخمصہ ہے سلجھنے کا نہی ... میرے مرنے کے بعد بھی نہی ... تو گواہ رہنا ... میرے بیٹے سب سے پہلے ..♥️♥️... پھر کوئی اور اماں نے تو گفتگو میں ہی جیسے اپنی بیٹیوں کو عاق 😭کر دیا تھا اور میں ششدرہ سی ایک ہونق یہ گتھی سلجھا رہی تھی ...... کیا بیٹے اتنےاہم ہوتے ہیں ... اماں جو اپنی موت کے لئے پلکیں بچھاے بیٹھی ہیں اور نالاں ہے کہ بیٹے اسکے فھم وادرک کو سمجھتے نہی جن سے خدشہ ہے کہ مرنے کے بعد بھی اسکی قربانی کو نہی سمجھیں گے اسکی قبر کو نہی تاکیں گے.
اورمیں .... میں مرنے کے بعد الله پاک کے حضور کس کس کو جسٹیفاے کروں گی اپنے والد کو یا اس اماں کو جس کی زندگی کا حاصل حصول صرف اسکے بیٹے ہیں اماں تو ایک جلتے پھکتےاحساس کی گرہ میرے دوپٹے میں بندھوا کر سرد خالی پیالی ہاتھ میں تھما کر کب کی جا چکی لیکن میں حیران ہوں کہ پہلے اماں کی گواہ دنیا میں بنوں یا اسکے اوراپنے مرنے کے بعد روز محشر کا انتظار کروں ....؟؟؟
ذرا آپ ہی مشورہ دیجئے ............................؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟
الله سب کا حامی و ناصر .....

 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: saba hassan

Read More Articles by saba hassan: 12 Articles with 3045 views »
“Good friends, good books, and a sleepy conscience: this is the ideal life.” .. View More
17 Jul, 2020 Views: 124

Comments

آپ کی رائے