ایرانی قیادت منظرو پس منظر ( ۲ )

(Fateh Mohd Nadwi, )

جب آپ صلی اﷲ علیہ وسلم مکہ سے ہجرت کرکے مدینہ پہنچے تو آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے ان تمام قبیلوں کے درمیان جو مدینہ کے اندر رہتے تھے ایک تحریری معاہدہ طے کیا، اس تحر یری معاہدے میں یہودیوں کے وہ قبیلے بھی شامل تھے جو مدینہ آکر پہلے سے اس بنیاد پر آباد ہو گئے تھے کہ جب محمدصلی علیہ وسلم یہاں آئیں گے تو ہم ان کی اتباع اور تا بعداری کریں گے۔ چوں کہ ان کو حضرت موسیٰ علیہ السلام نے آپ صلی اﷲ علیہ وسلم کے آنے کی بشارت دی تھی ، اسی بنیاد پر مدینے کے یہودی مدت سے اس انتظار میں تھے کہ جب آپ صلی اﷲ علیہ وسلم آئیں گے تو آپؑ کی اتباع کریں گے۔بہر حال آپ صلی اﷲ علیہ وسلم اور آپ کے تمام صحابہ امن و سکون کے ساتھ مدینے میں ہجرت کرنے کے بعد کار دعوت میں مصروف ہوگئے ۔ اسلام مد نی معا شر ہ میں تر قی کی شا ہراہ پر رواں دواں ہونے لگا ۔آپ صلی اﷲ علیہ وسلم کی سرداری اور باشاہت قائم ہونے لگی ۔ مدینے کے وہ تمام لوگ اور قبیلے جو اسلام کے حلقے میں داخل ہوگئے تھے، آپ صلی اﷲ علیہ وسلم کی اطاعت اور فرما ں برداری میں ایک دوسرے پر فوقیت اور سبقت لینے لگے بلکہ وہ ہر طرح سے اپنی جان و مال کو آپ پر قربان کر نے کو ہر وقت تیار رہتے تھے انہیں اپنے اہل و عیال سے زیادہ آپ کی محبت تھی دشمن آپ صلی اﷲ علیہ وسلم کے تئیں حضرات صحابہ کی اس ہمدردی اور جا ں نثاری کو حسد کی نظر سے دیکھتے تھے۔

آخر آپ صلی اﷲ علیہ وسلم کے دشمنوں اور خاص طور سے یہودیوں سے آپ صلی اﷲ علیہ و سلم کی یہ صور تحال برداشت نہیں ہوئی ۔ پھر غزوہ بدر میں مسلمانوں کی قریش مکہ پر فتح سے ان کی دشمنی اور حسد میں مزید اضافہ ہو گیا اور ان کو یہ اندیشہ ستانے لگا کہ اب تمہاری بادشاہت اور اثر مدینے سے ختم ہو جا ئے گا ۔ اس لئے مدینے کے یہودیوں نے اسلام اور مسلمانوں کو کمزور کرنے کے لئے مذموم سازشوں کا سہارا لیا ۔ یہودیوں نے ایک گروہ کو ( جس میں منافقین ، مشرکین عرب عیسائی اور تمام اسلام دشمن عناصر جمع تھے ) اسلام دشمنی کے لئے تیار کیا ۔ان سب کا سردار عبد اﷲ بن ابی بن سلو ل منا فق کو بنا یا۔اس کا تعلق قبیلہ خزرج سے تھا مورخین نے اس کے نفاق کی وجہ یہ بیان کی ہے ۔’’جب ایک طویل مدت کی خونریز جنگ کے بعد اوس اور خزرج میں صلح ہوئی اور یہ فیصلہ ہوا کہ کسی کو اپنا حکمراں بنالیں تاکہ ان کی قوت متحد رہے اور آئندہ اس طرح کے حا لات کی نوبت نہ آئے ۔ تو خزرج میں سے قبیلہ عوف کے سردار عبد اﷲ بن ابی بن سلو ل کی حکمرانی پر سب کا اتفاق ہو گیا ۔ابھی عبد اﷲ ابن ابی کو حاکم مان لینے کی رسم باقاعدہ ادا نہیں ہوئی تھی کہ آفتاب اسلام کی کرنیں یثرب کی فضامیں جلوہ آرا ء ہوئیں پھر رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ و سلم مدینہ تشریف لے آئے ۔ تو ابن ابی کا پورا منصوبہ درہم برہم ہو گیا ۔یہی صورت حال ابن ابی کے نفاق کا پس منظر تھی ‘‘۔ رسول رحمت / ۱۶۸/

