قابلِ فخر يا افسوس کرده

(Fahad Azad, Karachi)

ایک عرصے سے سوچ رہا تھا کہ اس موضوع پر لکھوں ذہن میں کسی دن کا سوچ کر بیٹھ جاتا پھر اس دن لکھنے سے قاصر رہ جاتا، لیکن آج ہمت کر کے لکھنا شروع کیا ہے۔ میری ایک بُری عادت ہے کہ میں جو بھی لکھتا ہوں ہمیشہ آدھے میں چھوڑ دیتا ہوں لیکن امید ہے کہ یہ موضوع پورا لکھوں گا۔

"ایدھی" لفظ سنتے ہی آپ سب کے ذہن میں دو تصور قائم ہونگے، ایک عبدالستار ایدھی جو ایک مسیحہ مانا جاتا ہے اور دوسرا ان کی بنائی گئی "ایدھی" ایمبولینس سروس۔ کہا جاتا ہے کہ ایدھی ایمبولینس ایشیا کی سب سے بڑی ایمبولینس سروس ہے اور کہیں پڑہا تھا کہ اس سروس کو گنیز ورلڈ رکارڈ میں شامل کیا گیا تھا، بالکل اتنا بڑا ایمبولینس کا پورے ملک میں نیٹ ورک دیکھ کر حیرت ہی ہوتی ہے، یہ عبدالستار ایدھی کی ہی محنت ہے، ہمارے لوگ فخر سے کہتے ہیں کہ اتنی بڑی سروس ہمارے ملک میں موجود ہے یہ ایک قابلِ فخر بات ہے۔

عبدالستار ایدھی نے اپنی پوری زندگی دوسروں کی مدد میں گذار دی، دوسروں کے دکھ کو سکھ میں تبدیل کرنے میں وقف کردی، ہمیشہ بے سہارا لوگوں کو سہارا دیا۔ اس ہی نیت سے یہ سروس شروع کی ہوگی کہ جتنا ہوسکے سہولت میسر کر سکیں اور اس نتیجے میں آج ہمارے ملک کے لوگ فخر کرتے ہیں، کرنا بھی چاہئے ، میں ذاتی طور پہ عبدالستار ایدھی سے متاثر ہوں ، لیکن آج میں اس سروس پر اپنے دل کی بات لکھنا چاہتا ہوں۔

سکے کا ایک رُخ قابلِ فخر اور دوسرا رُخ دیکھتا ہوں تو مجھے بہت افسوس ہوتا ہے کہ ہمارے معاشرہ کس طرح سے چیزوں کو اپنانے کا عادی بن چکا ہے، بظاہر تو ایک بڑا فائدہ مند ثابت ہوا لیکن اِس کو اس طرح دیکھا جائے کہ اتنی تعداد میں ایمبولینس کا ہونا مطلب ہمارے ملک میں بیماروں اور حادثات کے واقعات حد سے زیادہ ہیں، ظاہر سی بات ہے ، صرف ایک سروس کے پاس اتنے بڑے تعداد میں ایمبولینس ہیں اس کے علاوہ ملک میں نہ جانے کتنی سروسز ہیں ۔

غیر براہ راست ہم خوش ہیں کہ ہمارے ہاں مریض، بیمار موجود ہوں تاکہ ایک کارنامہ سرانجام ہوسکے۔میں معاشرے کی اس سوچ کو غلط کہہ رہا ہوں جس بیماروں اور مریضوں کو غیر براہ راست قابلِ فخر سمجھا جائے۔

یہ ملک کی انتظامیہ پر بھی سوال ہوتا ہے کہ اس سسٹم کو ختم کرنے یا بہتر بنانے کیلئے اقدام اٹھائے جائیں ملک میں صحت کی سہولتوں کو بہتر بنایا جائے، جس وجہ سے حادثات ہوتے ہیں ان وجوہات کو دیکھ کر ایسا طریقہ کار لایا جائے جس سے حادثات میں کمی ہو۔ اگر ان باتوں پر سختی سے عمل ہو اور ساتھ ہی Check and Balance بھی کیا جائے تو بہت بہتری ہوسکتی ہے اور ہم سب کو اس پر فخر کرنا چاہئے۔

 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Fahad Azad

Read More Articles by Fahad Azad: 8 Articles with 3811 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
30 Jul, 2020 Views: 223

Comments

آپ کی رائے