5 اگست ، بھارت یا کشمیر کا المیہ!!

(Prof Muhammad Khursheed Akhter, Islamabad)

 5 اگست 2019ء کو بھارتی انتہا پسند حکومت نے راجہ ھری سنگھ کے ساتھ کیے گئے اپنے ہی معاہدے کی پیٹھ میں خنجر گھونپ دیا، اور آرٹیکل 370 اور پنتیس اے کو ختم کر دیا، آرٹیکل 370 کے تحت کشمیر کو خصوصی حیثیت دی گئی تھی جو ختم کی گئی جبکہ پنتیس اے، کے تحت غیر کشمیری کو کشمیر میں آباد ھونے کا حق نہیں تھا، یہ نہ صرف بھارت اور کشمیر کے درمیان معاہدہ تھا بلکہ عالمی قوانین اور اقوام متحدہ کی قراردادوں اور تقسیم ہند کے پلان کے مطابق بھی کشمیر کی خصوصی اور متنازع حیثیت تھی، فی الوقت تو انڈین آئین میں ترمیم کرکے اس آرٹیکل کو ختم کیا گیا ھے، تاھم پہلی مرتبہ مودی حکومت نے کشمیر کو لداخ، جموں اور وادی میں تقسیم کر دیا، بھارت کے اس غیر انسانی، غیر اخلاقی اور غیر قانونی طریقے سے کشمیری عوام بچوں، خواتین اور سب کے ساتھ صدائے احتجاج بلند کرتے ہوئے باھر نکل آئے، بھارتی حکومت نے سخت کرفیو نافذ کر کے کشمیری عوام کو ایک قلعہ نما حصار میں بند کر دیا، موبائل سروس، انٹرنیٹ، احتجاج اور غیر جانبدار افراد اور عالمی نمائیندوں کے داخلے پر پابندی عائد کر دی، پاکستان نے بھی ھمیشہ کی طرح اپنے کشمیری بھائیوں کی بھرپور حمایت کی، عالمی سطح پر وزیراعظم پاکستان عمران خان اور وزارت خارجہ نے کشمیر کی آواز پہنچائی، وزیراعظم عمران خان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں زور دار طریقے سے سفارت کاری کی اور مودی کے غیر انسانی، نسل پرست اور فاشسٹ نظریے اور عمل کو ایسے بے نقاب کیا کہ اب عالمی میڈیا، عالمی رہنما اور غیر جانبدار کیا بلکہ بھارت کے دوست ممالک بھی مودی کو ھٹلر، انتہا پسند، اور نسل کش فاشسٹ حکمران کے نام سے پکارتے ہیں۔ یہ اس سے پہلے نہیں ھوا گویا دنیا منصفی کرے گی یا نہیں کرے قطع نظر اس کے مودی اور اس کی جماعت دنیا بھر میں فاشزم کی ایک مثال بن چکی ھے، اس میں عمران خان کا کریڈٹ زیادہ ہے کیونکہ ایک عالمی شہرت یافتہ کرکٹر ہونے اور پھر وزیر اعظم پاکستان کی وجہ سے انفرادیت حاصل تھی، اسی بنیاد پر ترکی، ملائیشیا، ایران، او آئی سی، یورپی یونین اور اب اقوام متحدہ نے بھی مودی کی پالیسیوں، ھندواتا کے گھناؤنے اقدامات کی مذمت کی ہے، حال ہی میں اقوام متحدہ نے بھارت میں دھشت گردوں کی بھی نشاہدہی کی ھے، اس سے دنیا کا نقطئہ نظر تبدیل ھوا، جہاں پہلے پاکستان کو تنہا سمجھا اور دیکھا جاتا تھا وہاں اب چین، ایران، ترکی، ملائیشیا سخت موقف کے ساتھ اور امریکہ، برطانیہ، سعودی عرب، یو اے ای اور یہاں تک اب بنگلہ دیش بھی پاکستان کے ساتھ کھڑا نظر آئے گا۔5 اگست کو انڈین آئین کے آرٹیکل ختم ھوئے مگر بھارت کی ریاست، سیکولر سیاست اور آر ایس ایس جیسی نسل پرست اور سفاک تنظیم بھی پوری طرح بے نقاب ھوگئی، اس وقت خصوصاً اس فاشسٹ نظریے کے پس پردہ عزائم کھل کر سامنے آئے جب ھندوستان میں ایک اور شہریت بل سامنے آیا جس میں مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں کی شہریت ختم کر دی گئی، بنگلہ دیش، پاکستان اور برما سے آنے مسلمان جو سال ہا سال سے وہاں رہ رہے ہیں آر ایس ایس کی غنڈہ گردی کا شکار ہیں، ان کی شہریت ختم کر دی گئی، ھندوستانی معاشرہ مکمل تقسیم ھو کر رہ گیا، ششی تھرور، نصیرالدین شاہ سمیت، فاروق عبداللہ، محبوبہ مفتی، عمر عبداللہ جیسے لبرل لوگ بھی یہ کہنے پر مجبور ہو گئے کہ جناح آج بھی جیت رہا ہے، 5 اگست کے بعد عمران خان نے اکثر کہا کہ مودی نے غلطی کر دی ہے اس کا خمیازہ بھگتنا پڑے گا، اس آرٹیکل کے خاتمے کے بعد بھارت نے دو لاکھ فوج کے مزید دستے کشمیریوں پر مسلط کر دئیے اب نو لاکھ بھارتی فوج، بارڈر سیکیورٹی فورس، پولیس اور آر ایس ایس کے ٹرینڈ اہلکار وہاں موجود ہیں، جن کا کام زبردستی ابادی کو تبدیل کرنے کا مشن سونپا گیا ہے زبردستی بھارتی شہریوں کو کشمیر میں بسایا جا رہا ہے جبکہ کشمیری مسلمانوں پر ظلم کا بازار گرم کر رکھا ہے، جسے اب کشمیر کے بچے بھی آزادی کا نعرہ لگا کر سہہ رہے ہیں،

