پیاسا سندھ۔۔۔۔

(Rida Bashir, Zafarwal)

وہ آتی یہاں سے وہاں چکر لگاتی ادھ کھلے منہ کے ساتھ ادھر ادھر تکتی اور اڑ جاتی میں کب سے انہیں اس مضطرب اور الجھی ہوئی کیفیت میں محسوس کر رہی تھی پھر اچانک کسی خیال کے دماغ میں آنے سے میں اپنی جگہ سے اٹھی۔۔۔ واپسی میں میرے ہاتھ میں ٹھنڈے پانی کا پیالہ اور ابلے ہوئے چاول تھے میرے رکھنے کی دیر تھی کہ وہاں پرندوں کا ہجوم لگ گیا کھاتے جاتے اور اڑتے جاتے۔۔۔۔پانی پئیتے اور آتے جاتے پرندوں کو آتا دیکھ کر خیال بھٹک سا گیا اور اپنی قوم کا کربناک رونا یاد آگیا

پیاسے سندھ کا پیاسا رونا ۔۔۔۔۔۔۔۔پاکستان میں موجودہ پانی کا بحران یاد آیا یہ تو بے زبان تھے ان کا انتظام تو اللہ نے کر دیا لیکن وہ زبان والے جو تھرپارکر، سندھ اور کچی کے علاقوں کے لوگ ہیں اندرون کراچی کے لوگ ہیں قطرہ قطرہ اور بوند بوند پانی کو ترس رہے ہیں جو گٹڑوں کا پانی پینے پر مجبور ہیں سندھ میں پانی کی شدید قلت نے لاکھوں افراد جانوروں اور پودوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔۔۔۔۔سندھ میں مجموعی طور پر صرف 41 فیصد لوگوں کے گھروں میں نلکوں سے پانی تک رسائی حاصل ہے۔ پاکستان میں ریسرچ ان واٹر ریسورسز (PCRWR) نے بتایا کہ سندھ کے 14 اضلاع میں سے جمع کیے گئے 80 فیصد پانی کے نمونے انسانی استعمال کے لئے نااہل ہیں مزید یہ کہ سندھ کے ہسپتالوں میں استعمال ہونے والا 78 فیصد پانی آلودہ اور ناقص پایا گیا۔ تھرپارکر میں بہت سارے چھوٹے بچے اور خواتین مضر صحت پانی کی وجہ سے مر جاتی ہیں پانی کی قلت اور غذائی اجناس کی افزائش نہ ہونے کی وجہ سے غذائی قلت کا بھی شکار ہیں۔۔۔۔ کراچی میں روزانہ 350 ملین گیلن پانی کی قلت کا سامنا ہے۔۔گورنر سندھ عمران اسماعیل کا کہنا ہے کہ سندھ کا سب سے بڑا مسئلہ پانی کا بحران ہے اور ہم اسے حل کریں گے داعووں کے جیسے ایک اور " ڈنگ ٹپاؤ "دعوی ....

آلودہ پانی کی وجہ سے پاکستان میں ہونے والی اموات کا 40 فیصد تقریبا ایک لاکھ افراد کو ہلاک کرتا ہے اب پاکستان میں دہشت گردی بھی کنٹرول میں ہے اور آج سے پہلے کرونا جیسی وبا سے بھی محفوظ تھا لیکن پھر بھی گندے پانی سے اموات کی شرح میں کمی نہیں ہوئی تھی ملک کے دور دراز کے کئی علاقوں میں لوگوں کو پینے کا پانی لانے کے لیے میلوں سفر طے کرنا پڑتا ہے۔۔ سوچتی ہوں کے پاکستان عادل حکمرانوں سے بھرا پڑا ہے لیکن سندھ نے سب پر ایک " وکھڑی دھاک "بٹھا رکھی ہے سندھ میں برسراقتدار پارٹی جن کا اپنا پینے کا پانی فرانس اور جرمنی جیسے ملکوں سے آتا ہے اور اکثر و بیشتر تو کھانے بھی وہیں سے آتے ہیں کیونکہ وہ تو انسان ہیں نا اور سندھ میں رہنے والے لوگ انسان تھوڑی ہیں جن کی حالت زار پر انسانیت ماتم کرنے پر مجبور ہے۔ اور زبان نوحہ کناں ہے اپنے سامنے مائیں بچوں کو بھوک اور پیاس سے روتا اور بلکتا دیکھتیں ہیں لیکن بے بس ہیں کیونکہ خود اپنے ہاتھ کاٹ کر اس حکومت کو پیش کر چکے ہیں اور جوابا نعرہ لگایا کہ" سندھ کھپے" آج سندھ کے وزیر اعلی مراد علی شاہ کس منہ سے بھڑکیں مارتے ہیں کہ کورونا کی وبا ہے اور جانیں سب سے زیادہ قیمتی ہیں۔ جانوں کا ضیاع نہیں ہونے دیں گے ۔۔۔۔