مجمو عی طور پر عبداﷲ بن ابی اس شرط پر آما دہ ہواکہ یہودی اس کو اپنا رہنما تسلیم کریں،یہودیوں کے لیے یہ بات مشکل نہ تھی ، کیوں کہ ان کو اپنے مذموم مقصد کی تکمیل کرنی تھی ۔ اس لئے وہ اس پر با آسانی تیار ہو گئے اور عبداﷲ بن ابی کو اپنا نام نہاد قا ئد منتخب کر لیا۔ جبکہ واقعہ میں یہ یہو دیوں کی فطرت اور عا دت کے خلاف تھا،لیکن پھر بھی اسلام اور مسلما نوں کو نیچا دکھا نے کے لیے یہ حر کت انہوں نے کی۔

آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے کار نبوت کو امن و سکون اور اطمینان سے کرنے کے لئے ہجرت کی تھی لیکن دشمنوں نے وہاں بھی آپ کو چین نہیں لینے دیابلکہ مکہ کے اندر دشمن صرف قریش تھے اور ہجرت کے بعد آپ صلی اﷲ علیہ وسلم کے دشمنوں کی تعداد مزید بڑھ گئی تھی، قدم قدم پر مدینے کے اندر آپ کے دشمن تھے ۔جبکہ آ پ صلی اﷲ علیہ وسلم ان تمام سے تحریری معاہدہ کرچکے تھے ، لیکن اس کے باوجود وہ لوگ مسلسل آپ کے خلاف متحد ہوکر مذموم چالے چلتے تھے ،اور آپ کو تکلیف دینے کے لئے وہ کوئی بھی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے تھے ۔آ پ صلی اﷲ علیہ وسلم نے مشر کین عرب کے مظالم سے تنگ آکر ہجرت کی ،لیکن ان ظالموں نے وہاں بھی آپ کا پیچھا کیا ،منافقین اور مدینے کے یہودیوں سے ساز باز کی ،ان کو زبردستی آپ کے خلاف لڑنے پر آمادہ کیا ۔ ’’قریش نے انہیں لکھا کہ تم نے ہمارے جس آدمی کوو ہاں ٹھہرا یا ہے اس سے لڑو اور نکال دو یا ہم سب یکبارگی تم پر حملہ کر دیں گے تمہارے جوانوں کو قتل کریں گے اور عورتوں کو اپنے قبضے میں لے آئیں گے ۔ ابن ابی اور اس کے ساتھیوں نے رسول اﷲ سے جنگ کا ارادہ کیا آپ صلی اﷲ علیہ وسلم کو اطلاع ملی تو بہ نفس نفیس ان لو گوں کے پاس تشریف لے گئے اور سمجھا یا کہ قریش نے تم سے داؤ کھیلا ہے اگر لڑو گے تو اپنے فرزندوں اور بھائیوں سے لڑو گے جو مسلمان ہو چکے ہیں دونوں طرف نقصان تمہارا ہی ہوگا لیکن اگر تمہیں قریش سے لڑنا پڑے تو یہ غیروں سے مقابلہ ہو گا حضور کا یہ ارشاد اس درجہ دلنشیں تھا کہ وہ لڑائی کے ارادہ سے دستبردار ہوگئے ۔( رسول رحمت ۲۶۹)