دوسری طرف امریکہ کے کہنے پر بھارت نے چین کا راستہ روکنے کی کوشش کی، مگر سارا منصوبہ بھارت کی پسپائی تک جاری ھے۔اج چین لداخ،اور اس کے گردونواح کے علاقوں اور چوٹیوں پر قابض ھے، نہ صرف یہ بلکہ نیپال، بھوٹان اور بنگلہ دیش نے بھی بھارت کو اپنی اوقات میں رہنے کی دھمکی دے دی، بھارت کا ایران سے چار سو ملین ڈالر کا معاہدہ چہاہ بہار بندرگاہ بھی ختم ہو گیا اور اب چین اور ایران کے درمیان طویل مدتی آزاد تجارت اور بندرگاہ کا معاہدہ ھو چکا ھے، اس کی منزل سی پیک، ون بیلٹ روڈ کا معاشی لائف لائن کا منصوبہ ہے جس کے لیے چین نے بھارت کی "چیکن نک" اپنے قبضے میں لے لی، ایکچول کنٹرول لائن کہیں پیچھے رہ گئی اور چین ھماچل پردیش تک پہنچ گیا، بھارت اپنے درجنوں فوجی اور اسلحہ و بارود سمیت علاقہ بھی گنوا بیٹھا، ایک ہی مذہب اور ایک منزل والا چھوٹا سا ملک نیپال بھی بھارت کے سامنے کھڑا ہو گیا، پانچ اگست کو مودی ایک اور حرکت کرنے جا رہے ہیں کہ ایودھیا میں رام مندر کا افتتاح کیا جائے گا، آر ایس ایس کے نظریے اور حلف کی پاسداری کا مودی کے اس دور حکومت کا بڑا منصوبہ ہے، مگر تجزیہ کیجیے کہ پانچ اگست بھارت کا المیہ ثابت ہو رہا ہے کہ کشمیر کا، اگرچیکہ کشمیری گزشتہ 73 سال سے محکوم بنا دئیے گئے ہیں، ان سے آواز تک چھین لی گئی مگر نسل در نسل تحریک آزادی میں تیزی آرہی ہے، لیکن اصل المیہ بھارتی معاشرے اور پڑوسیوں کے دباؤ کا ھے، مودی کمرشل ازم پر ھر کسی کو جھپی ڈالتے رہے، مگر اپنے ھمایتیوں کو کھو دیا، معیشت کو شدید جھٹکا لگا، رہی سہی کسر کورونا اور بھوک نے نکال دی اس وقت بھارت سخت دباؤ میں ھے اندرونی اور بیرونی سطح پر شدید ردعمل کا سامنا ھے، اگرچہ بھارت ایک بڑا ملک ھونے کے ناطے کچھ بچاؤ کر لے گا مگر معیشت گرتے گرتے غربت اور پسماندگی کا ذریعہ بنے گی، کشمیری عوام کو بقول غامدی صاحب ایک محمد علی جناح کی ضرورت ہے، جو اسے سیاسی اور قانونی جنگ کے ساتھ متحد ہو کر منزل تک لے جائے، قیادت کا بحران اور مانگے تانگے کی حریت زیادہ دیر نہیں چل سکتی کشمیری نوجوانوں کو یہ سوچنا ھو گا آج ایک قائد اعظم ان کا مستقبل روشن کر سکتا ہے، انسانی المیے جنم لیتے رہیں گے مگر بھارت جس المیے کا شکار ہے اس سے نکلنے کے لیے بہت وقت لگے گا تب شاید بھارت کے معاشرے کی تقسیم کسی نئے ملک کے قیام کا باعث ھو۔کرفیو اٹھا تو کشمیری بھی بھارت کے سر پر ھوں گے، وقتی کشمیر کی حثیت بدلنے سے بھارت کی ھر ریاست میں ایک المیہ دیکھنے کو ملے گا۔

 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 274 Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Prof Muhammad Khursheed Akhter

Read More Articles by Prof Muhammad Khursheed Akhter: 86 Articles with 20497 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Comments

آپ کی رائے
Language: