چوہدری پرویز الہی اور جنت کے ٹکٹ

(Muhammad Hanif, Karachi)
 
72 سال پہلے ہم نے یہ ملک بنایا اور کوئی مانے نہ مانے ہم نے اسے اسلام کے نام پر بنایا۔ لیکن پھر ہمارے ساتھ ایک تاریخی حادثہ ہوا جو کسی اور مسلمان ملک کے ساتھ نہیں ہوا۔
 
اسلام کے اس قلعے میں اسلام خطرے میں آ گیا۔
 
ابھی مہاجرین کے قافلوں نے پڑاؤ ڈالا ہی تھا کہ ہمارے بڑوں نے پوچھا کہ اس ساری مار کٹائی، ہجرت اور بے وطنی کا مقصد کیا تھا۔ طے ہوا قرارداد مقاصد منظور کی جائے۔ عہد کیا جائے کہ اس ملک میں قرآن و سنت سے باہر کوئی قانون نہیں بنے گا۔
 
اس کے بعد کسی سوال کی گنجائش تو نہیں بچی تھی لیکن ایوب خان آیا تو اس کی آمریت کو اگر کبھی ہلکا سا دھچکہ لگتا تو اسلام خطرے میں آ جاتا۔
 
اسلام کو بچاتے بچاتے ہم نے آدھا ملک گنوا دیا۔ جب بنگلہ دیش والوں نے کہا اپنا اسلام اپنے پاس رکھو ہم کوئی تم سے کم مسلمان نہیں۔ ہم نے ہمت نہیں ہاری اور امت کی قیادت کے خواب دیکھنے شروع کیے۔
 
بھٹو پر برا وقت آیا تو انھیں بھی سوشلزم بھول گیا اور انھوں نے جمعے کی چھٹی وغیرہ دے کر اسلام اور اپنی جان بچانے کی کوشش کی۔ بھٹو کی جان بھی گئی اور اسلام کو خطرے اتنے بڑھ گئے کہ جنرل ضیاء کو گیارہ سال تک کلاشنکوف اور ہیروئن والا اسلام کبھی امپورٹ تو کبھی ایکسپورٹ کرنا پڑا۔ ہمارے اسلام نے کمیونزم کو شکست دی۔
 
ہونا تو یوں چاہیے تھا کہ اس کے بعد ہم اور اسلام ہنسی خوشی رہنے لگتے لیکن پتہ چلا کہ اسلام کو بڑا خطرہ تو اب ہے۔ وہ جہاد جو چیچنیا اور بوسنیا میں لڑا جاتا تھا وہ ہماری گلیوں میں آ گیا۔ ہمارے اپنے بچے ہماری مسجدوں میں پھٹنے لگے۔ ہمارے بڑے ناز و نعم سے پالے ہوئے مجاہد ہماری ہی چھاونیوں اور تھانوں پر حملہ آور ہو گئے۔ ہمسائے کے گھر لگائی گئی آگ ہمیں ہی جھلسانے لگی۔
 
کبھی آپریشن راہ راست کرتے کرتے ہمیں لگا کہ اب ہم واقعی راہ راست پر آ گئے ہیں۔ ہماری مسجدیں آباد ہونے لگیں۔ فرقہ واریت کے عفریت کو بھی ہم نے نیند کے انجیکشن لگا کر کچھ دیر کے لیے سلا دیا۔ امید تھی کہ اب اسلام خطرے میں ہے کا نعرہ نہیں چلے گا۔
 
ہماری صحت خطرے میں ہے، فصلیں خطرے میں ہیں، ہماری معیشت مر رہی ہے۔
 
اس ماحول میں لاہور میں پنجاب اسمبلی میں بیٹھے ہمارے منتخب نمائندوں نے پتہ چلایا کہ پتہ کیا خطرے میں ہے، اسلام اور اس دفعہ صرف اسلام کو کوئی چھوٹا موٹا خطرہ نہیں بلکہ اسلام کی بنیادوں کو خطرہ ہے اس لیے فوری طور پر ایک قانون بنایا جائے جس کا نام ہو تحفظِ بنیادِ اسلام۔
 