قریش مکہ جنگ پر تلے بیٹھے تھے ،مسلسل ان کی ریشہ دوانیاں بڑھتی جا رہی تھیں ،نوبت یہاں تک پہنچی کہ انہوں نے مدینہ پر حملے کا منصوبہ بنالیا۔ پھر اس کے نتیجہ میں غزوہ بدر ہوئی ، جس میں اﷲ نے آپ علیہ السلام اور آپ کے صحابہ کو قریش مکہ پر تاریخ ساز فتح عطاکی، اس طرح اﷲ نے اسلام اور اہل اسلام کا سر اونچاکردیااور قریش مکہ کے تمام تکبر اور طاقت کو شرم ناک شکست سے خاک آلود کردیا۔
ایک خطر ناک پہلو بلکہ منفی پلاننگ منافقین کی طرف سے غزوہ بدر کے دن یہ ہوئی کہ انہوں نے مدینہ کے اندر یہ جھوٹی افواہیں پھیلادی کہ مسلمان سخت نقصان اٹھاچکے ہیں مورخ ابن کثیر منافقین کی اس گندی روش اور صورت حال پر لکھتے ہیں۔

’’ایک منافق نے اسامہ کو کہا کہ نبی علیہ السلام اور اسکے رفقا قتل ہوچکے ہیں ، دسرے منافق نے ابولبابہ کو کہا تمہارے رفقا تتر بتر ہو چکے ہیں اور وہ مدینے میں کبھی نہیں آئیں گے محمد ( صلی اﷲ علیہ وسلم ) اور اس کے رفقاقتل ہو چکے ہیں یہ ان کی سواری ہے ۔ہم اس کی سواری پہنچانتے ہیں اور یہ زید بد حواسی کے عالم میں ہے مرعوبیت کے عالم میں تامک ٹوئیاں مارہا ہے تو ابو لبا بہ نے کہا اﷲ تعالیٰ تیری بات کو جھوٹا کر دکھائے گا یہود نے کہا زید شکست کھا کر چلا آیا ہے یہ سن کر حضرت اسامہ اپنے والد کے پاس آئے اور ان سے تنہائی میں پو چھا جو آپ کہہ رہے ہیں کیا و ہ حقیقت ہے؟تو زید نے کہا ہاں ! واﷲ ! میں سچ کہہ رہا ہوں پھر میں دل کو مضبوط کرکے باہر آیا اور اس منافق کے پاس جا کر کہا تو رسول اﷲ اور آپ صلی اﷲ علیہ وسلم کے صحابہ کے بارے میں شر انگیز افواہیں پھیلا رہا ہے جب رسول اﷲ تشریف لائیں گے تو میں تجھے ان کے سامنے پیش کروں گا ۔ وہ تیرا سر قلم کردیں گے تو اس نے کہا میں نے تو یہ بات لوگوں سے سنی ہے ۔چناں چہ قیدیوں کو شقران بدری مولائے رسول اﷲ صلی اﷲ کی نگرانی میں مدینے میں لایا گیا ان کی تعداد ۷۰ تھی معززین اور شرفاء نے آپ کا روحا میں استقبال کیا اور آپ کو فتح کی مبارک باد پیش کی ۔تاریخ ابن کثیر ج ۲/ ۳۸۸

مدینے میں اسلامی ریاست کے مستحکم ہونے کے بعد اسلام دشمن طاقتیں چاروں طرف سے شکست خوردہ ہوگئی اور قیصر و کسریٰ سمیت پوری یہودیت کی حیثیت اسلامی طاقت کے سامنے صرف ریت کا ایک ڈھیر تھی۔ آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے اپنے اعلیٰ اخلاق و کردار ، حسن عمل اور بہترین انتظامی صلاحیت سے اسلام کو ترقی کی شاہرا ہ پر گامزن کردیا تھا،دشمن اب بھی تھے لیکن ان کی حیثیت اب دوسرے درجے کی تھی ۔مزید ان میں اب اتنی طاقت نہیں تھی کہ وہ مدینے کی طرف بری نظر سے دیکھ سکیں مقابلہ آرائی تو کجابہرحال اسلام کی اس مکمل مضبوطی اور ہر طرح کے استحکام کے ساتھ آپ علیہ السلام دنیا سے تشریف لے گئے۔

حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ تعالیٰ عنہ آپ کے بعد آپ کے خلیفہ اور جانشین مقر ر ہوئے۔ حضرت ابوبکر صدیق ؓ عنہ نے اپنی مدت خلافت میں کامیابی کے ساتھ دشمن کی ہر مذموم کوشش کو ناکام کیا ، آپ کے زمانے میں جو فتنے مثلا منکرین زکوۃ مدعیان نبوت اور منافقین کی شکل میں اٹھے تھے آپ نے اپنی فہم و فراست سے سب کا قلع قمع کردیا۔بلکہ اپنی جرأ ت ایمانی سے ان سب فتنہ پرور لوگوں کی گردنوں کو مروڑ کر اسلام کے لئے فتوحات کے دروازے کھول دیے۔

حضرت ابوبکر صدیق ؓ کے بعد شہنشاہ اعظم حضرت عمر فاروق ؓ مسلمانوں کے امیر اور خلیفہ منتخب ہوئے حضرت عمرفاروق ؓجو پہلے ہی سے ہمت اور شجاعت کے نام سے جانے جاتے تھے اب امت کی اہم ذمہ داری کا بوجھ ان کے مضبوط کاندھوں پر تھا۔ آپ نے جر أت اور فہم کی وحد ت سے قیصر و کسرے کی ہزاروں سالہ حکومت کو نہ صرف زیر و زبر کردیا تھا بلکہ ان کو عبرت ناک شکست دیکر ذلت و رسوائی کا طوق ہمیشہ کے لئے ان کے گلے میں ڈالدیا تھا۔مزید دنیا کے اکثر حصوں میں اسلام کی فتح اور کامرانی کے جھنڈے نصب کردیے تھے۔

مجوسیت کا اسلام کے حوالے سے اندرونی بغض اور حسد آتشیں لاوے کی طرح اندر ہی اندر پک رہی تھا ، ایرانیوں نے اسی جوش انتقام میں مجوسی النسل ابولولو کے ذریعہ سے حضرت عمر فاروق ؓ کو شہید کرادیا ۔ حضرت عمر فاروقؓ کی شہادت اسلامی تاریخ کا سب سے بڑا حادثہ ہے کیوں کہ آپ کی شہادت کے بعد دشمنوں کو فتنہ پروری کا موقع مل گیا بلکہ ان کے سینوں میں بھری آگ پھر باہر آگئی ۔