پھر بھی سب سے زیادہ اموات کی شرح وہی ہے حکمران ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کے لیے ہر حد تک نیچے گرتے ہوئے دکھائی دے رہے ہیں لیکن اس معصوم عوام اور مظلوم بچوں کا کیا قصور ہے جو تم جیسے سفاک لوگوں کے لئے صرف ایک سیڑھیی کی حیثیت رکھتے ہیں یہ پیاسے حلق جو آج تھر اور سندھ میں بھوک اور پیاس سے بلکتے نظر آرہی ہیں اس قوم کا اثاثہ اور سنہری مستقبل ہیں ان کی سانسوں کی ڈور ٹوٹنے سے بچاؤ۔۔۔۔۔ اور اقتدار اور رویوں کی ہوس میں آنکھوں سے اندھے اور کانوں سے بہرے مت بن جاؤ کے نہ کچھ سنائی دے اور نہ دکھائی دے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ورنہ اللہ دلوں پر مہر ثبت کر دے گا پیتر تقریبا ایک لاکھ افراد کو ہلاک کرتا ہے اب پاکستان میں دہشت گردی بھی کنٹرول میں ہے اور آج سے پہلے کروں نہ جیسی وہ بات سے بھی محفوظ تھا لیکن پھر بھی گندے پانی سے اموات کی شرح میں کمی نہیں ہوئی تھی ملک کے کوئی دور دراز کئی علاقوں میں لوگوں کو پینے کا پانی لانے کے لیے کئی میل سفر طے کرنا پڑتا ہے سوچتی ہوں کے پاکستان عادل حکمرانوں سے بھرا پڑا ہے لیکن سندھ نے سب پر ایک وکھڑی ڈاگ بٹھا رکھتی ہے سندھ میں برسراقتدار پارٹی جن کا اپنا پینے کا پانی فرانس اور جرمنی جیسے ملکوں سے آتا ہے اور اکثر و بیشتر کو کھانے بھی وہیں سے آتے ہیں کیونکہ وہ تو انسان ہیں نا اور سندھ میں رہنے والے لوگ انسان تھوڑی ہیں جن کی حالت زار پر انسانیت ختم کرنے پر مجبور ہے اور زبان نوحہ کناں ہے اپنے سامنے مائیں بچوں کو بھوک اور پیاس سے روتا اور بلکتا دیکھتیں ہیں لیکن بے بس ہیں کیونکہ خود اپنے ہاتھ کاٹ کر اس حکومت کو پیش کر چکے ہیں اور جو ابن نعرہ لگایا کہ سندھ پے آج سندھ کبھی وزیر اعلی مراد علی شاہ کس منہ سے بھڑکیں مارتا ہے کہ رونا کی وبا ہے اور جانے سب سے زیادہ قیمتی ہیں جانوں کا ضیاع نہیں ہونے دیں گے پھر بھی سب سے زیادہ اموات کی شرح وہی ہے حکمران ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کے لیے ہر حد تک نیچے گرتے ہوئے دکھائی دے رہے ہیں لیکن اس معصوم عوام اور مظلوم بچوں کا کیا قصور ہے جو تم سے سفاک لوگوں کے لئے صرف ایک سیڑھیی کی حیثیت رکھتے ہیں یہ پیاسے حلق جو آج تھر اور سندھ میں بھوک اور پیاس سے بلکتے نظر آرہی ہیں اس قوم کا اثاثہ اور سنہری مستقبل ہیں ان کی سانسوں کی ڈور ٹوٹ نے سے بچاؤ اور اقتدار اور رویوں کی ہوس میں آنکھوں سے اندھے اور کانوں سے بہرے مت بن جاؤ کے نہ کچھ سنائی دے اور نہ دکھائی دے ورنہ اللّٰہ دلوں پر مہریں ثبت کر دیگا۔ کیوں ! بھولے بیٹھے ہو کہ دنیا فانی ہے کل یا پرسوں مرنا بھی ہے بہت سے "سندھ کپھے" کے اور " پاکستان کپھے " کا نعرہ لگانے والے آج منوں مٹی تلے دبے ہیں اللہ جانے قبروں میں کیا معاملات چل رہے ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Rida Bashir

Read More Articles by Rida Bashir: 17 Articles with 4107 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
18 Jul, 2020 Views: 203

Comments

آپ کی رائے