استنبول (قسطنطنیہ) کی دوسری بار فتح

(Inshal Rao, )

مسجد آیا صوفیہ کی بحالی کے اعلان پر عالمی میڈیا نے اپنی معمول کی نشریات روک کر خصوصی طور پر کوریج دی، اس اعلان کو قسطنطنیہ یعنی استنبول کی دوسری فتح قرار دیا گیا اور جمعہ 24 جولائی کو وہ وقت بھی آپہنچا کہ 86 سال بعد ایک بار پھر سلطنت عثمانیہ و عالم اسلام کی فتح کی علامت مسجد آیا صوفیہ میں تکبیر کی صدائیں گونج اٹھی جس سے نہ صرف ترکی بلکہ پورے عالم اسلام کی فضا خوشگوار ہوگئی، مسلمانوں نے کھل کر قلبی خوشی کا اظہار کیا اور ایمان والوں کی یہ علامت ہے کہ جب وہ اسلام کے بول بالا کی خبر سنتے ہیں تو ان کے دلوں کو ٹھنڈک، راحت اور شفا ملتی ہے، اہالیان تُرکی کا جوش و خروش انتہائی غیرمعمولی ہے ان کے چہروں سے فتح کے جذبات ابھر رہے ہیں وہ اسلام پر کسی چیز کو فوقیت دینے پہ آمادہ نہیں، وہ اپنی کھوئی ہوئی میراث و ایمانی آزادی کے لیے کسی بھی حد تک جا سکتے ہیں جس پر نامور تُرک مصنف و دانشور اورہان پاموک نے لکھا کہ ''ُترکوں نے اپنا فیصلہ سنادیا ہے کہ اب سیکیولرزم سے ان کا کوئی واسطہ نہیں'' جس پر اہالیان مغرب کی طرف سے شدید ردعمل دیکھنے میں آیا ہے اور اسے مغربی لبرلزم پر کاری ضرب قرار دیا جارہا ہے، سوویت یونین کے خاتمے کے بعد تمام دنیا بشمول بھارت، چین، روس، لاطینی و اہالیان اسلام مغربی لبرلزم کے راستے پہ چل پڑے تھے لیکن مغرب میں غیرضروری طور پر پھیلتے ہوے اسلاموفوبیا نے عالم اسلام کو اپنے مرکز کی طرف لوٹنے پہ مجبور کردیا، یہ درحقیقت اس اسلاموفوبیا کا ردعمل ہے جس نے مسلمانوں کے لیے سانس لینا تک دشوار کردیا تھا، کہیں توہین قرآن کی جاتی تو کہیں حجاب کو جہالت قرار دیا جانے لگا حتیٰ کہ حضور اقدسؐ کے خلاف مذموم مہم چلائی جانے لگی اور اسلام کو دہشتگردی سے جوڑ کر پیش کیا جانے لگا، مغرب میں ایک طرف تو تیزی سے پھیلتی اسلاموفوبیا کی وبا تھی جبکہ دوسری طرف تیزی سے عیسائیت ابھر کر آرہی تھی یعنی کہ یورپ تیزی سے مذہبی یورپ کی طرف جارہا تھا اگر سوویت یونین کے بعد کے اعداد و شمار پہ نظر ڈالیں تو سوویت کے خاتمے کے وقت ماسکو و اطراف میں صرف 50 چرچ تھے لیکن محض پانچ سال کے مختصر عرصے میں یہ تعداد 250 ہوگئی اور اب تو روس میں ایک بار پھر آرتھوڈوکس چرچ طاقت پکڑ رہا ہے جس کا اندازہ پیوٹن کی آئینی ترمیم کے مسودے پر ووٹنگ سے لگایا جاسکتا ہے کہ ایک صدی بعد وہاں خدا کا نام لیا گیا۔ اس کے علاوہ پولینڈ کے حالیہ الیکشن کے نتائج سامنے ہیں جس میں ڈوڈا دوسری بار صدر منتخب ہوے ہیں اور یورپ میں شاید ہی کوئی حکومت ایسی ہو جس کے اتنے گہرے مراسم و روابط کیتھولک چرچ سے ہوں۔ مئی 2015 کی بات ہے ہنگری کے وزیراعظم وکٹر اوربن سے تو ہنگری میں تقریباً پانچ ہزار کی مسلمان آبادی برداشت نہ ہوئی تھی جس پر موصوف نے کہا تھا کہ ہمیں حق ہے کہ ہم ہنگری میں اتنے زیادہ مسلمانوں کو برداشت نہ کریں۔ اگلے ہی سال مئی 2016 میں سلوواکیہ کے وزیراعظم رابرٹ فیکو نے بیان دیا کہ وہ سلوواکیہ میں ایک مسلمان کی موجودگی بھی دیکھنا نہیں چاہتے۔ اس کے علاوہ دیگر یورپی ممالک کی سرکار کے ساتھ ساتھ غیرسرکاری تنظیموں نے متعدد موقعوں پر یہ اظہار کیا کہ وہ مسیح ہیں اور مسلمانوں کو اپنے ملک میں دیکھنا نہیں چاہتے۔ حتیٰ کہ انسانی بنیادوں پر شامی مہاجرین تک کی آمد کی اجازت نہ دی گئی۔ اس کے علاوہ بھارت میں بھی ہندوتوا نے عروج پکڑنا شروع کیا اور بدقسمتی سے اس کی بنیاد بھی اسلام دشمنی پر رکھی گئی، کھل کر اسلام دشمنی کے نام پر ووٹ مانگے گئے، اعلانیہ کہا گیا کہ بھارت کو ہندو راشٹر بنانے کے لیے اسلام و مسلمانوں کی موجودگی ختم کی جائیگی، بیس کروڑ سے زائد مسلم آبادی کے ملک میں مسلمانوں کے خلاف مہم چلائی جانے لگی جوکہ انتہائی افسوسناک پہلو ہے اسی بڑھتے ہوے اسلاموفوبیا کے ردعمل میں اہالیان تُرک اپنے مرکز کی طرف لوٹنے پہ مجبور ہوے اور وہ سیکیولرزم پر اسلام کو فوقیت دینے لگے اور دس جولائی کو ترک کونسل آف اسٹیٹ کے فیصلے کے بعد طیب اردگان نے آیا صوفیہ کو مسجد بنانے کا اعلان کردیا جس پر نہ صرف اہالیان ترک بلکہ تمام عالم اسلام نے قلبی خوشی کا اظہار کیا۔ گذشتہ دو دہائی میں دنیا میں رائج مغربی لبرلزم سے تیزی سے لوگ مذہب کی طرف لوٹ رہے ہیں بھارت میں ریاستی پالیسی کے طور پر بھارت کو سیکیولر ریاست سے ہندو راشٹر بنانے پہ زور ہے جبکہ اہالیان مغرب ایک بار پھر مسیحیت کی طرف راغب ہوکر کھل کر اسلام دشمنی کررہے ہیں ایسے میں تُرکی کا یہ فیصلہ استنبول (قسطنطنیہ) کی دوسری بار فتح ہے۔

 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Inshal Rao

Read More Articles by Inshal Rao: 140 Articles with 41191 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
28 Jul, 2020 Views: 198

Comments

آپ کی رائے

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