مجھے کسی حال میں سکون نہیں ملتا تھا۔۔۔شوبز کی چکا چوند کو چھوڑ کر دین کی راہ پر چلنے والے ستارے

 
کہتے ہیں کہ جب اﷲ کسی کو ہدایت دیتا ہے تو پھر اسے دنیا کی ہر چیز معمولی لگتی ہے اور دین کی روشنیوں میں ہی سکون ملتا ہے۔۔۔ایسی ہدایت ملی پاکستانی شوبز کے چند ستاروں کو جنہوں نے شہرت کی اونچائیوں پر اپنے دل کے بدلتے ہی راہ بھی بدل لی اور دین اسلام پر خوشی خوشی گامزن ہوگئے ۔۔۔
 
سارہ چوہدری
ایک دور تھا جب لاہور سینٹر اور کراچی سینٹر پر راج کرتی تھی معصوم صورت سارہ چوہدری۔۔۔مشہور ڈراموں میں کام کیا اور راج کیا۔۔۔گیارہ سال بعد سارہ چوہدری کی زندگی میں ایک بڑی تبدیلی آئی اور بہترین اداکارہ ہونے کے باوجود انہوں نے اپنی سمت کو بدل لیا۔۔۔وہ غائب ہوگئیں۔۔۔سب نے سوچا کہ شادی ہوگئی ہے اس لئے لیکن صرف یہی بات نہیں دی۔۔۔خوش نصیب سارہ چاہدری نے دین کی رسی کو مضبوطی سے تھام لیا تھا۔۔۔انہوں نے قرآن کو باقاعدہ ترجمہ کے ساتھ پڑھا اور تفسیر پڑھنے کے بعد پردہ کا اہتمام شروع کیا۔۔۔اور بعد ازاں تبلیغ میں بھی آئیں۔۔۔آج بارہ سال ہوگئے ہیں اور وہ مستحکم انداز میں اﷲ کو راضی کرنے میں مصروف ہیں۔۔۔
 
ستائش
لاہور کی ایک اور اداکارہ ستائش کو ماڈرن دنیا کا ابھرتا ہوا چہرہ مانا جاتا تھا۔۔۔ستائش کا کہنا تھا کہ جب میں نے دین کی طرف رخ کیا تو میرے لئے یہ سفر بالکل آسان نہیں تھا۔۔۔پردہ کرنا، شوبز چھوڑنا، دنیا کو پیچھے چھوڑ کر صرف دین کی خدمت کرنا۔۔۔لیکن ستائش نے جب اس راہ پر قدم رکھا تو اﷲ نے ان کے راستے آسان بنانے شروع کئے اور سارہ چوہدری کا بہت زیادہ ہاتھ ہے انہیں تبلیغ دینے اور ہمت دلانے میں۔۔۔آج وہ ایک کامیاب شادی شدہ زندگی گزار رہی ہیں اور باقاعدہ پردہ کا اہتمام کرتی ہیں۔۔۔
 
علی افضل
ڈراموں میں ہیرو کا کردار ادا کرنے علی افضل کو جب یہ احساس ہوا کہ انہیں شوبز کی رنگینیوں کو چھوڑنا ہے تو انہوں نے اس فیصلے کو کوئی دوسری سوچ نہیں دی۔۔۔چھے سال ہوگئے ان کے اس فیصلے کو لیکن وہ مستحکم ہیں اور دین کی باقاعدہ تبلیغ کرتے ہیں۔۔۔انہیں ٹی وی پر دیکھا نہیں گیا اس کے بعد لیکن دین کی محفلوں میں اکثر ان سے ملاقات ہوتی ہے۔۔۔
 
جنید جمشید
اپنے کیرئیر کے عروج پر شوبز کی چکا چوند کو خیر آباد کہنے کا فیصلہ جنید جمشید کے لئے بالکل بھی آسان نہیں تھا۔۔۔مولانا طارق جمیل کی سربراہی میں انہوں نے شروع میں تو کافی ہچکچاہٹ کا مظاہرہ کیا لیکن پھر وہ انہیں راضی کرنے میں کامیاب ہوگئے۔۔۔جنید جمشید کی بیگم کی طرف سے آغاز میں کافی خفگی تھی۔۔۔وہ ان کے تبلیغی اجتماع میں جانے پر ناراض بھی ہوئیں کہ اتنے دن کے لئے جانا اور پھر کامیابی کو ٹھوکر مارنا۔۔۔جنید جمشید کا کہنا ہے کہ وہ آسمان سے زمین پر آئے لیکن درحقیقت وہ ایسی بلندیوں پر گامزن تھے جو انہیں دائمی سکون اور کامیابی دینے والی تھیں۔۔۔انہوں نے گانوں کو چھوڑ کر نعتوں کو پڑھنا شروع کیا۔۔۔تبلیغ کرنا شروع کیا۔۔۔رمضان ٹرانسمیشن کی میزبانی کی۔۔۔اپنی اولاد کو اس راہ پر لائے اور پھر ان کی فیملی بھی ان کے ستاھ کھڑی ہوگئی۔۔۔وہ اکثر بتاتے تھے کہ جو اس مشکل کو پار کرتا ہے اﷲ اس کو ایسا اجر دیتا ہے جس کا وہ گمان بھی نہیں کر سکتا۔۔۔
Most Viewed (Last 30 Days | All Time)
08 Aug, 2020 Views: 141979

Comments

آپ کی رائے