ہر پاکستانی بارڈر پر سختی ہونی چاہئے

(Syed Maqsood ali Hashmi, )

ملک پاکستان کی حفاظت کے لیے ایسے اقدام کرنے چاہیے کے غدار وطن کو پاکستان اور پاکستانیوں کو نقصان پہچانے کی ہمت ہی نہ ہو۔ جیسے کے چمن بارڈر خڑ قمر کا ایکشن ری پلے

سرکاری اندازے کے مطابق چمن بارڈر پر روزانہ پچیس سے تیس ہزار افغانی بغیر پاسپورٹ اور ویزے کے پاکستان آتے جاتے ہیں۔ یہ کسی طرح چیک نہیں ہوسکتا کہ ان میں کون دہشتگرد ہے اور کون نہیں۔
بلوچستان اور کراچی میں حالیہ دہشت گردی کی وارداتوں کے بعد تورخم کی طرح چمن بارڈر پر بھی آمدورفت کو قانونی شکل دینے کا فیصلہ کیا گیا۔ تاکہ دہشت گردی اور سمگلنگ کی روک تھام ہوسکے۔

بغیر ویزے کے سرحد پار کرنے والے افغانیوں میں بڑی تعداد ان مزدروں کی ہے جن کو مقامی "لغڑی" کہتے ہیں۔ ان افغانیوں کو ریاست پاکستان نے خصوصی رعایت دے رکھی تھی جس کی وجہ سے وہ صرف شناختی کارڈ دکھا کر آتے جاتے تھے۔ کرونا کی وجہ سے سرحد کی بندش اور حالیہ حکومتی فیصلے کے بعد ان مقامی افغانیوں کی بڑی تعداد سرحد کے دونوں طرف احتجاج کرنے بیٹھ گئی۔ پھر اس احتجاج میں عید کے لیے افغانستان واپس جانے والے بہت سے افغانی بھی شامل ہوگئے۔

افغانی "لغڑیوں" سے زیادہ زیادہ غم و غصہ وہاں سمگلنگ کرنے والوں یا دہشتگردی کی سرپرستی کرنے والوں کو تھا۔
عمومً چمن بارڈر پر ایسا احتجاج چند دن میں پرامن طریقے سے ختم ہوجاتا ہے۔ لیکن اس بار احتجاج کو ھائی جیک کرنے کے لیے پہنچ گئی پی ٹی ایم کے "لروبر" والے فسادی۔
ننگا ہوکر تقریریں کرنے کے شوقین پی ٹی ایم کے ہم جنس پرست لیڈر ملا بہرام نے لوگوں کو اکسایا کہ بس اب پاکستان کو توڑنے کا وقت آپہنچا اور پی ٹی ایم کا پسندیدہ نعرہ "وزرے پے" (چڑھ دوڑو) لگایا۔ ہزاروں افغانی اور کچھ مقامیوں نے پہلے پتھراؤ کیا اور پھر ایف سی کی تنصیبات اور قرنطینہ سنٹرز پر حملہ کر دیا۔ اس حملے کی کئی ویڈیوز موجود ہیں۔ املاک کو آگ لگا دی اور جو ہاتھ لگا لوٹ لیا۔

ایف سے نے ہوائی فائرنگ کر کے ڈرانے کی کوشش کی تو ایف سی پر بارڈر کی دوسری طرف سے افغان فورسز نے فائرنگ شروع کر دی۔ بھگ دڑ مچ گئی۔ کہا جاتا ہے کہ اموات افغان فورسز کی اسی فائرنگ سے ہوئی ہیں۔
پی ٹی ایم نے لوگوں کو ورغلایا اور افغان فورسز نے لاشیں گرائیں یوں یہ پی ٹی ایم اور افغان فورسز کا مشترکہ آپریشن ثابت ہوا۔
ایف سی نے جواب میں افغان فورسز کی فائرنگ روکنے کے لیے ان پر فائرنگ شروع کردی۔ ایف سی کے جوابی حملے میں کئی افغان فوجی ہلاک ہوگئے۔

