سعودی عرب ،پاکستان اور کشمیر

(Umer Farooq, )

آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے پاکستان میں تعینات سعودی سفیر نواف المالکی نے ملاقات کی جس میں علاقائی سیکیورٹی، باہمی دلچسپی کے امور اور پاک سعودی دفاعی تعلقات پر غور کیا گیایہ ملاقات ایک ایسے وقت میں ہوئی ہے کہ جب کچھ عناصر کی طرف سے یہ تاثردیاجارہاہے کہ پاک سعودی تعلقات میں رخنہ پڑگیاہے جبکہ یہ ملاقات اس حوالے سے بھی اہم ہے کہ چنددن بعد آرمی چیف جنرل قمرباجوہ سعودی عرب کادورہ کرنے والے ہیں ،سعودی سفیرنواف سعیدالمالکی ایک دھیمے مزاج کے متحرک سفیر ہیں وہ ایک طویل عرصے سے پاکستان میں تعینات ہیں اس وجہ سے وہ ہماری سیاسی اورعسکری قیادت کے مزاج کوبخوبی جانتے ہیں اس لیے وہ ہراہم موقع پراپنارول پلے کرتے رہتے ہیں ۔

وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی کے سعودی عرب سے متعلق ایک بیان کے بعدکچھ نادان دوست سرگرم ہیں مٹھی بھرعناصرنے وزیرخارجہ کے بیان کولے کرافواہوں کابازارگرم کیاہواہے کہ پاکستان نے سعودی عرب کوخیربادکہہ دیاہے حالانکہ دوبرادر ممالک کے تعلقات ایک آدھ بیان سے خراب نہیں ہوتے اورنہ ہی دیرینہ دوست اس قسم کے بیانات سے صدیوں سے قائم تعلقات کوایک دم ختم کرتے ہیں یہی وجہ ہے کہ شاہ محمود قریشی کے بیان کے بعدسعودی عرب نے کوئی ردعمل نہیں دیاہے ۔

بھارت کی طرف سے مقبوضہ کشمیرکی آئینی حیثیت تبدیل کرنے کے بعد عوام پی ٹی آئی حکومت سے پوچھ رہے ہیں کہ آپ نے کشمیرکے لیے کیاکیاہے ؟نچ اگست 2019کوجب بھارت نے مقبوضہ کشمیر اور لداخ کی آزاد حیثیت ختم کردی تواس کے ٹھیک ایک سال بعد حکومت چندنمائشی پروگرامات کرنے کے بعد پھرخاموشی ہوگئی ہے ایسے میں ہمارے وزیرخارجہ نے شاہ محمود قریشی نے فرمایا کہ وزیر اعظم عمران خان سے کہیں گے کہ اگر او آئی سی کشمیر پر وزرائے خارجہ کا اجلاس نہیں بلاتی تو پھر خود وزیر اعظم سعودی عرب کی شمولیت یا بغیر شمولیت کے اجلاس بلائیں۔ قریشی صاحب کی شدتِ جذبات کا یہ اظہار ان کی سفارتی ناکامی کا منہ بولتا شاہکار ہے۔

اپنی ناکامیوں کاذمے دارسعودی عرب کوٹھراناکسی طورپربھی درست نہیں سوال یہ ہے کہ اگرآپ کشمیرکے مسئلے پراپنے دیرینہ دوست سعودی عرب کوقائل نہیں کرسکے توباقی دنیاکی حمایت کیسے حاصل کرپائیں گے ؟۔سفارت کاری اور ڈپلومیسی شیشہ گری جیسا نازک کام ہے،وزیرخارجہ کے پاس یہ ہنرہوتاہے کہ وہ عالمی دنیامیں اپنے دشمن کم اوردوست زیادہ بناتاہے یہ کیسی سفارتکاری ہے کہ جواپنے ہی بھائی کوناراض اوروست کوبھی دشمن کی صف میں کھڑاکرے ،حکومت کاجورویہ ملک کے اندرسیاسی جماعتوں کے ساتھ ہے اسی رویے سے ہم دوست ممالک اور دنیاسرکرناچاہتے ہیں ۔

اوآئی سی کے متبادل فورم ہماری خواہش توہوسکتی ہے مگرعملاایساممکن ہیں گزشتہ سال ملائشیاکانفرنس اسی سلسلے کی کڑی تھی ، جوبری طرح ناکام ہوئی کیوں کہ ملائشیاکانفرنس میں57اسلامی ممالک کے سربراہوں میں سے صرف تین ایران ، ترکی اور قطر کے سربراہان شریک ہوئے تھے اب ا گرشاہ قریشی اسی طرح کاکوئی اجلاس بلاناچاہتے ہیں تواس کی کیاضمانت ہے کہ وہ فورم اوآئی سی کے مقابلے میں زیادہ کامیاب ہوگا اگرخدانخواستہ ہماری دعوت پراس قسم کااجلاس بھی ناکام ہوجاتاہے توپھرہم کیاکریں گے ؟ہم اوآئی سی کوچھوڑدیتے ہیں یااوآئی سی کوتوڑدیاجاتاہے توسوال یہ ہے کہ ایسی صورت میں پاکستان کیا حاصل کرلے گا؟ الٹا ہم مزید تنہائی کا شکار ہوجائیں گے،اگرہم اسلامی ممالک کے تشکیل شدہ فورمزاورتنظیموں کوتوڑنے کے درپے ہوں گے ان کے خلاف منفی پروپیگنڈہ کریں گے تویادرکھیں ۔
چراغ سب کے بجھیں گے ہوا کسی کی نہیں

او آئی سی 57 مسلمان اکثریت ممالک پر مشتمل کونسل ہے جس کے اندر بیشتر کمیٹیاں مسلم امہ کو درپیش مسائل پر اپنی طرف سے تگ و دو کرتی رہتی ہیں۔ان سبھی ممالک کے سربراہان کی مصروفیات اور ہفتہ وار ملاقات ممکن نہ ہونے کی صورت میں سی ایف ایم یعنی ان ممالک کے وزرا ء خارجہ کی ایک کونسل تشکیل دی گئی ہے، جو ان ممالک کے آپسی اور دیگر ممالک کے ساتھ مسائل اجاگر کرتی ہے۔سی ایف ایم اجلاس ہر سال مختلف رکن ریاست میں ہوتا ہے۔ اب تک پاکستان نے چار سی ایف ایم اجلاس1970، 1980، 1993 اور 2007 میں منعقد کیے ہیں۔ او آئی سی کا سی ایف ایم اجلاس دوسرا بڑا فیصلہ ساز اجلاس ہے ۔

او آئی سی کے تحت شکایات کا کوئی طریقہ کار تو نہیں ہے البتہ کشمیریوں کے حقوق اور انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر میں ہونے والی پامالیوں پر ایک جامع رپورٹ مرتب کی جاتی رہی ہے،اس کے ساتھ ساتھ اسلامی ملک سعودی عرب ان ممالک میں سر فہرست ہے جنہوں نے سرکاری سطح پر مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے پاکستان کے موقف کی کھل کر تائید کی ہے ۔اوآئی سی کے ذریعے بھارت پر دبا ؤتو بڑھے گا لیکن کشمیر کے حوالے سے اقوامِ متحدہ کی قراردادوں پر عمل درآمد کروانے کے لیے ہمیں ابھی بہت کچھ کرناہوگا۔

اسی دوران مزیددوخبریں بھی منظرعام پرآئیں جس کے تناظرمیں پاک سعودی تعلقات کے خلا ف منفی پروپیگنڈہ ہورہاہے ان دونوں خبروں کی حقیقت یہ ہے کہ اکتوبر 2018 میں سعودی عرب نے پاکستان کو 3 سال کے لیے 6.2 ارب ڈالر کا مالیاتی پیکیج دینے کا اعلان کیا تھا۔ اس پیکیج میں 3 ارب ڈالر نقد اور 3.2 ارب ڈالر مالیت کی موخر ادائیگی پر تیل اور گیس کی سہولت شامل تھی۔پاکستان تین ارب ڈالر کی امدا دپر 3.2 فیصد قسط بھی ادا کر رہا تھااب خبرآئی کہ پاکستان نے سعودی عرب کواس قرض میں سے ایک ارب ڈالر واپس کردیئے ہیں،سازشی عناصرنے اس خبرکواس طرح منفی بنایاکہ سعودی عرب نے ایک ارب ڈالرواپس لے لیے ہیں سوال یہ ہے کہ سعودی عرب کے حالات اتنے ہی خراب تھے توتین ارب ڈالرمیں سے صرف ایک ارب ڈالرواپس کیوں لیے ساری رقم کیوں نہ لی ؟

اس خبرکادوسرارخ دیکھاجائے تووہ یہ ہے کہ جب ہماری ضرورت پوری ہوگئی توہم نے قرض واپس کردیامگرسازشی عناصربازنہ آئے انہوں نے یہ خبرپھیلائی سعوی عرب کوجولائی کے آخری ہفتے میں چین سے ایک ارب ڈالر قرض لے کر واپس کی گئی ہے اگر چین سے قرض کی سہولت مل جائے تو پاکستان سعوی عرب کے نقدی کی شکل میں دیے گئے قرض کے باقی ماندہ 2 بلین ڈالر بھی لوٹا سکتا ہے۔اگراس کوبھی درست مان لیاجائے توہرملک دوسرے ملک سے قرض واپس لیتااورلوٹاتاہے اس میں اچنبھے کی کیابات ہے کہ اتناشورمچایاجائے ؟

اس کے ساتھ پاکستان کو موخر ادائیگیوں پر سالانہ 3.2 بلین ڈالر مالیت کے تیل کی فراہمی کا معاہدہ دو مہینے قبل ختم ہو چکا۔ معاہدے کی تجدید پر فیصلہ ریاض کرے گاکیوں کہ سعودی امدادی پیکیج کی مزید 2 سال کے لیے تجدید کی گنجائش موجود ہے۔ سعودی عرب نے رواں سال مئی سے موخر ادائیگی پر تیل کی فراہمی بند کررکھی ہے۔اب یہ ہماری حکومت پرمنحصرہے کہ وہ معاہدے کی تجدید میں کامیاب ہوتی ہے یانہیں ؟اب ہمیں پرجوش بیانات اور جذباتی تقریروں کی بجائے زمینی حقائق کا غیرجذباتی انداز سے بنظر غائر جائزہ لینا چاہیے کہ حقائق کس انداز سے ہمارا منہ چڑا رہے ہیں؟،اس پر یہی کہاجاسکتاہے کہ
قرض کی پیتے تھے مے لیکن سمجھتے تھے کہ ہاں
رنگ لاوے گی ہماری فاقہ مستی ایک دن غالب

پاک سعودی تعلقات ایسے نہیں کہ پروپیگنڈوں کی بنیاد پر ان کو ختم کیاجاسکے، پاکستان اور سعودی عرب دونوں اسلامی ملک، ایک امت مسلمہ کا روحانی مرکز ، دوسرا دفاعی مرکز ہے، دونوں ممالک کے مابین تعلقات میں رخنہ ڈالنے کی مذموم سازشیں کرنے والے کبھی بھی کسی صورت بھی کامیاب نہیں ہو سکتے ۔

 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Umer Farooq

Read More Articles by Umer Farooq: 81 Articles with 17263 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
12 Aug, 2020 Views: 324

Comments

آپ کی رائے