جب تک حضرت عمر بقید حیات رہے تو آپ کی ذات فتنوں کے لئے نہ صرف بڑی رکاوٹ تھی بلکہ آپ کی ذات فتنوں کے سد باب کے لئے ایک بند دروزے کی مانند تھی۔جو دروازہ آپ کی شہادت کے بعد ٹوٹ گیا حضرت حذیفہ ؓ سے روایت ہے کہ حضرت عمر فاروق ؓ نے (صحابہ سے) فرمایا کہ تم سے رسول اﷲ صلی اﷲ وسلم کا ارشاد فتنے کے بارے میں کس کو یاد ہے حضرت حذیفہ بن یمان ؓ نے کہا مجھے اسی طرح یاد ہے جس طر ح رسول اﷲ صلی اﷲ وسلم نے فرمایاتھاحضرت عمر فاروقؓ نے کہا پھر بیان کرو تم حدیث بیان کرنے میں بڑے جری( بہادر) ہو۔ حذیفہ نے کہار سول اﷲ صلی اﷲ وسلم فرمایا کہ انسان جو اپنے اہل و عیال اور اپنے مال و دولت اور ہمسایہ کے بارے میں مبتلائے فتنہ ہوتا ہے تو نماز ، صدقہ اور امر بالمعروف اور نہی عن المنکر اس کا کفارہ بن جاتے ہیں حضرت عمر نے فر مایا میں اس کے متعلق نہیں پوچھتا میرا مقصد تو وہ فتنہ ہے جو سمندر کی موجوں کی طر ح ٹھاٹھیں مارتا ہوگا (یعنی وہ عالم گیر فتنہ جو امنڈ آئے گا )حذیفہ ؓ نے کہا یا امیر المومنین آپ کو اس سے کوئی خطرہ نہیں بلاشبہ اس کے درمیان اور آپ کے درمیان ایک بند دروازہ ہے حضرت عمر نے پوچھا بتاو ٔ وہ دروازہ کھولا جائے گا یا توڑا جائے گاحذیفہ نےؓ جواب دیا توڑا جائے گا اور اور پھر اس کا بند ہونا بہت مشکل ہے ابو وائل کہتے ہیں کہ ہم نے حذیفہ سے پوچھا کیا عمر یہ دروازہ پہچانتے تھے ا نہوں کہا ہاں اسی طرح جانتے تھے جیسے (تم) کل سے پہلے رات ہونے کو جانتے ہومیں نے ان سے ایک حدیث بیان کی جو اٹکل پچو بات نہ تھی ابو وائل کہتے ہیں کہ ہمیں دروازے کے متعلق حذیفہ سے پوچھنے میں ڈر لگا (یعنی ان کا رعب مانع ہوا ) تو ہم نے مسروق سے کہا تو انہوں پوچھا تو حذیفہ نے فرمایا وہ دروازہ خود عمر تھے ۔ (نصر الباری جلد ہفتم کتاب المناقب )

مولانا محمد ظفر اقبال صاحب حضرت امام ا حمد بن حنبل ؒ کے حالات میں لکھتے ہیں ’’ حضرت عمر فاروق رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کی شہادت کے بعدفتنوں کا جو دروازہ کھلا اس کا نتیجہ حضرت عثمان غنی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کی المناک اور مظلونہ شہادت کی صورت میں سامنے آیااور حضرت عثمان غنی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کی شہاد ت کے بعد سے امت جو باہم دست و گریباں ہوئی توآج تک اس سلسلہ کو روکانہیں جاسکا ، اس کی ابتداء جنگ جمل اور واقعہ صفین سے ہوئی جس کے فوراً بعد خوارج کا ایک گروہ پیدا ہوا جس نے اکابر صحابہ کی تکفیر و تضحیک کی اور سبائی طاقتوں نے روافض کو جنم دیا۔ادھر خلافت بنو امیہ کے خاتمے کے بعد بنو عباس نے زمام خلافت سنبھالی تو امین الرشید تک حالات میں ٹھہراؤ آیا امین کے بعد جب مامون الرشید برسراقتدار آیا تو بہت سے فرقے جو اس سے پیشروخلفاء کے زمانے میں دب گئے تھے یا زیر زمین چلے گئے تھے ایک دم باہر نکل آئے اور خلیفہ مامون الرشید ان کا سرپرست اعلیٰ بن گیا، ان میں فرقہ معتزلہ اور جہمیہ کی یہ رائے تھی کہ قرآن کریم دوسری مخلوق کی طرح ایک مخلوق ہے اور جس طرح دوسری مخلوقات حادث ہیں اسی قرآن کریم بھی حادث ہے ۔جبکہ امام احمد بن حنبل اور دیگر اکابر محدثین کی رائے تھی کہ قرآن کریم اﷲ تعالیٰ کا کلام ہے اور اﷲ کا کلام اس کی صفت ہے اور اﷲ کی صفت قدیم ہے لہٰذا قرآن کریم کو مخلوق کہنا جائز نہیں‘‘ ۔(مسند امام احمد بن حنبل ؒ مترجم ص ۳۸)جاری
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Fateh Mohd Nadwi

Read More Articles by Fateh Mohd Nadwi: 27 Articles with 14891 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
28 Jul, 2020 Views: 182

Comments

آپ کی رائے