 
یہ قانون جس سرعت سے پاس ہوا اور جس طرح ہر طرح کی سیاسی جماعت نے یک زبان ہو کر اس کی حمایت کی ہے کہا جا رہا ہے کہ اس کا کریڈٹ پنجاب اسمبلی کے کے سپیکر چوہدری پرویز الہیٰ کو جاتا ہے۔
 
چوہدری صاحب کبھی کبھی سیدھی بات کر جاتے ہیں۔ کچھ ہی دن پہلے اپنی سپیکر کی کرسی پر بیٹھے فرما رہے تھے عمران خان کو باجوہ لے کر آیا ہے جس طرح مجھے مشرف لے کر آیا تھا۔ کوئی اور اس طرح کی بات کرے تو سازشی اور غدار کہلائے لیکن چوہدری صاحب چوہدری صاحب ہیں ان سے کوئی یہ بھی نہیں پوچھ سکتا کہ انھیں کب یہ خواب آیا کہ اسلام کی بنیادیں تحفظ مانگ رہی ہیں۔
 
جس طرح سے ہر جماعت نے ان کا ساتھ دیا اس سے تو دو باتیں سمجھ میں آتی ہیں۔ سب سیاسی جماعتیں لبیک والوں کے لاکھوں ووٹروں کو للچائی ہوئی نظروں سے دیکھ رہی ہیں۔ گزشتہ الیکشن میں تحریکِ لبیک چوتھی بڑی سیاسی جماعت بن کر ابھری تھی۔
 
دوسری وجہ یہ کہ سب کو اپنے ارد گرد گھومتے کسی نادیدہ ممتاز قادری سے ڈر لگتا ہے۔ آپ کے پاس کوئی بل لے کر آیا جس پر لکھا تھا تحفظِ بنیادِ اسلام اور آپ نے اس پر دستخط نہیں کیے تو پھر دیکھیں متوالے آتے ہیں۔
 
پنجاب اسمبلی کے ایک رکن نے اس بل کی ایک منظور شدہ کاپی اپنے مرحوم والد کی قبر پر پیش کی ہے۔ قبر پہ لگا کتبہ پڑھ لیں تو آپ کو ہماری تاریخ کی کچھ ہولناک جھلکیاں نظر آئیں گی۔
 
نئے قانون کی وجہ سے فرقہ واریت کا اونگتا ہوا عفریت جاگنے کا خطرہ اتنا حقیقی ہے کہ جماعت اسلامی کو بھی کہنا پڑا ہے کہ ذرا وہ پہلے اسلامی نظریاتی کونسل سے بھی مشورہ کر لیں۔
 
بل کی منظوری کے بعد ایک مولانا یو ٹیوب پر اپنے خطاب میں فرما رہے تھے کہ یہ بل پاس کر کے چوہدری پرویز الہی اور ان کے ساتھ پوری پنجاب اسمبلی کے ارکان نے جنت کا ٹکٹ کٹا لیا ہے۔
 
کل بھی ایک ذہنی طور پر معذور شخص پشاور کی عدالت میں پیش ہوا۔ الزام اس پر گستاخی کا تھا۔ ایک مردِ مومن نے جج کی آنکھوں کے سامنے اس کو چھ گولیاں مار کر ہلاک کیا۔
 
ہم نے اسلام کو درپیش خطرات سے اپنی قوم کو اتنا خبردار کر دیا ہے کہ اب لوگ جنت کے ٹکٹ کے لیے چوہدری پرویز الہی کے کسی نئے قانون کا انتظار نہیں کرتے بلکہ کسی کا خون کر کے جنت کا ٹکٹ خود ہی خرید لیتے ہیں۔
Partner Content: BBC Urdu
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: محمد حنیف

Read More Articles by محمد حنیف: 5 Articles with 2263 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
31 Jul, 2020 Views: 599

Comments

آپ کی رائے
Love it sir khush rahen
By: Sheeraz khan, Karachi on Jul, 31 2020
Reply Reply
0 Like