ہجوم میں ایک صفت یہ ہوتی ہے کہ اس کو کنٹرول نہیں کیا جاسکتا۔ افغانستان کی طرف ہجوم میں بھی بھگ دڑ مچی تو انہوں نے بھی وہی کرنے کی کوشش کی جو اس طرف والے کر رہے تھے۔ لیکن وہاں کی افغان فورسز نے پاکستانی ایف سی کی طرح بلکل برداشت نہیں کیا۔ سیدھی فائرنگ کی۔ ایک رپورٹ کے مطابق وہاں 90 افغانی سولینز ہلاک ہوئے۔ لیکن اس پر کسی نے کوئی احتجاج نہیں کیا۔

یہ سہولت صرف پاکستان میں میسر ہے۔ کہ فورسز پر حملہ کرو پھر مظلوم بن کر ہمدردیاں بھی سمیٹو۔ ایرانی زندہ جلا دیتے ہیں یا دریا برد کر دیتے ہیں غیر قانونی طریقے سے سرحد پار کرنے والے افغانیوں کو۔ جب کہ خود افغان فورسز سیدھی فائرنگ کر کے ایک ایک دن میں سینکڑوں کو مار دیتے ہیں۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ پاکستان میں ایف سی پر حملہ کرنے والے افغانی مظاہرین کو لیڈ کرنے والا افغان بارڈر فورس کا افسر بارک اچکزئی بھی ہلاک ہوا۔ اگر ایف سی سچ مچ اندھا دھند سیدی فائرنگ کرتی تو صرف تین ہلاکتیں نہ ہوتیں بلکہ ان ہزاروں مظاہرین میں سے سینکڑوں ہلاک ہوجاتے اور انہیں لوٹ مار کرنے کا موقع بھی نہ ملتا۔

سچ یہی ہے کہ یہ پی ٹی ایم اور اس کی پشت پناہی کرنے والی افغان فورسز کا مشترکہ آپریشن تھا جس کا مقصد ہجوم کو مشتعل کر کے فورسز پر حملہ کرانا، کچھ لاشیں گرانا اور پھر اس کے بل پر مزید پراپگینڈا کرنا تھا۔ یہ بلکل خڑ قمر واقعے کا ایکشن ری پلے تھا۔

افغانیوں کو تو ہم اپنا جسم بھی کاٹ کر کھلا دیں وہ راضی نہیں ہونگے۔ لیکن یہ ہم پشتونوں کو کیا ہوگیا ہے؟
افغانی ہمیں کب تک اپنی ہی فورسز کے خلاف استعمال کرتے رہیں گے؟؟

منظور جو چند ہزار روپے تںخواہ پر پولیو کے قطرے پلایا کرتا تھا اب دو کروڑ کی گاڑی میں پھرتا ہے اور پشاور اور اسلام آباد کے ڈی بارہ جیسے سیکٹرز میں پلاٹس لے رہا ہے،
آسٹریلیاں میں نوکری اور اسائیلم لینے کی ناکام کوشش کرنے والا محسن داؤڑ کروڑ پتی ہوگیا ہے،
گلالئی اسمعیل امریکہ پہنچ گئی ہے،
ہمیں کیا مل رہا ہے؟
چند نعرے؟؟

ہم کیوں ان سرخوں کے نعروں پر خود اپنی جان اور ریاست کے دشمن بنے ہوئے ہیں؟
بابڑہ سے لے کر خڑ قمر اور چمن تک ان کا ایک ہی طریقہ واردات ہے ۔۔ "ورزے پے" ۔۔ لیکن ہم سمجھنے کے لیے تیار نہیں۔


 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Syed Maqsood ali Hashmi

Read More Articles by Syed Maqsood ali Hashmi: 138 Articles with 50684 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
07 Aug, 2020 Views: 520

Comments

آپ کی رائے